Home Blog Page 9

خیبرپختونخوا فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ کے تحت 9 لاکھ 30 ہزار سے زائد کسانوں کی رجسٹریشن مکمل

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر کی زیر صدارت خیبرپختونخوا فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر خیبرپختونخوا فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ فضل قادر سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مشیر زراعت کو پراجیکٹ کے تحت جاری سرگرمیوں، پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 88 ملین امریکی ڈالر کی لاگت سے ایشیائی ترقیاتی بنک کی تعاون جاری خیبرپختونخوا فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ کے تحت صوبے میں زرعی ترقی، غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے متعدد اہم اقدامات پر عملدرآمد جاری ہے۔ منصوبے کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ سات اضلاع میں کاشتکاروں کی معاونت، زرعی اداروں کی استعدادِ کار میں اضافہ اور جدید زرعی نظام و ٹیکنالوجی کا فروغ یقینی بنایا جا رہا ہے۔مشیر زراعت میاں محمد عمر کا اجلاس میں کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ صوبے میں غذائی تحفظ کے فروغ، زرعی پیداوار میں اضافے، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے، جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال اور کاشتکاروں کی معاونت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ منصوبے کے تحت جاری سرگرمیوں کی بروقت تکمیل اور آئندہ مرحلے میں مستحق کاشتکاروں کو زرعی مداخلتوں کی فراہمی سے صوبے کے زرعی شعبے میں مزید بہتری اور غذائی تحفظ کو تقویت ملے گی۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت اب تک 9 لاکھ 30 ہزار سے زائد کسانوں کی رجسٹریشن مکمل کی جا چکی ہے، جس کے نتیجے میں صوبے میں کسانوں کا ایک بڑا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس قائم ہوا ہے۔ کاشتکاروں کو شفاف اور مؤثر انداز میں زرعی معاونت کی فراہمی کے لیے ای سبسڈی سسٹم اور برانچ لیس بینکنگ ماڈل پر کام جاری ہے، جبکہ کسانوں کے اکاؤنٹس کی تصدیق کا عمل بھی جاری ہے تاکہ آئندہ مرحلے میں مستحق کاشتکاروں کو زرعی سہولیات بروقت فراہم کی جا سکیں۔حکام نے بتایا کہ منصوبے کے تحت کاشتکاروں کو گندم، معیاری بیج اور کھاد کی فراہمی کے لیے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کسانوں کے اکاؤنٹس کی تصدیق سمیت دیگر انتظامی و تکنیکی مراحل مکمل کیے جا رہے ہیں۔ کاشتکاروں کو درپیش مسائل اور شکایات کے بروقت ازالے کے لیے مؤثر گریوینس ریڈریسل میکنزم بھی قائم کیا گیا ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ زرعی اداروں کی استعدادِ کار بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے جدید GIS اور ریموٹ سینسنگ لیب قائم کی گئی ہے، جبکہ کراپ رپورٹنگ سروسز (CRS) کو بھی ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت 500 موٹر سائیکلیں، 6 ٹریکٹرز اور 6 منی ٹرک فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ متعدد زرعی دفاتر اور لیبارٹریوں کی سولرائزیشن اور بحالی کا کام بھی مکمل کیا جا چکا ہے۔بریفنگ کے مطابق منصوبے کے تحت 4 لاکھ 50 ہزار کسانوں کو گندم، دھان اور کھاد کی فراہمی، 42 ہزار سبزی کاشتکاروں کی معاونت جبکہ 28 ہزار خواتین کو کچن گارڈننگ اور فوڈ پروسیسنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اسی طرح 25 ہزار خواتین میں سیڈ کلیننگ اور محفوظ زرعی استعمال کی کٹس بھی تقسیم کی جا چکی ہیں۔

وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کی بٹگرام پریس کلب اور یونین آف جرنلسٹس کے نو منتخب صدور و جنرل سیکریٹریز کو مبارکباد

وزیر اطلاعات، سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی خیبرپختونخوا شفیع جان نے بٹگرام پریس کلب کے نو منتخب صدر احسان نسیم، جنرل سیکرٹری بابر یوسفزئی اور یونین آف جرنلسٹس بٹگرام کے صدر نادر خان اور جنرل سیکریڑی خلیل الرحمان کو انتخابات میں کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔یہاں سے جاری اپنے تہنیتی پیغام میں صوبائی وزیر نے کہا کہ نو منتخب عہدیداروں کی کامیابی صحافی برادری کے ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار ہے۔شفیع جان نے امید ظاہر کی کہ بٹگرام نو منتخب عہدیداران صوبے میں آزاد، ذمہ دار اور مثبت صحافت کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔صوبائی وزیر نے نو منتخب عہدیداران کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا صحافی برادری کی فلاح و بہبود، پیشہ ورانہ مسائل کے حل اور آزادی? صحافت کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔

احساس اپنا گھر پروگرام: عمر کی حد 60 سال، فنڈز 5 ارب روپے اور اراضی کی حد 15 مرلہ کرنے کا فیصلہ

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کی زیر صدارت جمعرات کے روز ہاؤسنگ کمیٹی روم میں احساس اپنا گھر پروگرام کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پروگرام کی پیش رفت، شرائط اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم، صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سید فخر جہان، سیکرٹری ہاؤسنگ محمد انور خان، ڈی جی ہاؤسنگ محمد زاہد خان اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی، صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم اور صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سید فخر جہان کی خصوصی ہدایات پر احساس اپنا گھر پروگرام کے حوالے سے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ درخواست گزاروں کے لیے عمر کی حد 55 سال سے بڑھا کر 60 سال کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ پروگرام کے لیے مختص رقم 4 ارب روپے سے بڑھا کر 5 ارب روپے کرنے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں ضم اضلاع کے لیے ابتدائی طور پر 200 ملین روپے کے فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اسی طرح گھر کی تعمیر کے لیے سکیم میں اراضی کی حد 5 مرلہ سے بڑھا کر 15 مرلہ کرنے کی تجویز پر بھی عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خواجہ سرا، معذور افراد اور بیوہ خواتین بھی احساس اپنا گھر پروگرام سے مستفید ہو سکیں گے۔ پروگرام کے معاملات مستقبل میں بینک آف خیبر کے ذریعے چلانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سید فخر جہان نے متعلقہ حکام کو سکیم میں کی جانے والی ترامیم کے مطابق ٹرمز آف ریفرنسز (TORs) تیار کرنے کی ہدایت کی، جبکہ 5 مرلہ کی بجائے 15 مرلہ اراضی کی تجویز کو بھی نئی شرائط میں شامل کرنے کی ہدایت کی گئی۔صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم کی خصوصی ہدایت پر پہلے مرحلے میں سیٹل اضلاع کے لیے فنڈز جاری کرنے جبکہ دوسرے مرحلے میں ضم اضلاع کے لیے 1 ارب 50 کروڑ روپے جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ صوبائی مشیر خزانہ نے درخواست گزاروں کے لیے نئی پالیسی شرائط مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی۔اجلاس میں اخوت تنظیم کے ساتھ پروگرام کے معاملات مستقبل میں جاری نہ رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ احساس اپنا گھر سکیم کے تحت عوام کو آسان اقساط پر گھر تعمیر کرنے کے لیے قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت عوام کو رہائش کی بہتر سہولیات کی فراہمی اور کم آمدنی والے افراد کے لیے گھر کی تعمیر آسان بنانے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پروگرام میں مزید بہتری اور شفافیت کے لیے ضروری ترامیم کی جا رہی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس سہولت سے استفادہ کر سکیں.

پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بڑھنے سے غریب عوام کی زندگی اجیرن، وفاق پیٹرولیم لیوی کم کرے: مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر غریب عوام کی زندگی اجیرن بنا رہی ہیں۔مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے تو کہنے کو موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی سے کم گاڑی والوں کو سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا حکومت کی پیٹرول سبسڈی کا آئیڈیا اپنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی پیٹرول سبسڈی پر صرف 75 ارب روپے خرچ ہوں گے، جبکہ وفاقی حکومت کا رواں سال کے لیے پیٹرولیم لیوی کا ہدف 1700 ارب روپے ہے۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پی ڈی ایم کی حکومت پچھلے تین سالوں میں 3 ہزار ارب روپے کی سبسڈی غریب عوام سے حاصل کر چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت پیٹرولیم لیوی کو وقتی طور پر کم کرے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔مزمل اسلم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دور میں پیٹرولیم لیوی صرف 20 روپے تھی، جبکہ پی ڈی ایم حکومت نے پیٹرولیم لیوی 80 روپے فی لیٹر کردی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے پیٹرولیم لیوی کے اوپر کلائمٹ لیوی بھی عائد کردی ہے۔ پیٹرولیم لیوی کم کرنے میں آئی ایم ایف کی شرائط نہیں بلکہ حکومت کی اپنی کمزوریاں ہیں۔

ضم اضلاع میں مقامی حکومتوں کی استعداد کار میں اضافے کا جائیکا منصوبہ مکمل

خیبرپختونخوا کے اضلاع میں مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں اور افسران کی استعداد کار بڑھانے کے لیے جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کے تعاون سے شروع کیا گیا منصوبہ مکمل ہوگیا، جس کے تحت تمام 19 تحصیل لوکل گورنمنٹس نے چار سالہ درمیانی مدت کے ترقیاتی منصوبے (MTDPs) تیار کرکے منظور کرلیے۔لوکل گورنمنٹ، الیکشنز اینڈ رورل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (LGE&RDD) اور جائیکا کے اشتراک سے منصوبے کے اختتامی سیمینار کا انعقاد پشاور کے ایک ہوٹل میں ہوا۔ سیمینار میں تحصیل، ضلعی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندوں اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔منصوبے کا مقصد ضم شدہ اضلاع میں مقامی حکومتوں کی استعداد کار بہتر بنانا، مقامی سطح پر ترقیاتی ضروریات کی نشاندہی اور عوامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی منصوبہ بندی کو فروغ دینا تھا۔لوکل گورننس اسکول کے ذریعے 808 منتخب کونسل ممبران اور مقامی حکومتی افسران کو تربیت دی گئی، جن میں 163 خواتین بھی شامل تھیں۔ مزید 763 منتخب نمائندوں اور افسران کو تحصیل پروفائلنگ اور درمیانی مدت کی ترقیاتی منصوبہ بندی کے حوالے سے خصوصی تربیت فراہم کی گئی۔منصوبے کے دوران تمام 19 تحصیل کونسلیں فعال ہوئیں، باقاعدہ اجلاس منعقد کیے گئے اور قانونی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔مقامی سطح پر ترقیاتی ضروریات کی نشاندہی کے لیے 2500 سے زائد کمیونٹی مشاورتی اجلاس منعقد ہوئے، جن میں 18500 سے زائد ترقیاتی ضروریات کی نشاندہی کی گئی۔ ان مشاورت کی بنیاد پر تمام 19 تحصیل لوکل گورنمنٹس نے چار سالہ ترقیاتی منصوبے تیار کیے، جنہیں متعلقہ تحصیل کونسلوں نے منظور کیا۔تحصیل کونسلوں نے منصوبے کے تحت 49 چھوٹے پیمانے کے ترقیاتی اقدامات بھی مکمل کیے، جن میں ہنر مندی کی تربیت، کھیلوں کی سرگرمیاں اور آگاہی مہمات شامل تھیں۔ ان اقدامات سے 10725 افراد مستفید ہوئے، جن میں 2325 خواتین شامل ہیں۔وزیر برائے لوکل گورنمنٹ مینا خان آفریدی نے اختتامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے ذریعے ضم شدہ اضلاع کے عوام کو پہلی مرتبہ اپنی ترقیاتی ضروریات کی نشاندہی اور منصوبہ بندی کے عمل میں براہ راست شامل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے بعد ضم شدہ اضلاع میں باقاعدہ مقامی حکومت کا نظام قائم ہوا، جبکہ اس سے قبل ضرورتوں کی نشاندہی میں مقامی آبادی کی باضابطہ مشاورت کا نظام موجود نہیں تھا۔مینا خان آفریدی نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تحصیلوں کے تیار کردہ درمیانی مدت کے ترقیاتی منصوبوں کو سالانہ ترقیاتی پروگراموں (ADPs) میں شامل کیا جائے۔انہوں نے منصوبے میں تعاون پر جائیکا، محکمہ لوکل گورنمنٹ، لوکل گورننس اسکول، لوکل کونسل بورڈ، تحصیل لوکل گورنمنٹس اور ضلعی و تحصیل انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور گورننس، دیہی ترقی، تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں جائیکا کے مزید تکنیکی تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔

وزیر صحت کی زیر صدارت خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کانفرنس

وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن کی زیر صدارت صوبہ بھر کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس (ایم ایس) کی کانفرنس محکمہ صحت سیکرٹریٹ پشاور کے کمیٹی روم میں منعقد ہوئی، جس میں سرکاری ہسپتالوں کی مجموعی کارکردگی، صحت کی سہولیات کی فراہمی اور ہسپتالوں کے انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پرسیکرٹری صحت فیاض علی شاہ بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں گزشتہ کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں پر پیش رفت، ماہانہ آئی ایم یو کارکردگی رپورٹ، ادویات کی دستیابی اور خریداری، افرادی قوت کے انتظام، ایچ ایم سی فنڈز کے استعمال اور غیر تدریسی ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔تفصیلی جائزے کے دوران صوبائی وزیر صحت نے ڈاکٹروں، نرسز، پیرا میڈیکس اور دیگر طبی عملے کی حاضری اور بروقت ڈیوٹی پر موجودگی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی کہ منظور شدہ ڈیوٹی روسٹر کے مطابق تمام عملے کی موجودگی یقینی بنائی جائے اور ہسپتالوں میں مؤثر نگرانی اور احتساب کا نظام مزید مضبوط کیا جائے۔صوبائی وزیر نے ہسپتال انتظامیہ کو ضروری ادویات اور طبی سامان کی مسلسل دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ادویات کی بروقت خریداری، مناسب منصوبہ بندی، سٹاک مینجمنٹ اور منصفانہ تقسیم پر خصوصی توجہ دی جائے، جبکہ خریداری، دستیابی، استعمال اور موجودہ سٹاک سے متعلق مکمل اور تازہ ریکارڈ بھی برقرار رکھا جائے۔اجلاس میں ہسپتالوں میں صفائی، حفظانِ صحت اور محفوظ و صاف ماحول کی فراہمی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی گئی کہ وارڈز، او پی ڈیز، ایمرجنسی، واش رومز اور مریضوں کے دیگر مقامات پر صفائی کے مؤثر انتظامات یقینی بنائے جائیں، جبکہ ہسپتالوں میں طبی فضلے کے مناسب انتظام اور انفیکشن سے بچاؤ کے اصولوں پر بھی سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔اجلاس میں ڈاکٹروں، نرسز، پیرا میڈیکس اور دیگر طبی عملے کی دستیابی اور کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہر ہسپتال میں افرادی قوت کی ضروریات اور کمی کی نشاندہی کی جائے اور دستیاب عملے کو متعلقہ ادارے کی ضروریات کے مطابق مؤثر انداز میں تعینات اور استعمال کیا جائے۔صوبائی وزیر صحت نے تمام سطحوں پر ریکارڈ کی درستگی اور دستاویزات کی مناسب دیکھ بھال کی اہمیت پر زور دیا۔ ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ عملے کی حاضری، ادویات، آلات، مالی امور، مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور دیگر انتظامی معاملات کا درست ریکارڈ برقرار رکھا جائے تاکہ کارکردگی کی مؤثر نگرانی اور مسائل کی بروقت نشاندہی و حل ممکن بنایا جا سکے۔اجلاس میں ایچ ایم سی فنڈز اور دستیاب وسائل کے استعمال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیر نے فنڈز کے شفاف، مؤثر اور ضرورت کی بنیاد پر استعمال پر زور دیتے ہوئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی کہ دستیاب وسائل کو مریضوں کی بہتر نگہداشت اور ہسپتالوں کی کارکردگی میں بہتری کے لیے مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے۔کانفرنس میں وسائل کو متحرک کرنے اور ادارہ جاتی انتظام کو مزید بہتر بنانے پر بھی غور کیا گیا۔ صوبائی وزیر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ دستیاب وسائل کی نشاندہی، انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے اور ہسپتالوں و محکمہ صحت کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنایا جائے تاکہ مسائل کا بروقت حل ممکن ہو۔غیر تدریسی ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے صوبائی وزیر نے ہسپتال انتظامیہ کو مینجمنٹ، ادویات اور طبی عملے کی دستیابی، صفائی، انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال اور ضروری طبی خدمات کی بلا تعطل فراہمی کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ صوبے بھر میں بنیادی اور ثانوی سطح کی صحت کی سہولیات کو بہتر رابطہ کاری کے ذریعے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بی ایچ یوز، آر ایچ سیز، ٹی ایچ کیوز اور ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کے درمیان روابط اور ریفرل نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ مریضوں کو ممکنہ حد تک قریب ترین مرکز صحت میں مناسب طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔سیکرٹری صحت فیاض علی شاہ نے محکمہ صحت کے فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد، ہسپتالوں کی کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز، آئی ایم یو اور محکمہ صحت کے دیگر متعلقہ شعبوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری پر زور دیا۔صوبائی وزیر صحت نے تمام میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اجلاس کے فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد، بروقت اصلاحی اقدامات اور پیش رفت کی باقاعدہ رپورٹنگ یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہسپتال انتظامیہ کی بنیادی توجہ عملے کی دستیابی، ادویات کی فراہمی، صفائی، مریضوں کی نگہداشت، ریکارڈ کی درستگی اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال پر مرکوز ہونی چاہیے تاکہ خیبر پختونخوا میں صحت کی خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈائریکٹر جنرل محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا محمد انصار اللہ خلجی کا ریجنل انفارمیشن آفس سوات اور پختونخوا ریڈیو سوات کا اچانک دورہ

ڈائریکٹر جنرل محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا محمد انصار اللہ خلجی نے ریجنل انفارمیشن آفس سوات اور پختونخوا ریڈیو سوات کا اچانک دورہ کیا اور مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے دفتری امور اور کارکردگی کا جائزہ لیا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر نثار محمد بھی ان کے ہمراہ تھے۔اس موقع پر ریجنل انفارمیشن آفیسر سوات خالد رحمان وزیر نے ڈائریکٹر جنرل کو دفتر کی مجموعی کارکردگی، میڈیا کو سرکاری معلومات کی بروقت فراہمی اور صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ و مختلف سرکاری محکموں کے عوامی فلاحی اقدامات کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ سینئر انجینئر محمد جلال اور اسسٹنٹ حسین علی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈائریکٹر جنرل نے ملاکنڈ ڈویژن کے ریجنل دفتر کا بھی دورہ کیا اور سٹاف کی حاضری رجسٹرڈ چیک کی۔ غیر حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی۔ڈائریکٹر جنرل محمد انصار اللہ خلجی نے دفتر کے افسران و اہلکاروں کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ صوبائی حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے افسران و اہلکاروں پر زور دیا کہ سرکاری اقدامات، عوامی خدمات اور فلاحی منصوبوں سے متعلق درست اور بروقت معلومات عوام اور میڈیا تک پہنچانے کے لیے مزید محنت اور پیشہ ورانہ لگن سے کام کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو صوبائی حکومت کی پالیسیوں اور مختلف محکموں کی کارکردگی سے بروقت آگاہ کرنا محکمہ اطلاعات کی اہم ذمہ داری ہے تاکہ عوامی خدمات اور فلاحی منصوبوں سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں۔بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل نے ریجنل انفارمیشن آفیسر سوات خالد رحمان وزیر اور ڈپٹی ڈائریکٹر نثار محمد کے ہمراہ سوات پریس کلب کا دورہ کیا اور صحافیوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سوات پریس کلب کے چیئر مین فضل رحیم خان، جنرل سیکرٹری عدنان باچا، دیگر عہدیداران اور صحافی موجود تھے۔ملاقات کے دوران صحافیوں کو درپیش پیشہ ورانہ مسائل اور باہمی تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل محمد انصار اللہ خلجی نے کہا کہ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ صحافی برادری کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کی فلاح و بہبود، پیشہ ورانہ ترقی اور مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ اطلاعات کے دفاتر کے دروازے صحافیوں کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں جبکہ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ اور پریس کلبوں کو مزید فعال بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے واش کاکس کا دوسرا اجلاس صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت اسمبلی سیکرٹریٹ کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کے واش کاکس کا دوسرا اجلاس صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت اسمبلی سیکرٹریٹ کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اراکینِ صوبائی اسمبلی، سیکرٹری خیبر پختونخوا اسمبلی سید وقار شاہ، یونیسیف، یو ای ٹی، لوکل گورنمنٹ، آبپاشی اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا میں پینے کے صاف پانی، سینیٹیشن، حفظانِ صحت، متعلقہ پالیسیوں اور قانون سازی سے متعلق پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری خیبر پختونخوا اسمبلی سید وقار شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کا واش کاکس ایشیا میں اپنی نوعیت کا پہلا جبکہ دنیا بھر میں ساتواں پارلیمانی کاکس ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کی جانب سے بھی وفاقی سطح پر اس طرز کے اقدام کو اپنانے کا اظہار کیا گیا ہے۔اجلاس میں صوبائی وزیر فضل شکور خان نے ڈرنکنگ واٹر پالیسی، سینیٹیشن پالیسی اور متعلقہ قوانین کی منظوری میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لوکل گورنمنٹ، آبپاشی اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے محکموں کو باہمی مشاورت سے تمام تحفظات دور کرکے 17 ستمبر 2026 تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔یونیسیف کے واش سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد مسعود اسلم اور دیگر تکنیکی ماہرین نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے کی 73 فیصد آبادی کو گھروں میں پینے کا محفوظ پانی دستیاب ہے، جبکہ 10 فیصد آبادی اب بھی کھلے عام رفع حاجت پر مجبور ہے، جو بالخصوص بچوں اور خواتین کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سینیٹیشن اور ویسٹ واٹر مینجمنٹ کے حوالے سے مؤثر پالیسی کے ذریعے صوبہ گرین کلائمیٹ فنڈ اور کاربن کریڈٹس سے فنڈنگ حاصل کرسکتا ہے۔واش کاکس کے اراکین اکرام اللہ غازی، میاں شرافت علی، شازیہ تہماس خان اور دیگر اراکینِ اسمبلی نے بھی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے دیہی اور شہری علاقوں میں سہولیات کے فرق کو دور کرنے، مختلف محکموں کے دائر? کار کو واضح کرنے اور مؤثر پارلیمانی نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز واش کاکس کے اجلاسوں میں ذاتی شرکت یقینی بنائیں گے۔ لوکل گورنمنٹ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور آبپاشی کے محکمے واش پالیسیوں سے متعلق اپنے تحفظات 17 ستمبر 2026 تک حتمی طور پر حل کرکے رپورٹ پیش کریں گے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلاس میں ڈبلیو ایس ایس پی پشاور کی جانب سے سینیٹیشن کے لیے فراہم کردہ جدید ترین سامان اور گاڑیوں کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی، جبکہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ سینیٹیشن پالیسی اور محکمہ آبپاشی خیبر پختونخوا واٹر ایکٹ پر پیش رفت سے بھی آگاہ کرے گا۔

خصوصی بچوں کے لیے سکول ایک ماہ کے اندر کھول دیا جائے گا: مشیر وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خانخصوصی بچوں کے لیے سکول ایک ماہ کے اندر کھول دیا جائے گا: مشیر وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان

سوشل ویلفیئر کمپلیکس میں خصوصی افراد (معذور بچوں) کے لیے ایک ماہ کے اندر سکول کھولا جائے گا؛ حکام کو عوامی کھلی کچہری کے دوران رجسٹریشن کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس اعلان کا اظہار وزیراعلیٰ کے مشیر برائے سوشل ویلفیئر، عشر، زکوٰۃ و بہبودِ نسواں، ملک لیاقت علی خان نے بدھ کے روز بٹگرام میں سوشل ویلفیئر کمپلیکس میں منعقدہ عوامی کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر، عشر، زکوٰۃ و بہبودِ نسواں محمد صالح خان، اے ڈی سی علی شیر خان، نیاز محمد خان اور دیگر حکام موجود تھے انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر اساتذہ کا انتظام کیا جائے گا اور رجسٹریشن کا عمل ابتدائی طور پر بصارت سے محروم اور گونگے و بہرے بچوں کے لیے شروع کیا جائے گا تاکہ خصوصی ضروریات کے حامل بچے تعلیم حاصل کر سکیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت کے مطابق ضلع میں ایک بحالی مرکز (Rehabilitation Centre) اور دارالامان بھی قائم کیا جائے گا ملک لیاقت علی خان نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی حکومت کا مشن خصوصی افراد کو معاشرے کا کارآمد شہری بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ انہیں روزگار کے لیے بھیک نہ مانگنی پڑے انہوں نے کہا کہ حکومت جلد ہی ایک صنعتی ہنر سکھانے کا مرکز (انڈسٹریل اسکلز سینٹر) قائم کرے گی تاکہ خصوصی افراد کو مختلف ہنر سکھائے جا سکیں اور وہ باعزت طریقے سے روزگار کما سکیں انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں معمولی معذوری والے شخص کے ساتھ مکمل معذور شخص جیسا ہی سلوک کیا جاتا تھا۔ اب سے معذوری کی درجہ بندی کی جائے گی اور اسی کے مطابق امداد اور مراعات فراہم کی جائیں گی انہوں نے مزید کہا کہ خصوصی افراد کی بھرتی کے عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے خصوصی افراد کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے صوبائی مشیر نے کہا کہ حکومت ‘احساس امید کارڈ’، ‘یتیم کارڈ’ اور ‘سحر کارڈ’ کے ذریعے خصوصی افراد، بیواؤں، یتیموں اور ضرورت مند طلباء کی مدد کر رہی ہے خصوصی افراد کی درخواست پر، انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ تمام مارکیٹوں، عمارتوں کے مالکان اور سرکاری دفاتر کو خطوط بھیجیں تاکہ ان کی سہولت کے لیے ریمپ (ramps) تعمیر کیے جا سکیں صوبائی مشیر نے ایک بیوہ کو سلائی مشین اور ایک خصوصی فرد کو الیکٹرک وہیل چیئر فراہم کی، اور دس ایسے خصوصی افراد کے لیے 10،10 ہزار روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا جو کسی دوسرے سرکاری پروگرام سے مستفید نہیں ہو رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ہندو برادری کی ان کے گوردوارے کے سلسلے میں ایک مخیر حضرات کے فنڈ (philanthropist fund) کے ذریعے مدد کریں گے۔ کھلی کچہری میں صوبائی مشیر کو شہریوں کی جانب سے درپیش مسائل سے آگاہ کیا گیا جن میں گوردوارے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، اقلیتی برادری کی بستی کو پانی کی فراہمی اور سرکاری دفاتر میں ریمپ (ramps) کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا۔ کھلی کچہری کے بعد، محکمانہ بریفنگ کے دوران مشیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ خصوصی
افراد، بیواؤں اور یتیموں کے زیر التواء معاملات کو جلد از جلد نمٹائیں اور انہیں ریلیف فراہم کریں وزیراعلیٰ کے مشیر نے بٹگرام پریس کلب کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد دی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ 27 ستمبر کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور فی الحال اس منصوبے کا انکشاف نہیں کر رہے کہ احتجاج کا رخ کس جانب ہوگا انہوں نے کہا کہ پنجاب میں فسطائی حکومت نے وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی کی عوامی تحریک کے دوران رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی، لیکن عوام عمران خان کی حمایت کرتے ہیں اور عمران خان کے ہر سپاہی سے محبت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ عارضی رکاوٹیں آزادی کی جانب ان کے سفر کو نہیں روک سکتیں اور جلد ہی عمران خان ان کے درمیان ہوں گے انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت کا واضح موقف ہے کہ اگر ملک میں مزید صوبے یا انتظامی یونٹ بنائے جانے ہیں تو یہ میرٹ پر، بہتر حکمرانی اور عوامی مفاد کے لیے ہونے چاہئیں، نہ کہ کسی کی خواہش پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘فارم 47’ والی حکومت نے انہیں دباؤ میں لانے کے لیے ان کے اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کی ہیں، لیکن وہ عمران خان کے نظریے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

وزیراعلیٰ محمدسہیل آفریدی کی قیادت میں سٹریٹ موومنٹ میں عوام کی بھرپور شرکت پنجاب پر مسلط نااہل ٹولے کو مسترد کرنے کا واضح اعلان ہے، شفیع جان

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات و سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اور پنجاب کے عوام کو سٹریٹ موومنٹ میں شرکت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مینڈیٹ چور حکومت کی پولیس گردی،تمام تر ظلم، کارکنوں کی پکڑ دھکڑ اور فسطائی ہتھکنڈوں کے باوجود وزیراعلی سہیل آفریدی کی قیادت میں اسٹریٹ موومنٹ میں عوام کی بھرپور شرکت پنجاب پر مسلط نااہل ٹولے کو مسترد کرنے کا واضح اعلان ہے،انھوں نے سٹریٹ موومنٹ کے دوران پنجاب حکومت کے غیر قانونی اقدامات اور جبر و تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سٹریٹ موومنٹ کے دوران وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کے قریب ایک مسلح شخص کو سکیورٹی سٹاف نے بروقت پکڑا، جس کے قبضہ سے مبینہ طور پر پستول برآمد ہوا۔ مسلح شخص کا ٹارگٹ وزیراعلیٰ محمدسہیل آفریدی تھے۔شفیع جان نے پنجاب حکومت کے غیر قانونی ہتھکنڈوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے جس شہر میں بھی وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی جاتے تھے، وہاں کی بجلی منقطع کر دی جاتی، سیالکوٹ میں جہاں ان کی رہائش کا انتظام کیا گیا تھا، وہاں نہ صرف بجلی کاٹی گئی بلکہ جنریٹر بھی خراب کر دیے گئے۔ اسی طرح وزیر آباد میں وزیراعلیٰ کے راستے میں ریلوے پھاٹک کو بند کر کے ڈی پی او چابی اپنے ساتھ لے گیا، انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس کی جانب سے کاروباری مراکز اور مارکیٹیں بند کروا دی گئیں،وزیراعلی محمدسہیل آفریدی کی آمد سے پہلے لاہور، سیالکوٹ، وزیر آباد، گجرات، لالہ موسیٰ اور دیگر علاقوں میں کرفیو جیسی صورتحال پیدا کی گئی جو پنجاب حکومت کی پولیس گردی اور خوف اور شدید بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔انھوں نے کہا کہ ساڑھے چار کروڑ عوام کے منتخب وزیراعلیٰ کے خلاف ایسے غیر قانونی ہتھکنڈے عوامی مینڈیٹ کی کھلی توہین اور بدترین سیاسی انتقام ہیں۔شفیع جان نے پنجاب کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے سڑکوں پر نکل کر پولیس گردی کا مقابلہ کیا اور یہ ثابت کر دیا کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پنجاب سٹریٹ موومنٹ سے فارم 47 کے جعلی حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی، عوامی مینڈیٹ کی بحالی اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ موجودہ غیر آئینی، غیر جمہوری اور آمرانہ طرز حکمرانی کے خلاف عوامی ریفرنڈم ثابت ہوگا اور پنجاب سمیت پورے ملک میں پرامن سیاسی جدوجہد کا نیا باب رقم کرے گا۔