
مشیر زراعت و پرو چانسلر زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میاں محمد عمر کی زیر صدارت زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے ساتویں سینٹ اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مالی سال 2026-27 کے لیے یونیورسٹی کا 445.99ملین روپے سے زائد کا بجٹ منظور کرلیا گیا۔ اجلاس میں یونیورسٹی کے مالی، انتظامی، تعلیمی اور تحقیقی امور کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ادارے کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے مختلف امور پر غور کیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری زراعت خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد بختیار خان، وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان ڈاکٹر محمد لطیف گوندل سمیت سینٹ کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مالی سال 2025-26 کے اخراجات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ یونیورسٹی کے مالی امور، آمدن و اخراجات، دستیاب وسائل، بجٹ کے استعمال اور مالی نظم و ضبط سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء نے یونیورسٹی کے وسائل کو تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی ترجیحات کے مطابق بروئے کار لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اس موقع پر مشیر زراعت و پرو چانسلر میاں محمد عمر نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کو علاقے کی مقامی زرعی ضروریات، موسمی حالات اور کاشتکاروں کو درپیش مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیق پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے ایسی جدید اور نتیجہ خیز تحقیق ناگزیر ہے جس کے ثمرات براہ راست کسانوں تک پہنچ سکیں۔میاں محمد عمر نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور جنوبی اضلاع کی مخصوص زرعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فصلوں کی پیداوار میں اضافے، پانی کے مؤثر استعمال، جدید آبپاشی نظام، زرعی ٹیکنالوجی، بہتر بیج اور دیگر متعلقہ شعبوں میں تحقیق کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق کو محض علمی سرگرمی تک محدود رکھنے کے بجائے اس کے نتائج کو فیلڈ اور کاشتکاروں تک منتقل کرنے کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کیا جائے۔مشیر زراعت نے کہا کہ جامعات زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کو خطے کے کسانوں اور زرعی شعبے کی ضروریات کے ساتھ اپنے تحقیقی پروگرامز کو مزید مربوط کرنا ہوگا۔ انہوں نے یونیورسٹی اور محکمہ زراعت کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ تحقیقی نتائج کو عملی زرعی سرگرمیوں میں بروئے کار لایا جاسکے۔میاں محمد عمر نے یونیورسٹی کے مالی وسائل کے شفاف، مؤثر اور دانشمندانہ استعمال پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ کو تعلیمی و تحقیقی معیار بہتر بنانے، طلبہ کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور یونیورسٹی کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے ترجیحی بنیادوں پر استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب وسائل کا بہترین استعمال ادارے کی مجموعی کارکردگی اور ساکھ میں مزید بہتری کا باعث بنے گا۔اجلاس میں یونیورسٹی کے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے علاوہ مالی سال 2025-26 کے مالی معاملات، اخراجات اور وسائل کے استعمال کا جائزہ لیا گیا جبکہ یونیورسٹی کے انتظامی و تعلیمی امور سے متعلق مختلف نکات بھی زیر بحث آئے۔ سینٹ اراکین نے یونیورسٹی کی ترقی، معیاری تعلیم کے فروغ، تحقیق کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور مالی نظم و نسق کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔
