وزیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ جمعرات 26 مارچ 2026 کو خیبرپختونخوا حکومت نے 11ویں این ایف سی کے سب گروپ VII کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا، جو سابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے متعلق 25ویں آئینی ترمیم کے تحت واجب الادا اور مؤخر شدہ مالی ایڈجسٹمنٹس پر غور کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ اگرچہ اس واقعے کی کوریج زیادہ تر درست رہی، تاہم اس اقدام کے بعض پہلوؤں کو غلط سمجھا گیا، جن کی وضاحت حکومت اس بیان کے ذریعے اپنے مؤقف اور نیت کو واضح کرنا چاہتی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ این ایف سی کا طریقہ کار اور اس کے اصول آئین پاکستان کے آرٹیکل 160 میں واضح طور پر درج ہیں۔ آئین کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کی مدت پانچ سال ہوتی ہے، جس کے بعد نئی معاشی صورتحال اور وفاقی تقاضوں کے مطابق نیا ایوارڈ جاری کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔ یہ آئینی حکمت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مالیاتی وفاقیت میں وقتاً فوقتاً ضروری تبدیلیاں کی جائیں تاکہ قومی ضروریات اور معاشی حالات کے مطابق نظام کو ڈھالا جا سکے، اور یہ واضح کرتی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ جامد یا مستقل نوعیت کے نہیں ہوتے۔ ساتواں این ایف سی ایوارڈ 2015 میں اپنی مدت مکمل ہونے کے بعد ختم ہو گیا تھا۔ اس کے بعد آرٹیکل 160(6) کے تحت 2015 میں ایک ترمیمی حکم جاری کر کے اسے برقرار رکھا گیا، بجائے اس کے کہ نیا ایوارڈ جاری کیا جاتا جیسا کہ آئینی تقاضا تھا۔ 2018 میں فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام ایک قومی ترجیح قرار پایا اور اسے 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے قانونی حیثیت دی گئی۔
مزمل اسلم نے کہا کہ اس ترمیم کے نفاذ کے ساتھ ہی خیبرپختونخوا کی آبادی اور رقبہ فوری طور پر تبدیل ہو گیا اور اس میں فاٹا کی آبادی اور رقبہ شامل ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں این ایف سی فارمولے میں خیبرپختونخوا کے لیے استعمال ہونے والی متغیرات کی قدریں خود بخود تبدیل ہو گئیں، لہٰذا فارمولے کو بھی ان نئی قدروں کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے تھا۔ آئین اس تبدیلی کو قانونی اور مالی اثر دینے کا طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 160(6) کے تحت نئے این ایف سی ایوارڈ سے قبل صدر مملکت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ وفاق اور صوبوں کے درمیان محصولات کی تقسیم کے قانون میں ضروری ترامیم یا تبدیلیاں کر سکیں۔ اس شق کے تحت 2015 میں بلوچستان کے حصے میں بھی ترمیم کی گئی تھی۔ تاہم بعد ازاں فنانس ایکٹ کے ذریعے ایوارڈ کو توسیع دی جاتی رہی، مگر 25ویں ترمیم کے مطابق فارمولے میں ضروری تبدیلیاں نہیں کی گئیں، جس کے باعث وسائل کی تقسیم پرانے اور غیر آئینی حصص کی بنیاد پر جاری رہی۔
مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل اس آئینی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتی آ رہی ہے، مگر این ایف سی فارمولے میں مطلوبہ ترمیم اور قانونی اقدام کو مختلف وجوہات کی بنا پر مؤخر کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ وسائل جو ضم شدہ اضلاع اور مغربی سرحدی علاقوں کے استحکام پر خرچ ہونے چاہیے تھے، وہ ملک کے زیادہ ترقی یافتہ حصوں کی طرف منتقل ہوتے رہے۔ مزید برآں، کئی برسوں تک این ایف سی کے اجلاس بھی منعقد نہیں کیے گئے، جس کے باعث اس اہم مسئلے کو اٹھانے اور حل کرنے کے لیے کوئی مؤثر فورم موجود نہیں رہا۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ 11ویں این ایف سی کے پہلے اجلاس میں خیبرپختونخوا نے اس اہم آئینی مسئلے کو باضابطہ طور پر اٹھایا، جس پر ایک خصوصی گروپ تشکیل دینے پر اتفاق ہوا تاکہ اپ ڈیٹ شدہ فارمولہ تیار کر کے پیش کیا جا سکے۔ تاہم اس کے باوجود پیش رفت کے بجائے عمل دوبارہ تعطل کا شکار ہو گیا۔
مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت این ایف سی عمل، باہمی مشاورت اور وفاقی ہم آہنگی کے لیے پُرعزم ہے تاکہ وفاق اور تمام صوبوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں اور ایک مضبوط وفاق قائم ہو۔ مزید یہ کہ شروع سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس عمل میں شرکت کسی سیاسی مطالبے سے مشروط نہیں بلکہ اسے قومی تعمیر کے عمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ واک آؤٹ بطور آخری راستہ اختیار کیا، جب کئی ماہ کی یقین دہانیوں اور جنوری میں کیے گئے وعدے (جو ریکارڈ کا حصہ بھی ہیں) کے باوجود این ایف سی فارمولے میں ترمیم نہیں کی گئی، حالانکہ یہ آئینی طور پر تقریباً آٹھ سال پہلے ہو جانی چاہیے تھی۔ فاٹا کے انضمام کے بعد سے ہر سال خیبرپختونخوا حکومت اس مطالبے کو باضابطہ طور پر اٹھاتی رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ آٹھ سالوں سے این ایف سی عمل کو طریقہ کار کی تاخیر کے ذریعے مسلسل مؤخر کیا جاتا رہا، حتیٰ کہ مارچ کے اس اجلاس میں دیگر صوبوں نے آرٹیکل 160(6) کے آئینی اصول کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، جو درحقیقت ضم شدہ علاقوں کے مالی وجود سے انکار کے مترادف ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ ان آٹھ سالہ تاخیروں کے نتیجے میں 964 ارب روپے، جو ضم شدہ اضلاع کا حصہ تھا، دیگر صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے۔ یہ وسائل ضم شدہ علاقوں کی ترقی اور مغربی سرحد کے استحکام پر خرچ ہونے کے بجائے دیگر اخراجات پر صرف ہوئے، جو انصاف اور آئینی اصولوں کے منافی ہے۔ ضم شدہ اضلاع کے عوام کوئی محض حسابی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے شہری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر صوبے یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ فارمولہ اپ ڈیٹ کرنے سے ان کے حصے کم ہوں گے، حالانکہ یہ درست نہیں۔ 25ویں آئینی ترمیم کے بعد حصص خود بخود تبدیل ہو چکے تھے، مگر اس کے باوجود پرانے فارمولے کو برقرار رکھا گیا، جو آئینی حقیقت کے برعکس ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے تکنیکی تجزیہ، ڈیٹا اور مالی ماڈلنگ فراہم کی، مگر اس پر کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔ صوبے تکنیکی نکات پر بحث کر سکتے ہیں، مگر ضم شدہ علاقوں کے مالی وجود سے انکار نہیں کر سکتے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ واک آؤٹ دراصل ایک غیر آئینی فارمولے کے خلاف احتجاج تھا، جس کے ذریعے ضم شدہ علاقوں کے وجود کو نظرانداز کیا جا رہا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2015 میں بلوچستان کے حصے میں ترمیم کی مثال موجود ہے، لہٰذا 2018 میں بھی یہی عمل ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ موجودہ این ایف سی اب متفقہ فارمولہ نہیں رہا، اس لیے وفاقی حکومت فوری طور پر فارمولے پر نظرثانی کرے، اور عبوری طور پر صوبوں کے لیے گرانٹس کا نظام متعارف کروائے تاکہ ریاستی امور متاثر نہ ہوں۔
مزمل اسلم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت این ایف سی عمل، مکالمے اور مضبوط وفاق کے لیے پرعزم ہے، اور امید ظاہر کی کہ دیگر صوبے بھی قومی مفاد میں مثبت کردار ادا کریں گے۔
