Home Blog Page 147

اربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹیز بورڈ کا دسواں اجلاس وزیر بلدیات، الیکشنز و دیہی ترقی

اربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹیز بورڈ کا دسواں اجلاس وزیر بلدیات، الیکشنز و دیہی ترقی خیبر پختونخواارشد ایوب خان کی زیر صدارت منگل کے روز محکمہ بلدیات کے کمیٹی روم پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ممبران صوبائی اسمبلی اکبر ایوب خان، افتخار خان جدون، افتخار علی مشوانی، شفیع جان اور محمد خورشید جبکہ سیکرٹری بلدیات امبر علی خان، ایڈیشنل سیکرٹری بلدیات، محکمہ ہاؤسنگ، محکمہ پی اینڈ ڈی اور محکمہ خزانہ کے نمائندگان اور اربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے ڈائریکٹرز دیگر ممبران اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں مختلف ترقیاتی منصوبوں اور حکومتی پراپرٹی کی نیلامی، کرایہ پر دینے، ان کی خرید وفروخت اور معاوضہ ادا کرکے قبضہ میں دینے کے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔اس موقع پرصوبائی وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور اس سلسلے میں ضلع کی سطح پر ایک کمیٹی بنائی جائے گی جس میں لوکل ممبر صوبائی اسمبلی، اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر، ضلعی پلاننگ آفیسر، ضلعی فنانس آفیسر اور ضلعی انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ ممبران بھی شامل ہونگے۔ یہ کمیٹی ضلعی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کی نشاندھی کریگی۔ انہوں نے کہا کہ اربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ترقیاتی منصوبوں کو شامل کرنے کیلئے ضلعی سطح پر بنائی گئی کمیٹی سے پہلے منصوبے کی منظوری ضروری ہے اور اس کمیٹی کے منتخب کردہ منصوبوں کو ہی بورڈ اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔صوبائی وزیر بلدیات نے اربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کوہاٹ میں شروع کرواء گئی جدید اصلاحات کو سراہا اور تمام اربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کو ہدایت کی کہ وہ اس سسٹم کو اپنی اتھارٹیز میں بھی شروع کروا ئیں اور اس سے منسلکہ تمام تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کو بھی اس سسٹم کے تحت ڈیجیٹائز کروایا جائے تاکہ ریونیو کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جاسکے۔اجلاس میں خیبر پختونخوا اربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے رولز اینڈ ریگولیشنز کو مزید بہتر بنانے کیلئے محکمہ بلدیات، محکمہ ہاؤسنگ، محکمہ خزانہ، محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ اور محکمہ قانون کے اعلیٰ حکام پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی جو کہ رولز اینڈ ریگولیشنز میں تبدیلی کی سفارشات ایک ماہ کے اندر اندر بورڈ کے سامنے پیش کرے گی تاکہ اسے مزید قانونی حیثیت دلوانے کیلئے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جاسکے۔

خیبرپختونخوا ٹیکس محصولات میں جولائی تا فروری 44 فیصد اضافہ ہوا ہے، مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایف بی آر کے 28 فیصد کے مقابلے میں خیبرپختونخوا 44 فیصد اضافہ کے ساتھ بڑھ رہا ہے، مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ و بین الصوبائی رابطہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) کی جانب سے فروری کے مہینے میں بھی اضافی محصولات جمع کرنے کی روایت برقرار رکھی گئی ہے کیپرا اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا فروری ٹیکس وصولی میں 44 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایف بی آر کے 28 فیصد کے مقابلے میں خیبرپختونخوا 44 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ یہ سب کچھ اسی وقت ہو رہا ہے جب ملک میں جی ڈی پی گروتھ باالکل رُکی ہوئی ہے اور امید ہے کہ ہم پورے سال کے محصولات کے ہدف کو آگے بڑھائیں گے۔

خیبر پختونخوا حکومت اپنی ایک سالہ کارکردگی میں تمام صوبوں پر سبقت لے گئی ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی مریم نواز کی طرح محض تصویری نمائش تک محدود نہیں، خیبر پختونخوا حکومت نے مریم نواز کی 150 تصاویر کے مقابلے میں 625 ترقیاتی منصوبوں کی کارکردگی رپورٹ جاری کی ہے، مریم نواز صرف اخبارات میں اپنی تصاویر شائع کروانے کو کارکردگی سمجھتی ہیں،خیبر پختونخوا حکومت نے اپنی ایک سالہ کارکردگی کو کتابی شکل میں شائع کیاہے اس کتاب میں ایک سال کے دوران 25 مختلف شعبوں کے 25 نمایاں منصوبوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہاکہ ایک سال میں، علی امین خان گنڈا پور کی قیادت میں خیبر پختونخوا حکومت نے عوامی فلاح و بہبود کے 625 منصوبے شروع کیے ہیں مریم نواز اپنی ذاتی تشہیر سے نکل کروزیر اعلی خیبر پختونخوا کی طرح عوامی فلاح کا سوچیں،فارم 45 اور فارم 47 کے وزیراعلی میں یہی فرق ہوتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ علی آمین خان گنڈاپور حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کررہے ہیں،

لاہور سے آنے والی گاڑی سے مضر صحت گوشت برآمد، مالکان پر بھاری جرمانہ عائد

گراں فروشی اور ناقص خوراک پر 4 قصائی جیل منتقل، ترجمان محکمہ خوراک

خیبر پختونخوا کے وزیر خوراک کی ہدایت پر رمضان کے مقدس مہینے میں گرانفروشوں اور غیر معیاری خوراکی اشیاء میں ملوث افراد کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اس سلسلے میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے پشاور موٹر وے ٹول پلازے پر ناکہ بندی کی اور خوراک کی اشیاء لے جانے والی گاڑیوں کی انسپکشن کی، انسپکشن کے دوران ایک گاڑی سے غیر معیاری سو کلو گرام سے زائد گوشت برآمد کرکے تلف کرتے ہوئے مالکان پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا گیا، ترجمان کے مطابق گوشت لاہور سے پشاور سپلائی کیا جا رہا تھا۔ترجمان نے مزید بتایا کہ محکمہ خوراک کے اہلکاروں نے فروٹ منڈی، فروٹ و سبزی شاپس، دودھ فروشوں اور قصائیوں پر بھی چھاپے مارے ہیں۔ فوڈ اہلکاروں نے دوکانداروں اور شہریوں سے قیمتوں کے بارے میں جانچ پڑتال کی اور گرانفروشی اور ناقص خوراک کی فروخت پر چار قصائیوں اور فروٹ منڈی میں بولی کی خلاف ورزی کرنے پر چار بولی دہندگان کو گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا۔ دریں اثناوزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے گرانفروشوں اور غیر معیاری خوراک بیچنے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھنے کا حکم دے دیا ہے، انہوں نے گرانفروشوں اور غیر معیاری اشیائے کے خلاف انسپکشن مکینیزم میں مزید تیزی لانے کی ہدایت کی ہے۔انکا کہنا تھا کہ گرانفروشی اور غیر معیاری خوراک سے وابستہ کاروباروں کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کو خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف بیان دینے کے لئے کابینہ میں شامل کیا گیاہے۔ وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو

خیبر پختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے کہا ہے کہ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کو خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف بیانات دینے کے لیے پنجاب کابینہ میں شامل کیا گیا ہے،ان کہنا تھا کہ عظمیٰ بخاری کے پاس اپنے صوبے کے عوام کے لیے کچھ نہیں، اسی لیے وہ خیبر پختونخوا حکومت پر بے جا تنقید کر رہی ہیں۔ صوبائی وزیر نے پشاور سے جاری اپنیایک بیان میں کہا کہ مریم نواز کو علی امین خان گنڈا پور کی طرح عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ محض زبانی بیانات اور ذاتی تشہیر سے صوبہ ترقی نہیں کرسکتا۔ظاہر شاہ طورو نے پنجاب حکومت پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کابینہ میں شامل بیشتر وزراء کرپٹ مافیا کا حصہ ہیں اور ان کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے صوبے کے عوام مزید اس جعلی حکومت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ظاہر شاہ طورو کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت وزیر اعلیٰ کی قیادت میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور ہم عوام کی خدمت جاری رکھیں گے

یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور میں خوداختسابی کے موضوع پر سیمنار

مشیر وزیراعلیٰ برائے اینٹی کرپشن مصدق عباسی کی سیمنار میں بطور مہمان خصوصی شرکت، وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور پروفیسر ڈاکٹر جھان بخت، سٹاف ممبران اور طلباء و طالبات بھی موجود تھے،

سیمینار بدعنوانی اور خوداختسابی کے حوالے سے آگاہی مہم کا حصہ ہے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے انسداد بدعنوانی مصدق عباسی نے یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور میں خوداختسابی کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس معاشرے میں رولز آف لاء اور انصاف ہوگا وہ معاشرے خوشحال ہوگا۔منفی سوچ و سرگرمیوں کو ختم کرنا ہوگا۔ قائد اعظم نے کرپشن کی روک تھام کیلئے قانون سازی کی اور کرپشن کو ملک کے لئے خطرناک قرار دیا۔کرپشن کی روک تھام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر وزیراعلیٰ مصدق عباسی کا کہنا تھا کہ کرپشن کی روک تھام آگاہی، کرپشن کے مواقعے ختم کرنا اور قوانین کو لاگو کرنے سے ہوسکتی ہے۔ ہمیں دوسرے کے جج اور اپنے وکیل بنانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکموں کے اندر کرپشن کے مواقعوں کو ختم کرنے کے لیے اقدامات اٹھارہے ہیں۔ہمارا بڑا مسل? اشرافیہ کی کرپشن ہے۔ اس کرپشن سے حاصل ہونے پیسہ بیرونی ممالک جاتا ہیں۔ دنیا میں جن معاشروں میں رولز آف لاء نہیں ہے وہاں احتساب کا عمل کمزور ہوتا ہے۔ جن ممالک میں رولز آف لاء بہتر ہے وہاں کرپشن کم اور خوشحالی زیادہ ہوتی ہے۔ مشیر وزیراعلی نے سیمنار سے اپنے خطاب میں کرپشن کے انفرادی و اجتماعی زندگی پر اثرات اور خوداختسابی پر سیر حاصل گفتگو کی۔انہوں نے خوداختسابی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک بندہ اپنے آپ کو تبدیل کردے تو دنیا تبدیل ہو جائے گی۔انہوں نے طلباء و طالبات پر زور دیا کہ کردار سازی کیلئے کتاب بینی کے عادت کو اپنائیں۔ قرآن مجید، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اقبالیات کا مطالعہ کریں۔ قرآن مجید کو پڑھیں، سمجھیں اور عملی زندگی میں اس سے رہنمائی لیں۔ ہمیشہ سچ بولیں اور جھوٹ بولنا ترک کریں۔ اس موقع پر وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور پروفیسر ڈاکٹر جھان بخت نے مشیر وزیراعلیٰ مصدق عباسی کو یونیورسٹی آمد پر خوش آمدید کہا اور خوداختسابی پر جامع لیکچر دینے پر شکریہ ادا کیا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ یونیورسٹی کے مختلف فیکلٹی کے بھرتی کے لئے حالیہ دنوں ہونیوالے اشتہار کو کینسل کرکے قواعدوضوابط کے مطابق دوبارہ نیڈ اسسمنٹ کرکے نظر ثانی کیلیے محکمہ اعلیٰ تعلیم کو بیھجوائیں صوبائی وزیر نے یہ ہدایات پیر کے روز محکمہ اعلیٰ تعلیم کے کمیٹی روم میں منعقد ہونے والے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کئے۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری اعلیٰ تعلیم، یوینورسٹی کے رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے ٹیحرز سٹوڈنٹس ریشو کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم میں تمام فیصلے انصاف، میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر ہونگے کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی اور ذیادتی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جامعات پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے ہم ان مضامین پر فوکس کررہے ہیں جن کو مارکیٹ کی ضرورت ہے دور جدید کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں وقت کے ساتھ چلنا ہوگا ورنہ ترقی کے اس دور ہم بہت پیحھے رہ جائینگے۔

چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت صوبائی مالی امور پر اعلیٰ سطحی اجلاس

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ خزانہ کا اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی مالی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری خزانہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جس میں بجٹ منصوبہ بندی، فنڈز کی تقسیم اور مختلف شعبوں میں اخراجات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے دوران چیف سیکرٹری کو اہم منصوبوں اور فلیگ شپ اقدامات کے لیے مختص بجٹ اور اس کے استعمال پر بریفنگ دی گئی۔ تنخواہوں اور پنشن کے تخمینے سمیت مجموعی مالی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے آئندہ بجٹ کی پیشگی تیاری پر زور دیتے ہوئے تمام سیکرٹریز کو ہدایت دی کہ وہ اپنے متعلقہ شعبوں کے مالی تقاضوں کا باریک بینی سے تجزیہ کریں۔ اجلاس میں گورننس اور مالیاتی انتظامی اصلاحات کا روڈ میپ بھی پیش کیا گیا، جس میں شفافیت، ڈیجیٹائزیشن اور پراسیس آٹومیشن کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ مالی معاملات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے دو سالہ روٹیشن پالیسی نافذ کی جائے گی۔ حکام نے اجلاس میں اہم مالی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ فنانس بل میں 50 سے زائد ریونیو اصلاحات متعارف کروائی گئیں، جس کے نتیجے میں صوبائی آمدن میں 14 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 25-2024 کی پہلی ششماہی میں 90.7 فیصد ریونیو اہداف حاصل کیے گئے، جو گزشتہ سال کی 66 فیصد کارکردگی سے کہیں زیادہ ہیں۔ اسی طرح، معدنیات کی رائلٹی میں 200 فیصد اضافہ ہوا، اور اس میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ صوبائی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن کا تخمینہ 100 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ترقیاتی فنڈز کے اجرا میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا، جبکہ کان کنی اور معدنیات کے شعبے سے 5.4 ارب روپے کی رائلٹی حاصل کی گئی۔اجلاس میں حکومت کے مؤثر مالیاتی نظم و نسق اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر مالیاتی امور سے متعلق فیصلوں کو مظبوط بنانے کے لیے ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی اور اسٹرکچرل اصلاحات کو فروغ دینے کی کوششوں کی بھی توثیق کی گئی۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان کا گھڑی چندن پلانٹیشن کا دورہ،

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان کا گھڑی چندن پلانٹیشن کا دورہ، معاون خصوصی کی اراضی مالکان کو گھڑی چندن کو سفاری پارک ڈکلیئر کرنے کی تجویز، گھڑی چندن میں شمسی توانائی کے حامل تقریباً نو ٹیوب ویلز سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل، پیر مصور خان

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات، ماحولیات، جنگلی حیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے گزشتہ روز پشاور میں گھڑی چندن پلانٹیشن کا دورہ کیا جہاں انھوں نے بلین ٹری شجرکاری منصوبے کے تحت لگائے گئے پودوں کا جائزہ لیا اس موقع پر چئیرمن ڈیڈک پشاور شیر علی آفریدی، کنزرویٹر فارسٹ حیات علی،سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر پشاور ستار خان اور اراضی مالکان بھی موجود تھے، معاون خصوصی پیر مصور خان کو گھڑی چندن پلانٹیشن کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گھڑی چندن میں تقریباً 2400 ہیکٹرز رقبے پر شجرکاری کی گئی تھی جس سے صوبے کے جنگلات میں سات فیصد اضافہ ہوا ہے، دورے کے موقع پر معاون خصوصی کو گڑھی چندن میں اراضی مالکان نے اپنے مسائل اور تحفظات سے بھی آگاہ کیا پیر مصور خان نے اراضی مالکان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گھڑی چندن اور گردونواح میں شمسی توانائی کے حامل ٹیوب ویلز کا منصوبہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جاچکا ہے جس کے تحت تقریباً نو ٹیوب ویلز نصب کئے جائینگے،انھوں نے گھڑی چندن میں درختوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 30 فیصد رقبے پر یوکلپٹس پودوں کی شجرکاری کی گئی تھی جسکی کٹائی کے لئے سروے کیا جارہا ہے، حاصل آمدن سے 80 فیصد اراضی مالکان کو دیا جائے گا جبکہ معاون خصوصی نے گھڑی چندن کو سفاری پارک ڈکلیئر کرنے کی بھی تجویز دی جس سے نہ صرف جنگلی حیات کا تحفظ یقینی ہو جائے گا بلکہ مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر بھی آئینگے، انھوں نے کہا کہ گھڑی چندن میں محکمہ جنگلی حیات مختلف قسم کے پرندے چھوڑ رہی ہیں،انھوں نے پرندوں کی خوراک کے لئے شاتوت اور اس طرح کے دیگر پودے لگانے کی ہدایت کی اور کہا کہ جنگلی حیات کے لئے پانی کا بندوبست کرنے کے لئے چک ڈیمز بھی بنائے جائینگے جس سے پورا ایک ایکو سسٹم ڈویلپ ہوگا۔ گھڑی چندن میں نگہبان فورس کے اہلکاروں کی تنخواہوں کے حوالے سے معاون خصوصی پیر مصور خان نے کہا کہ بہت جلد ماہ جنوری اور فروری کی تنخواہیں انھیں ادا کی جائے گی، انھوں نے کہا کہ صوبے میں جنگلات کے تحفظ کے لیے تعینات نگہبان فورس کا کردار لائق تحسین ہے

اکوڑہ خٹک دھماکے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق سے ٹی او آرز جلد از جلد منظور کرنے کا مطالبہ،بیرسٹر ڈاکٹر سیف

عوام کے جان و مال کی حفاظت خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے،مشیر اطلاعات وتعلقات عامہ

مریم نواز بھارت سے سموگ ڈپلومیسی کر سکتی ہیں تو دہشت گردی جیسے اہم مسئلے پر خیبر پختونخوا حکومت کی افغانستان سے بات چیت میں کیا حرج ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ وفاق افغانستان سے بات چیت کے لئے خیبر پختون خوا حکومت کے ٹی او ارز جلد از جلد منظور کرے،انہوں نے کہا کہ وفاق ٹی او آرز کی منظوری میں مزید تاخیر سے گریز کرے، مشیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت ہنگامی بنیادوں پر وفد افغانستان بھیجنا چاہتی ہے، مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ اپنے عوام کے جان و مال کی حفاظت خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے، انہوں نے مزید کہا کہ وفاق، صوبے میں دہشت گردی کی روک تھام کی بجائے اس اہم مسئلے پر سیاست کرنے سے گریز کرے، وفاق کو پنجاب اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ کے بیرونی دوروں پر کوئی اعتراض نہیں۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ مریم نواز بھارت سے سموگ ڈپلومیسی کر سکتی ہیں تو دہشت گردی جیسے اہم مسئلے پر خیبر پختونخوا حکومت کی افغانستان سے بات چیت میں کیا حرج ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاق کی اس دوغلی پالیسی سے صوبے کی احساس محرومی مزید بڑھ رہی ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ وفاق خیبر پختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کریں۔ خیبر پختونخوا بھی پاکستان کا حصہ ہے۔ وفاق صوبہ خیبر پختونخوا کے دکھوں کا مداوا کریں۔