Home Blog Page 13

ہیرو شاہ ظریف شاہ بابا میں واٹر سپلائی سکیم کا باقاعدہ افتتاح، علاقہ مکینوں کا دیرینہ مسئلہ حل، پیر مصور خان مشیر جنگلات

ِ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیربرائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان کے خصوصی ترقیاتی فنڈ سے تحصیل درگئی: ہیرو شاہ ظریف شاہ بابا کے شاملات میں مکمل کی گئی واٹر سپلائی سکیم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا، جس سے علاقے کے مکینوں کا دیرینہ مسئلہ حل ہوگیا۔اس سلسلے میں ایک پروقار افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں سابق چیئرمین تحصیل درگئی پیر محمد اسلام غازی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔تقریب میں علاقے کے معززین، عمائدین اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر حاجی محمد رسول، سلیمان خان، سید حسین، گلستان خان، ڈاکٹر شاہد، حاجی فضل کریم اور امانت گل سمیت دیگر نمایاں شخصیات بھی موجود تھیں۔مہمانِ خصوصی پیر محمد اسلام غازی اور دیگر عمائدین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واٹر سپلائی سکیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس فلاحی منصوبے کی تکمیل میں کردار ادا کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔شرکاء نے واٹر سپلائی سکیم کی تکمیل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پیر مصور خان کی جانب سے خصوصی ترقیاتی فنڈ کے ذریعے علاقے کے عوام کا دیرینہ مسئلہ حل کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
تقریب کے اختتام پر علاقے اور عوام کی ترقی، خوشحالی اور بہتری کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

ملک لیاقت علی خان کی زیرِ صدارت خیبرپختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن ایکٹ میں ترامیم اور کمیشن کی فعالیت کے حوالے سے اجلاس

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان کی زیرِ صدارت خیبرپختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (KPCSW) ایکٹ میں مجوزہ ترامیم، کمیشن کی فعالیت اور اسے مزید مؤثر و مضبوط بنانے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین، چیئرپرسن خیبرپختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن ڈاکٹر سمیرا شمس سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس نے کمیشن کے ایکٹ میں مجوزہ ترامیم، امورِ کار اور اسے مزید بااختیار و مؤثر بنانے کے حوالے سے مشیرِ وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی۔اجلاس میں کمیشن کی کارکردگی بہتر بنانے، ادارہ جاتی استعداد بڑھانے اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر خواتین کو درپیش مسائل کے فوری حل، شکایات کے ازالے اور کمیشن کے دائرہ کار کو ضلعی سطح تک مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔اجلاس میں کمیشن کی جانب سے آگاہی مہمات، قانونی معاونت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مربوط روابط کو مزید مستحکم کرنے پر بھی غور کیا گیا، تاکہ خواتین کو بروقت انصاف اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

مشیرِ وزیراعلیٰ نے کمیشن کی فعالیت اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مجوزہ ترامیم کو جلد حتمی شکل دے کر کمیشن کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور خواتین کے لیے مزید مؤثر پلیٹ فارم بنایا جائے گا۔

مشیر جنگلات پیر مصور خان کی ہدایات کی روشنی میں ڈی ایف او وائلڈ لائف پشاور کی پشاور موٹر وے ٹول پلازہ پر کارروائی

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان کی ہدایات کی روشنی میں خیبر پختونخوا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے پشاور ٹول پلازہ پر شکاریوں سے برآمد کیے گئے 12 شاہینوں کو ان کے قدرتی مسکن میں آزاد کر دیا۔ اس موقع پر مشیر جنگلات نے کہا کہ اس اقدام سے شاہینوں کی جنگلی آبادی کی بحالی، ماحولیاتی توازن کے تحفظ اور قدرتی غذائی سلسلے کی برقرار ی میں مدد ملے گی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات پیر مصور خان غازی کو بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا، جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے شاہینوں کو قدرتی ماحول میں آزاد کیا۔کنزرویٹر وائلڈ لائف سنٹرل سرکل محمد اسرار نے صوبائی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ 12 شاہین پشاور موٹروے ٹول پلازہ پر تعینات وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے ڈائیو بس میں سمگل کرنے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے برآمد کیے۔ یہ کارروائی ڈی ایف او وائلڈ لائف پشاور مسز مناہل وہاب کی ہدایات پر عمل میں لائی گئی، جس کا مقصد محفوظ جنگلی حیات کی غیر قانونی نقل و حمل اور تجارت کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔پیر مصور خان نے وائلڈ لائف کے فیلڈ اسٹاف کی فرض شناسی اور مؤثر کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جنگلی حیات کے تحفظ اور بحالی کے لیے مؤثر اقدامات حیاتیاتی تنوع، ماحولیاتی توازن اور قدرتی غذائی سلسلے کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنگلی حیات کا مؤثر تحفظ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔صوبائی مشیر نے فیلڈ اسٹاف کی بہترین کارکردگی کے اعتراف میں ان میں تعریفی اسناد تقسیم کیں اور اپنی جانب سے نقد انعامات بھی دیے، جبکہ انہیں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مزید محنت جاری رکھنے کی ہدایت کی اور وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ پر زور دیا کہ جنگلی حیات کے قوانین پر عمل درآمد مزید مؤثر بنایا جائے، غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت کی روک تھام، جنگلی حیات کی آبادی کی بحالی اور صوبے کے قیمتی حیاتیاتی و قدرتی ورثے کے تحفظ کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں۔خیبر پختونخوا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے صوبے بھر میں جنگلی حیات کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کی حفاظت اور وائلڈ لائف قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

بھارت کی طرفداری میں اپنے ہی ملک کے عوام کو دہشت گرد قرار دینا افسوسناک ہے، ڈاکٹر امجد علی

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے کہا ہے کہ بھارت کی طرفداری اور اس کی محبت میں اس حد تک گر جانا کہ اپنے ہی ملک کے لوگوں اور ایک پورے صوبے کے عوام کو دہشت گرد قرار دینے سے بھی گریز نہ کیا جائے، انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت رویہ ہے۔صوبائی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ جس صوبے کے عوام کو مریم نواز دہشت گرد قرار دیتی ہیں، اسی صوبے کے عوام نے کبھی انہیں صفدر کی صورت میں ایک بھولا بھالا نوجوان بھی دیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ بھی دہشت گرد تھا؟۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کا بیانیہ صرف پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنان یا حامیوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ خیبرپختونخوا میں رہنے والے مسلم لیگ (ن) کے کارکنان اور پارلیمنٹ میں بیٹھے ان کے نمائندے بھی اسی صوبے کے عوام کا حصہ ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام محبِ وطن ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس صوبے کے عوام اور سیکیورٹی فورسز نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ایسے میں پورے صوبے کے عوام کو دہشت گرد قرار دینا نہ صرف ان قربانیوں کی توہین ہے بلکہ قومی یکجہتی کو بھی نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ ایسے بیانات دراصل 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو روکنے اور عوام کی آواز دبانے کے لیے محض ایک بہانہ ہیں لیکن ہم اپنے آئینی اور جمہوری حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ “ہم آرہے ہیں، ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں اور نہ ہی اپنے آئینی و جمہوری حق کے لیے آواز اٹھانے سے رکیں گے۔”صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام کی آواز کو دبانے کی بجائے ان کے مسائل سنے جائیں اور سیاسی اختلافات کو جمہوری انداز میں حل کیا جائے.

مستحق افراد کو قالین سازی کا ہنر سکھانے کے لیے تربیتی مراکز کے قیام کے حوالے سے ملک لیاقت علی خان کی زیرِ صدارت اجلاس کا انعقاد،

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان کی زیرِ صدارت مستحق افراد کے لیے ہاتھ سے تیار کردہ قالین سازی کے تربیتی مراکز کے قیام سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین، یو این ڈی پی کےنمائندوں اعجاز ، اور ابراہیم ، ڈپٹی ڈائریکٹر ضم اضلاع عبیدالرحمان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ابرار احمد اور ڈاکٹر محبوب الرحمان نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہاتھ سے تیار کردہ قالین سازی کے تربیتی مراکز کے قیام، تربیت کے طریقہ کار اور مستحق افراد کو اس ہنر کے ذریعے روزگار کے قابل بنانے کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔اس موقع پر ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد سے ان کی بنیادی سوچ یہی ہے کہ مستحق افراد کو صرف سلائی مشین، وہیل چیئر یا نقد امداد فراہم کرنے تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ انہیں ایسا ہنر اور تربیت دی جائے جس کے ذریعے وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں اور مستقل بنیادوں پر خود مختار بن سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہاتھ سے تیار کردہ قالین سازی ایک ایسا ہنر ہے جس میں خواتین، خصوصی افراد اور دیگر مستحق طبقات اپنی صلاحیتوں کے مطابق گھر بیٹھے یا تربیتی مراکز میں کام سیکھ کر باعزت آمدن حاصل کر سکتے ہیں۔مشیر وزیراعلیٰ نے کہا کہ خصوصی افراد کسی سے کم نہیں، انہیں صرف مواقع، مناسب تربیت اور رہنمائی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ گھریلو خواتین اور خصوصی بچے بھی اپنی صلاحیتوں کے مطابق قالین سازی کا ہنر سیکھ کر اپنے خاندان کا سہارا بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ اور سماجی بہبود کے وسائل کو صرف وقتی امداد تک محدود رکھنے کے بجائے ہنرمندی اور تربیت کے فروغ کے لیے بھی استعمال کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے، تاکہ مستحق افراد کو بار بار امداد لینے کی بجائے مستقل آمدن کا ذریعہ فراہم کیا جا سکے۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ ہمارا مقصد مستحق افراد کو ہمیشہ امداد کا محتاج رکھنا نہیں بلکہ انہیں ہنر، تربیت اور روزگار کے مواقع دے کر خود کفیل بنانا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ مستحق افراد کے ہاتھ میں صرف امداد نہیں بلکہ ایسا ہنر دیا جائے جو ان کی زندگی میں مثبت اور پائیدار تبدیلی لا سکے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ خوراک کا اجلاس

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ خوراک کا اجلاس پشاور میں کمیٹی کے چیئرمین و رکن صوبائی اسمبلی لائق محمد خان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان و اراکین صوبائی اسمبلی گورپال سنگھ، محترمہ افشاہ حسین اور محترمہ شازیہ جدون نے شرکت کی، جبکہ سیکرٹری محکمہ خوراک، ایڈیشنل سیکرٹری، ڈائریکٹر فوڈ، ڈائریکٹر خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی، محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں محکمہ خوراک کی مجموعی کارکردگی، غذائی تحفظ، اشیائے خوردونوش کے معیار، رسد کے نظام اور عوام کو مناسب قیمتوں پر معیاری خوراک کی فراہمی سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
سیکرٹری محکمہ خوراک نے کمیٹی کو محکمہ کی ذمہ داریوں، جاری اقدامات اور مختلف شعبوں میں کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتیہوئے بتایا کہ صوبے میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانا اور عوام کو محفوظ و معیاری خوراک کی فراہمی محکمہ خوراک کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ آف فوڈ اور خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے ذریعے اس مقصد کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری نے بتایا کہ محکمہ گندم اور چینی کی خریداری، ذخیرہ، راشننگ اور تقسیم، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی نگرانی و کنٹرول، شوگر کین ڈویلپمنٹ سس رولز 1964ء پر عملدرآمد اور شہری رسد کی فراہمی سمیت متعدد اہم امور کی نگرانی کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ گندم کے گوداموں، نانبائیوں، فلور ملز، چینی اور شوگر ملز سے متعلق اعداد و شمار کی نگرانی، قیمتوں کے تعین و کنٹرول اور ڈیجیٹل سپلائی چین مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے رسد کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ ڈائریکٹر فوڈ نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبے میں اشیائے خوردونوش کی وافر دستیابی، معیار اور مناسب و منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر نگرانی اور انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں ڈائریکٹر خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے اتھارٹی کے قیام، دائرہ کار اور کارکردگی پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کا قیام 2018ء میں عمل میں لایا گیا، جبکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں اس کے دفاتر قائم ہیں۔ اتھارٹی کے تحت خوراک کے معیار کی جانچ کے لیے ٹیسٹنگ کی سہولیات، بشمول موبائل لیبارٹریز، دستیاب ہیں، جہاں مختلف غذائی مصنوعات کے نمونے حاصل کرکے ان کا معیار جانچا جاتا ہے۔ غیر معیاری یا مضرِ صحت اشیائے خوردونوش کی تیاری اور فروخت میں ملوث افراد و اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی اور جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، جبکہ غیر معیاری مصنوعات کو تلف کرنے کے ساتھ ساتھ ڈیری فارمز اور خوراک سے وابستہ دیگر کاروباری اداروں کی رجسٹریشن بھی یقینی بنائی جاتی ہے۔ اس موقع پر کمیٹی کی رکن محترمہ افشاں حسین نے کہا کہ فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی ذمہ داریاں انتہائی اہم نوعیت کی ہیں، کیونکہ ان کا براہِ راست تعلق عوام کی صحت اور محفوظ و معیاری خوراک کی فراہمی سے ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کو صحت بخش اور محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے نگرانی، معائنہ اور چیکنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ رکن قائمہ کمیٹی محترمہ شازیہ جدون نے محکمہ خوراک میں موجود خالی آسامیوں کو جلد از جلد پُر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افرادی قوت کی کمی دور ہونے سے محکمہ کی کارکردگی اور عوامی خدمات میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ رکن قائمہ کمیٹی گورپال سنگھ نے کہا کہ محکمہ خوراک سے عوام کی بہت سی توقعات وابستہ ہیں، کیونکہ یہ صوبے کے عوام کو محفوظ، معیاری اور مناسب قیمتوں پر خوراک کی فراہمی کے حوالے سے اہم ذمہ داری ادا کرتا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر قائمہ کمیٹی کے چیئرمین لائق محمد خان نے محکمہ خوراک اور خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلی بریفنگ کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام اور مؤثر رسد کا نظام حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ خوراک کے معیار، قیمتوں کی نگرانی، ذخیرہ اندوزی و ناجائز منافع خوری کی روک تھام اور سپلائی چین کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات تیز کیے جائیں، جبکہ محکمہ خوراک میں خالی آسامیوں کو پُر کرنے اور عوامی خدمات کے معیار میں مزید بہتری کے لیے بھی ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں مائنورٹی کاکس کا پہلے تعارفی اجلاس کا انعقاد

خیبر پختونخوا اسمبلی میں مائنورٹی کاکس کا پہلا تعارفی اجلاس چیئرپرسن مائنورٹی کاکس، رکن صوبائی اسمبلی عسکر پرویز کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں کاکس کے قیام، قواعد و ضوابط، اقلیتی برادری کو درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں مائنورٹی کاکس کے قواعد و ضوابط کو حتمی شکل دینے کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا میں آباد اقلیتی برادری کو درپیش اہم مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ ان مسائل میں اقلیتوں کے پرسنل لاز، فیملی لاز، 2 فیصد تعلیمی کوٹے اور 5 فیصد ملازمتوں کے کوٹے پر عملدرآمد، ترقیاتی مسائل، تاریخی و قدیم مذہبی و تعلیمی مقامات اور اداروں کا تحفظ،سینیٹیشن، صحت اور تعلیم سے متعلق مسائل شامل ہیں۔چیئرپرسن مائنورٹی کاکس عسکر پرویز نے کہا کہ مائنورٹی کاکس کا قیام خیبر پختونخوا میں آباد اقلیتی برادری کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ کاکس اقلیتوں کو درپیش مسائل کی مؤثر نشاندہی اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات پر توجہ دے گا۔انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ محکموں، ذیلی اداروں اور ماہرین کے ساتھ مشاورت کے ذریعے مسائل اور ان کے ممکنہ حل کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ سفارشات حکومت کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ مائنورٹی کاکس دیگر متعلقہ اداروں اور تنظیموں سے بھی رابطہ کرے گا تاکہ اقلیتی برادری کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر معاونت حاصل کی جا سکے۔عسکر پرویز نے مائنورٹی کاکس کے قیام اور پہلے اجلاس کے انعقاد پر اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی، ڈپٹی اسپیکر، ارکانِ اسمبلی اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ عملے کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مائنورٹی کاکس خیبر پختونخوا میں آباد اقلیتی برادری کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی اور بہتری لانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گا۔

PHED makes significant progress in redressal of public complaints

In line with the Khyber Pakhtunkhwa Government’s Good Governance Policy, the vision of Chief Minister Muhammad Sohail Afridi and special directives of Provincial Minister for Public Health Engineering Department Fazal Shakoor Khan, the department has made significant progress in the timely redressal of public complaints.

According to a report issued by the PHED, a total of 1,370 complaints were received through the Department’s Complaint Cell, Chief Minister’s Complaint Cell and Citizen Portal. Of these, 1,019 complaints have been successfully resolved.

However, 331 complaints are currently pending, and action on these cases is in progress at the level of the concerned officers and authorities. Departmental authorities have assured that the pending complaints will also be addressed on a priority basis to ensure timely relief to the public.

As per the report, 13 complaints were found to be irrelevant, while 7 cases were incomplete and were dealt with in accordance with the prescribed rules and procedures.

Region-wise, 9 complaints were received in the Central Region, 49 in the East Region, 16 in the North Region while South Region with 1,296.

The concerned authorities of PHED said that the mechanism for registration, monitoring and follow-up of public complaints is being further strengthened to ensure their prompt and effective resolution.

Mr Fazal Shakoor Khan in this regard said that timely resolution of public issues is among the top priorities of the incumbent KP government and that no complaint would be allowed to remain pending unnecessarily.

He directed the concerned authorities to take immediate action on complaints received and ensure provision of relief to the citizens.

He added that the KP government is taking practical measures to promote good governance, transparency, accountability and improved public service delivery. He maintained that an effective public complaint redressal mechanism plays an important role in further strengthening communication and trust between the government and the people.

The Provincial Minister directed the concerned officers to ensure that all 331 pending complaints are resolved at the earliest and that necessary relief is provided to the complainants without any unnecessary delay.

خیبرپختونخوا کے ڈگری کالجز میں سٹوڈنٹس ای اٹینڈنس سسٹم کا آغاز

خیبرپختونخوا کے محکمہ اعلیٰ تعلیم نے شعبہ تعلیم میں ڈیجیٹائزیشن کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے صوبے کے ڈگری کالجز میں سٹوڈنٹس ای اٹینڈنس سسٹم متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت والدین گھر بیٹھے اپنے بچوں کی کالج حاضری سے باخبر رہ سکیں گے۔صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے گورنمنٹ ڈگری کالج پشاور میں سٹوڈنٹس ای اٹینڈنس سسٹم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا اور زونگ ٹیلی کام کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔ تقریب میں سیکرٹری اعلیٰ تعلیم، ڈائریکٹر اعلیٰ تعلیم، زونگ ٹیلی کام کے نمائندگان، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے کہا کہ ای اٹینڈنس سسٹم کے ذریعے والدین کو ان کے بچوں کی حاضری کے بارے میں ایس ایم ایس کے ذریعے بروقت آگاہ کیا جائے گا۔ والدین کو یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ ان کا بچہ کس کلاس میں حاضر یا غیر حاضر رہا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل نظام سے نہ صرف طلبہ کی حاضری کی نگرانی ممکن ہوگی بلکہ والدین اور تعلیمی اداروں کے درمیان رابطہ بھی بہتر ہوگا۔مینا خان آفریدی نے کہا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم میں ای ٹرانسفر سسٹم پہلے ہی متعارف کرایا جا چکا ہے، جبکہ صوبے کی جامعات کے لیے رینکنگ نظام بھی شروع کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دور دراز اور مشکل علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لیے ہارڈ ایریا الاؤنس شروع کیا جا رہا ہے تاکہ ان علاقوں میں تدریسی عمل کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔صوبائی وزیر نے گورنمنٹ ڈگری کالج پشاور میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ہال تعمیر کرنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو بہتر تعلیمی اور ہم نصابی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم میں ڈیجیٹائزیشن کا عمل جاری رہے گا اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے تعلیمی نظام میں شفافیت، میرٹ اور مؤثر نگرانی کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔

ڈگر بونیر میں خصوصی افراد، خواتین اور محروم طبقات کی فوری داد رسی کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد

 وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سوشل ویلفیئر ملک لیاقت علی خان اور سیکرٹری سوشل ویلفیئر خیبرپختونخوا شریف حسین کی سربراہی میں ضلعی ہیڈکوارٹر ڈگر، بونیر میں خصوصی افراد، خواتین اور محروم طبقات کے مسائل کے فوری ازالے اور داد رسی کے لیے خصوصی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔کھلی کچہری میں خصوصی افراد کی مختلف تنظیموں اور نمائندوں، خواتین، سماجی کارکنوں اور علاقہ عمائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے مسائل، مشکلات اور مطالبات حکام کے سامنے پیش کیے۔اس موقع پر متعلقہ حکام نے شرکاء کے مسائل اور شکایات تفصیل سے سنیں اور ان کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کو ضروری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔ کھلی کچہری کا مقصد خصوصی افراد، خواتین اور دیگر محروم طبقات کو ان کی دہلیز پر شنوائی فراہم کرنا اور انہیں درپیش مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنانا تھا۔کھلی کچہری میں عظمت علی خان، سالار باچا، شہریار خان، تحریک انصاف کے رہنماؤں بخراد خان، سبخان خان، سمیع اللہ، گوہر خان سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات اور علاقہ عمائدین نے بھی خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر شرکاء نے خصوصی افراد اور دیگر محروم طبقات کے مسائل کے حل کے لیے حکومت کی جانب سے کھلی کچہری کے انعقاد کو ایک مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پیش کیے گئے مسائل پر عملی اور بروقت اقدامات کیے جائیں گے