وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت خان نے کہا ہے کہ محکمہ کی بہبود و ترقی اولین ترجیح ہے۔سب کو متحد ہوکر اس محکمہ کی ترقی کیلئے دن رات محنت کی ضرورت ہے۔ملازمین اپنی توانائی عوام کی خدمت کیلئے صرف کریں اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت ملازمین کے حقوق کے تحفظ کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھارہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ بہبود آبادی کے ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ڈی جی پاپولیشن عائشہ احسان،ایڈیشنل ڈی جی نوشیروان،پراجیکٹ ڈائریکٹر ہدایت و دیگر متعلقہ حکام موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا ہے کہ تمام ملازمین ایمان داری اور تندہی سے اپنے فرائض بخوبی سرانجام دینے کی تاکید کی اور کہا کہ متحد ہوکر محکمہ کی ترقی کیلئے دن رات محنت کریں۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بہبود آبادی کی ترقی پر توجہ دی جاتی ہے۔انکا کہنا تھا کہ محکمہ کی ترقی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔تقریب کے اختتام پر معاون خصوصی نے ریٹائرڈ ملازمین کو ہار پہنائے اور شیلڈ تقسیم کیں اور ان کیلئے نیک خوہشات کا اظہار کیا۔
صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس، 21 اپریل سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کی تیاریوں کا جائزہ
انسداد پولیو صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں جاری انسداد پولیو اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور 21 اپریل سے صوبے بھر میں شروع ہونے والی قومی انسداد پولیو مہم کے انتظامات کو حتمی شکل دی گئی۔اجلاس میں متعلقہ انتظامی سیکرٹریز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینئر افسران، ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے کوآرڈینیٹر، اور یونیسف، عالمی ادارہ صحت سمیت بین الاقوامی شراکت دار تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کمشنرز، ریجنل پولیس افسران، ڈپٹی کمشنرز، ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران، اور نیشنل ای او سی اسلام آباد کے حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔سپیشل سیکرٹری صحت اور صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے کوآرڈینیٹر نے اجلاس کو موجودہ پولیو صورتحال پر بریفنگ دی اور اپریل مہم کی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔ اس مہم کے دوران صوبے کے تمام اضلاع میں 65 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے، جبکہ 276 ایسے یونین کونسلز جو پولیو وائرس سے زیادہ متاثر ہیں وہاں خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔اجلاس میں گزشتہ ٹاسک فورس اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ اپریل مہم کے لیے عملے کی تربیت مکمل ہو چکی ہے، جبکہ بعض علاقوں میں کمیونٹی شمولیت بڑھانے کے لئے مربوط حکمت عملی بھی اپنائی گئی ہے۔چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے ڈپٹی کمشنرز اور محکمہ صحت کے افسران پر زور دیا کہ وہ پولیو مہم کو قومی فریضہ سمجھ کر بھرپور عزم اور محنت سے انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بچوں کو اس معذور کر دینے والی بیماری سے بچانا سب کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ چیف سیکرٹری نے مؤثر مائیکرو پلاننگ اور معیار کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔اجلاس میں پچھلی تین مہمات کے دوران حاصل شدہ ماحولیاتی نگرانی اور لاٹ کوالٹی ایشورنس سیمپلنگ کے ضلعی سطح کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ پولیو کے حوالے سے کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کی (LQAS) پر توجہ کلیدی پیمانہ ہوگی۔انہوں نے ڈیٹا پر مبنی مانیٹرنگ اور منصوبہ بندی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مخصوص مسائل جیسے بعض والدین کی جانب سے پولیو سے انکار اور بچوں کی عدم دستیابی کے حل کے لئے مقامی حالات سے ہم آہنگ حکمت عملی ضروری ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ انکار کی صورتوں سے نمٹنے کے لیے پولیو کمیونیکیشن مائیکروپلانز کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔چیف سیکرٹری نے اختتامی کلمات میں انسداد پولیو کمیونیکیشن حکمت عملی میں احتساب کو لازمی قرار دیا اور کہا کہ شفاف اور مؤثر نظام ہی پولیو کے مکمل خاتمے کے لئے ضروری ہے۔
اسمبلی ملازمین کی ڈگریوں کی ویری فیکیشن کے سلسلے میں گرینڈ اجلاس – شفافیت، میرٹ اور احتساب کو یقینی بنایا جائے گا: سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی
خیبرپختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ میں تعینات تمام ملازمین کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کا عمل عملی طور پر شروع ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی دعوت پر آج ایک اہم گرینڈ اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبے کی تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اور تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز نے شرکت کی۔ اجلاس میں قائد حزب اختلاف ڈاکٹر عباد اللہ، رکن اسمبلی سجاد اللہ خان، سپیشل سیکرٹری اسمبلی سید وقار شاہ اور دیگر متعلقہ افسران بھی شریک تھے۔اس موقع پر اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ تمام جامعات اور تعلیمی بورڈز کے سربراہان کو اس اجلاس میں مدعو کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے ملازمین کی تعلیمی اسناد براہ راست ان اداروں کے ذمہ داران کے حوالے کی جائیں تاکہ کسی قسم کی جعل سازی، ٹیمپرنگ یا بیک ڈور ڈیل کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ پورا عمل ان جامعات اور بورڈز کے سربراہان کی براہ راست نگرانی اور ذمہ داری میں ہو تاکہ ہر مرحلے پر شفافیت، غیر جانبداری اور اعتماد یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ آج کا اجلاس اس عمل کا دوسرا اور اہم مرحلہ ہے۔ اس سے قبل صرف پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور چئیرمین پشاور بورڈ کو مدعو کیا گیا تھا اور ابتدائی اسناد ان کے حوالے کی گئی تھیں، جبکہ آج کی گرینڈ میٹنگ میں صوبے کی تمام جامعات اور بورڈز کے سربراہان شریک تھے۔سپیکر نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کو ایک شفاف، میرٹ پر مبنی اور قابلِ اعتماد ادارہ بنایا جا رہا ہے، جہاں جعلی اسناد کے حامل افراد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ یہ قدم ادارہ جاتی اصلاحات، احتساب اور شفافیت کے ویژن کا حصہ ہے تاکہ صرف قابل اور دیانتدار افراد ہی عوامی خدمت کے اس اہم ادارے کا حصہ بن سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اسمبلی کو حکومت و اپوزیشن سے بالاتر ہو کر چلا رہے ہیں، اور جمہوری اصولوں کے مطابق اپوزیشن کو ہر اہم فیصلے میں شامل کیا جاتا ہے۔ پارٹی وابستگیوں سے قطع نظر ہم سب عوام کی خدمت کے لیے یہاں موجود ہیں۔ ہمارے قائد عمران خان نے بھی ہمیشہ جمہوریت کے فروغ اور اداروں کے استحکام پر زور دیا ہے۔سپیکر بابر سلیم سواتی نے اس موقع پر اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کو دیگر اداروں کے لیے ایک ماڈل اور مثالی سیکریٹریٹ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اسمبلی سیکریٹریٹ نے مختلف جامعات کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے، جن کے تحت طلبہ کو اسمبلی کے دورے کرائے گئے، اجلاس دکھائے گئے اور قانون سازی کے عمل سے روشناس کرایا گیا۔ اب اسمبلی کی ویب سائٹ پر ”پبلک فیڈبیک” کا فیچر بھی متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ قانون سازی میں عوام کی براہ راست شمولیت ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی ایک عوامی ادارہ ہے جہاں عوامی مفاد کے ہر معاملے میں شفافیت اور دیانتداری اولین ترجیح ہے، اور یہی معیار ہم ہر سطح پر نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہیں
ڈیرہ جات کے تحت آڈیٹوریم ہال ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک شاندار تقریری مقابلے کا انعقاد
ڈیرہ جات کے تحت آڈیٹوریم ہال ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک شاندار تقریری مقابلے کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف اسکولوں کے طلباء نے جوش و خروش سے شرکت کی۔ اس مقابلے کا مقصد نوجوانوں میں تقریری صلاحیتوں کو فروغ دینا، اعتماد پیدا کرنا اور ان کے خیالات کو ایک مثبت پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا۔تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، جس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی گئی۔ اس کے بعدججز جن میں جمال احمد مرزا اور سید حفیظ اللہ گیلانی شامل تھے اور آرگنائزرزنے افتتاحی خطاب میں طلباء کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ ایسے مقابلے نوجوانوں کو معاشرتی مسائل پر سوچنے اور اپنی آواز بلند کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔مقابلے میں مختلف موضوعات پر تقاریر پیش کی گئیں۔ طلباء نے نہایت فصاحت و بلاغت سے اپنی بات سامعین تک پہنچائی جس پر حاضرین نے بار بار تالیاں بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔مقابلے کے اختتام پر ججز کی جانب سے نتائج کا اعلان کیا گیا۔ پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کو خوبصورت ٹرافیوں سے نوازا گیا جبکہ دیگر تمام شرکاء کو شرکت کے اعزاز میں سرٹیفیکیٹس اور میڈلز دیے گئے تاکہ ان کی کوششوں کو سراہا جا سکے۔ پہلی پوزیشن جی ایچ ایس حاجی مورہ کے فاطر ھادی، دوسری جی ایچ ایس ایس مریالی کے محمد مزمل اور تیسری پوزیشن جی ایچ ایس موسیٰ کھرکے محمد فیضان نے حاصل کی۔اختتامی خطاب میں آرگنائزرز اور دیگر معززین نے کامیاب طلباء کو مبارکباد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی ایسے علمی و ادبی مقابلے جاری رہیں گے تاکہ نئی نسل کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مزید مواقع میسر آئیں۔تقریب کا اختتام دعائیہ کلمات کے ساتھ ہوا، اور شرکاء نے اس یادگار دن کو اپنی زندگی کا ایک خوبصورت لمحہ قرار دیا۔ ہال میں موجود ہر شخص نے اس علمی ماحول کو سراہا اور منتظمین کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس طرح کے پروگرام نہ صرف بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرتے ہیں بلکہ تعلیمی اداروں کے درمیان مثبت مسابقت کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں اس نوعیت کی سرگرمیاں باقاعدگی سے منعقد کی جائیں گی تاکہ طلباء کی صلاحیتوں کو مزید نکھارا جا سکے۔
وزیراعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے احساس اپنا گھر
وزیراعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے احساس اپنا گھر سکیم کے قرضے کے حصول کے لیے وضع شدہ طریقے کار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین کنڈاپور نے صحیح معنوں میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وژن کے مطابق ”اپنا گھر سب کے لیے” منصوبے کوکو عملی جامہ پہناتے ہوئے 15 لاکھ تک بلا سود قرضے کا اجرا کر دیا ہے جس کے لیے صوبائی حکومت نے پہلے سے لائحہ عمل مرتب کیا ہے یہ قرض حسنہ صوبہ خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں لوگوں کو بلا تفریق دیا جائے گا اور اس کی واپسی 7 سالوں پر محیط ہوگی جو 18 ہزار ماہانہ کے حساب سے حکومت کو واپس کیا جائے گا۔ اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ اس قرضے کی سہولت سے وہ لوگ مستفید ہوں گے جن کی ماہانہ آمدنی ایک لاکھ سے کم ہو اور پانچ مرلے سے کم پلاٹ یا گھر کا مالک ہو اسی طرح قرضہ لینے والے کی عمر کم از کم 18 سال اور زیادہ سے زیادہ 55 سال ہو۔ معاون خصوصی نے مزید کہا کہ قرضہ لینے والا صوبہ خیبر پختونخوا کا مستقل باشندہ اور شناختی کارڈ ہولڈر ہو یہ قرضہ بینک آف خیبر کے ذریعے دیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان کا ورسک کنال پشاور کا دورہ
بہترین نظام آبپاشی کے قیام کیلیے کوشاں ہیں، عاقب اللہ خان
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے آبپاشی عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ صوبے میں بہترین نظام آبپاشی کے قیام کیلیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں کل 36 سمال ڈیمز کی تعمیر پر کام جاری ہے جن میں 8 ڈیمز پر کام مکمل ہوچکا ہے۔ ری ماڈلنگ آف ورسک کینال منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف پشاور اور نوشہرہ کی مزید ہزاروں ایکڑ اراضی سیراب ہوگی، بلکہ اس سے پانی کے بہاو میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور کاشتکاروں کے پانی کی کمی کے مسائل بھی حل ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر عاقب اللہ خان نے گزشتہ روز ورسک کنال پشاور کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پراجیکٹ ڈائریکٹر نے صوبائی وزیر کو ری ماڈلنگ آف ورسک کینال سٹم منصوبے کے مختلف پہلوں پر تفیصلی بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر ابپاشی کو بتایاگیا کہ منصوبے پر تقریباً 73 فیصد کام مکمل ہوا ہے۔ انہوں نے زیر تعمیر تقریباً 5 کلومیٹر ٹنل جبکہ پمپ ہاؤس کا بھی معائنہ کیا۔ اس موقع پر وزیر ابپاشی کو منصوبے کے تعمیراتی کام، ترقیاتی امور، افادیت، لاگت، اخراجات اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا گیا۔ وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان کا کہنا تھا کہ کہ ڈیموں کی تعمیر سے نہ صرف پانی کے مسائل حل ہوں گے بلکہ اس سے زراعت، توانائی، سیاحت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں جس سے معیشت متحکم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی خدمت کیلئے پرعزم ہے صوبائی وزیر نے ہدایات جاری کیں کہ تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے، جبکہ درپیش چیلنجز کے حل کیلئے اقدامات اٹھانے کی بھی یقین دہانی کرائی۔
غیر معیاری و مضر صحت خوراک کیخلاف فوڈ اتھارٹی کی بھرپور کارروائیاں
چارسدہ، نوشہرہ اور سوات میں چھاپے، بھاری مقدار میں ناقص اشیاء ضبط، یونٹس سیل، فوڈ اتھارٹی حکام
وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ طورو کی ہدایت پر خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے غیر معیاری اور مضر صحت خوراک کے خلاف صوبہ بھر میں کارروائیاں جاری رکھتے ہو فوڈ سیفٹی ٹیمو نے چارسدہ، نوشہرہ اور سوات میں کاروائیاں کیں جسکے دوران ایک ہزار کلوگرام غیر معیاری کیچپ،868 پیکٹس جعلی مصالحہ جات 100 کاٹن غیر معیاری جوس پکڑ کر سرکاری تحویل میں لیا گیا۔تفصیلات جاری کرتے ہوئے ترجمان فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ گزشتہ روز خفیہ اطلاع ملنے پر فوڈ سیفٹی ٹیم نے چارسدہ میں غیر معیاری کیچپ تیار کرنے والی فیکٹری پر اچانک چھاپہ مارا جہاں سے ٹماٹر کے پیسٹ کے بغیر کیمیکلز سے تیار کردہ ایک ہزار کلوگرام سے زائد کیچپ برآمد کر کے موقع پر تلف کر دیا گیا جبکہ یونٹ کو سربمہر کیا گیا۔ترجمان نے کہا کہ اسی طرح فوڈ سیفٹی ٹیم سوات نے کبل کے علاقے میں م ایک ہول سیلر کی انسپکشن کی جس کیدوران 868 پیکٹس جعلی مصالحہ جات اور جعلی کھیر برآمد کر کے ضبط کر لی گئی۔مزید تفصیلات میں بتایا گیا کہ فوڈ سیفٹی ٹیم نے نوشہرہ کے علاقے جہانگیرہ میں واقع ایک گودام کی انسپکشن کے دوران 100 کارٹن غیر معیاری اور مضر صحت جوس پکڑ کر سرکاری تحویل میں لے لیا گیا جسے مضر صحت کلرز، فلیورز اور شکرین ملا کر ناقص فارمولے کے تحت تیار کیا جا رہا تھا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کارروائیوں کے دوران مالکان پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے اور فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید کامیاب کاروائیوں پر فوڈ سیفٹی ٹیموں کو سراہا اور کہا کہ مضر صحت خوراک میں ملوث کاروباروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ایسے عناصر کیخلاف کاروائی مزید تیز کی جائے گی۔وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ طورو نے واضح کیا کہ شہریوں کی صحت سے کھیلنے والوں کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔
قائمہ کمیٹی برائے کان و معدنیات کا اجلاس، اہم سفارشات و ہدایات جاری
خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کان و معدنیات کا اجلاس کمیٹی کے چیئرپرسن و ایم پی اے اکرام اللہ غازی کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی، حمید الرحمان،محبوب شیر، شیلہ بانو،محمد یامین، عجب گل، شفیع اللہ جان بھی موجود تھے۔ اجلاس میں محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو لیز گرانٹ اور زیر التواء لیزز سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں کمیٹی کو معدنیات سے متعلق فریم ورک، اس کی ساخت اور درپیش مسائل سے آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی نے محکمہ مائنز اینڈ منرلز کو ہدایت کی کہ وہ کاروباری طبقے کو سہولیات کی فراہمی کے لیے قریبی بنیادوں پر وجوہات فراہم کرے تاکہ صوبے کے معاشی مفادات کو فروغ دیا جا سکے۔ کمیٹی نے اس فریم ورک پر تیز رفتاری سے عمل درآمد کی بھی ہدایت دی۔مزید برآں، محکمہ مائنز اینڈ منرلز کی محکمہ جنگلات سے اراضی سے متعلق مسائل کے فوری حل کی ہدایت کی گئی اور متعلقہ تفصیلات آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔کمیٹی نے زور دیا کہ کان کنی کے ان تمام منصوبوں کو بند یا متبادل مقام پر منتقل کیا جائے جن سے مقامی آبادی کو دھول، فضائی آلودگی اور دیگر ماحولیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑہ رہا ہے۔کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معدنی وسائل کا شفاف اور مؤثر استعمال یقینی بنا کر صوبے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا جائے گا۔
ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی ثریا بی بی کا یو سی لاسپور اپر چترال کا دورہ
ڈپٹی اسپیکر ثریا بی نے ویلج کونسل ہرچین میں واٹر سپلائی اسکیم اور ویلیج کونسل بالم میں ہزنود گول میں جیب ایبل پل کی گراؤنڈ بریکینگ کا آغاز کیا, جو جلد ہی اپنے پایہ تکمیل کو پہنچ جائیں گے۔ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریّا بی بی نے بالم اور شندور کو ملانے والی پل کی مرمت اور نوجوانوں کے لیے گراؤنڈ کا اعلان کیا اور جلد ہی دونوں منصبوں پر کام شروع ہونے کی خوشخبری سنائی۔ عمائدین علاقہ اور لاسپورکی عوام کی طرف سے سابق یو سی ناظم و نائب صدر پاکستان تحریک انصاف اپر چترال زلفی ہنر شاہ نے کہا کہ علاقے کے مسائل کے حل کیلئے ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی ہمہ وقت کوششوں میں مصروف عمل ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ تمام مسائل جلد حل ہو جاینگے.اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر ثریّا بی بی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا عزم ہے کہ دور دراز علاقوں کو بھی ترقی کے دھارے میں شامل کیا جائے تاکہ وہاں کے عوام کو آمدورفت، تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات میں بہتر سہولیات میسر ہو.انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی خدمت اور شفاف ترقیاتی منصوبے حکومت کی اولین ترجیح ہیں اور ان پر عمل درآمد کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔
صوبائی وزیر زراعت کا کرک میں انڈس ہائی وے پر ٹریفک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کرک میں انڈس ہائی وے پر پیش آنے والے المناک ٹریفک حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ صوبائی وزیرنے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت اور بلند درجات کی دعا کی۔ انہوں نے زخمیوں کے لیے فوری اور بہترعلاج معالجے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور طبی عملہ زخمیوں کی مکمل طبی امداد یقینی بنائے،علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
