خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق کا اہم اجلاس

خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق کا اہم اجلاس چیئرمین و رکن صوبائی اسمبلی منیر حسین لغمانی کی زیرِ صدارت صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنے سے متعلق قانون 2010 میں مجوزہ ترامیم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی علی حادی، عسکر پرویز، فائزہ ملک اور سعیدہ سونیا ملک نے شرکت کی جبکہ محترمہ ستارہ آفرین نے زوم کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا۔ اس کے علاوہ سیکرٹری قانون، متعلقہ محکموں کے افسران اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔ کمیٹی نے قانون کو موجودہ معاشرتی، پیشہ ورانہ اور ڈیجیٹل تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے اور اس میں پائی جانے والی عملی ابہامات کو دور کرنے پر تفصیلی غور کیا۔مجوزہ ترامیم میں “ملازم” اور “طالب علم” کی تعریفیں وسیع کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اس کے تحت عارضی، جز وقتی، زیرِ تربیت، انٹرن شپ، رضاکارانہ اور فری لانس کام کرنے والے افراد سمیت مختلف تعلیمی و تربیتی اداروں سے وابستہ افراد کو بھی قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اسی طرح “کام کی جگہ” کے دائرہ کار میں ورچوئل و ڈیجیٹل ماحول، ریموٹ اور گھر سے کام، آن لائن پلیٹ فارمز، آجر کی جانب سے منعقدہ تقریبات اور روزگار یا تربیت سے متعلق دیگر مقامات کو بھی شامل کرنے کی تجویز ہے تاکہ بدلتے ہوئے کام کے ماحول میں خواتین کو ہراسانی کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔کمیٹی نے شکایات کے نظام کو مزید مؤثر اور قابلِ رسائی بنانے پر بھی زور دیا۔ مجوزہ ترامیم میں شکایت درج کرانے کی مدت میں توسیع، تاخیر کی صورت میں معافی، ڈیجیٹل و الیکٹرانک شواہد کے حصول اور جائزے کے اختیارات، بدنیتی پر مبنی شکایات کے تدارک اور شکایت کنندگان کو انتقامی کارروائی سے تحفظ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ محتسب کے اختیارات میں توسیع، مناسب جرمانوں، اپیل کے طریقہ کار، انتظامی و مالی خودمختاری، مفت قانونی معاونت، ہیلپ لائن کے قیام اور آگاہی پروگرامز کو مؤثر بنانے کی تجاویز بھی زیرِ غور آئیں۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مجوزہ ترامیم کو تمام قانونی، انتظامی اور عملی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید بہتر بنایا جائے اور سپریم کورٹ کی متعلقہ ہدایات سے ہم آہنگی یقینی بنائی جائے۔ چیئرمین اور اراکین نے مجوزہ ترامیم پر متفقہ طور پر اتفاق کا اظہار کیا اور سفارش کی کہ ترمیمی مسودہ ضروری کارروائی کے لیے اگے بھجوایا جائے۔

مزید پڑھیں