قائمہ کمیٹی برائے ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا اجلاس

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا اجلاس صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی عبدالمنعیم کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی، احتشام علی خان، محترمہ مہر سلطانہ، محترمہ عارفہ بی بی، محترمہ اشبر جدون اور محترمہ شازیہ طماس خان نے شرکت کی، جبکہ احمد کریم کنڈی نے بذریعہ زوم اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ، متعلقہ افسران، محکمہ قانون، ایڈووکیٹ جنرل آفس اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے افسران بھی شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی کی جانب سے صوبے میں چیف سیکرٹری کی تعیناتی سے متعلق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اختیار سے متعلق اٹھائے گئے سوال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اراکین نے اس امر کا جائزہ لیا کہ آیا چیف سیکرٹری کی تعیناتی کا اختیار وفاقی حکومت کی بجائے صوبے کے چیف ایگزیکٹو، یعنی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، کو دیا جا سکتا ہے۔ احمد کریم کنڈی نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون میں ضروری ترمیم کے ذریعے یہ اختیار صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو منتقل کیا جا سکتا ہے اور آئین پاکستان صوبائی اسمبلی کو اس ضمن میں قانون سازی کی اجازت دیتا ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی احتشام علی نے کہا کہ چونکہ چیف سیکرٹری صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے ماتحت فرائض انجام دیتے ہیں، اس لیے ان کی تعیناتی کا اختیار بھی وزیراعلیٰ کے پاس ہونا چاہیے، جس کی عبدالسلام آفریدی سمیت دیگر اراکین نے بھی تائید کی۔چیئرمین قائمہ کمیٹی عبدالمنیم نے معاملے پر مزید قانونی و آئینی غور کے لیے ایک سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ سب کمیٹی میں قائمہ کمیٹی کے اراکین کے علاوہ محکمہ قانون، ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندگان شامل ہوں گے۔ سب کمیٹی صوبے میں چیف سیکرٹری کی تعیناتی پر اختیار کے حوالے سے ضروری قانونی ترامیم کا جائزہ لے کر مسودہ تیار کرے گی اور 15 دن کے اندر اپنی سفارشات قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش کرے گی۔ کمیٹی اس امر کا بھی جائزہ لے گی کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کی روشنی میں صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو چیف سیکرٹری کی تعیناتی کے اختیارات دینے کے لیے موجودہ قانونی و آئینی فریم ورک میں کیا گنجائش موجود ہے۔اجلاس میں سول سیکرٹریٹ کے ملازمین کے لیے پی ایم ایس کے امتحان میں مختص 10 فیصد کوٹے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی نے اس کوٹے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم ایس ایک مسابقتی امتحان ہے، اس لیے تمام امیدواروں کو اوپن میرٹ پر یکساں اور شفاف مقابلے کا موقع ملنا چاہیے اور امتیازی تفریق کا خاتمہ ضروری ہے۔ سپیشل سیکرٹری ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ کوٹہ ملازمین کی ترقی اور محکمانہ نمائندگی کے مقصد سے مختص کیا گیا ہے، تاہم کمیٹی کے اراکین نے اس وضاحت سے اتفاق نہیں کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پی ایم ایس کے مذکورہ کوٹے سے متعلق رائج قوانین، قواعد و ضوابط اور دیگر متعلقہ دستاویزات آئندہ اجلاس میں کمیٹی کے سامنے پیش کیے جائیں تاکہ معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔کمیٹی اراکین نے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران (ڈی پی اوز) کی تعیناتی، تبادلوں، مراعات اور ڈیپوٹیشن سے متعلق امور پر بھی سوالات اٹھائے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی نے محکمہ ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کی تعیناتی، تبادلوں، مراعات، ڈیپوٹیشن اور دیگر متعلقہ امور کی مکمل تفصیلات کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کے معاملات میں شفافیت، میرٹ اور قواعد و ضوابط کی پاسداری کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ چیئرمین نے مزید ہدایت کی کہ ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کی مدت اصولی طور پر دو سال ہونی چاہیے اور اس مدت میں بار بار توسیع دینے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے، تاکہ انتظامی امور میں تسلسل، میرٹ اور ادارہ جاتی نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔

مزید پڑھیں