رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں چار عوامی شکایات کی شنوائی ہوئی۔ چیف کمشنر محمد علی شہزادہ اور کمشنر ذاکر حسین آفریدی نے شہریوں کے درخواستوں پر سماعت کی۔ ملک شفیع نے زمین کی فرد کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی۔ کمیشن نے فرد جاری کرنے کے احکامات دیئے تھے، حلقہ پٹواری ایک سال سے زائد وقت گزرنے کے باوجود فرد جاری نہیں کر سکا۔ کمیشن نے پٹواری کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔ حلقہ پٹواری کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور بتایا کہ انکاابھی مذکورہ علاقے میں تبادلہ ہوا ہے۔ کمیشن نے ڈی سی پشاور کو سابقہ پٹواری کے خلاف تادیبی کارروائی کر کے ایک مہینے کے اندر کمیشن کو آگاہ کرنے کے احکامات جاری کیے۔ سوات سے خالدہ نامی خاتون نے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی۔ کمیشن نے ڈی پی او سوات کو شہری کو سننے اور مسئلہ حل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ مقررہ وقت میں کوئی جواب جمع نہ کروانے پر متعلقہ آفیسر کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ سجاد نامی شہری نے جنوبی وزیرستان سے پولیس ویری فکیشن کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی، تاہم پولیس کوئی جواب نہ دے سکے۔ کمیشن نے آر پی او کو یاد دہانی نوٹس جاری کر دیا۔ کرک سے فہم اللہ نامی شہری نے شناختی کارڈ اور موبائل نمبر سے کمیشن کو آنلائن شکایت درج کروائی تھی۔ کمیشن کے درخواست دہندہ سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ درخواست جعلی ہے۔ کمیشن نے حقائق کے پیش نظر درخواست کو داخل دفتر کرنے کا حکم دیا۔ کمیشن نے سرکاری افسران کو عوام کی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے اور خدمات کی فراہمی کے عمل کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ بنیادی خدمات کا حصول عوام کا حق ہے نا کہ ان پر حکومت کا احسان۔
