
مشیرِ گورنر خیبرپختونخوا برائے امورِ داخلہ و قبائلی امور، خوراک اور ترقی خواتین، کفایت اللہ خان کی زیرِ صدارت میں محکمہ زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود و خصوصی تعلیم کے تحت خواتین کے حقوق کے تحفظ، بااختیاری اور فلاح و بہبود کے اقدامات کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔جس میں سیکرٹری محکمہ زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم شریف حسین، چیئرپرسن خیبرپختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں ڈاکٹر سمیرا شمس، ڈائریکٹر ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر فہد اکرام قاضی، سیکرٹری کمیشن شازیہ عطا، ڈائریکٹر کمیشن آمنہ درانی، منیجر بولو ہیلپ لائن سحر اور ایس پی او محکمہ سماجی بہبود صادیہ نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مشیرِ گورنر کو خیبرپختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں (KPCSW)، بولو ہیلپ لائن اور دارالامان کی کارکردگی، خواتین کے حقوق کے تحفظ اور بااختیاری کے لیے جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں خواتین کے حقوق کے تحفظ، متعلقہ قوانین اور پالیسیوں کے جائزے، صنفی مساوات کے فروغ اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کی نگرانی میں کردار ادا کر رہا ہے۔حکام نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے 7 اکتوبر 2025ئ کو کمیشن کے پانچویں دور کی تشکیلِ نو کی، جس کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس مقرر کی گئیں، جبکہ جنوری 2026ئ میں صوبے کے 26 اضلاع میں ضلعی کمیٹیاں برائے وقارِ نسواں (DCSWs) بھی تشکیل دی گئیں۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی 2026-2030ئ مارچ 2026ئ میں متعارف کرائی گئی، جس میں خواتین کی معاشی و سماجی خودمختاری، سیاسی شمولیت، قانونی تحفظ، ڈیجیٹل بااختیاری اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ کمیشن کا اسٹریٹجک پلان 2026-2030ئ اکتوبر 2026ئ میں شروع کیا گیا۔مشیرِ گورنر کو بتایا گیا کہ خواتین کو تشدد اور دیگر سماجی مسائل سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے صوبے میں 11 دارالامان فعال ہیں، جن میں 210 خواتین مقیم ہیں۔ ان میں سات ریگولر اور چار اے ڈی پی کے تحت قائم دارالامان شامل ہیں۔ مالی سال 2024-25ئ کے دوران ان مراکز سے 1987 خواتین نے استفادہ کیا، جبکہ قیام کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 29879 خواتین کو رہائشی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔اسی طرح بولو ہیلپ لائن کے ذریعے صنفی بنیادوں پر تشدد کا شکار خواتین کو نفسیاتی مشاورت، قانونی رہنمائی، طبی امداد، پولیس تحفظ اور دارالامان تک رسائی کے لیے معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ بریفنگ کے مطابق 2017ئ سے ستمبر 2026ئ تک ہیلپ لائن پر 56530 کالز موصول ہوئیں، جبکہ 44541 سروس ریکارڈز اور 6691 ریفرل سروسز رپورٹ کی گئیں۔بریفنگ میں خواتین کی کم عمری کی شادی، گھریلو تشدد، جائیداد اور وراثت کے حقوق، بچیوں کی تعلیم اور صنفی بنیادوں پر تشدد کی روک تھام کے حوالے سے کمیشن کی سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے صوبے کے چھ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ویمن بزنس فسیلیٹیشن سینٹرز کے قیام کا منصوبہ بھی شامل ہے۔مشیرِ گورنر کفایت اللہ خان نے خواتین کے حقوق کے تحفظ، معاشی خودمختاری اور سماجی ترقی کو پائیدار معاشرے کی تشکیل کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کی کارکردگی مزید بہتر بنانے پر زور دیا۔انہوں نے ہدایت کی کہ خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضلعی سطح پر ادارہ جاتی رابطہ کاری مضبوط بنائی جائے، دارالامان اور بولو ہیلپ لائن کی خدمات کو مزید مؤثر بنایا جائے اور خواتین کو قانونی، معاشی اور سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔انہوں نے خواتین کی تعلیم، روزگار، کاروباری مواقع اور فیصلہ سازی کے عمل میں مؤثر شمولیت کے فروغ کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
