خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زراعت کا اجلاس پیر کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں کمیٹی کے چیئرمین و رکن صوبائی اسمبلی عبدالکریم تور ڈھیر کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر محنت فیصل خان ترکئی،ممبران خصوصی کمیٹی اور اراکین صوبائی اسمبلی احتشام علی، منیر حسین لغمانی، عبدالمنیم جبکہ ارباب محمد عثمان خان بذریعے زوم اجلاس میں شریک ہوئے ان کے علاوہ
محکمہ خزانہ، محکمہ قانون، محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن، پاکستان ٹوبیکو بورڈ، سابق ارکان پاکستان ٹوبیکو بورڈ اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں سابقہ اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں تمباکو کاشتکاروں کو درپیش مسائل کے قانونی جائزے اور قابلِ عمل سفارشات مرتب کرنے کے لیے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن کے زیرِ نگرانی لیگل کمیٹی کی تشکیل کا معاملہ زیرِ غور آیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری ایکسائز نے کمیٹی کو بتایا کہ لیگل کمیٹی کی تشکیل کے لیے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو سمری ارسال کر دی ہے اور منظوری کے بعد کمیٹی کو باقاعدہ نوٹیفائی کر دیا جائے گا۔ جس کے بعد یہ کمیٹی اپنے سفارشات مرتب کرے گی چیئرمین کمیٹی عبدالکریم تور ڈھیر نے تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ قانونی کمیٹی کی تشکیل کا عمل فوری طور پر مکمل کیا جائے، کیونکہ بروقت فیصلے نہ ہونے سے تمباکو کاشتکاروں کی سال بھر کی محنت، پیداواری لاگت اور آمدن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی ارباب محمد عثمان خان نے بذریعہ زوم اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ تمباکو کاشتکاروں کا بنیادی مسئلہ قیمت اور خریداری کا ہے۔ بعض کمپنیاں مقررہ مقدار سے زائد پیداوار کو ’’سرپلس‘‘ قرار دے کر کاشتکاروں سے کم نرخوں پر تمباکو خریدتی ہیں، جس کے باعث کاشتکاروں کو منافع کے بجائے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی احتشام علی نے بھی اس مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بڑی تمباکو کمپنیاں مقررہ مقدار میں خریداری کے بعد باقی پیداوار کو سرپلس قرار دیتی ہیں، جس سے کاشتکار شدید مالی مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے پاکستان ٹوبیکو بورڈ کو ہدایت کی کہ تمام تمباکو خریدنے والی کمپنیوں کو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں پر کاشتکاروں سے تمباکو کی خریداری یقینی بنانے کا پابند کیا جائے اور کاشتکاروں کی مکمل پیداوار کی منصفانہ قیمت پر خریداری کے لیے مؤثر طریقۂ کار وضع کیا جائے۔
وزیر محنت فیصل خان ترکئی نے کہا کہ ضلع صوابی کی ایک بڑی آبادی براہِ راست یا بالواسطہ تمباکو کی کاشت سے وابستہ ہے، اس لیے کاشتکاروں کے معاشی مستقبل کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی اور جامع پالیسی ناگزیر ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی منیر حسین لغمانی نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹیز سے متعلق بعض اختیارات صوبائی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں، لہٰذا صوبے کے تمباکو کاشتکاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط اور مؤثر اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ سیکرٹری پاکستان ٹوبیکو بورڈ نے گزشتہ سال مختلف کمپنیوں کی جانب سے خریدے گئے تمباکو کا ڈیٹا بھی کمیٹی کے سامنے پیش کیا اور بتایا کہ کمپنیوں کو کاشتکاروں سے حکومت کی مقرر کردہ قیمتوں کے مطابق تمباکو خریدنے کا پابند کیا گیا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر چیئرمین خصوصی کمیٹی عبدالکریم تور ڈھیر نے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن کے حکام کو ہدایت کی کہ لیگل کمیٹی کی تشکیل کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے اور آئندہ اجلاس میں کمیٹی اپنی حتمی سفارشات خصوصی کمیٹی کے سامنے پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ حتمی سفارشات کی روشنی میں خصوصی کمیٹی اپنی رپورٹ مرتب کرکے صوبائی اسمبلی میں پیش کرے گی، تاکہ تمباکو کاشتکاروں کے مسائل کے مستقل اور مؤثر حل کے لیے ضروری قانونی و انتظامی اقدامات کیے جا سکیں۔ اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ کاشتکاروں کو منصفانہ نرخ، پیداوار کی مکمل خریداری اور پائیدار معاشی تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور مؤثر نگرانی کے ذریعے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ واضح رہے کہ خیبر پختونخوا ملک کی مجموعی تمباکو پیداوار کا تقریباً 90 فیصد فراہم کرتا ہے، جبکہ صوابی، مردان، چارسدہ، سوات، بونیر اور مانسہرہ تمباکو کی پیداوار کے اہم مراکز ہیں۔
