قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی سب کمیٹی کا اجلاس چیئرمین و رکن صوبائی اسمبلی محمد خورشید کی زیر صدارت بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوا، اجلاس میں وزیر قانون آفتاب عالم اور رکن صوبائی اسمبلی شیر علی آفریدی نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں کوہاٹ ڈویلپمنٹ ایریا پراجیکٹ اور اس کی فنڈنگ کے امور پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران چیئرمین نے سفارش کی کہ رائلٹی کی مد میں دی جانے والی رقم کے لیے ایک خاص اکاؤنٹ قائم کیا جائے تاکہ فنڈز کا شفاف اور بروقت استعمال ممکن ہوکیوں کہ اکاؤنٹ کے نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال پیسے ضائع ہو جاتے ہیں اور پھر نئے سال نئے ٹینڈر اور نئے پروسیجرز پر وقت اور پیسے کا ضیاع ہوتاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چار سالوں کی رائلٹی کی مکمل ادائیگیاں بھی فوری طور پر کی جائیں۔ چیئرمین نے تجویز دی کہ ہر ضلع کے لیے الگ الگ خاص اکاؤنٹس قائم کیے جائیں تاکہ ہر سال رائلٹی کی رقم کی واپسی (Surrender) یا ڈی پنچ (De-Punch) کی پیچیدہ کارروائیوں سے بچا جا سکے اور فنڈز کا ضیاع نہ ہو۔ان اقدامات کاعوام کی بہتری اور فلاؤ بہبود کے لیے کرنا ناگزیر ہے۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے کہا ہے کہ بنوں
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے کہا ہے کہ بنوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی بندش انتہائی افسوسناک ہے، جس کے باعث عوام کو تعلیم، کاروبار، صحت اور دیگر روزمرہ معاملات میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف تکنیکی نہیں بلکہ عوامی نوعیت کا ہے جس کے حل کیلئے حکومت متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ سروسز کی فوری بحالی کو یقینی بنایا جا سکے انہوں نے مزید کہا کہ مغوی استاد فرمان کی بحفاظت بازیابی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور جلد پیش رفت کی امید ہے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت بنوں سمیت پورے صوبے میں امن و امان کے قیام، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے نہ حکومت اپنے فرائض سے غافل ہے اور نہ میں بطور وزیر عوامی خدمت کے مشن سے پیچھے ہٹا ہوں انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل ہماری ترجیح ہے اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ خیبر پختونخوا کو ایک پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ صوبہ بنایا جا سکے۔
خیبرپختونخوا میں جدید ترین سٹیٹک پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کا افتتاح وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور بہت جلد کریں گے، وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو
وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ طورو نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے زیر اہتمام تعمیر کی جانے والی جدید ترین سٹیٹ آف دی آرٹ پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے، جس کا باقاعدہ افتتاح وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور عنقریب کریں گے۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر خوراک نے لیبارٹری منصوبے پر پیش رفت سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید، پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عباس، ڈائریکٹر آپریشنز اختر نواز، ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر عبد الستار شاہ سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ لیبارٹری کا سول ورک تکمیل کے قریب ہے جبکہ جدید ہائی ٹیک مشینری کی خریداری بھی آخری مراحل میں ہے۔ اس لیبارٹری کو بین الاقوامی معیار (آئی ایس او) کے مطابق تیار کیا گیا ہے جہاں نہ صرف فوڈ بزنس آپریٹرز بلکہ عام شہری بھی مختلف اشیائے خوردونوش کی جانچ کی سہولت سے مستفید ہو سکیں گے۔ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ لیبارٹری میں تیل و گھی، پانی، آٹا، بسکٹ، دہی، خشک دودھ، آلو چپس، نمکو، سنیکس، شہد، جیم، اسکواش، مشروبات، نمک، بلیک و گرین ٹی، دودھ، گوشت اور اناج میں موجود پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، نمی و دیگر اجزاء کا معیار پرکھا جا سکے گا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی تاریخ میں پہلی بار 12 موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے بعد ایک سٹیٹک اور جدید لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، جو خوراک کے تحفظ کے شعبے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اس اقدام سے معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنے گی، ملاوٹ اور ناقص اشیاء کا قلع قمع ہوگا اور ہسپتالوں پر بوجھ بھی نمایاں طور پر کم ہوگا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان نے کہا ہے کہ
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کروڑوں عوام کا مطالبہ ہے بانی عمران خان کو غیر قانونی طور پر قید کیا گیا ہے اور انہیں جیل میں بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے انہوں نے کہا کہ نہ صرف عمران خان بلکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور دیگر سیاسی اسیران کو بھی فوری رہا کیا جائے۔ یہ سب سیاسی انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی فوری رہائی کیلئے اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پی ٹی آئی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، صوبائی وزراء اور مرکزی رہنماؤں نے بھی شرکت کی صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے کہا کہ ظلم و جبر کے ضابطے ہم نہیں مانتے۔ قوم اپنے قائد عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے کیونکہ وہی رہنما ملک کو بحرانوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔ ان کی غیر قانونی قید آئین، قانون اور انصاف کے منہ پر طمانچہ ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنی پرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی اور جب تک عمران خان، بشریٰ بی بی اور تمام اسیران کو انصاف اور آزادی نہیں ملتی ہماری احتجاج کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا پاکستانی عوام اور پارٹی کارکنان قیادت کے ہر فیصلے کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان نے ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کے
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان نے ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے اور معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلیے ای ٹرانسفر پالیسی کو متعارف کرایا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ سکولوں کے اساتذہ اور دوسرے سٹاف کی بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے حاضری کو یقینی بنایا جائے جو بائیومیٹرک انسٹرکشنز پر عمل درآمد نہیں کریگا ان سے تنخواہ کاٹی جائیں گی، سکولوں میں اساتذہ اور عملے کی غیرحاضری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا صوبائی وزیر نے یہ ہدایات بدھ کے روز ورکرز ویلفیئر بورڈ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ محمد طفیل خٹک، ڈائریکٹر فنانس سیف اللہ ظفر، ڈائریکٹر ایجوکیشن محمد امجد اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو ورکرز ویلفئیر بورڈ سے متعلق مختف امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ اجلاس میں بتایاگیا کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ اسلام آباد سے ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کو ملنے والے ایک ارب روپے فنڈ میں ابھی تک ایک پائی بھی نہیں ملی ہے جس میں 64 کروڑ روپے سکالرشپس کی لائبیلیٹیز بھی شامل ہے صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ فنڈز کی فراہمی کے لئے ورکرز ویلفیئر فنڈ کو لیٹرز کریں انہوں نے کہا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہیں بہت سے مسائل حل کئے جا چکے ہیں جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ تمام مسائل پر قابو پالینگے نظام میں بہتری اور اصلاحات لانے میں وقت لگے گا بعد ازاں صوبائی وزیر کی سربراہی میں ورکرز ویلفئیر بورڈ کی کھلی کحہری کا انعقاد کیا گیا جس میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ملازمین نے صوبائی وزیر کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا صوبائی وزیر نے ملازمین کے مسائل کو بغور سننے کے بعد متعلقہ افسران کو موقع پر ان مسائل کے حل کرنے کے احکامات جاری کئے۔
حکومت نے صوبے بھر کے تمام شہریوں کے لیے لائف انشورنس سکیم متعارف کرانے کی منظوری دی ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے صحت کارڈ کے بعد عوام کو ایک اور بڑا ریلیف فراہم کرتے ہوئے صوبہ بھر کے تمام شہریوں کے لیے لائف انشورنس سکیم متعارف کرانے کی منظوری دی ہے۔ اس لائف انشورنس سکیم پر سالانہ 4.5 ارب روپے لاگت آئے گی۔سکیم کے تحت اگر گھر کے سربراہ کا انتقال ہو جائے تو لواحقین کو فوری مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ 60 سال سے کم عمر میں انتقال کرنے والے افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے،جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر میں وفات پانے والے افراد کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس سکیم کا بنیادی مقصد گھر کے سربراہ کے انتقال کی صورت میں متاثرہ خاندان کو فوری مالی ریلیف فراہم کرنا ہے،اکثر خاندان، گھر کے کفیل کی وفات کے بعد شدید مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں، وفات کی صورت میں متاثرہ خاندان دوہری تکلیف سے گزرتا ہے۔ایک طرف پیارے کی جدائی کا دکھ اور دوسری طرف روزگار کے ذرائع کا خاتمہ۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں صوبائی حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے،وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور عمران خان کے وژن کو عملی جامہ پہنا تے ہوئے عوامی فلاح کے منصوبوں پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا خیبر پختونخوا حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہی ہے۔ لائف انشورنس سکیم صحت کارڈ کے بعد دوسرا بڑا انقلابی منصوبہ ہے۔
ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لئے بھر پور اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔وزیر سماجی بہبود
خیبر پختونخوا کے وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت تمام طبقوں کی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں ہے اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی بہتری اور انہیں ان کے حقوق فراہمی کے لئے بہتر سے بہتر اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹرانس جینڈر ایسو سی ایشن کے پشاور میں منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے حقوق، تعلیم، صحت، شناختی دستاویزات، معاشی امداد اور تحفظ جیسے اہم امور پر تفصیلی غور و خوض ہوا۔ اجلاس میں ٹرانس جینڈرپرسن کو خوشحال زندگی گزارنے کے لئے بہترسہولیات کی فراہمی کے لئے مزید اقدامات اٹھانے پر غور کیا گیا اور اس حوالے سے متعدد فیصلے کئے گئے۔اس موقع پر وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ٹرانس جینڈر پرسن کو معاشرے کا اہم حصہ سمجھتی ہے ان کے لئے تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ جیسے شعبوں میں ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں تا کہ وہ معاشرے باوقار طورپر اپنی زندگی بسر کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صوبے کے تمام طبقات کی مشکلات پر یکساں توجہ دے رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور دیگر سہولیات باہم پہنچانے کے لئے قوانین میں موء ثر اصلاحات کی اگر ضرورت پڑی تو حکومت اس اقدام سے دریغ نہیں کرے گی اور اس کے لئے ہر سطح پر کوششیں کی جائیں گی۔ ٹرانس جینڈر ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے اس موقع پر صوبائی وزیر کی جانب سے ان کے مسائل کے حل کی یقین دہانی پر شکریہ ادا کیااور امید ظاہر کی کہ صوبائی حکومت ان کی کمیونٹی کی فلاح اور حقوق کے لئے مزید اقدامات اٹھائے گی۔
اشتہارات کے بقایا جات کی ادائیگی کے حوالے سے ڈائریکٹوریٹ جنرل انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز کی تاریخی پیشرفت
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز خیبر پختونخوا (ڈی جی آئی پی آر) میں حال ہی میں قائم کیے گئے ریکوری اینڈ ریکنسیلی ایشن سیکشن نے اشتہارات کے بقایاجات کی مد میں چار دہائیوں پر مشتمل کاغذی ریکارڈکو کمپیوٹرائز کرنے میں اہم پیش رفت حاصل کر لی ہے جس سے صوبائی سرکاری محکموں اور اداروں کے ساتھ بقایا جات کے حساب کی جانچ پڑتال ممکن ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں فائلوں کو سکین کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے تا کہ اہم ریکارڈ کو مستقبل کے لئے محفوظ کیا جا سکے۔ اس کاوش کے نتیجے میں ڈی جی آئی پی آر اخبارات اور دیگر میڈیا اداروں کو دہائیوں پرانے واجبات کی ریکارڈ ادائیگیاں کر سکے گا۔ یا د رہے کہ یہ اقدام تب ممکن ہوا جب چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے تمام سرکاری محکموں، اداروں، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے اشتہارات سے متعلق واجبات ڈی جی آئی پی آر کے ساتھ فوری طور پر کلیئر کریں، اور اگر کسی محکمے یا ادارے کے پاس مطلوبہ فنڈز موجود نہ ہوں تو وہ فنانس ڈیپارٹمنٹ سے اضافی یا نظرثانی شدہ بجٹ/گرانٹ کی درخواست کریں۔چیف سیکرٹری کی ان ہدایات کی روشنی میں ڈی جی آئی پی آرمیں قائم کردہ اس نئے سیکشن نے محدود وسائل میں کام کرتے ہوئے 30 ہزار سے زائد پرانی فائلوں سے ڈیٹا نکالا جن پر گرد جم چکی تھی۔ ان فائلوں کو مرحلہ وار اسکین کیا جا رہا ہے تاکہ مکمل ریکارڈ کو محفوظ بنایا جا سکے۔اسی دوران 17 ہزار سے زائد فائلوں /کیس کی متعلقہ سرکاری محکموں اور اداروں کے ساتھ ریکنسیلی ایشن مکمل کر لی گئی ہے۔مالی لحاظ سے دیکھا جائے تو اب تک تقریباً ایک ارب روپے کے اشتہاری واجبات کی ریکنسیلی ایشن ہو چکی ہے جبکہ محکموں سے 25 کروڑ روپے کی وصولیاں ممکن بنائی گئی ہیں۔ اس کاوش کی بدولت ڈی جی آئی پی آر اب اس قابل ہو چکا ہے کہ وہ فنڈز کی فراہمی کی صورت میں مختلف میڈیا ہاؤسز کے اربوں روپے کے واجبات کی ادائیگی کر سکے، جو ایک اہم سنگ میل ہے۔دریں اثناء تمام صوبائی محکموں اور اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مالی سال کے اختتام کو مد نظر رکھتے ہوئے چیکوں کے لیپس ہونے سے بچنے کے لیے پشاور سے باہر کے ادارے 20 جون تک اور پشاور کے مقامی ادارے 25 جون تک اپنے چیکس ڈی جی آئی پی آر کو جمع کرائیں تاکہ وہ بر وقت خزانے یا نیشنل بینک آف پاکستان سے کلیئر کیے جا سکیں۔
انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیزز حیات آباد میں ایمرجنسی اور بچوں کے لیے پتھری نکالنے کی نئی سہولیات کا افتتاح
انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیزز حیات آباد پشاور میں پیر کے روز تین نئی طبی سہولیات کا افتتاح کیا گیا، جن میں ایمرجنسی سروس کو 24 گھنٹے فعال بنانا، اور دو جدید تشخیصی و علاجی سہولیات شامل ہیں۔مشیر صحت خیبر پختونخوا احتشام علی نے ان سہولیات کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد کامران خان، سینئر ڈاکٹرز اور انتظامی عملہ بھی موجود تھا۔نئی شروع کی گئی سہولیات میں 24/7 ایمرجنسی سروسز، مائیکروبائیولوجی ڈیپارٹمنٹ میں بیکٹیریا کلچر ٹیسٹ کی سہولت، اور بچوں کے لیے لیزر کے ذریعے گردے کی پتھری نکالنے کا علاج شامل ہے۔ بچوں کے لیے لیزر کے ذریعے گردے کی پتھری نکالنے کی یہ سہولت خیبر پختونخوا میں پہلی بار متعارف کرائی گئی ہے۔اس موقع پر ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیززنے مشیر صحت کو ادارے کی کارکردگی اور مستقبل کے منصوبوں پر بریفنگ دی۔ احتشام علی نے انسٹیٹیوٹ کی ٹیم کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ ادارہ گردے اور اس متعلقہ بیماریوں کے علاج میں معیاری طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر صحت نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق صوبائی حکومت صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف ضلعی سطح پرہسپتالوں کے ڈھانچے کو مضبوط کیا جا رہا ہے بلکہ وہاں جدید سہولیات بھی متعارف کروائی جا رہی ہیں تاکہ عوام کو بہتر اور یکساں طبی سہولیات میسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیزز میں نئی سہولیات سے عوام کو مزید بہتر طبی خدمات حاصل ہوں گی اور ادارے کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔مشیر صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت صحت کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی تاکہ ہر شہری کو معیاری علاج کی سہولت میسر آ سکے۔
چیف سیکرٹری کی زیر صدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کا اجلاس
چیف سیکرٹری کی زیر صدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کا اجلاس، قومی انسداد پولیو مہم کی تیاریوں کو حتمی شکل دی گئی
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کا اجلاس منگل کے روز منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبے میں پولیو کے خاتمے کے لئے جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور 26 سے 30 مئی تک تمام اضلاع میں منعقد ہونے والی قومی انسداد پولیو مہم کی تیاریوں کو حتمی شکل دی گئی۔اجلاس میں متعلقہ انتظامی سیکرٹریز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران، اور عالمی شراکت دار اداروں یونیسیف اور عالمی ادارء صحت کے نمائندوں اور صوبائی ای او سی کے کوآرڈینیٹر نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق، قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر اسلام آباد اور تمام کمشنرز، ریجنل پولیس افسران، ڈپٹی کمشنرز، ڈسٹرکٹ پولیس افسران اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔صوبائی ای او سی کے کوآرڈینیٹر نے اجلاس کو گزشتہ ٹاسک فورس اجلاسوں میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا اور 26 مئی سے شروع ہونے والی پولیو مہم کے لیے حکمت عملی پیش کی، جس کے تحت پانچ سال سے کم عمر کے 65 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پولیو عملے کی تربیت مکمل کر لی گئی ہے اور مخصوص علاقوں میں کمیونٹی شمولیت بڑھانے کے لیے بااثر شخصیات سے بھی مدد لی جائے گی۔ اپریل میں ہونے والی مہم کے دوران مربوط حکمت عملی کی وجہ سے مختلف چیلنجز سے دوچار یونین کونسلز کی تعداد 276 سے کم ہو کر 166 رہ گئی ہے۔چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے اپریل کی مہم سے حاصل شدہ تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے 26 مئی کی مہم کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کو ہدایت دی کہ وہ اپنے مائیکرو پلانز کا باریک بینی سے جائزہ لیں اور فیلڈ ٹیموں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہوئے مہم کے معیار کو بہتر بنائیں۔انہوں نے ایل کیو اے ایس ٹیسٹ میں کامیابی کو ضروری قرار دیا اور ہدایت دی کہ سفر کرنے والے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لئے ٹرانزٹ پوائنٹس قائم کیے جائیں۔ سیاحتی علاقوں خصوصاً ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژنز کے لئے خصوصی مائیکرو پلاننگ کی بھی ہدایت کی گئی تاکہ وہاں آنے والے بچوں کو بھی حفاظتی قطرے پلائے جا سکیں۔چیف سیکرٹری نے یہ بھی ہدایت کی کہ اگر ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی اطلاع ملے تو متعلقہ ڈپٹی کمشنرز دیگر محکموں کے ساتھ مل کر فوری اقدامات کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے بچے جو گزشتہ مہم میں قطرے پینے سے رہ گئے ہوں، ان کی نشاندہی کر کے فوری ویکسینیشن کی جائے۔انہوں نے کہا کہ مائیکرو پلانز کا معیار، عملے کی مؤثر تربیت اور مضبوط نگرانی کے نظام سے مہم کا معیار بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ چیف سیکرٹری نے واضح کیا کہ ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کی کارکردگی کا جائزہ پولیو کے خاتمے میں ان کے کردار کی بنیاد پر لیا جائے گا تاکہ ضلعی سطح پر احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ حفاظتی ٹیکہ جات کے تحت اقدامات کو مؤثر بنانے سے پولیو مہمات کا بوجھ کم اور بچوں کو طویل المدتی تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔
