رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں چودہ عوامی شکایات کی شنوائی ہوئی۔ چیف کمشنر محمد علی شہزادہ اور کمشنر ذاکر حسین آفریدی نے شہریوں کی درخواستوں پر سماعت کی۔ مس مہناز نے چارسدہ سے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی۔ مقررہ وقت میں جواب موصول نہ ہونے نوٹس جاری کیا گیا۔ چارسدہ سے ولید خان نے ڈرائیونگ لائسنس کی فراہمی کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی۔ شہری کو ڈرائیونگ لائسنس مل گیا۔مقررہ وقت میں تاخیر کے باعث کمیشن نے لائسنس کے اجراء کے پورے عمل کو تیز کرنے اور ذمہ دار آفیسر کا تعین کرنے کے احکامات جاری کیے۔ ایبٹ آباد سے سردار گلریز نے پینے کے صاف پانی کے کنکشن کے لیے کمیشن سے رجوع کیا تھا۔ تاخیر پر نوٹس جاری کیا گیا۔ وزیر گل خٹک نے نوشہرہ سے زمین کی حد براری کے لیے درخواست دی ہے۔ کمیشن نے تمام ریوینیو ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ سوات سے خالدہ نامی خاتون نے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی۔ ڈی پی او نے ایف آئی آر درج کر کے کاپی کمیشن کو جمع کروادی۔ غلام رسول نامی شہری نے جنوبی وزیرستان سے پولیس ویری فکیشن کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی، ۔ کمیشن نے آر پی او کو یاد دہانی نوٹس جاری کر دیا۔ اسی طرح بٹگرام سے زمین کی حد براری کے لیے کمیشن کو درخواست دی گئی تھی۔ ڈی سی نے رپورٹ جمع کروائی جس سے شہری مطمئن نہیں ہوا، کمیشن نے متعلقہ حکام کو شہری کو بذاتِ خود سن کر مسئلہ حل کرنے کے احکامات دیئے۔ لکی مروت سے ناز علی کی ایف آئی آر کے اندراج کے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کمیشن نے ڈی پی او کو شہری کو بذاتِ خود سننے کے احکامات دئیے۔ بنوں سے افراز خان کی وراثتی انتقالات کے اندراج کی درخواست پر کمیشن نے شہری کو سننے اور تاخیر کی وجوہات بیان کرنے کے احکامات جاری کیے۔ مانسہرہ سے سکینہ بی بی کی شکایت پر پولیس نے کمیشن کو جواب جمع کروایا، کمیشن نے ڈی پی او کو شہری کو بذاتِ خود سننے کے ہدایت دی۔ چارسدہ سے نعیم اللہ اور ہری پور سے محمد شعیب نے اسلحہ لائسنس کے اجراء کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی۔ کمیشن نے لائسنس جاری کرنے کے لیے یاد دہانی کے احکامات جاری کئے۔ ہری پور سے طارق محمود نامی شہری کی درخواست کے جواب میں ڈی سی نے کمیشن کو لکھا کہ شہری ملک سے باہر ہے اور متعلقہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ کمیشن نے شہری کو ہدایت جاری کہ جب ملک واپس آئے تو کیس کو اگے بڑھائے۔ ہری پور سے عابد خان کی ایف آئی آر درج کرنے کی شکایت پر ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر آر ٹی ایس کمیشن نے شہری اور ڈی پی او کی ملاقات کروائی۔ کمیشن نے سرکاری افسران کو عوام کی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے اور خدمات کی فراہمی کے عمل کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ بنیادی خدمات کا حصول عوام کا حق ہے نا کہ ان پر حکومت کا احسان۔
