وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ اور روشن مستقبل ہوتے ہیں اور انہیں قیادت اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اسی لیے صوبائی حکومت نوجوانوں پر سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ کونسل ہال پشاور میں ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے پارلیمانی سیشن کے موقع پر نو منتخب کابینہ اور اراکین سے حلف لینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے صدر نوید احمد دیگر عہدیداروں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔شفیع جان نے اپنے خطاب میں نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی توانائیاں مثبت سرگرمیوں میں صرف کریں اور ملک و قوم کی ترقی کے لیے آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مسلسل محنت، عزم اور لگن ضروری ہے۔شفیع جان نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور 30 سال کی سیاسی جدوجہد کے باعث آج وہ ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی بڑی سیاسی جماعت بن چکی ہے، عمران خان کے ویژن کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے نوجوان قومی و صوبائی اسمبلیوں تک پہنچے ہیں۔ عمران خان نے اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران مشکلات، تکالیف اور ناحق قید کا سامنا کیا،انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو جعلی مقدمات میں پابند سلاسل کیا گیا، لیکن ان کے نظریے کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ملک میں دو جماعتی نظام کا خاتمہ کیا اور نوجوانوں کو قومی سیاست میں متحرک کردار دیا۔شفیع جان نے کہا کہ 2024 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو سب سے زیادہ ووٹ اور نشستیں ملیں لیکن بدقسمتی سے فارم 47 کے ذریعے عوامی مینڈیٹ چرا لیا گیا۔صوبے کے حقوق کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاق کے ذمے این ایف سی شیئرز اور خیبرپختونخوا کے پن بجلی منافع کی مد میں اربوں روپے کے بقایاجات واجب الادا ہیں۔ اگر وفاق صوبے کے واجبات ادا کرے تو یہ فنڈز صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں پر خرچ کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صوبے کے حقوق کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑ رہے ہیں۔ معاون خصوصی نے شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید کی شہادت کو ایک بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔تقریب کے اختتام پر شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید کے بلند درجات کے لئے خصوصی اجتماعی دعا بھی کی گئی۔
