چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے کے امتحانی نظام میں اصلاحات کے ذریعے شفافیت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور تعلیمی نظام کی بہتری حکومت خیبرپختونخوا کی ترجیحات میں شامل ہے۔یہ بات انہوں نے میٹرک امتحانات کی تیاریوں کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس آن لائن منعقد ہوا جس میں صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز کے چیئرمین، ڈویژنل کمشنرز اور سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری کو محکمہ تعلیم کے حکام نے میٹرک امتحانات کی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں میٹرک کے سالانہ امتحانات کا آغاز 31 مارچ سے ہوگا۔ اس سال امتحانی نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کیلئے کئی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔بریفنگ کے مطابق تمام تعلیمی بورڈز میں تین پیپرز کی ای مارکنگ کی جائے گی جبکہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور میں چھ پیپرز کی ای مارکنگ ہوگی۔ اسی طرح پورے صوبے میں کلسٹر بیسڈ سسٹم کے تحت امتحانات کا انعقاد کیا جائے گا اور اس نظام کو مکمل تیاری کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ تمام امتحانی ہالز میں پانی، سی سی ٹی وی کیمرے، بجلی اور دیگر ضروری سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔ اس سال امتحانی عملے میں نئے گریجویٹس کو بھی شامل کیا جا رہا ہے جن کی باقاعدہ تربیت جاری ہے۔نقل کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور ایماندار اور عمدہ و شفاف کارکردگی کے حامل عملے کو ہی زمہ داریاں سونپی جائیں گی۔ امتحانی مراکز کے اطراف دفعہ 144 نافذ کیا جائے گا اور نقل کے مواد کی روک تھام کیلئے بھی مؤثر انتظامات کیے گئے ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اس سال روٹیشن سسٹم کے تحت امتحانی عملے کو دو سے تین پیپرز کے بعد تبدیل کیا جائے گا تاکہ امتحانی عمل کو مزید شفاف بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ تمام بورڈز کے جوابی پرچوں کو ای مارکنگ کے لیے اسٹینڈرڈائز کیا جا رہا ہے۔چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ امتحانات کے انعقاد میں شفافیت، نظم و ضبط اور طلبہ کو بہتر سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
