پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور کا دوسرا اجلاس پیر کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا

پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور کا دوسرا اجلاس پیر کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت رکن صوبائی اسمبلی ملک عدیل اقبال نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے ممبران اور اراکین صوبائی اسمبلی سمیع اللہ، طارق سعید، اصف مسعود، راشد خان اور احمد کنڈی نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ ایڈووکیٹ جنرل، محکمہ داخلہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام سمیت صوبائی اسمبلی کے متعلقہ افسران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔یہ خصوصی کمیٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی ہدایت پر قائم کی گئی ہے۔ کمیٹی کے قیام کا مقصد ریڈیو پاکستان پشاور کے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانا اور اس سے متعلق حقائق کو منظر عام پر لانا ہے۔اجلاس کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے کمیٹی کو واقعے سے متعلق اہم پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی طور پر اس واقعے میں مجموعی طور پر 86 افراد کو ملوث قرار دیا گیا تھا، تاہم موجودہ مرحلے پر تحقیقات کا دائرہ محدود کرتے ہوئے صرف چھ افراد پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک عدالت میں پیش کی جانے والی ویڈیو فوٹیج مبینہ واقعے سے مکمل مطابقت نہیں رکھتیں، جس کے باعث شواہد کے حوالے سے مزید باریک بینی سے جانچ کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ایڈووکیٹ جنرل نے مزید بتایا کہ کیس کی پیش رفت کے لیے مستند ریکارڈ اور درست شناختی معلومات کا حصول ناگزیر ہے۔ اسی سلسلے میں عدالت نے ہدایت جاری کی ہے کہ معاملے میں مزید پیش رفت نادرا کے تعاون سے کی جائے گی تاکہ ملزمان کی درست شناخت اور دیگر متعلقہ تفصیلات کی تصدیق ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت تک ضروری معلومات اور ریکارڈ فراہم کیے جائیں تاکہ تحقیقات کو شفاف اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔اجلاس کے دوران کمیٹی کے اراکین نے واقعے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جبکہ دستیاب شواہد، رپورٹس اور متعلقہ دستاویزات پر بھی غور کیا گیا تاکہ واقعے کی مکمل تصویر واضح کی جا سکے۔ کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کی درست نشاندہی کی جائے گی اور مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور قابلِ عمل سفارشات مرتب کی جائیں گی۔اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا تاکہ سرکاری املاک اور ریاستی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جامع حکمت عملی وضع کی جا سکے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تحقیقات کا بنیادی مقصد حقائق تک رسائی حاصل کرنا ہے تاکہ اس واقعے میں ملوث اصل عناصر کی درست نشاندہی کی جا سکے اور کسی بھی بے گناہ شخص کو اس معاملے میں بلاوجہ شامل نہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے کمیٹی ایک غیر جانبدار اور شفاف فیکٹ فائنڈنگ عمل کے تحت تمام دستیاب شواہد اور معلومات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ حقائق کی بنیاد پر نتائج اخذ کیے جا سکیں۔

مزید پڑھیں