Home Blog Page 10

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی زیرصدارت ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری کے دسویں سیشن کا انعقاد

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے بدھ کے روز دسویں ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور فیلڈ فارمیشنز کی محنت کو سراہا اور کہا کہ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں اضلاع میں سروس ڈیلیوری میں نمایاں بہتری آئی ہے جو کہ 84 فیصد ہے اور بہتر نگرانی سے اس کو اگلے اجلاس سے پہلے 92 تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ افسران کی کارکردگی کو ان کی تعیناتی اور تبادلوں سے براہِ راست جوڑا جائے گا اور جو افسران عوام کو بہتر خدمات فراہم کریں گے وہ حکومت کے لیے قبولیت کی علامت بنیں گے اور آئندہ تعیناتیوں میں انہیں ترجیح دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ فیلڈ میں آفیسرز کی کارکردگی ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنتی ہے اور واضح کیا کہ کارکردگی سے مشروط تعیناتی کی پالیسی کا مقصد سول انتظامیہ میں میرٹ اور احتساب کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے عوام کے ساتھ مسلسل رابطے، ان کی رائے اور شکایات کے ازالے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ جب افسران عوام کے لیے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں تو عوام خود ان کے حق میں بولتے ہیں اور یہ بہتر گورننس کی روایت آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بن کر رہ جاتی ہے۔اجلاس کے دوران چیف سیکرٹری نے مختلف محکموں اور ضلعی انتظامیہ کو تفویض کردہ سروس ڈیلیوری کے کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا، جس میں تعلیمی اداروں، کالجوں، صحت کے مراکز، زرعی سروس سینٹرز، لائیو سٹاک کے اشاریوں اور بلدیات کی سہولیات سمیت عوامی خدمات کے مختلف شعبوں میں مقررہ معیار کے مطابق سروس ڈیلیوری کا جائزہ شامل تھا۔اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار سے تقریباً ہر محکمے اور ضلعے میں مسلسل بہتری کا رجحان سامنے آیا۔ یاد رہے کہ گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت صوبہ بھرمیں جولائی 2025 سے اگست 2026 تک دس مانیٹرنگ راؤنڈز میں مقررہ معیار کے مطابق سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لیا گیا، نو محکموں کی کارکردگی کو جانچا گیا، جن میں سے آٹھ محکمے اب 70 فیصد سے زیادہ اور اکثریت 90 فیصد سے بھی زیادہ کارکردگی دکھا رہے ہیں۔سیاحت کے محکمے کی سہولیات 99 فیصد کے ساتھ سب سے آگے رہیں، جو پہلے راؤنڈ کے مقابلے میں 38 پوائنٹس کا اضافہ ہے، جبکہ زراعت کے فارم سروس سینٹرز 98 فیصد تک پہنچ گئے، یعنی 45 پوائنٹس کا اضافہ۔ لائیو سٹاک کے سول ویٹرنری ہسپتالوں کی کارکردگی میں 50 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور یہ 95 فیصد تک پہنچ گئے، جبکہ مقامی حکومت کی سہولیات، جن کی نگرانی سب سے مشکل سمجھی جاتی ہے، 43 پوائنٹس بڑھ کر 80 فیصد تک پہنچ گئیں۔ ریونیو اینڈ اسٹیٹ کے سروس ڈیلیوری سینٹرز اور تحصیل دفاتر، جن کی نگرانی چھٹے راؤنڈ سے شروع ہوئی، 91 فیصد تک پہنچ گئے، جبکہ سوشل ویلفیئر کے دارالامان جیسے ادارے 89 فیصد تک پہنچے۔انہی محکموں میں مخصوص سہولیات میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی: مویشی منڈیوں کی کارکردگی 77 پوائنٹس بڑھ کر 96 فیصد ہو گئی، جنرل بس اڈوں کی کارکردگی 67 پوائنٹس بڑھ کر 95 فیصد تک پہنچی، اور سیاحوں کے واش رومز نے 100 فیصد نمبر حاصل کیے جو بنیادی سطح کے مقابلے میں 42 پوائنٹس کا اضافہ ہے۔37 اضلاع میں بھی بہتری کا رجحان وسیع پیمانے پر دیکھا گیا۔ صوبے کے ”ہائی والیوم” چھ اضلاع — صوابی، دیر بالا، شانگلہ، بونیر، چارسدہ اور مالاکنڈ — اب 97 فیصد یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کر رہے ہیں، جن میں پہلے راؤنڈ کے مقابلے میں 55 سے 66 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں بنوں 97 فیصد کے ساتھ سب سے آگے ہے، اس کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان 96 فیصد پر ہے، دونوں میں 50 پوائنٹس سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔ ضم اضلاع، جنہوں نے کم بنیاد سے آغاز کیا تھا، میں بھی مسلسل بہتری آئی ہے، خیبر 82 فیصد تک پہنچا جبکہ مہمند 51 پوائنٹس کا اضافہ کر کے 81 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ کانفرنس کا ایک نمایاں موضوع آؤٹ سورس کیے گئے 147 سرکاری سکولوں کی کارکردگی بھی رہا۔ ڈپٹی کمشنرز اور ایجوکیشن مانیٹرنگ اسسٹنٹس کے دوروں سے تصدیق ہوئی ہے کہ آؤٹ سورسنگ کے بعد داخلوں میں 137 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ طلبہ کی روزانہ حاضری بھی بلند رہی ہے۔اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ صوبے کے لائیو ڈیش بورڈ کو حقیقی وقت میں معلومات فراہم کرنے والے ڈسٹرکٹ نرو سینٹرز اب 37 اضلاع میں قائم ہو چکے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کے 19 بنیادی فرائض پر مشتمل ایک جامع ٹول کٹ انٹیگریٹڈ پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ سسٹم (آئی پی ایم ایس) پر فعال کر دی گئی ہے تاکہ فیصلہ سازی کو یکساں بنایا جا سکے۔شرکاء کو لائیو مانیٹرنگ ڈیش بورڈ کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی، جس میں محکمہ وار ڈیٹا، سروس ڈیلیوری کے اشاریے اور تصویری و جیو ٹیگڈ معلومات کو یکجا کر کے حقیقی وقت میں نگرانی کو ممکن بنایا گیا ہے۔ڈسٹرکٹ بیوٹیفیکیشن اینڈ انوویٹو انیشیٹوز پروگرام کے تحت جولائی 2026 تک تمام 37 اضلاع میں 79 بیوٹیفیکیشن اور 42 جدید منصوبے شارٹ لسٹ کیے گئے تھے؛ ان میں سے 94.6 فیصد بیوٹیفیکیشن اور 91.8 فیصد جدید منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ سات اضلاع کی جانب سے شروع کیے گئے ماڈلز — جن میں چارسدہ کا متعدی امراض سے بچاؤ کا پروگرام، ڈیرہ اسماعیل خان کا کمیونٹی فلیگ پول فلڈ وارننگ سسٹم اور بٹگرام کا امید صحت ٹیلی میڈیسن منصوبہ شامل ہیں کو ستمبر کے آخر تک تمام 37 اضلاع میں شروع کرنے کے نصف سے زائد مراحل پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں۔ دسمبر 2026 تک جاری اگلے مرحلے کے لیے مزید 103 بیوٹیفیکیشن اور جدید منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے، جس میں ہر ضلع کو کم از کم ایک ایک منصوبہ مکمل کرنا ہو گا۔ اجلاس میں زیرِ زمین اور بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبوں اور مزید خدمات کی آؤٹ سورسنگ پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ اضلاع میں اور ترقیاتی منصوبوں میں پانی سے متعلق اقدامات شروع کردئیے گئے ہیں۔ ایک اہم فیصلے کے تحت فورم نے سروس ڈیلیوری کی بنیاد پر اضلاع کی باضابطہ درجہ بندی جاری کرنے کا فیصلہ کیا، جس سے اضلاع کے درمیان صحت مندانہ مسابقت اور احتساب کے عمل کو تقویت ملے گی۔اجلاس کے اختتام پر چیف سیکرٹری نے کہا کہ گڈ گورننس روڈ میپ اور ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری فریم ورک صوبے میں گڈ گورننس اور ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے دو کلیدی ستون ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بعض اضلاع میں امن و امان کی صورتحال کو عوام کو بنیادی خدمات کی فراہمی میں رکاوٹ یا بہانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے دور دراز اور پسماندہ اضلاع کو دیگر اضلاع کے برابر لانے کے لیے تیز رفتار اقدامات کی ہدایت کی تاکہ صوبے کا کوئی بھی حصہ بنیادی سہولیات کی فراہمی میں پیچھے نہ رہے۔کانفرنس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (جنرل) اور انتظامی محکموں کے سیکرٹریز شریک ہوئے جبکہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

صوبے میں گندم اور آٹے کے بحران کا کوئی خطرہ نہیں، حکومت خیبرپختونخوا کی سرکاری گندم ریلیز سے گندم اور آٹے کی قیمتوں میں کمی ہوئی، معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا ہے کہ صوبے میں گندم اور آٹے کے بحران کا کوئی خطرہ نہیں، حکومت خیبرپختونخوا شہریوں کو بروقت آٹے کی فراہمی اورقیمتوں میں مزید کمی اور استحکام یقینی بنانے کے لیے سرکاری گندم کی ریلیز سمیت دیگر تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز پشاور کے غلہ گودام کے دورے کے موقع پر کیا، جہاں انہیں پاسکو سے خریدی گئی گندم کے ذخیرے، دستیابی اور ذخیرہ کرنے کے انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ معاون خصوصی کو بتایا گیا کہ پشاور کے غلہ گودام میں 16 ہزار میٹرک ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ مزید 4 ہزار میٹرک ٹن گندم گودام پہنچنے کے لیے راستے میں ہے۔معاون خصوصی نے گودام میں موجود گندم کے ذخیرے کا معائنہ کیا اور گندم کے معیار، محفوظ ذخیرہ کرنے کے انتظامات اور آئندہ سپلائی کے حوالے سے متعلقہ حکام سے بریفنگ لی۔ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کہا کہ گندم اور آٹا عوام کی بنیادی غذائی ضروریات میں شامل ہیں اور حکومت خیبرپختونخوا صوبے میں گندم کی مسلسل اور وافر دستیابی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں صوبے میں گندم یا آٹے کی کوئی قلت نہیں اور حکومت خیبرپختونخوا کی بروقت اقدامات سے اٹے اور گندم کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ ڈاکٹر اسرار کا یہ بھی کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر عائد پابندیاں آئین کے آرٹیکل 151 کی روح کے منافی ہیں، جس کے باعث صوبے میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ حکومت خیبرپختونخوا اس معاملے کو وفاقی اور پنجاب حکومت کے ساتھ مسلسل اٹھا رہی ہے۔معاون خصوصی نے سٹاک رجسٹر کا بھی معائنہ کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ گندم کے موجودہ ذخیرے کی مناسب دیکھ بھال، معیار اور محفوظ اسٹوریج کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں گندم کی دستیابی، ترسیل اور قیمتوں میں مزید کمی کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاکہ عوام کو بروقت آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رہے۔

پشاور میں خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائیاں، مردہ گائے کی سپلائی ناکام، ملاوٹی چائے تیار کرنے والا یونٹ پکڑا گیا

وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان کی ہدایات پر غیر معیاری، ملاوٹی اور مضرِ صحت اشیائے خوردونوش میں ملوث کاروباروں کے خلاف خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ فوڈ سیفٹی ٹیموں نے پشاور میں مختلف کارروائیوں کے دوران مردہ گائے کی سپلائی ناکام بنا دی، جبکہ ملاوٹی چائے کی پتی تیار کرنے والے یونٹ کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔
فوڈ اتھارٹی کے ترجمان نے کارروائیوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز خفیہ اطلاع ملنے پر فوڈ سیفٹی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حیات آباد میں پولیس کے ہمراہ ایک رکشے کو روکا، جس میں مردہ گائے حیات آباد سپر مارکیٹ میں واقع قصاب کی دکان کو سپلائی کی جا رہی تھی۔ کارروائی کے دوران رکشے سے مردہ گائے برآمد کرکے رکشہ اور مردہ جانور کو تحویل میں لے لیا گیا، جبکہ رکشہ ڈرائیور کو گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ترجمان کے مطابق مذکورہ قصاب کی دکان کو سیل کر دیا گیا ہے اور فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ قصاب کی گرفتاری کے لیے پولیس کی جانب سے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز پشاور ڈویژن ذیشان محسود کی نگرانی میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے دوسری کارروائی کرتے ہوئے پشاور میں ملاوٹی چائے کی پتی تیار کرنے والے یونٹ پر اچانک چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران یونٹ میں غیر معیاری اور ملاوٹی چائے کی پتی تیار کرتے ہوئے ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ موقع سے تقریباً 900 کلوگرام ملاوٹی چائے کی پتی، خام مال اور مشینری قبضے میں لے لی گئی، جبکہ موقع پر موجود ملزمان کو گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملاوٹی اور غیر معیاری خوراک کی تیاری اور فروخت میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے انسان دشمن عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے صوبے سے ان کا صفایا کیا جائے گا۔انہوں نے فوڈ سیفٹی ٹیموں کو ملاوٹ اور غیر معیاری خوراک کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے کی ہدایت بھی کی۔

محکمہ بہبودِ آبادی کے نظام کو مزید جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کا عمل تیز کیا جائے، فیلڈ سٹاف کی حاضری اور فیلڈ سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی نظام وضع کیا جائے: طفیل انجم

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے بہبودِ آبادی طفیل انجم کی زیر صدارت محکمہ بہبودِ آبادی میں ڈیجیٹلائزیشن اور مانیٹرنگ سسٹم سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری بہبودِ آبادی، ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹر پی ایم ای، ڈیموگرافر اور ریسرچ و آئی ٹی ٹیم کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں ریسرچ و آئی ٹی ٹیم کی جانب سے محکمہ بہبودِ آبادی میں جاری ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں محکمہ کے مختلف شعبوں میں پہلے سے موجود ڈیجیٹل نظام اور جاری اقدامات کا جائزہ پیش کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ کی تقریباً 90 فیصد سرگرمیوں اور دفتری امور کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔اجلاس میں محکمہ کے فیلڈ آپریشنز اور فیلڈ سٹاف کی مؤثر نگرانی بالخصوص سروس ڈیلیوری پوائنٹس (SDPs) پر عملے کی موجودگی اور حاضری کو یقینی بنانے کے امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
اس موقع پر معاونِ خصوصی طفیل انجم نے کہا کہ محکمہ بہبودِ آبادی کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو مزید مؤثر اور مربوط بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ سٹاف کی حاضری اور فیلڈ میں انجام دی جانے والی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے قابلِ اعتماد، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی مانیٹرنگ میکنزم ناگزیر ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ فیلڈ سٹاف کی حاضری اور فیلڈ سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے مناسب موبائل بیسڈ اٹینڈنس اور فیلڈ مانیٹرنگ ایپلی کیشن تیار کرنے یا موجودہ موزوں نظام کو اپنانے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے، تاکہ فیلڈ اہلکار اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران موبائل کے ذریعے اپنی حاضری درج کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ نظام کے ذریعے متعلقہ افسران کو فیلڈ سٹاف کی حاضری اور سرگرمیوں سے متعلق معلومات بروقت دستیاب ہوں گی، جس سے ریئل ٹائم مانیٹرنگ، تصدیق اور نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جا سکے گا۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام کو شفاف، قابلِ اعتماد اور عملی تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے تاکہ محکمہ کی فیلڈ سرگرمیوں میں مزید بہتری لائی جا سکے اور عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار کو مؤثر بنایا جائے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس، ہزاروں اساتذہ کی سینیارٹی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے قانونی ترمیم کی ہدایت

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین عبدالسلام آفریدی نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین و ممبران صوبائی اسمبلی عدنان خان، محترمہ ثوبیہ شاہد اور محترمہ شازیہ جدون کے علاوہ ڈپٹی سیکرٹری و ڈائریکٹر محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، متعلقہ افسران، صدر آل ٹیچر ایسوسی ایشن، محکمہ قانون, ایڈووکیٹ جنرل آفس اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سابقہ اجلاس میں کمیٹی اراکین کی جانب سے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کو دی گئی ہدایات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد مختلف کیڈرز سے تعلق رکھنے والے ہزاروں اساتذہ کی سینیارٹی کا مسئلہ تھا، جنہیں 2014، 2015 اور 2018 میں نیشنل ٹیسٹنگ سروس (NTS) کے ذریعے بھرتی کیا گیا تھا اور بعد ازاں 2018 میں باقاعدہ (Regularize) کیا گیا۔ آل ٹیچر ایسوسی ایشن کے صدر نے کمیٹی کو اساتذہ کا موقف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ان سے بعض جونیئر اساتذہ کو سینیارٹی میں فوقیت دیتے ہوئے ترقیاں دی گئی ہیں اس لیے ان اساتذہ کی سینیارٹی بھی ان کے ابتدائی تقرری کے سال سے تسلیم کی جانی چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی عبدالسلام آفریدی نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حکام کو ہدایت کی کہ اگر اس معاملے کے حوالے سے عدالت میں کوئی کیس زیرِ سماعت نہیں اور کسی امیدوار یا فریق کی جانب سے کوئی قانونی رکاوٹ موجود نہیں تو متعلقہ ایکٹ میں ضروری ترمیم کی جائے، تاکہ مختلف متاثرہ کیڈرز سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی سینیارٹی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے کمیٹی کو تجویز دی کہ اگر مذکورہ ملازمین کو 2014 سے سینیارٹی دینے کے لیے قانون میں ترمیم کی جاتی ہے تو ترمیمی قانون میں یہ وضاحت بھی شامل کی جائے کہ اس بنیاد پر انہیں ماضی کے مالی فوائد (Back Benefits) کا دعویٰ کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے پہلے سے دی گئی ترقیوں پر کوئی اثر پڑے گا۔ اس تجویز کے تحت اساتذہ کی سینیارٹی 2014 سے تسلیم کرنے اور ماضی کے مالی فوائد کا دعویٰ نہ کرنے کی تجویز پر کمیٹی اراکین اور آل ٹیچر ایسوسی ایشن کے صدر نے اتفاق کیا۔ چیئرمین کمیٹی عبدالسلام آفریدی نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حکام کو ہدایت کی کہ محکمہ قانون، ایڈووکیٹ جنرل آفس اور دیگر متعلقہ محکموں کے باہمی مشاورت سے ترمیمی مسودہ قانون تیار کیا جائے، تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی قانونی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ چیئرمین کمیٹی نے مزید ہدایت کی کہ مذکورہ ترمیمی مسودہ آئندہ اجلاس میں کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے، جہاں اس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اسے صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ اساتذہ کی سینیارٹی کے مسئلے کو قانونی اور متوازن طریقے سے حل کرنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی مشاورت سے اقدامات مکمل کریں، تاکہ متاثرہ اساتذہ کے دیرینہ مسئلے کا قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی عبدالکریم تورڈھیر کی زیر صدارت بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں کمیٹی کے اراکین و ممبران صوبائی اسمبلی عبدالمنعم خان، محمد رشاد خان، منیر حسین لغمانی، افتخار علی مشوانی، ڈاکٹر حمید الرحمن، احتشام علی اور رنگیز خان نے شرکت کی، جبکہ احمد کنڈی اور ارباب محمد عثمان خان بذریعہ زوم اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں چیئرمین و سیکرٹری پاکستان ٹوبیکو بورڈ، محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول، محکمہ زراعت، محکمہ قانون، محکمہ اطلاعات، صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ، ایڈووکیٹ جنرل آفس کے حکام و افسران نے بھی شرکت کی، جبکہ سابق ممبر پاکستان ٹوبیکو بورڈ ایاز خان بھی بذریعہ زوم اجلاس میں شریک رہے۔اجلاس کے دوران خصوصی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کی سفارشات کی روشنی میں تشکیل دی گئی سب کمیٹی کے قیام، اس کے دائرہ کار اور اب تک ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان ٹوبیکو بورڈ کی جانب سے تمباکو کی غیر مجاز اور غیر قانونی خریداری کی روک تھام، متعلقہ قوانین، قواعد و ضوابط اور موجودہ طریقہ کار کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول کے حکام نے اجلاس کو خصوصی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں سب کمیٹی کے قیام سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں سب کمیٹی تشکیل دے کر اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔اس موقع پر بتایا گیا کہ سب کمیٹی کے دائرہ کار (ٹی او آرز) میں تمباکو سے متعلق قانونی اور ریگولیٹری امور کا جائزہ لینا، موجودہ قوانین کا مطالعہ کرنا اور بالخصوص یہ تعین کرنا شامل ہے کہ صوبائی حکومت اس شعبے میں قانون سازی، ضابطہ کاری اور پالیسی اقدامات کے حوالے سے کس حد تک اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ سب کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے کے لیے چیئرمین خصوصی کمیٹی کو مناسب وقت مقرر کرنے کی درخواست ارسال کر دی گئی ہے اور اس ضمن میں جلد از جلد کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا جائے گا۔چیئرمین خصوصی کمیٹی عبدالکریم تورڈھیر نے ہدایت کی کہ تشکیل کردہ سب کمیٹی کا اجلاس جلد از جلد منعقد کیا جائے تاکہ تمباکو سے متعلق معاملات میں صوبائی حکومت کے قانونی و آئینی دائرہ اختیار اور ممکنہ اقدامات کا واضح تعین کیا جا سکے۔ انہوں نے سب کمیٹی کی کارگزاری، سفارشات اور عملدرآمد کے حوالے سے خصوصی کمیٹی کو مقررہ ٹائم لائن کے مطابق پیش رفت سے آگاہ کرنے کی بھی ہدایت کی۔چیئرمین خصوصی کمیٹی نے کہا کہ تمباکو خیبر پختونخوا کی ایک اہم پیداوار ہے، جس سے بڑی تعداد میں کاشتکاروں کا روزگار اور معاشی دارومدار وابستہ ہے۔ اس لیے تمباکو سے متعلق قانونی اقدامات میں کاشتکاروں کے جائز حقوق، ان کی پیداوار کی منصفانہ خریداری، مناسب معاوضے اور ممکنہ حق تلفی کے تدارک کو خصوصی اہمیت دی جائے۔انھوں نے ہدایت کی کہ پاکستان ٹوبیکو بورڈ کی ویب سائٹ پر ایم آئی ایس سسٹم کو شئیر کیا جائے تاکہ تمباکو کے اصل پیداواری کاشت کاروں کی رجسٹریشن کا عمل تیز ہو سکے۔ اجلاس میں سب کمیٹی کی تشکیل میں محکمہ داخلہ کے نمائندے کو بھی شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔

محکمہ ایکسائز کا منشیات کے خلاف صوبہ بھر میں بڑا کریک ڈاؤن، بھاری مقدار میں چرس اور آئس برآمد، متعدد ملزمان گرفتار

محکمہ ایکسائز وٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے صوبہ بھر میں منشیات بالخصوص آئس اور ہیروئن کے خلاف جاری کریک ڈاون کے دوران اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ایکسائز پولیس اور انٹیلیجنس بیورو کی مختلف کامیاب کارروائیوں کے دوران چرس اور آئس کی بھاری مقدار برآمد کرتے ہوئے متعدد ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف متعلقہ تھانوں میں مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق تھانہ ایکسائز ایبٹ آباد نے خفیہ اطلاع پر حویلیاں روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے ایک گاڑی کے شافٹ میں انتہائی مہارت سے چھپائی گئی 1420 گرام چرس برآمد کر لی۔کارروائی کے دوران نقاش احمد ولد راجہ مقبول اور خاور علی ولد گلزار ساکنان مانسہرہ کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا۔تھانہ ایکسائز مردان نے خفیہ اطلاع پر چارسدہ روڈ پر گاڑی نمبر B-1615 کی تلاشی کے دوران 2400 گرام چرس برآمد کی۔ کارروائی میں فواد خان ولد انور خان ساکن سرڈھیری چارسدہ اور سحر گل ولد انار گل ساکن پشاور کو گرفتار کیا گیا۔ایکسائز پولیس ایبٹ آباد نے بیدڑہ انٹرچینج کے قریب کارروائی کرتے ہوئے موٹرسائیکل سوار ملزم زبیر ولد لال خان ساکن مانسہرہ سے 1050 گرام چرس برآمد کر کے اسے گرفتار کر لیا۔تھانہ ایکسائز ڈی آئی خان نے ایکسائز چیک پوسٹ ڈیرہ دریا خان روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے مسافر بس میں سوار ملزم شان اللہ ولد معنے سے 2000 گرام چرس برآمد کر کے گرفتار کر لیا۔تھانہ ایکسائز پشاور نے جوائنٹ چیک پوسٹ ایم ون پر کارروائی کرتے ہوئے گاڑی نمبر DEF-543 سے 2400 گرام چرس برآمد کر کے دو ملزمان کو گرفتار کیا۔ دوسری کارروائی میں موٹروے سروس روڈ پر خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے ایک مقامی منشیات فروش سے 100 گرام چرس برآمد کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا۔ایکسائز انٹیلیجنس بیورو B-I موبائل سکواڈ نے خفیہ اطلاع پر چارسدہ میں کارروائی کرتے ہوئے ایک بین الاقوامی منشیات اسمگلر کو گرفتار کیا، جو آئس بھرے کیپسول نگل کر بحرین اسمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ملزم رفیع اللہ ولد گمبت خان ساکن باڑہ ضلع خیبر کو گرفتار کر کے DHQ ہسپتال چارسدہ منتقل کیا گیا، جہاں طبی عمل کے بعد اس کے پیٹ سے آئس بھرے 66 کیپسول جن کا مجموعی وزن 462 گرام تھا، برآمد ہوئے۔ ملزم کے قبضے سے پاسپورٹ اور سفری دستاویزات بھی برآمد کی گئیں۔تھانہ ایکسائز چارسدہ نے موٹروے انٹرچینج کے قریب کارروائی کرتے ہوئے ملزم کامران خان ولد گل حسن سے چپلوں میں چھپائی گئی 634 گرام چرس برآمد کر کے اسے گرفتار کر لیا۔

معیاری خوراک صحت اور بہتر نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہے۔ متعلقہ ادارے غذائیت سے متعلق آگاہی اور معیاری خوراک کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں، ڈاکٹر محمد بختیار خان

سیکرٹری زراعت خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد بختیار خان نے کہا ہے کہ معیاری خوراک اور بہتر غذائیت انسانی صحت، خصوصاً بچوں کی نشوونما اور صحت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے تمام متعلقہ اداروں کو غذائیت کے فروغ اور عوام میں اس حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے خاص طور پر زرعی یونیورسٹی پشاور پر زور دیا کہ وہ تحقیق، تعلیم اور آگاہی کے ذریعے عوام کو متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی اہمیت سے روشناس کرائے۔وہ زرعی یونیورسٹی پشاور میں گلوبل الائنس فار ایمپرووڈ نیوٹریشن (GAIN)، انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ (IFAD) اور خیبرپختونخوا رورل اکنامک ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے زیر اہتمام نئے پراجیکٹ“Mainstreaming Nutrition: Improving the Impact of IFAD Investments on the Nutritional Quality of Diets”کے آغاز کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی پشاور پروفیسر ڈاکٹر سرزمین خان بھی موجود تھے۔سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان نے کہا کہ غذائیت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے زراعت، صحت، تعلیم اور دیگر متعلقہ شعبوں کے اداروں کے درمیان مربوط تعاون ضروری ہے۔خیبرپختونخوا حکومت زرعی شعبے کی ترقی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جن میں زرعی کاروبار شروع کرنے کے لیے ایگریکلچر گریجویٹس کو قرضوں کی فراہمی بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں معیاری بیج کی پیداوار اور دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے بھی حکومت ایک نئے منصوبے کا آغاز کر رہی ہے، جس سے زرعی پیداوار کے معیار اور پیداواریت میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی پشاور پروفیسر ڈاکٹر سرزمین خان نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ GAIN، IFAD اور خیبرپختونخوا رورل اکنامک ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے درمیان اس اہم شراکت داری کا آغاز زرعی اور دیہی ترقی کے لیے خوش آئند اقدام ہے۔ زلزلوں اور مسلسل آنے والے سیلابوں نے خیبرپختونخوا میں دیہی معاش، زرعی زمینوں اور مقامی غذائی نظام کو بارہا متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں خصوصاً خواتین اور بچوں کی غذائی و صحت کی بہبود متاثر ہوئی۔ ایسے حالات میں زرعی اور دیہی ترقی کے منصوبوں میں غذائیت کو مرکزی حیثیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔تقریب سے GAIN کی کنٹری ڈائریکٹر فرح ناز سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور منصوبے کے اغراض و مقاصد، غذائیت کی بہتری اور زرعی سرمایہ کاری کے اثرات کو مؤثر بنانے کے حوالے سے مختلف امور پر روشنی ڈالی۔تقریب کے اختتام پر وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی پشاور پروفیسر ڈاکٹر سرزمین خان اور GAIN کی کنٹری ڈائریکٹر محترمہ فرح ناز نے سیکرٹری زراعت خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد بختیار خان کو شیلڈ پیش کی۔

وزیر تعلیم ارشد ایوب خان کی زیر صدارت ضم شدہ اضلاع کے تمام ماڈل سکولوں کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس

ضم اضلاع کے تمام ماڈل سکولوں کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس بدھ کے روز وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا، چیئرمین بورڈ آف گورنرز تمام ماڈل سکولز ضم شدہ اضلاع ارشد ایوب خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔بورڈ آف گورنرز نے ضماضلاع کے ماڈل سکولوں کی تعلیمی کارکردگی، انتظامی امور، مالی صورتحال، سٹاف کی موجودہ پوزیشن اور انفراسٹرکچر کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ وزیر تعلیم / چیئرمین بورڈ آف گورنرز نے تمام ماڈل سکولوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی، تدریسی عملے کی حاضری، تعلیمی معیار میں بہتری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں ادارہ جاتی استعداد کار کو مضبوط بنانے، فنڈز کے بروقت استعمال اور ماڈل سکولوں کے تمام امور میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔بورڈ آف گورنرز نے ضم شدہ اضلاع کے ماڈل سکولوں کی بہتری اور سہولت کے ساتھ کام کرنے کے لیے کئی اہم فیصلوں کی منظوری دی اور ان اداروں کو بہترین تعلیمی مراکز بنانے کا عزم کیا۔

وَگرَنسی کنٹرول اینڈ ریہیبیلیٹیشن بل 2026 میں مجوزہ ترامیم پر ملک لیاقت علی خان کو بریفنگ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان کو خیبرپختونخوا وَگرَنسی (کنٹرول اینڈ ریہیبیلیٹیشن) بل 2026 میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ایڈیشنل سیکرٹری عمر خان نے ملک لیاقت علی خان کو بل کی مختلف شقوں میں تجویز کردہ ترامیم، ان کے اغراض و مقاصد اور اہم نکات سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں گداگری کی روک تھام، مستحق افراد کی بحالی، انہیں ہنر سکھانے، روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور معاشرے میں باعزت مقام دلانے سے متعلق اقدامات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر متعلقہ سرکاری اداروں، ضلعی انتظامیہ، پولیس، محکمہ صحت، محکمہ تعلیم اور غیر سرکاری تنظیموں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ بریفنگ میں بحالی مراکز کے قیام، گداگری میں ملوث بچوں، خواتین، بزرگوں اور خصوصی افراد کے لیے الگ الگ سہولیات کی فراہمی، ان کی رجسٹریشن، طبی معائنے، نفسیاتی معاونت اور قانونی تحفظ سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔ملک لیاقت علی خان نے مجوزہ ترامیم کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ کمزور اور مستحق افراد کی بحالی، انہیں معاشرے کا باعزت اور خودمختار حصہ بنانا اور منظم گداگری کی حوصلہ شکنی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے محض قانونی کارروائی کافی نہیں بلکہ بحالی، تعلیم، فنی تربیت اور روزگار کے مؤثر مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بل میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز کو شامل کرتے ہوئے اسے مزید جامع اور مؤثر بنایا جائے، جبکہ بحالی کے عمل کی نگرانی اور اقدامات پر عمل درآمد کے لیے واضح طریقہ کار بھی وضع کیا جائے۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا وَگرَنسی (کنٹرول اینڈ ریہیبیلیٹیشن) بل 2026 میں مجوزہ ترامیم آج خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو اسمبلی میں بل پیش کرنے کے حوالے سے تمام قانونی و انتظامی تقاضے مکمل رکھنے کی ہدایت کی۔