Home Blog Page 192

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ قائد عمران خان کی رہائی اور اُن پر جعلی مقدمات کے خاتمے کیلئے فیصلہ کن تحریک میں پی ٹی آئی کارکنان اور عوام بھر پور حصہ لینگے، قائد عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین گنڈاپور کی کال پر 9 نومبر کو صوابی میں ہونے والے جلسے میں ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی ممبران اسمبلی، قائدین، کارکنان اور عوام بھر پور شرکت کریں گے، اسی دن انٹر چینج پر ملاکنڈ ڈویژن کا قافلہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں جلسے میں شرکت کرے گا، وہ پشاور میں اپنے دفتر میں سوات سے ممبران اسمبلی کے ایک وفد سے بات چیت کر رہے تھے وفد میں ممبر قومی اسمبلی سہیل سلطان ایڈوکیٹ، ایم پی اے علی شاہ خان ایڈوکیٹ، ایم پی اے سلطان روم خان اور ایم پی اے محمد نعیم کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے، پی ٹی آئی ملاکنڈ ریجن کے صدر و صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا کہ قائد عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈا پور کی ہر کال پر لبیک کہیں گے، قائد عمران خان کی رہائی اور اُن پر جعلی مقدمات کے خاتمے کیلئے تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہونے والی ہے انشاء اللہ بہت جلد عمران خان اور مراد سعید سمیت دیگر اسیران ہمارے درمیان ہونگے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی سے خواجہ سراؤں کے نمائندہ وفد

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی سے خواجہ سراؤں کے نمائندہ وفد نے جمعرات کے روز خواجہ سراؤں کو درپیش مسائل کے حوالے سے ان کے دفتر میں ملاقات کی وفد منزل فاؤنڈیشن کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر آرزو خان اور دہ امید کور کی چئیر پرسن صوبیہ خان پر مشتمل تھا وفد نے صوبائی وزیر کو خواجہ سراؤں کو درپیش مسائل کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ ملاقات میں صوبائی وزیر کو وفد نے خواجہ سراؤں پر تشدد کے خاتمے کے لیے خیبر پختونخوا میں تحفظ خواجہ سرا سنٹر کے قیام کی بھی تجویز دی وفد نے بتایا کہ حکومت خواجہ سراؤں کی تحفظ کے لیے بہتر اقدامات اٹھائے اور ان کو سماجی تحفظ دے جبکہ ملاقات کے دوران خواجہ سراؤں کو نوکری میں کوٹہ دینے پر بھی گفتگو ہوئی اس موقع پر صوبائی وزیر نے خواجہ سراؤں کے نمائندہ وفد کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت خواجہ سراؤں کی تحفظ اور انکو تمام بنیادی سہولیات دینے کیلیے سنجیدہ ہے اور قانون سازی کررہی ہے انہوں نے کہا کہ رجسٹرڈ خواجہ سراؤں کو کوٹہ کی بنیاد پر ملازمت کے مواقع میسر ہونگے انہوں نے وفد کو خواجہ سراؤں کی تحفظ اور سہولیات کی فراہمی میں ہر قسم کے تعاون کی مکمل یقین دہانی کرائی

مشیر وزیراعلیٰ برائے صحت احتشام علی اور یونیسف ہیلتھ ٹیم لیڈ ڈاکٹر انعام اللہ خان نے فیتہ کاٹ کر باقاعدہ افتتاح کیا

نومولود بچوں کی نگہداشت کے لئے ایسے یونٹس وقت کی ضرورت ہے، مشیر صحت

تدریسی ہسپتال باچاخان میڈیکل کمپلیکس صوابی میں صوبے کے سب بڑے نیونیٹیل کئیر یونٹ کا افتتاح کردیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں مشیر وزیراعلی برائے صحت، سیکرٹری ہیلتھ، ڈی جی ہیلتھ، یونسیف کے عہدیداران اور دیگر سیاسی، سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ مشیر صحت احتشام علی اور یونیسف ہیلتھ ٹیم لیڈ ڈاکٹر انعام اللہ خان نے فیتہ کاٹ کر باقاعدہ افتتاح کیا اس موقع پر سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اوردیگر ممبران صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے جنہوں نے نئی تعمیر ہونے والی این آئی سی یو کا تفصیلی دورہ کیا۔ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد مسعود اور ہیڈ آف پیڈیاٹرک ڈیپارٹمنٹ نے نے تمام مہمانوں کو نیونیٹل کئیر یونٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ یونٹ 46بستروں پر مشتمل ہیں جس میں کینگرو مدر کئیر، نیونیٹیل انٹینسیو کئیر یونٹ، آئیسولیشن یونٹ، ٹرانزیشن کئیر یونٹ سمیت ماوں کے بیٹھنے کے لئے علیحدہ جگہ کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ نونیٹل کئیر یونٹ یونیسف کے تعاون سے28ملین کی لاگت سے بنایا گیا۔ تقریب سے خطاب میں مشیر صحت نے بتایا کہ بچوں کی صحت حکومت کی اولین ترجیح ہے انہوں نے یونسیف کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، یونیسف ٹیم لیڈ ڈاکٹر انعام اللہ خان اور انتظامیہ باچاخان میڈیکل کمپلیکس نے بھی تقریب سے کیا اور نیونیٹیل کئیر یونٹ کی تعمیر کو تاریخی کامیابی قرار دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بنتے ہی ن لیگیوں کی نیندیں اڑ گئی ہیں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

مریم نواز اور خوجہ آصف کل سے سوشل میڈیا پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف تمام پوسٹیں ڈیلیٹ کرنے میں لگے ہوئے ہیں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدرمنتخب ہوتے ہی ن لیگیوں کی نیندیں اڑ گئی ہیں مریم نواز اور خوجہ آصف گزشتہ روزسے سوشل میڈیا پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف تمام پوسٹیں ڈیلیٹ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ لیگی رہنماؤں کو فکر نہیں کر نی چاہئیے کیوں کہ سوشل میڈیا پر تمام پوسٹیں اب ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہیں اور مسلم لیگ ن نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہم چلائی تھی۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ اب یو ٹرن لے کر ٹرمپ کی تعریفیں کرتے یہ لوگ نہیں تھکتے ہیں اور یہ کو ئی نئی بات نہیں ہے اس لئے کہ طاقتور کی پوجا کرنا لیگی رہنماوں کا پرانا وطیرہ ہے. بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ کارگل آپریشن کے پس منظر میں نوازشریف کا امریکہ کے سامنے لیٹنا بھی سب کو یاد ہے۔تعجب اس بات پر ہے کہ جنگ بھارت کے ساتھ تھی اور نوازشریف گھٹنے امریکہ کے سامنے ٹیک رہے تھے۔

اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات، الیکشنز و دیہی ترقی ارشد ایوب خان نے بطورِ مہمان خصوصی شرکت

پائیدار شہری ترقی کے فروغ اور خیبر پختونخوا کی زمین کے استعمال کی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس جمعرات کے روز پشاور میں منعقدہ ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات، الیکشنز و دیہی ترقی ارشد ایوب خان نے بطورِ مہمان خصوصی شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات نے کہا کہ میں سب نیشنل گورننس (SNG) پروگرام ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے پائیدار شہری ترقی کو فروغ دینے اور خیبر پختونخوا میں اراضی کے استعمال میں کی جانے والی بنیادی اصلاحات کے حوالے سے قیمتی بصیرتیں ایک دوسرے سے بانٹنانے پر ایک مجلس کا انعقاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس این جی ٹیم کے ساتھ اجلاس ہونے اور کے پی لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول ایکٹ 2021 کی ابتدائی کامیابیوں کے بارے میں آج کی پیشکش کا جائزہ لینے کے بعد یقین ہے کہ یہ تاریخی قانون ماحولیاتی تبدیلی کے اہم مسائل کو حل کرتے ہوئے ہماری شہری ترقی کے منظر نامے کو بدل دے گا۔ارشد ایوب خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول ایکٹ 2021 ایک اہم قانون سازی کی کوشش ہے جس کا مقصد زرعی زمین پر غیر مجاز تعمیرات کو روکنا اور پائیدار شہری ترقی کو فروغ دینا ہے۔ SNG کی تکنیکی مدد کے ساتھ خیبر پختونخوا نے اس قانون کو کامیابی کے ساتھ نافذ کیا، جس میں جدید ترین بلڈنگ کنٹرول اور ریگولیشنز شامل ہیں۔ تاکہ رہائشی، زرعی اور صنعتی زونز میں زمین کے ذمہ دارانہ استعمال کی رہنمائی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ سروس رولز کے ساتھ صوبائی لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قیام سے ہماری شہری منصوبہ بندی کی کوششوں میں ہم آہنگی اور شفافیت آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خیبر پختونخوا کی پہلی شہری پالیسی ہے جو SNG اور P&DD کے اربن پالیسی یونٹ کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے جس سے ہمارے عزم کے مطابق متوازن اور جامع ترقی کو تقویت ملتی ہے۔ یہ پالیسی پائیدار شہری ترقی کے لیے ایک جامع روڈ میپ فراہم کرتی ہے اور توسیع ماحولیاتی اور سماجی سالمیت کے احترام کو بھی یقینی بناتی ہے۔صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ زمین کے استعمال کی ان اصلاحات کے علاؤہ گزشتہ پانچ سالوں میں خیبر پختونخوا میں مقامی طرز حکمرانی کو آگے بڑھانے میں SNG کی شراکتیں اہم رہی ہیں۔ لوکل گورنمنٹ (ایل جی) پرفارمینس اسکور کارڈ تیار کرنے سے مقامی حکومت کی کارکردگی کو ریئل ٹائم ٹریکنگ کے قابل بنانا، پانی، صفائی ستھرائی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ میں اینڈ ٹو اینڈ سروس ڈیلیوری پروگرام کو پائلٹ کرنے اور سروس کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل ہمارے ساتھ کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب نیشنل گورننس نے متعدد اضلاع کے مختلف تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریٹرز (TMAs) میں کمپیوٹرائزڈ فنانشل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (CFMS) کو رول آؤٹ کرنے، مالیاتی عمل کو ہموار کرنے اور مقامی سطح پر مالیاتی ذمہ داری کو بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔صوبائی وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے کہا کہ ان مؤثر اقدامات کے علاؤہ ایس این جی ریونیو جنریشن کی کوششوں کو بڑھانے میں کلیدی شراکت دار رہا ہے۔ جس میں متعدد TMAs میں ریونیو موبلائزیشن روڈ میپ تیار کرنا اور معیاری لیز کے معاہدوں کے ذریعے سرکاری اثاثوں سے آمدنی میں اضافہ شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ اس شراکت داری کو سیاحت تک بھی بڑھایا گیا ہے اور اس سلسلے میں سب نیشنل گورننس (SNG) نے صوابی میں کنڈل ڈیم میں واٹر اسپورٹس جیسے ریونیو پیدا کرنے والے منصوبوں کی ترقی میں بھی مدد کی ہے، جس سے سالانہ 14 ملین پاکستانی روپے لانے کا امکان ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ایس این جی کی مسلسل حمایت کے ذریعے کے پی کی مقامی حکومتوں نے مالیاتی اور آپریشنل کارکردگی میں نئی بلندیاں حاصل کی ہیں جو صوبے کے پائیدار ترقی کے مقاصد میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔صوبائی وزیر بلدیات نے مزیدکہا کہ وہ لوکل گورننس اصلاحات کی حمایت میں SNG ٹیم کی کوششوں کو تہہ دل سے سراہتے ہیں اور عوام کے فائدے کے لیے مسلسل تعاون کا منتظر ہیں اور امید ظاہرکہ آج کی بحثیں موجود تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے قابل قدر ثابت ہوں گی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر سماجی بہبودسید قاسم علی شاہ نے کہا ہے کہ اگر ٹریفک کے

خیبر پختونخوا کے وزیر سماجی بہبودسید قاسم علی شاہ نے کہا ہے کہ اگر ٹریفک کے رہنما اصول اور قونین اپنائے جائیں تو بہت سے حادثات اور انسانی ضیاع سے بچا جا سکتا ہے کیونکہ ڈرائیونگ کے دوران چھوٹی چھوٹی سی غلطیاں بڑے حادثات اور نقصانات کا سبب بنتی ہیں یا تو یہ لاپرواہی جان لے جاتی ہے یا عمر بھر کے لیے معذور کر دیتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز ٹریفک پولیس ٹریننگ ڈرائیونگ سکول پشاورمیں ٹریفک کورس مکمل کرنے والے شرکاء میں سرٹیفیکیٹ دینے کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ واضح رہے کہ اس ٹریفک ٹریننگ کورس میں تقریبا 250 مرد اور خواتین نے 14 دن کا ڈرائیونگ تربیتی کورس مکمل کیا اور ان کا باقاعدہ ڈرائیونگ ٹیسٹ لینے کے بعدا نہیں سرٹیفیکیٹ جاری کیئے گئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ اگر اچھے طریقے سے ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کیا جائے تو لوگوں کی زندگیاں بچ سکتی ہیں اس لیے گاڑی کی ڈرائیونگ سے پہلے ہمیں اپنی گاڑی کامکمل طور پر مشاہدہ کرنا ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ اس میں کو ئی خرابی تو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا ٹریفک پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیت دوسری صوبوں کی ٹریفک پولیس سے بہتر ہے اور وہ صوبے کے ٹریفک کے نظام کو اچھے طریقے چلا رہی ہے انہوں نے کہا کہ پشاور کے لیے 35 سال کے ماسٹر پلان کے تیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے ٹریفک جام اور دوسرے مسائل پر قابو پایا جا سکے گا۔انہوں نے یقین دلایا کہ پشاور ٹریفک وارڈن کی کمی پوری کرنے کا معاملہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواکی نوٹس میں لایا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے یونیورسٹی آف پشاور میں منعقدہ تین روزہ نیشنل کریمینالوجی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جرم ایک ایسا عنصر ہے جو ہمیشہ معاشروں کا حصہ رہا ہے اور رہے گا۔ انہوں نے کہا، ”کوئی بھی معاشرہ ایسا نہیں جہاں جرم مکمل طور پر ختم ہو چکا ہو۔” انہوں نے مزید وضاحت کی کہ معاشرتی ترقی کے ساتھ نئے عوامل پیدا ہوتے ہیں جو مختلف اقسام کے جرائم کو جنم دیتے ہیں۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اس بات پر زور دیا کہ کامیاب معاشرے وہ ہیں جو جرائم کی روک تھام کے لئے مؤثر اقدامات اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں احتساب کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی پر افسوس کا اظہار کرتیہوئے کہا کہ ”یہ افسوسناک ہے کہ پاکستان میں قانون سازی کے وقت متعلقہ ماہرین سے مشاورت نہیں کی جاتی۔ قوانین اچانک لاگو ہو جاتے ہیں اور عوام کو معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں کون اور کیوں متعارف کروا رہا ہے۔”26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم بھی بغیر غور و فکر کے پیش کر دی جاتی ہیں جو کہ ایک تشویشناک مسئلہ ہے۔صحافیوں سے گفتگو کے دوران بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے موجودہ وفاقی اور پنجاب حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومتیں عوامی نمائندے نہیں ہیں۔ ان کا زیادہ تر فوکس عوامی فلاح کی بجائے ان لوگوں کو خوش کرنے پر ہے جنہوں نے انہیں اقتدار میں لایا ہے۔صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مشیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو امن و امان کے چیلنجز کا سامنا ہے، مگر ہماری پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف بھرپور انداز میں سرگرم ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد ہر حال میں جاری رکھی جائے گی۔کانفرنس میں وائس چانسلر یونیورسٹی آف پشاور پروفیسر ڈاکٹر قاضی نعیم، پروفیسر ڈاکٹر جوہر علی (ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز)، صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسیت رخشندہ ناز، سیکرٹری ٹورازم خیبرپختونخوا ڈاکٹر بختیار اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی اور شرکاء سے خطاب کیا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ ہم پاکستان میں ایسے نظام کے خواہاں ہیں جس میں حقیقی معنوں میں قانون کی حکمرانی، جمہوریت کے استحکام، انصاف و شفافیت کے فروغ اور آئین کی بالادستی ہو خیبرپختونخوا میں عمران خان کے ویژن کے مطابق ترقی و خوشحالی کا سفر جاری ہے ہم اپنے آئینی حقوق کے حصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اس مقصد کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر پشاور میں صوبے کے مختلف ضلعوں سے آئے ہوئے وفودسے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر لوگوں نے فضل حکیم خان یوسفزئی کو اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل سے بھی آگاہ کیا جنہیں صوبائی وزیر نے انتہائی غور سے سنا اور انکے مناسب حل کی یقین دہانی کرائی جبکہ بعض مسائل کو موقع پر متعلقہ افسران سے رابطہ کرکے حل بھی کیا۔فضل حکیم خان یوسفزئی نے لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کا حل اولین ترجیح ہے خیبر پختونخوا میں حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندہ حکومت قائم ہے موجودہ صوبائی حکومت عام آدمی کی حالت زندگی بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، عوام نے جس مقصد کیلئے ہمیں ووٹ دیا ہے ہم وہ مقاصد حاصل کرنے کیلئے پر عزم ہیں، لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صحت، تعلیم اور دیگرضروریات زندگی فراہم کرنے کیلئے ہماری کوششیں جاری ہیں انہوں نے کہا کہ وہ عوامی لوگ ہیں اور عوامی مسائل و مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں کیوں کہ عوام ہمارا سرمایہ ہیں اوران کو عزت و احترام دینا اولین ترجیح ہے۔

وزیراعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات سہیل آفریدی نے

وزیراعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات سہیل آفریدی نے اپنے افس میں ائے ہوئے حلقے کے لوگوں کے مسائل سنے اور انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ معاون خصوصی برائے مواصلات و تعمیرا ت سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم یہاں عوام کی خدمت کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں اور انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختوا علی امین گنڈا پور کے ویژن کے مطابق عوام کی فلاؤ بہبود کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ عوام کے لیے ہر وقت ان کے دروازے کھلے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں, تمام سرکاری ملازمین شفاف طریقے سے سرکاری کام سر انجام دیں، ہماری سیاست کا مقصد لوگوں کی خدمت کرنا ہے اور اس سلسلے میں بھر پور اقدامات اٹھا رہے ہیں تاکہ عوام کو بہترین سہولیات فراہم کر سکیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف و آباد کاری، ملک نیک

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف و آباد کاری، ملک نیک محمد خان داوڑ نے کہا ہے کہ ریسکیو 1122 کے بہادر اہلکاروں نے جو قربانیاں دی ہیں وہ لائق تحسین ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریسکیو ہیڈکوارٹر پشاور میں ریسکیو اہلکاروں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس تقریب میں ڈائریکٹر جنرل ریسکیو اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ معاون خصوصی ملک نیک محمد خان داوڑ نے جان بحق ہونے والے اہلکار کے فرزند کو 12 لاکھ روپے کا امدادی چیک بھی دیا اور اس کی خدمات کو سراہا۔اس موقع پر ریسکیو اہلکاروں نے اپنی دیرینہ مطالبات پیش کیے جن میں ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد کو 50 سال سے بڑھا کر 60 سال کرنا، ریسک الاؤنس میں اضافے، اور تنخواہوں میں اضافے جیسے اہم مطالبات شامل تھے۔ معاون خصوصی نے ان مطالبات کو تسلیم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ہی ان امور پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی آمین گنڈاپور سے بات کریں گے تاکہ اہلکاروں کو بہترین مراعات فراہم کی جاسکیں۔ملک نیک محمد خان داوڑ نے کہا کہ دوسرے محکموں کی طرز پر ریسکیو اہلکاروں کی ریٹائرمنٹ کی عمر بھی 60 سال تک بڑھا دی جائے گی۔ اس کے علاوہ اہلکاروں کو ریسک الاؤنس اور دیگر جائز مراعات بھی دی جائیں گی تاکہ وہ اپنی خدمات بہتر طریقے سے سرانجام دے سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو 1122 کا عملہ ہنگامی حالات سے نمٹنے، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے دوران لوگوں کو فوری مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان کی محنت اور قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت ان کی فلاح و بہبود کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔