محکمہ ایکسائز وٹیکسیشن اور نارکوٹکس خیبرپختونخوا نے پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائیوں کو جاری رکھتے ہوئےایبٹ آباد اور صوابی کے اضلاع میں خصوصی مہم کے دوران متعدد ٹیکس نادہندہ یونٹس سیل کر دیے۔محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق ضلع ایبٹ آباد میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر عمار جدون کی نگرانی میں قلندر آباد کے علاقے میں بڑے پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف خصوصی مہم چلائی گئی۔ متعدد بار نوٹسز جاری کرنے کے باوجود واجبات ادا نہ کرنے والے کئی ٹیکس یونٹس کو قانونی کارروائی کے تحت سیل کر دیا گیا۔اسی طرح ضلع صوابی میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر شکیل خان کی ہدایت پر پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی جہاں بارہا نوٹسز کے باوجود عدم ادائیگی پر متعدد ٹیکس یونٹس سیل کیے گئے۔محکمہ ایکسائز نے جائیداد مالکان کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے پراپرٹی ٹیکس واجبات بروقت ادا کریں تاکہ قانونی کارروائی، جرمانوں اور ممکنہ سیلنگ سے بچا جا سکے۔ محکمہ کے مطابق صوبہ بھر میں ٹیکس وصولی یقینی بنانے کے لیے ایسی کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔
خیبر پختونخواکے وزیر برائے ابتدائی وثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایت پر صوبے کے 7ماڈل تعلیمی اداروں کہ عظمت رفتہ کو اصلی حالت میں بحال کرنے کے لیے موجودہ حکومت تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے گی
خیبر پختونخواکے وزیر برائے ابتدائی وثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایت پر صوبے کے 7ماڈل تعلیمی اداروں کہ عظمت رفتہ کو اصلی حالت میں بحال کرنے کے لیے موجودہ حکومت تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے گی اور ان اداروں کو ایک بار پھر صوبے کے عوام کے لیے مثالی تعلیمی اداروں کے طور پر بحال کرے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز پشاور میں صوبے کے 7 نامور اور مثالی تعلیمی اداروں کے حوالے سے منعقدہ ان لائن اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد خالد ،سپیشل سیکرٹری محمد صالح خان اور بورڈ کے دیگر افسران نے ان لائن اجلاس میں شرکت کی اس موقع پر صوبے کے نامور تعلیمی اداروں فضل حق کالج مردان،ایبٹ آباد پبلک سکول،اکرم خان درانی کالج بنوں،پشاور پبلک سکول،ایکزلر کالج سوا ت ،سنگوٹہ پبلک سکول سوات ،یونیورسٹی وینسم کالج ڈی آئی خان کی بحالی کے لیے درکار فنڈز کی فراہمی،انفراسٹرکچر،لیب،سپورٹس کی سہولت،اساتذہ کو جدید تربیت کی فراہمی اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کے لیے دو سب کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو کہ فزیکل طور پر ان اداروں کا وزٹ کریں گی اور وہ ہر ایک ادارے کا جائزہ لےکر اپنی رپورٹ اجلاس میں پیش کریں گی اجلاس میں صوبائی وزیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت ان مشہور نامور تعلیمی اداروں کی عظمت رفتہ بحال کرنے کے لیے تمام تر دستیاب وسائل کو بروئے کار لائے گی اور ان اداروں کے لیے ایک جیسی یونیفارم پالیسی وضع کی جائے گی جس میں ان کی کپیسٹی بلڈنگ کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کے معیار کومزید بہتر کرنے اور تمام اداروں کو ڈیجیٹائزیشن کی طرف راغب کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ان تعلیمی اداروں کی بحالی سے صوبے کے بچے اپنے علاقوں میں معیاری تعلیم حاصل کر سکیں گے اور تعلیم کے لیے دور دراز علاقوں میں جانا نہیں پڑے گا صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ سب تعلیمی ادارے صوبے کا سرمایہ ہیں ان کو اصلی حالت میں لانے کاپلان تیار کیا جائے گا اور انشاءاللہ ایک بار پھر ان تعلیمی اداروں میں ہمارے صوبے کے بچے معیاری تعلیم حاصل کر کے اچھے اچھے عہدوں پر فائض ہو سکیں گے
صنفی مساوات پر مبنی پولیسنگ یک روزہ تربیتی سیشن کا انعقاد اچھا اقدام ہے، ڈی جی انسانی حقوق غلام علی
خیبرپختونخوا میں صنفی مساوات پر مبنی پولیسنگ کو مزید مستحکم کرنے کی غرض سے 19 خاتون پولیس اہلکاروں کی استعداد کار بڑھانے کا ایک روزہ تفصیلی تربیت کا اہتمام پشاور کے مقامی ہوٹل میں ہوا جس میں متاثرہ خواتین و لڑکیوں پر تشدد کے خلاف پولیس کی جانب سے پیشہ ور انداز میں حساس ردعمل اور کیسسز کو نمٹانے پر لیکچرز اور سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل انسانی حقوق خیبرپختونخوا غلام علی نے منعقدہ سیشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں خواتین و لڑکیوں پر صنفی بنیاد پر، گھریلو تشدد، جائے کار میں ہراسمنٹ کی روک تھام سمیت دیگر متعلقہ امور کے حوالے سے قانون سازی ہوئی ہے، جن پر مکمل عملدرامد کے سلسلے میں کئی چیلنجز اب بھی درپیش ہیں. انہوں نے کہا کہ محکمہ انسانی حقوق خیبرپختونخوا یو این وویمن، جرمن ایمبیسی اور شرکت گاہ جیسی معاون پارٹنرز کی تعاون سے ان چیلنجز پر قابو پانے میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ خواتین پولیس کی لڑکیوں و خواتین پر تشدد کے متعلق حساس واقعات کی بہترین انداز میں پولیسنگ کر سکیں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ خواتین پر تشدد کے واقعات کے متعلق ابتدائی رپورٹ کے اندراج اور تفتیشی عمل کا بھی اہم کردار ہوتا ہے جس کو بطریق احسن سرانجام دینے میں خواتین پولیس اپنا بھرپور کردار ادا کریں گی۔ شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صوبائی محتسب خیبرپختونخوا رخشندہ ناز نے کہا کہ پولیس، پراسیکیوشن اور عدلیہ جیسی اہم اداروں میں خواتین کی خدمات سرانجام دینے کے لیے آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں خواتین پولیس کا کردار صنفی تشدد اور گھریلو تشدد کی روک تھام میں انتہائی اہم ہے۔ اس ضمن ان کا استعداد کار بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔ شرکت گاہ تنظیم کی صوبائی سربراہ فوزیہ علی نے پروگرام کے اختتام پرمحکمہ انسانی حقوق، پولیس اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی معاونت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ صنفی بنیاد پر اور گھریلو تشدد کی روک تھام ادارہ جاتی تعاون اور متعلقہ اہلکاروں کی استعداد کار بڑھانے سے ممکن ہے۔
Khuli Kachehri held under the chairmanship of Provincial Minister for Public Health Engineering, Fazal Shakoor Khan
PESHAWAR: An online open court (Khuli Kachehri) was held under the chairmanship of the Provincial Minister for Public Health Engineering, Fazal Shakoor Khan, aimed at ensuring prompt resolution of public issues and strengthening public engagement.
Citizens from various parts of the province participated in the session through telephone calls and directly presented their concerns to the Provincial Minister and senior officials. During the proceedings, the Minister personally listened to public complaints and issued on-the-spot directives to the concerned officers for immediate resolution of several issues.
The session was attended by Secretary PHE Masood Younas, Additional Secretary Jahangir Azam, Chief Engineers, and other relevant officials. Participants also demanded timely completion of ongoing development projects of the PHE. In response, the Provincial Minister assured that efforts are being accelerated to ensure completion of all projects within the stipulated timeframe.
While taking notice of public grievances, contact numbers of complainants were also recorded to enable the concerned Executive Engineers (XENs) to follow up and resolve issues effectively.
Speaking on the occasion, the Provincial Minister said that resolving public issues at their doorstep is a top priority of the current KP government, and all available resources are being utilized in this regard. He emphasized that the Khuli Kachehri serves as an effective platform where citizens can directly access senior government officials and present their concerns without any intermediary.
Fazal Shakoor Khan further said that such open courts are bridging the gap between the public and government departments, thereby enhancing public trust. He added that citizens are able to ask questions directly, and relevant officials provide immediate responses, leading to quicker resolution of issues.
He maintained that, on the special directives of Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa, Sohail Afridi, open courts are being held across the province to ensure timely resolution of public issues and to promote good governance.
The Minister reaffirmed that the series of Khuli Kachehris will continue, and every effort will be made to resolve public issues at the earliest. He concluded by saying that the current provincial government is committed to public welfare and is taking all possible steps to improve service delivery alongside ensuring timely completion of development projects.
KP Minister Riaz Khan presided over important review meeting of the department
The Khyber Pakhtunkhwa for irrigation Riaz Khan chaired an important review meeting regarding various departmental schemes, in the committee room of the Irrigation department. The meeting included a detailed review of the progress on ongoing projects under the Pehur High Level Canal (PHLC) and the Emergency Flood Assistance Project (EFAP).
The meeting was attended by Project Director PHLC, Engineer Zar Gul Khan—who is also holding the additional charge of Project Director EFAP—along with relevant officials and technical experts.
The Provincial Minister was given a comprehensive briefing on the progress of projects under PHLC and EFAP. It is said in the meeting that several projects are nearing completion, while progress on others is satisfactory.
The PD also informed about the challenges being faced, including timely release of funds, technical issues, and field-level obstacles. Proposed measures to address these challenges were also discussed.
Expressing satisfaction over the ongoing progress, Provincial Minister Riaz Khan emphasized the importance of timely completion of projects while ensuring high quality standards. He directed the concerned authorities to further accelerate the pace of work on all ongoing schemes.
He also instructed that transparency and merit must be ensured in all projects, and that the monitoring system should be further strengthened to guarantee the effective utilization of funds. The Provincial Minister urged field officers to demonstrate seriousness in resolving public issues and to make timely decisions based on ground realities.
The Provincial Minister further said that the current KP government is utilizing all available resources to ensure timely completion of public welfare projects and to achieve sustainable development.
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند سے خیبر پختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات.
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل تاج محمد خان ترند سے خیبر پختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی۔وفد کی قیادت سید عاقل شاہ کر رہے تھے، جبکہ وفد میں ہارون ظفر، ذوالفقار علی بٹ، قمر زمان اور سہیل بن قیوم بھی شامل تھے۔ملاقات میں سیکرٹری کھیل اور امورِ نوجوانان محمد آصف اور ڈائریکٹر جنرل کھیل تاشفین حیدر بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران صوبے میں کھیلوں کے فروغ، کھلاڑیوں کی بہبود اور متعلقہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
خیبر پختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن کے وفد نے صوبائی مشیر کی توجہ ایسوسی ایشنز کی پانچ سال سے بند گرانٹس کی طرف مبذول کرائی۔ وفد نے بتایا کہ گرانٹس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے کھلاڑی مختلف قومی و بین الاقوامی ایونٹس میں صوبے کی نمائندگی کرتے ہوئے شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر تاج محمد خان ترند نے وفد کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی تمام ایسوسی ایشنز کی زیر التواء گرانٹس ادا کر دی جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل گیمز میں میڈل جیتنے والے کھلاڑیوں کے لیے کیش انعامات کا اعلان بھی کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں جلد ہی ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں تمام میڈل ونرز کو نقد انعامات سے نوازا جائے گا۔ملاقات کے اختتام پر خیبر پختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن کے وفد نے مشیر تاج محمد خان ترند کا شکریہ ادا کیا اور ان کے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔
محکمہ تعلیم میں ای ٹرانسفر پالیسی پلس 2026کا باضابطہ افتتاح
خیبر پختونخوا کہ وزیر ابتدائی وثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے منگل کے روز پشاور میں ای ٹرانسفر پالیسی پلس کا باضابطہ افتتاط کیا۔اس موقع پر سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد خالد، سپیشل سیکرٹری ابتدائی ثانوی تعلیم افتخار علی خان ، ایڈیشنل سیکرٹری حیات اللہ خان ، ایڈیشنل سیکرٹری محمد صالح خان ، ڈائریکٹر ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نعمانہ سردار ، ڈائریکٹر آئی ٹی صلاح الدین خان اور دیگر حکام بھی موجود تھے ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کو ای ٹرانسفر پلس پا لیسی 2026 کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس ای ٹرانسفر پلس پالیسی کے تحت ٹیچنگ کیڈر کی مینوچل ٹرانسفر ، خالی جگہوں پر ٹرانسفر ، ایجوکیشن منجمنٹ کیڈر کی ٹینور بیسڈ ٹرانسفر منسٹر یل کیڈر کی ٹینور بیسڈ ٹرانسفر کراۓ جائیں گے اس ای ٹرانسفر پلس کے لیے متعلقہ سکورنگ اور پیرامیٹرز ہیں موجود ہ سکول میں کتنا عرصہ تک رہا ہے ، سٹوڈنٹ ٹیچر ریشو ، معزور افراد , بیوہ ، ڈومیسائل ، اعلی تعلیمی قابلیت ، ایس – ایس ـ سی / ایچ ـ ایس ـ ایس ـ سی کی سالانہ رزلٹ ،اورآل طلباء کی حاضری کی ریشو جیسے اہداف رکھے گئے ہیں اس ای ٹرانسفر پلس پالیسی سے محکمہ تعلیم سے وابستہ ملازمین کو ٹرانسفر کے سہولیات فراہم ہونگے افتتا ح کے بعد صوبائی وزیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے صوبے میں کامیاب ای ٹرانسفر پلس پالیسی کا عمل وجود میں لایا ہے جس کے تحت اساتذہ کی خواہشات اور میرٹ پالیسی کو یقینی بنایا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پانی پی ٹی ائی کا منشور ہے کہ میرٹ بیس ٹرانسفر ہو اور میرٹ پر کام ہونا چاہیے اسی لیے خیبر پختون خواہ کے وزیراعلی سہیل افریدی بھی محکمہ تعلیم کو اہمیت دے رہا ہے اور بے میرٹ بیس پوسٹنگ ٹرانسفر کے پالیسی ہوں انہوں نے کہا کہ اساتذہ ہمارے لیے قابل قدر اور قابل احترام ہے اور یہ ایک معزز پیشہ ہے اس سے پہلے اساتذہ سفارشیں کراتے تھے اپنے تبادلوں کے لیے لیکن موجودہ حکومت نے سفارشی کلچر کا خاتمہ کر دیا ہے اور ہم نے صوبے کے بچوں کی بہتر مستقبل کے لیے ای ٹرانسفر شروع کیا اس کے اچھے نتائج مرتب ہوں گے اور ہمارے سکول کے تعلیمی نتائج بھی بہتر ہوں گے اور اس سے بچوں کی پڑھائی میں بھی بہتری ائے گی اور ہمارے اساتذہ کی ویلفیئر بی ہمارے لیے اہم ہے جتنا کہ ہمارے بچوں کا اساتذہ کو ہمیشہ پریشانی ہوتی تھی اپنے تبادلوں کے لیے لیکن انشاءاللہ اب ان کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی وہ گھر میں بیٹھ کر اپنے موبائل سے ایپ کے ذریعے پوسٹنگ اور ٹرانسفر جو بھی ان کا حق بنتا ہے وہ اپلائی کر سکتے ہیں صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ یہ عید ٹرانسفر پالیسی پلس میں مزید بہتری ائے گی اور حکومت کے جو مقاصد ہیں وہ حاصل کر سکے گی۔
کوہاٹ میں فلاح و ترقی کا امتزاج
وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کوہاٹ میں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے زیراہتمام منعقدہ تقریب میں خصوصی افراد میں الیکٹرک وہیل چیئرز اور دیگر معاونتی اشیاء تقسیم کیں جبکہ علاقے میں ایک اہم روڈ منصوبے اور شجرکاری مہم کا بھی افتتاح کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ حکومت خصوصی افراد کو معاشرے کا خودمختار اور فعال حصہ بنانے کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی خدمت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ان کی فلاح کے بغیر ایک باوقار معاشرہ تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ اس موقع پر سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے افسران، مقامی عمائدین اور شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ مستحق افراد نے حکومتی اقدام کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں، شفیع جان نے میٹھا خان تا مرائی روڈ کی تعمیر کے منصوبے کا بھی افتتاح کیا جسے علاقائی ترقی کیلئے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے آمد و رفت میں آسانی کے ساتھ ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو بروقت اور معیاری انداز میں مکمل کیا جائے۔ افتتاحی تقریب میں مقامی نمائندوں اور کارکنان کی بڑی تعداد شریک ہوئی جبکہ پاکستان تحریک انصاف اورکزئی کے جنرل سیکرٹری عبدالرحمن بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ اسی دورے میں شفیع جان نے اربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے زیر اہتمام شجرکاری مہم کا افتتاح بھی کیا اور پودا لگا کر مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ شجرکاری ایک محفوظ اور سرسبز مستقبل کی ضمانت ہے اور عوام کو چاہیے کہ وہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 23 مارچ یومِ پاکستان کے موقع پر محکمہ جنگلات کے تحت مقررہ ہدف سے زائد 10 لاکھ پودے لگائے جا چکے ہیں جو حکومت کے ماحولیاتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
محکمہ آبپاشی خیبر پختونخوا کی جانب سے آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد
محکمہ آبپاشی خیبر پختونخوا کی جانب سے عوامی شکایات کے فوری ازالے اور عوام سے براہِ راست رابطے کے فروغ کے لیے منگل کے روز آن لائن کھلی کچہری محکمہ آبپاشی کے کانفرنس روم پشاور میں منعقد ہوئی۔ کھلی کچہری سیکرٹری آبپاشی عبدالباسط کی زیر صدارت منعقد ہوئی اس موقع پر چیف انجینئرز اور متعلقہ افسران بھی موجود تھے جبکہ متعلقہ ایکسینز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی کھلی کچہری میں صوبہ بھر کے مختلف اضلاع اور تحصیلوں سے شہریوں نے ٹیلیفون کالز کے زریعے شکایات درج کیں سیکرٹری آبپاشی عبدالباسط نے براہِ راست ٹیلیفون کالز کے ذریعے عوامی مسائل سنے اور شہریوں کو درپیش مشکلات سے آگاہی حاصل کی۔ اس موقع پر عوام نے آبپاشی سے متعلق مختلف مسائل، جاری سکیموں میں درپیش رکاوٹوں اور بہتری کے لیے تجاویز بھی پیش کیں۔سیکرٹری آبپاشی نے موصول ہونے والی شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے بعض مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ ایکسینز اور دیگر افسران کو ضروری احکامات جاری کیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی مسائل کا بروقت حل محکمہ کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ آن لائن کھلی کچہری جیسے اقدامات کا مقصد عوام اور محکمہ کے درمیان فاصلے کم کرنا اور شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے محکمہ کے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے اور شہریوں کی سہولت کے لیے ایسے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائی جا رہی ہیں انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ عوامی شکایات کے حل میں سنجیدگی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور فیلڈ سطح پر مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
Chief Secretary Shahab Ali Shah Chairs Weekly Review Meeting, Assesses Progress on Governance and Development Initiatives
Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, chaired a weekly review meeting to assess progress on governance and development affairs across the province. The meeting was attended by senior officials, and the forum was given a detailed briefing on ongoing initiatives in various sectors.
The meeting was informed that, on the directives of the Chief Minister, implementation of the good governance reform agenda is underway to ensure improved public service delivery. In this regard, operations against illegal encroachments have been intensified, resulting in the retrieval of 38 kanals of state land during the current week.
The forum was further apprised that, in view of the international situation, monitoring and inspection of 2,590 petrol pumps across the province is ongoing to prevent hoarding and other irregularities.
It was also highlighted that the implementation of the two-year rotation policy for government employees has formally commenced and is being enforced on a regular basis to enhance institutional efficiency.
Regarding tourism, the meeting was briefed that efforts to upgrade and improve existing tourist destinations have been accelerated, which is expected to further promote the tourism sector in the province.
The forum was also updated on the progress of the New General Bus Stand project in Peshawar, which is nearing completion. Upon completion, all bus terminals in the city will be shifted to the new facility, a move expected to significantly ease traffic congestion in Peshawar.
In the health sector, the meeting was informed that the recruitment of 2,400 medical officers is underway to improve healthcare services in districts facing a shortage of doctors.
The meeting also reviewed progress on the preparation of an action plan for the Peshawar Valley Railway project, along with the formulation of a strategy to promote public participation in public-private partnership initiatives.
