چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے کہا کہ ہےکہ چین سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے کہا کہ ہےکہ چین سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے اور صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ اس سرمایہ کاری سےخیبر پختونخوا زیادہ سے زیادہ مستفید ہو، صوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور صوبائی حکومت چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ بزنس ٹو بزنس اشتراک کے فروغ کے ذریعے مقامی صنعتکاروں کے لئے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے۔ وہ مقامی صنعتکاروں اور چینی سرمایہ کاروں کے درمیان بزنس ٹو بزنس اشتراک کار کو فروغ دینے کے لئے محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے زیر اہتمام انوسٹمنٹ کانفرنس سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس میں صوبائی حکومت کے متعلقہ محکموں اور خودمختار اداروں کے حکام، سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے نمائندوں، مختلف کاروباری و تجارتی تنظیموں، سرمایہ کاروں، تاجروں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ اس کانفرنس کئ شرکاء کے بزنس آئیڈیاز کو باضابطہ طور پر وفاقی حکومت کے ذریعے سرمایہ کاری کے لئے چینی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کانفرنس میں بھرپور شرکت،اس میں گہری دلچسپی لینے اور قابل عمل تجاویز پیش کرنے پر شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شرکاء کی تجاویز اور بزنس آئیڈیاز صوبے میں زیادہ سے زیادہ چینی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں انتہائی مفید ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس صرف ایک آغاز ہے اور کاروباری حضرات و صنعتکاروں کے ساتھ مشاورت اور انٹرایکشن کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
کانفرنس کے دوران متعلقہ حکام نے شرکاء کو کانفرنس کے اغراض و مقاصد، اہداف اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کانفرنس کا انعقاد گزشتہ سال بیجنگ میں پاکستانی اور چینی سرمایہ کاروں کے درمیان منعقدہ بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ بزنس ٹو بزنس اشتراک کے لئے پوٹینشل سیکٹرز میں بزنس آئیڈیاز اور سرمایہ کاری سے متعلق تجاویز کو سامنے لانا ہے۔ حکام کے مطابق صوبائی حکومت اس سلسلے میں چھ ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کر چکی ہے جن میں زراعت، صنعت، لائیو اسٹاک، معدنیات، جنگلات اور آئی ٹی شامل ہیں۔ مقامی کاروباری حضرات ان شعبوں میں بزنس ٹو بزنس اشتراک کے تحت چینی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے اپنے بزنس آئیڈیاز اور پروپوزلز پیش کر سکتے ہیں۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ یہ تجاویز نئے کاروبار کے قیام یا موجودہ کاروبار کی توسیع دونوں سے متعلق ہو سکتی ہیں۔ شراکاء کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت ان بزنس آئیڈیاز اور پروپوزلز کو سرمایہ کاری کے لئے حتمی شکل دے کر ایک جامع پچ بک کی صورت میں وفاقی حکومت کو ارسال کرے گی تاکہ وزیر اعظم پاکستان کے متوقع دورۂ چین کے دوران انہیں چینی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیا جا سکے۔کانفرنس کے شرکاء کو مزید بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے مقامی اور چینی سرمایہ کاروں کے درمیان اشتراک کو عملی شکل دینے کے لئے باقاعدہ ایکشن پلان ترتیب دیا ہے اور اس مقصد کے لئے مقامی صنعتکاروں کو ون ونڈو آپریشن کے تحت تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی جن میں ریگولیٹری مراحل میں آسانیاں، صنعتی زونز میں پلاٹس کی فراہمی اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ صوبائی حکومت خام مال کے بجائے ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کی برآمدات کی حوصلہ افزائی کرے گی اور اس سلسلے میں مقامی برآمد کنندگان کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ اس اقدام سے صوبے میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ قیمتی زرمبادلہ کے حصول اور مقامی افراد کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔شراکاء نے کانفرنس کے انعقاد کو صوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے صوبائی حکومت کا احسن قدم قرار دیتے ہوئے اس سلسلے میں محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے کردار کو قابل تحسین قرار دیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس سے صوبے میں صنعتی شعبے کے فروغ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول اور مقامی صنعتکاروں کے لئے چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ اشتراک کے نئے مواقع پیدا ہوں گے

مزید پڑھیں