خیبر پختونخوا اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ذیلی کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی نے کی۔ اجلاس میں ذیلی کمیٹی کے ممبران اور اراکین صوبائی اسمبلی عدنان خان اور محترمہ ثوبیہ شاہد سمیت متعلقہ محکمہ کے حکام، محکمہ قانون کے نمائندے اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ان ملازمین کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا جن کی 2014 میں این ٹی ایس (NTS) کے ذریعے بھرتی ہوئی تھی اور بعدازاں انہیں 2018 میں ریگولر کیا گیا۔ اجلاس میں شکایت سامنے آئی کہ ان ملازمین کو ترقیوں کے عمل میں نظرانداز کرتے ہوئے ان سے جونیئر ملازمین کو ترقی دی گئی، جس پر ذیلی کمیٹی کے چیئرمین اور ارکان نے سخت تشویش کا اظہار کیا۔
چیئرمین اور ارکان نے متعلقہ حکام پر واضح کیا کہ کسی بھی ملازم کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے اور تمام ترقیاں میرٹ اور سنیارٹی کے اصولوں کے مطابق کی جائیں۔ کمیٹی نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حکام کو ہدایت کی کہ آئینِ پاکستان کے تحت تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ملازمین کے جائز حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔
ذیلی کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ شکایات سے متعلق تمام ملازمین کا مکمل ریکارڈ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے، جس میں ان کی بھرتی کی تاریخ، 2018 میں ریگولرائزیشن کی تفصیلات، سنیارٹی، ترقیوں کا ریکارڈ اور یہ وضاحت بھی شامل ہو کہ متعلقہ ملازمین ترقی کے عمل میں کیوں نظرانداز ہوئے۔ کمیٹی نے کہا کہ ریکارڈ کی مکمل جانچ کے بعد ہی معاملے کے حقائق سامنے آسکیں گے۔
اجلاس کے اختتام پر چیئرمین ذیلی کمیٹی عبدالسلام آفریدی نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حکام کو ہدایت کی کہ مطلوبہ ریکارڈ آئندہ اجلاس میں لازماً پیش کیا جائے تاکہ ذیلی کمیٹی معاملے کی تہہ تک پہنچ کر حقائق کی روشنی میں ایک منصفانہ اور جامع رپورٹ مرتب کرکے صوبائی اسمبلی کو پیش کر سکے۔
