Home Blog Page 192

صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے کشمیری عوام کی حق پرست جدوجہد میں

صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے کشمیری عوام کی حق پرست جدوجہد میں ان کی غیر متزلزل حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے غیر انسانی اقدامات، وحشیانہ جبر نے ہندو نظریے کے پیروکار آر ایس ایس بی جے پی حکومت کا انتہا پسندانہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں سے بھارتی وعدوں کی خلاف ورزی ہیں جنہیں کشمیری عوام، پاکستان اور عالمی برادری نے مسترد کردیا ہے کشمیری عوام کئی سالوں سے اپنے گھروں میں قید ہیں وہ اپنی زمین اور اپنی ہی سڑکوں پر آزادانہ طور پر چلنے کے قابل نہیں، 80 لاکھ کشمیریوں پر 9 لاکھ سے زائد قابض فوج نے مقبوضہ علاقے کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا ہے صوبائی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے حصول تک ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔

کمشنر کوہاٹ کی گیس حکام کو ضلع کرک میں کم پریشر کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت

0

کمشنر کوہاٹ کی گیس حکام کو ضلع کرک میں کم پریشر کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت
کمشنر کوہاٹ کی کوششوں سے مظاہرین نے نشپہ آئل فیلڈ کرک کے سامنے احتجاج ختم کر دیا
کمشنر کوہاٹ ڈویژن سید معتصم باللہ شاہ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے پروگرام ”عوامی ایجنڈا” کے تحت عوام الناس کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا اولین ترجیح ہے جس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ناقابل برداشت ہوگی۔ انہوں نے ضلع کرک میں گیسیفیکیشن پر کام مکمل کرنے کیلئے ٹائم لائن دیتے ہوئے باقی ماندہ کام جلد ازجلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے میٹرائزیشن کے عمل کو بھی مزید تیز کرنے کی ہدایات دیں تاکہ عوام الناس کو لیگل گیس مہیا کی جا سکے۔ان خیالات کا اظہار کمشنر کوہاٹ نے اہلیان نشپہ بلاک گیس کے کم پریشر کی وجہ سے سراپا احتجاج لوگوں سے ملاقات کے دوران کیں۔واضح رہے کہ مظاہرین نے او جی ڈی سی ایل گیٹ بند کیا تھا اور گیس و تیل کی سپلائی بند تھی جس کی وجہ سے اہل علاقہ کو تکلیف سمیت قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچ رہا تھا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایات پر کمشنر کوہاٹ نے کرک کا دورہ کرکے ڈپٹی کمشنر کرک شکیل احمد جان کے ہمراہ مظاہرین سے کامیاب مذاکرات کئے جس کے بعد مظاہرین نے او جی ڈی سی ایل گیٹ کھول دیا۔ معتصم باللہ شاہ نے کہا کہ عوامی ایجنڈا صوبائی حکومت کا اہم پروگرام ہے جس کے تحت عوام الناس کو ہر سطح پر بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں اعلان کیا کہ ان کے دفاتر کے دروازے عوام الناس کیلئے ہمیشہ کے لئے کھلے ہیں اور وہ اپنے مسائل کے سلسلے میں بلا جھجھک کسی بھی وقت آ سکتے ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کی جیلوں میں قیدیوں کی فلاح وبہبود کیلئے مختلف اقدامات اٹھانے کا فیصلہ

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کی جیلوں میں قیدیوں کی فلاح وبہبود کیلئے مختلف اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں جیلوں کے اندر قیدیوں کے ہاتھوں بننے والی مختلف دستکاری اور ہاتھ سے بننے والی اشیاء کی ڈیجیٹل مارکیٹنگ کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ مختلف شعبوں میں ضروری فنی تربیتی کورسز کیلئے فنی تعلیم کے شعبے اور جیلوں کے مابین رابطے استوار کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ اس طرح قیدیوں کو فراہم کی جانے والی اشیائے خوراک کو معیاری بنانے اور اس کے مینیو میں بہتری لانے اور ریٹس کی ڈیجٹلائزیشن پر بھی کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ قید کے اندر تربیت حاصل کرنے والے قیدی ہنرمندوں کی رہائی کے بعد روزگار کیلئے انھیں احساس نوجوان پروگرام کی قرضہ سکیم میں شامل کرنے پر بھی ہوم ورک کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے جبکہ قیدیوں کیلئے مختلف تیکنیکی کورسز کیلئے آن لائن کلاسز کا بندوبست کرنے پر بھی غوروخوض کرنے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔یہ ہدایات جمعرات کے روز معاون خصوصی برائے جیل خانہ جات ہمایون خان،صوبائی وزیر اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی،وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ اور وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صنعت و حرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے سنٹرل جیل پشاور کا مشترکہ طور پر دورہ کرنے کے موقع پر جیل خانہ جات کے حکام کے ساتھ منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔دورے کے موقع پر رکن قومی اسمبلی آصف خان،اراکین صوبائی اسمبلی،انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات عثمان محسود،سپرنٹنڈنٹ جیل کے علاوہ جیل خانہ جات کے دیگر افسران اور کئی دیگر محکموں کے حکام بھی موجود تھے۔اس موقع پر معزز مہمانوں کو تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ انھوں نے بیرکس میں قیدیوں سے ملاقات کے علاوہ لیدر انڈسٹری،ہینڈی کرافٹس،ایمبرائڈری،دستکاری و دیگر ہاتھ سے بنی ہوئی اشیاء کے تربیتی و کاروباری مقامات کا معائنہ کیا۔وہاں قیدی ہنر مندوں سے ملے اور ان کے کام میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔دورے کے دوران معاونین خصوصی و صوبائی وزرا نے تیکنیکی تربیت حاصل کرنے والے قیدی ہنرمندوں کو اسناد سے بھی نوازا اور انکے روشن مستقبل کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔بریفنگ کے دوران معاون خصوصی برائے جیل خانہ جات کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت جیلوں کے اندر قیدیوں کی فلاح وبہبود کیلئے مثبت اصلاحات لانے کی خواہاں ہے تاکہ اسیران کو تمام انسانی سہولیات میسر ہوں۔انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ضروری تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے جیل رولز میں ترامیم بھی کی جاسکتی ہیں اور اس سلسلے میں موجودہ قوانین میں بہتری لانے کیلئے محکمہ نشاندہی کرے جس پر حکومت عملدرآمد کرے گی۔انھوں نے کہا کہ جیلوں میں آن لائن ملاقاتوں کا پروگرام بنا رہے ہیں جبکہ جیل میں فراہم کی جانے والی خوراک کے مینیو میں بھی بہتری لائی جارہی ہے۔انھوں نے کہا کہ قیدیوں کی تیار کردہ صنعتی اشیاء کی نمائش کیلئے ڈسپلے سنٹر کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی ان اشیاء کی مارکیٹنگ کے لئے اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔معاون خصوصی نے صحت و تفریح اور دیگر ضروری شعبوں میں قیدیوں کی سہولیات کیلئے درکار منصوبوں میں مدد فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر نے کہا کہ جیلوں میں قیدیوں کو مختلف تیکنیکی ہنر سے آراستہ کرنے کیلئے انھیں فنی تعلیم کے مختلف اداروں سے مربوط کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے فلیگ شپ منصوبے احساس نوجوان سکیم کے تحت انٹر پرینیورشپ میں جیلوں سے رہا ہونے والے ہنر یافتہ نوجوانوں کو اخوت فاؤنڈیشن کی قرضہ سکیم میں شامل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔اس موقع پر صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے بھی اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں درکار مواقع پر جیلوں میں تربیت اور فنڈز کی فراہمی میں معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔دورے کے دوران صوبائی وز راء اور معاونین خصوصی نے سنٹرل جیل پشاور میں پودا بھی لگایا۔

بشری بی بی کی ضمانت خوش آئند ہے مگر جعلی حکومت دوسرے جعلی کیس بنانے سے گریز کرے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخو ا کے مشیر اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ بشری بی بی کی ضمانت خوش آئند ہیں، لیکن مریم نواز دوسرے جعلی کیس بنانے کی تیاری نہ کریں، اپنے دفتر سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت بشری بی بی کو عمران خان سے وفا کی سزا دے رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ بشری  بی بی وفا کی ایک داستان ہے جو عمران خان کے ساتھ نبھائی گئی ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ مشکل حالات میں بشری بی بی عمران خان کی طاقت بنی رہی اور انھیں توڑنے کے لئے فارم 47 کی جعلی وفاقی اور پنجاب کی حکومتوں نے ہر حربہ استعمال کیا مگر انھیں ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ بشری بی بی نے راج کماری مریم نواز کی طرح کبھی بھی مگر مچھ کے آنسو نہیں بہائے، اور نہ ہی فرائننگ پین سے کپڑے استری کرنے کے شوشے چھوڑے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ ناحق قید کے 266 دنوں کا ایک ایک دن وفا کی ایک ایک داستان ہے، وفاداری میں شائد ہی کسی نے بشری بی بی جتنی قربانیاں دی ہوں۔

ہنر مند نوجوان قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں، صوبائی حکومت ٹیکنیکل ایجوکیشن کے فروغ کے لیے سرگرم ہے — عبدالکریم تورڈھیر

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت، تجارت اور ٹیکنیکل ایجوکیشن عبدالکریم تورڈھیر نے کہا ہے کہ ہنر مند نوجوان پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں اور صوبائی حکومت ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، تاکہ وہ خود کفیل ہو کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ان خیالات کا اظہارمعاون خصوصی برائے صنعت، تجارت اور ٹیکنیکل ایجوکیشن نے ہری پور میں گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ میں GIZ کے زیر اہتمام ”بلڈ فار اسکل انٹرن شپ” پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنیکل ایجوکیشن کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نہ صرف صوبے میں صنعتوں کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے بلکہ تکنیکی اداروں کی بہتری اور نوجوانوں کے لیے ہنر مندی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بھی بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے۔تقریب میں صوبائی پارلیمانی لیڈر اور چیئرمین ڈیڈک اکبر ایوب خان، تحریک انصاف کے سینئر رہنما یوسف ایوب خان، ایم پی اے ملک عدیل اقبال، ایم ڈی کے پی ٹیوٹا منصور قیصر اور گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل مشتاق احمد خان سمیت دیگر معززین بھی موجود تھے۔معاون خصوصی عبدالکریم تورڈھیر نے انٹرن شپ مکمل کرنے والے طلباء میں لیپ ٹاپ اور مکینیکل کٹس تقسیم کیں اور کہا کہ حکومت ٹیکنیکل ایجوکیشن کی بہتری کے لیے اربوں روپے کے فنڈز مختص کر چکی ہے تاکہ نوجوان ہنر سیکھ کر معاشی طور پر مستحکم ہو سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ”ہمارا مقصد نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے تاکہ وہ باعزت روزگار حاصل کریں اور ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کریں۔”دریں اثنا معاون خصوصی نے ادارے میں صنعتکاروں اور ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کے ایک مشترکہ اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں معاون خصوصی نے فنی اداروں سے مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ہنرمندوں کی فراغت کیلئے صنعتوں اور فنی اداروں کے مابین فعال رابطہ کاری پر زور دیا۔

وزیر لائیو سٹاک، فشریز و امداد باہمی فضل حکیم خان یوسفزئی نے خیبر پختو نخوا جانوروں کی فلاح و بہبود کا قانون 2024 کو صوبائی اسمبلی میں پیش کردیا

قانون کا مقصد جانوروں کی بے توجہی، زیادتی اور ظلم کے واقعات میں کمی لاتا ہے۔ فضل حکیم خان یوسفزئی

خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و امداد باہمی فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ صوبے میں جانوروں کی فلاح و بہبود کا قانون 2024 جانوروں کو غیر ضروری تکالیف دینے کی روک تھام کے لئے اور جانوروں کو کم سے کم تکلیف کے ساتھ ترسیل کرنے، ان کی ہمدردی سے دیکھ بھال اور علاج معالجہ فراہم کرنے کا معیار مقرر اور لاگو کرنے کے لئے ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ موجودہ قانون ” جانوروں کے ساتھ ظلم کی روک تھام کا ایکٹ 1890 پرانا ہو چکا ہے، جسے اس قانون کے تحت منسوخ کر دیا گیا ہے۔اس قانون کا مقصد جانوروں کی بے توجہی، زیادتی اور ظلم کے واقعات میں کمی اور جانوروں کی صحت میں بہتری لانے کیلئے اقدامات اٹھانا ہے۔ اسی طرح جانوروں کی بہتر دیکھ بھال سے زونوٹک امراض کے پھیلاؤ کو کم کرنا اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں مویشیوں کی مصنوعات کی ساکھ کو بڑھانا ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کے روز صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں خیبرپختونخوا جانوروں کی فلاح و بہبود کا قانون 2024 پیش کرتے ہوئے کیا۔ فضل حکیم خان یوسفزئی نے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں قانون کے چیدہ چیدہ نکات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت جانوروں کی فلاح و بہبود کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو کہ مختلف اداروں کے افسروں اور نمائندوں پر مشتمل ہوگی۔ یہ کمیٹی جانوروں کی فلاح و بہود کے ہر طرح کے معاملات کو دیکھے گی اور متعلقہ دفتر کو رپورٹ کریں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس قانون کے ذریعے جانوروں کے ساتھ ہمدردانہ سلوک کی تعلیم دی جائیگی اور عوام کو جانوروں پر غیر ضروری درد یا تکلیف دینے کے خلاف آگاہی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جانوروں کی فلاح و بہبود کے لئے لیکچرز، کتابوں اور پوسٹر ز کوفروغ د یا جائیگا۔ یہ قانون جانوروں کی نقل و حمل، جانوروں کے لڑانے کے منصوبے، جانوروں پر تجربے اور جراحی کے طریقہ کار کو منظم کریگا۔صوبائی وزیر نے قانون میں سزاؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف خلاف ورزیوں پر ایک لاکھ (100000) روپے تک جرمانہ یا 06 ماہ تک قید یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ بلدیات، الیکشنز و دیہی ترقی کے تعارفی اجلاس کا انعقاد

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ بلدیات، الیکشنز و دیہی ترقی کے تعارفی اجلاس کا انعقابد ھ کے روز

کمیٹی کے چیئرمین وممبر صوبائی اسمبلی ریاض خان کی زیر صدارت اسمبلی کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ممبران صوبائی اسمبلی افتخار اللہ جان، زر عالم خان، تاج محمد، شاہ ابو تراب، محبوب شیر، عباد اللہ خان، اعجاز محمد، ملک طارق اعوان، جلال خان، ارباب زرک، ثوبیہ شاہد، شرافت علی، عبد الکبیر خان جبکہ محکمہ بلدیات کی جانب سے سپیشل سیکرٹری، ڈائریکٹر جنرل، چیف پلانگ آفیسر اور دیگر متعلقہ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔سپیشل سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل بلدیات نے ادارے کی کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے کمیٹی کے چیئرمین اور ممبران کو تفصیلی بریفننگ دی۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی کے حوالے سے چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے بلدیات و دیہی ترقی ایم پی اے ریاض خان نے کہا کہ وہ صوبائی حکومت کے مشکور ہیں جس نے ان پر اعتماد کر تے ہوئے صوبے کی سب سے اہم کمیٹی کے ذمہ داری انہیں سونپی۔ انہوں نے کہا کہ وہ بلدیاتی نظام کے حوالے سے پانچ سالوں کا ایک لائحہ عمل تیار کرینگے اور ہر سال اس پر نظر ثانی کر ینگے تاکہ صوبے کے بلدیاتی نظام میں نئی اصلاحات لائی جاسکیں۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ ادوار میں بھی خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نظام کو بہتر کرنے میں خاطر خواہ اقدامات اٹھائے ہیں اور امید ہے کہ یہ سلسلہ اس دور میں بھی اسی طرح جاری رہے گا۔چیئرمین ریاض خان نے کہا کہ ٹی ایم ایز کی حالت زار کو ٹھیک کرنے اور ملازمین کے تنخواہوں کی ادائیگی کو بروقت بنانے کیلئے ایک مشروط لائحہ عمل تیار کروایا جائے تاکہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا مستقل حل نکل سکے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی ریاض خان نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں محکمہ خزانہ کے ایک سینئر افسر کو بھی مدعو کیا جائے تاکہ محکمہ بلدیات کے فنڈ کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جاسکیں۔ انھوں نے کہا کہ محکمہ بلدیات کا ترقی میں کلیدی کردار ہے اور ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے اپنے حصے کا کام کرتے ہوئے بلدیاتی نظام کو مزید مضبوط اور مستحکم بنا ئیں تاکہ صوبے کے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات مل سکیں۔

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں چار شہریوں کی شکایات کی شنوائی، ڈی پی او لکی مروت کو فوراً ایف آئی آر کے اندراج کے احکامات جاری

شہریوں کی مشکلات کے ازالے کے لئے آر ٹی ایس کمیشن بنا ہے، کمیشن بروقت خدمات کے فراہمی کے لیے کوشاں ہے، اعلامیہ

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں چار شہریوں کی شکایات کی شنوائی ہوئی دو رکنی بینچ نے شہریوں کی شکایات سنیں۔ لکی مروت سے نور زمان نے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کمیشن سے رجوع کیا تھا۔شہری کا کہنا ہے کہ انکا موٹر سائیکل چوری ہو گیا ہے۔ روزنامچہ میں اندراج کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں ہو رہی۔ ڈی پی او کو درخواست دی ہے۔ کمیشن نے ڈی پی او کو فوراً ایف آئی آر درج کر کے ایک ہفتے کے دوران کمیشن کو آگاہ کرنے کے احکامات جاری کیے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے زمان خان نامی شہری نے زمین کی حد براری کے لیے کمیشن سے رجوع کیا۔ شہری کا کہنا ہے کہ زمین پر پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی بن رہی ہیں۔ کمیشن نے ڈی سی پشاور کو احکامات جاری کیے کہ پندرہ دنوں کے اندر شہری کو سنا جائے اور قانون کے مطابق مسئلہ حل کیا جائے۔ سادیہ نامی خاتون نے صوابی سے خاندانی جائیداد کے فرد کے حصول کے لیے کمیشن کو درخواست دی ہے۔ شکایت کنندہ کو سننے کے بعد کمیشن نے ہدایت دی کہ پہلے کمیشن کو وراثتی انتقالات کے لیے درخواست دے، اسکے بعد فرد کا حصول ممکن ہو سکے گا۔ محاز گل نامی شہری نے ایبٹ آباد سے زمین کے فرد کے حصول کے لیے کمیشن کو درخواست دی ہے، انہوں نے بتایا کہ زمین این ایچ اے کو دی ہے۔ اور فرد کا اجراء نہیں ہورہاہے۔ کمیشن نے شہری کو تمام کاغزی ثبوت مہیا کرنے کا کہا۔کمیشن نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی مشکلات کے ازالے کے لئے آر ٹی ایس کمیشن بنا ہے۔ کمیشن بروقت خدمات کے فراہمی کے لیے کوشاں ہیں۔ صوبے کے رہائشیوں سے درخواست ہے کہ نوٹیفایڈ خدمات کی بروقت فراہمی میں کسے بھی قسم کی کوتاہی کی صورت میں کمیشن سے رجوع کریں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف، بحالی و آباد کاری نیک محمد خان داوڑ کا ریسکیو ڈائریکٹوریٹ پشاور کا دورہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف، بحالی و آباد کاری نیک محمد خان داوڑ نے بدھ کے روزریسکیو ڈائریکٹوریٹ پشاور کا دورہ کیا۔ ان کی آمد پر ڈائریکٹر جنرل ریسکیو اور دیگر اعلیٰ حکام نے پرتپاک استقبال کیا، جب کہ ریسکیو اہلکاروں نے سلامی پیش کی اور پریڈ کا مظاہرہ کیا۔معاون خصوصی نے مختلف سیکشنز کا تفصیلی دورہ کیا اور ریسکیو آپریشنز میں استعمال ہونے والے جدید آلات اور تکنیکی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ لی۔ انہیں بتایا گیا کہ ریسکیو ادارہ نہ صرف قدرتی آفات جیسے زلزلے اور سیلاب بلکہ دہشت گردی، آگ، اور دیگر ہنگامی حالات میں بھی بروقت اور مؤثر خدمات فراہم کر رہا ہے۔اس موقع پر ریسکیو کے اہلکاروں اور حکام نے معاون خصوصی کو اپنے مسائل اور ضروریات سے آگاہ کیا۔ معاون خصوصی نے ان کے مسائل غور سے سنے اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو اہلکاران ہر محاذ پر عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے پیش پیش ہیں، اور ان کی خدمات قابل تحسین ہیں۔نیک محمد خان داوڑ نے ریسکیو کے اقدامات اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے ایک اہم اثاثہ ہے اور حکومت ریسکیو کو مزید مضبوط اور فعال بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت ریسکیو اہلکاروں کی تربیت اور آلات کی جدیدیت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ ہنگامی حالات میں فوری اور مؤثر امداد فراہم کی جا سکے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریسکیو کے اہلکاروں کو درپیش مسائل کو فوری حل کرنے کے لیے صوبائی حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے تاکہ وہ بلاخوف و خطر اپنی خدمات انجام دے سکیں۔ اس موقع پر معاون خصوصی نے حکومت کی طرف سے ریسکیو کے اہلکاروں کے لیے مالی مراعات اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنانے کا عندیہ دیا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے وزیراعلیٰ

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی ہدایات کی روشنی میں ضلع کوہاٹ کا تفصیلی دورہ کیا اور گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کوہاٹ میں ضلع بھر کے تمام سرکاری میل وفیمل کالجز کو درپیش مسائل ومشکلات اوردرکار ضروریات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی صوبائی وزیر کے ہمراہ رکن قومی اسمبلی شاہد خان خٹک،چیئرمین ڈیڈیک ایم پی اے شفیع جان،ایم پی اے داؤد آفریدی، ڈائریکٹراعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا فریداللہ شاہ، محکمہ تعلیم کے دیگر متعلقہ افسران اورضلع کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے میل وفیمل کالجز کے پرنسپلز بھی بریفنگ میں موجود تھے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے پرنسپل پروفیسر محمدصادق ساغری نے بریفنگ دیتے ہوئے ضلع بھر کے کالجز کا اجتماعی جائزہ پیش کیا جس میں انہوں نے کالجز میں درپیش مسائل وضروریات کی نشاندہی کی جبکہ اس موقع پر صوبائی وزیر کو انفرادی طورپر تمام میل وفیمل کالجز کے پرنسپلز نے بھی اپنے متعلقہ کالجزکے مسائل وضروریات کے بارے میں بتایا تمام کالجز کے بارے میں بریفنگ لینے کے بعد سے صوبائی وزیر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپورکی ہدایات کی روشنی میں ان کا ضلع کوہاٹ کادورہ کیا جس کا بنیادی مقصد ضلع کے کالجز کو درپیش مسائل سے آگاہی اور ان مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھانا ہے۔ انہوں واضح کیا کہ سب سے اہم اورضروری مسئلہ تدریسی عملہ کی کمی کا ہے جس کو حل کرنے کیلئے عارضی طورپر ہنگامی اقدامات اٹھا نے کی ضرورت ہے تاکہ طلباء وطالبات کی تعلیمی سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو صوبائی وزیر نے کہاکہ مسلسل تیسری بار خیبر پختونخوا کے عوام پاکستان تحریک انصاف پر بھرپور اعتماد کااظہار کرتے رہے ہیں۔لہٰذا موجودہ صوبائی حکومت بھی مالی مشکلات کے باوجود حتی المقدور اقدامات اٹھا رہی ہے اورعوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے پی ٹی آئی پر اعتماد کیا ہے اور ہماری پوری کوشش ہے کہ عوام کے اعتماد پر پورا اتریں اور عوام کی تواقعات سے بھی زیادہ ڈیلیور کریں ہمیں اکیڈیمک کے اندر ایکسیلنس لانا ہے اور اس عظیم مقصد کیلیے ہر ایک نے کمیٹیڈ ہونا ہے انہوں نے کہا کہ بہت جلد کالجز کے اندر اور اساتذہ کے مابین کارکردگی کے بنیاد پر مقابلے کرائیں گے جو اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریگا اس کی حوصلہ افزائی کی جائیگی اور نہیں کریگا تو پھر اصلاح یا سزا کا عمل ہوگا جو ہماری حکومت کا نعرہ بھی ہے انہوں نے ہدایت کی کہ اگلی بار جب کالج آؤ ں تو واضح تبدیلی دیکھنے کو ملنی چاہئئے صرف زبانی جمع خرچ نہیں چلے گا عملی کام نظر آنا چاہیے انہوں نے کالجز کے پرنسپل کو یقین دہانی کرائی کہ کالجز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے اس موقع پر گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ منیجمنٹ سائنسز کوہاٹ کے پرنسپل پروفیسر علاؤالدین نے بھی کالج ہذا کے بارے میں بریفنگ دی۔