Home Blog Page 196

مشیر صحت احتشام علی کا زیر تعمیر ہسپتال خیبر انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کئیر کا دورہ

ہسپتال کی او پی ڈی، ایمرجنسی مجھے ہر صورت فعال چاہیے، سرکاری کھاتوں میں پڑنے والا نہیں ہوں، کام چاہیے اور کام کا مطلب کام ہی ہے۔ دسمبر کے پہلے ہفتے تک مجھے ایمرجنسی اور او پی ڈی ہر صورت میں فعال چاہیے۔ کام نہیں کرسکتے تو کنٹریکٹر اور پی ڈی گھر جائیں۔ ہسپتال ابھی تیار نہیں اور طبی عملے کی تعیناتیاں بھی ہوگئی ہیں، یہ کیسا نظام ہے، بچوں کے ہسپتال میں بچوں کے سپیشلسٹ ہونگے باقی سب کی چھٹی کرائیں۔ مشیر صحت نے حیات آباد میں زیر تعمیر خیبرانسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کئیر کا منگل کے روزدورہ کیا۔ایڈیشنل سیکرٹری فیاض شیرپاو بھی ان کے ہمراہ تھے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عنایت نے مشیر صحت کو ہسپتال کے تعمیر اتی مراحل اور اس میں شامل دیگر منصوبوں بارے بریفنگ دی۔ مشیر صحت نے اس موقع پر ٹھیکیدار، پروجیکٹ ڈائریکٹر اور دیگر متعلقہ اہلکاروں کا ہدایات جاری کیں ہسپتال کی ایمرجنسی اور او پی ڈی دسمبر کے پہلے ہفتے میں ہر صورت میں فعال ہونی چاہئے۔ ہسپتال ابھی تیار بھی نہیں اور اقربا پروری کے تحت طبی عملے کی تعیناتیاں شروع ہوگئی ہیں۔ مجھے اس ہسپتال میں صرف سپیشلائزڈ طبی عملہ چاہئے جو کہ ہسپتال کو چلا سکے سب کو اپنے ڈیوٹی سٹیشن بھیج دیں۔ دس سال میں ہسپتال کی تعمیر سمجھ سے بالاتر ہے۔ وفاق نے بجٹ وقت پر دیا ہوتا تو آج ہسپتال کو تعمیر ہوئے پانچ سال مکمل ہوتے۔ہسپتال کیلئے علیٰحدہ بورڈ کے قیام بارے بھی تبادلہ خیال ہوا۔ ہسپتال کیلئے ضروری ایچ آر فی الوقت صوبے میں موجود سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی ٹرانسفر کے ذریعے پوری کی جائیں گی۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عنایت نے مشیر صحت کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ پروجیکٹ دو حصوں پر مبنی تھا جس میں انسٹی ٹیوٹ اور 250 بستروں پر مشتمل صوبے کے پہلے سپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال کی تعمیر شامل ہے۔ انسٹی ٹیوٹ پہلے ہی محکمہ صحت کے حوالے کیا جاچکا ہے۔ 2013 میں اس منصوبے کی لاگت دو ارب روپے تھی جو کہ 2021 میں تقریبا آٹھ ارب روپے پر جا پہنچی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ منصوبے کی تکمیل کیلئے 3 ارب روپے سے زائد کی رقم مزید ریلیز ہونی ہے جس میں ڈیڑھ ارب رواں مالی سال کے دوران ریلیز ہونے ہیں۔ ہسپتال کی تعمیر کا 80% کام مکمل ہوچکا ہے۔ ہسپتال میں عملے کی تعیناتی کا عمل محکمہ خزانہ کے زیر غور ہے جبکہ بجلی، گیس اور سیوریج کی سپلائی پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اگر وفاقی حکومت درکار رقم آئندہ مالی سال میں ریلیز کرد ے تو اگلے مالی سال کے اختتام پر ہسپتال مکمل طور پر فعال ہوگا۔

ڈائریکٹوریٹ آف ہائر ایجوکیشن کے زیر اہتمام انٹر کالجز اسپورٹس گالا 2024 پشاور زون 29 سے 31 اکتوبر تک

ڈائریکٹوریٹ آف ہائر ایجوکیشن کے زیر اہتمام انٹر کالجز اسپورٹس گالا 2024 پشاور زون 29 سے 31 اکتوبر تک گورنمنٹ کالج پشاور میں منعقد کیا جا رہا ہے جس کی افتتاحی تقریب منگل کے روزمنعقد ہوئی۔ وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے جبکہ تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر فرید اللہ شاہ، ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کے پی، گورنمنٹ کالج پشاور کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر نادر خان بتانی، اور پشاور اور چارسدہ کے جے ایم سیز کے پرنسپل بھی شریک تھے۔اس موقع پر اپنی تقریر میں صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے سرکاری کالجوں میں کھیلوں کے فروغ اور طلبہ کھلاڑیوں کی مدد کے لیے حکومت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کھیلوں کی ترقی میں تعلیمی اداروں کے اہم کردار کو اجاگر کیا اور قومی و بین الاقوامی سطح پر کے پی کے کھلاڑیوں کی کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ صوبائی سطح پر کھیلوں کے گالا مرد و خواتین کالج طلبہ کے لیے صوبہ بھر میں منعقد کیے جا رہے ہیں جس سے طلبہ کی زندگی میں کھیلوں کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔واضح رہے کہ سپورٹس گالا میں باسکٹ بال، ہینڈ بال، تھرو بال، چک بال، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، اسکواش، اور ٹگ آف وار سمیت مختلف کھیل شامل ہیں۔قبل ازیں افتتاحی تقریب کے دوران ڈاکٹر نادر خان نے وزیرِ موصوف، پرنسپلز، پروفیسرز، سپورٹس ڈائریکٹر، اور کھیل میں شریک کھلاڑیوں کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیر صدارت صوبائی بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹی کا اجلاس

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیر صدارت صوبائی بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹی کا اجلاس سول سیکریٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف خطیب خیبرپختونخوا مولانا طیب قریشی، مسیحی، ہندو، سکھ، بہائی اور کیلاش کمیونٹی کے نمائندوں، متعلقہ سرکاری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام نے شرکت کی۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کا اجلاس سے خطاب میں کہنا تھا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے ہمیں بحیثیت قوم مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ دین اسلام دنیا کے تمام مذاہب اور ان کے ماننے والوں کے احترام کا درس دیتا ہے۔ بین المذاہب ہم آہنگی اور بھائی چارہ وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے لئے حکومت اور تمام مذہبی کمیونٹییز اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہیں گی۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایک قوم ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ باہمی بھائی چارے اور محبت کے ساتھ ملک کی ترقی میں یکجا ہوکر کردار ادا کرنا ہے۔ اجلاس کو ضلعی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی سے متعلق امور و کارکردگی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلعی سطح پر بین المذاہب کونسلز مقامی سطح پر مسائل کے حل میں مدد گار ثابت ہوئی ہیں۔چیف خطیب مولانا طیب قریشی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تمام مذہبی کمیونٹییز امن اور بھائی چارے سے زندگی گزار رہی ہیں اور معاشرے میں بھرپور ہم آہنگی موجود ہے۔شرکا کی جانب سے اس موقع پر بین المذاہب ہم آہنگی اور کمیونٹییز کی ترقی کے لئے مختلف تجاویز بھی دی گئیں۔کمیونٹی نمائندگان نے اجلاس کے اختتام پر صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کیااور تمام مذاہب کے درمیان پرامن بقائے باہمی کے فروغ کیلئے اپنے غیر متزلزل عزم کا متفقہ طور پر اظہار بھی کیا گیا۔شرکاء کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی ترقی کے لئے تمام مذہبی کمیونٹییز اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ حکومت کے تعاون سے ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے بھی اپنا مثبت کردار ادا کرتی رہیں گی۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کھیلوں، سکالر شپ اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں اقلیتی برادری کی شمولیت یقینی بنانے کیلئے اقدامات کررہی ہے اور امن کے قیام پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، قیام امن سے ہی ملک کی معاشی ترقی وابستہ ہے۔اجلاس کے اختتام پر چیف خطیب نے ملک کی سالمیت، استحکام، ترقی اور قوم کے اتحاد و یکجہتی کے لئے خصوصی دعا کرائی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے کہا ہے کہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے کہا ہے کہ شوکت آباد سمیت ضلع مانسہرہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ علاقے کی پسماندگی دور کرکے ایک بہتر مستقبل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے کیونکہ اس سلسلے میں عوام نے ہم پر اعتماد کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شوکت آباد ضلع مانسہرہ کے دورے کے موقع پر کیا جہاں علاقے کے لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر زاہد چن زیب نے علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنی بھرپور کوششوں کا اعادہ کیا۔مشیر سیاحت و ثقافت نے کہا کہ علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھا کر یہاں کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شوکت آباد سمیت ضلع مانسہرہ میں خوشحالی اور تعمیر و ترقی کے خواب کی تعبیر کو جلد ممکن بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی ترقی میں تیزی لانے کے لیے صوبائی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں اور شوکت آباد کے عوام کو سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ زاہد چن زیب نے یقین دلایا کہ علاقے کی پسماندگی دور کر کے مثبت تبدیلیاں لائی جائیں گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ علاقے میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے لیے درکار فنڈز کے حصول کے لیے بھی صوبائی حکومت سے رابطہ جاری ہے۔ مشیر سیاحت و ثقافت نے یقین دلایا کہ حکومتی اقدامات سے یہ علاقے جلد خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوں گے۔

جعلی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کسان کارڈ کھیلنا بند کریں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

جعلی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کسان کارڈ کھیلنا بند کریں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ فارم 47 کی وزیراعلی پنجاب مریم نواز کسان کارڈ کھیلنا بند کریں اور کسانوں کو جواب دیں کہ انکے خون پسینے سے اگائی گئی گندم کیوں نہیں خریدی۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مریم نواز کے کسان کارڈ کے حوالے سے دیئے گئے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ پنجاب کے کسانوں کو جن لوگوں نے 300 ارب روپے کا ٹیکہ لگایا ہے ان کو اہم عہدوں پر کیوں بٹھایا ہوا ہے اب تو پنجاب کی سڑکوں پر کسانوں کا احتجاج روز کا معمول بن گیا ہے مگر ان کی کوئی شنوائی ہی نہیں ہورہی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی غلط پالیسیوں کیوجہ سے کسانوں کے پاس اب بھی لاکھوں ٹن گندم ویسے ہی پڑی ہے اورگزشتہ دنوں بھی پنجاب کے کسانوں نے پریس کانفرنس کرکے پنجاب کی جعلی حکومت کی کارکردگی عیاں کی تھی۔ اب توجعلی حکومت کے دور میں کسان خودکشیوں پر مجبور ہو چکے ہیں۔ پنجاب حکومت کو خیبر پختونخوا حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہئیے کہ اس نے پنجاب کے کسانوں سے گندم کی خریداری کی ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی پریس کانفرنس اس وقت تک مکمل ہی نہیں ہوتی جب تک وہ وزیر ا علیٰ خیبر پختونخوا پر تنقید نہیں کر لیتیں۔ مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پنجاب میں کسانوں کا برا حال ہے مگر نااہل اور جعلی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ کسان ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ان کا استحصال ملک کے لئے نقصان دہ ہے۔ کسان کارڈ کی بجائے جعلی حکومت کسانوں سے گندم کی خریداری کرے

جعلی وفاقی حکومت نے پنجاب سمیت پورے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیاہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ ٹک ٹاک پر ترقی کی منازل طے کرنے والے لاہور کی قلعی کھل گئی ہے اور لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ٹاپ پوزیشن پر آگیا جن کی اپنے گھر لاہور کی یہ صورتحال ہے تو باقی صوبے اور ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور سے جاری کردہ ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اور وفاق کی جعلی حکومتوں کی ترقی صرف اشتہارات کی حد تک محدود ہے درحقیقت جعلی حکومت نے پنجاب سمیت پورے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیاہے جبکہ جعلی راج کماری کی تمام تر توجہ پی ٹی آئی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی راج کماری مریم نواز جھوٹ کا سہارا لے کر سیاست کرتی ہیں،پنجاب میں سرکاری ہسپتالوں سمیت تمام ادارے دیوالیہ ہوچکے ہیں جبکہ شریف خاندان کے کاروبار دن دگنی رات چگنی ترقی کررہا ہے اور دوسری جانب ملک کو معاشی بحرانوں نے گھیر لیا ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے پیر کے دن

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے پیر کے دن صوبے میں کرش پلانٹس کے امور کے حوالے سے منعقدہ ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کی جس میں محکمہ صنعت ا ور دیگر اداروں کے تحت سٹون کرشرز کے حوالے سے متعلقہ قوانین اور قواعد وضوابط کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ادارہ برائے تحفظ ماحولیات،محکمہ صنعت،معدنیات،قانون اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے معاون خصوصی نے ہدایت کی کہ بطور صنعت کرش پلانٹس کے لئیے محکمے اپنے قوانین اور قواعد وضوابط میں آسانیاں فراہم کریں تاکہ یہ صنعت صوبے کے مخصوص زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقی سے ہمکنار ہو سکے۔انھوں نے ہدایت کی کہ کرش پلانٹس کے حوالے سے مختلف محکموں کے موجودہ قانون، پلانٹس کی تنصیب اور مقامی آبادی پر اثرات کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا جائے۔

وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے جیل خانہ جات کا ڈسٹرکٹ جیل ایبٹ آباد کا تفصیلی دورہ

وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے جیل خانہ جات کا ڈسٹرکٹ جیل ایبٹ آباد کا تفصیلی دورہ
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جیل خانہ جات، ہمایون خان نے ایم پی اے افتخار جدون اور ایم پی اے و ڈیڈک چیئرمین لائق محمد خان کے ہمراہ ڈسٹرکٹ جیل ایبٹ آباد کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈی آئی جی جیل خانہ جات ہزارہ ریجن، عمیر خان بھی موجود تھے۔
دورے کے دوران ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل نے معاون خصوصی اور دیگر نمائندگان کو جیل کی انتظامی صورتحال، قیدیوں کے مسائل، اور جیل میں فراہم کردہ سہولیات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ معاون خصوصی ہمایون خان نے جیل کے مختلف حصوں کا معائنہ کرتے ہوئے قیدیوں سے براہ راست ملاقات کی اور ان کے مسائل کے بارے میں دریافت کیا۔وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی نے بانی چیئرمین عمران خان اور وزیر اعلیٰ علی آمین گنڈاپور کی ہدایات کی روشنی میں قیدیوں کے مسائل کا فوری حل نکالنے کے احکامات جاری کیے۔ قیدیوں نے معاون خصوصی کو جیل میں علاج معالجے، ادویات، اور دیگر بنیادی سہولیات کی کے حوالے سے آگاہ کیا، جس پر ہمایون خان نے فوری اقدامات لینے اور ادویات کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔جیل میں موجود کمی و بیشی اور تعمیراتی کاموں میں درکار اصلاحات کے لیے پی سی ون تیار کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ جیل میں سہولیات کو بہتر کیا جا سکے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ جیلوں میں قیدیوں کو انسانی حقوق فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی ناقابل قبول ہوگی۔ڈسٹرکٹ جیل ایبٹ آباد میں اعلیٰ معیار کے پولیتھین بیگز اور دیگر اشیاء تیار کی جاتی ہیں، جنہیں قومی مارکیٹ سے منسلک کرنے کے لیے جیل انڈسٹری کو مزید فعال بنانے کے احکامات دیے گئے۔ معاون خصوصی نے اس بات پر زور دیا کہ جیل کی مصنوعات کو مارکیٹ تک پہنچایا جائے تاکہ جیل انڈسٹری سے تیار ہونے والی اشیاء کو عام عوام تک رسائی دی جا سکے اور قیدیوں کو ایک مثبت معاشی سرگرمی میں شامل کیا جا سکے۔معاون خصوصی نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی کہ قیدیوں کی صحت، علاج معالجہ، اور دیگر انسانی حقوق کے معاملات میں مزید بہتری لائی جائے اور ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔

ملاوٹ مافیا کے خلاف خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی کی مردان،لوئر دیر اور ڈی آئی خان میں کارروائیاں، سیکنڑوں کلوگرام غیر معیاری کیچپ، جعلی شہد،ممنوعہ چائنہ سالٹ برآمد، جرمانے عائد

ملاوٹ مافیا کے خلاف خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی کی مردان،لوئر دیر اور ڈی آئی خان میں کارروائیاں، سیکنڑوں کلوگرام غیر معیاری کیچپ، جعلی شہد،ممنوعہ چائنہ سالٹ برآمد، جرمانے عائد
خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے ملاوٹ مافیا کے خلاف صوبہ بھر میں کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے مردان، دیر لوئر اور ڈیرہ اسماعیل خان میں چھاپے مارے اور سینکڑوں کلوگرام غیر معیاری کیچپ، ممنوعہ چائنا سالٹ اور جعلی شہد پکڑ کر ضبط کر لیا گیا
اس سلسلے میں ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز فوڈ سیفٹی ٹیم مردان نے خواجہ گنج بازار اور طورو چوک میں واقع گوداموں پر چھاپے مار کر 2 ہزار کلو گرام غیر معیاری کیچپ برآمد کر لیا۔ ترجمان فوڈ اتھارٹی کے مطابق برآمد شدہ غیر معیاری خوراک میں 25 کلو چائنہ سالٹ اور 15 کلو کھلا رنگ بھی شامل تھا۔ تمام مضر صحت خوراک کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا جبکہ مالک پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔اسی طرح لوئر دیر ٹیم نے تیمرگرہ اڈہ میں واقع ایک ہوٹل سے 55 کلو سے زائد جعلی شہد ضبط کر لیا اور ہوٹل کے مالک پر جرمانہ عائد کر دیا گیا۔ مزید براں، ڈی آئی خان میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے ایک بریانی دکان کے کچن کا معائنہ کرتے ہوئے وہاں سے ممنوعہ چائنہ نمک برآمد کر کے کچن کو سیل کر دیا۔ ترجمان کے مطابق قانون کی خلاف ورزی پر ملوث مالکان کے خلاف فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید قانونی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے انسپکشن ٹیموں کی کاروائیوں کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملاوٹ شدہ اور مضر صحت خوراک کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ ملاوٹ شدہ خوراک کی سپلائی اور فروخت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایسے عناصر کیخلاف کاروائی میں مزید تیزی لائی جائے اور ملاوٹ جیسے گھناؤنے کاروباروں کیخلاف سخت قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے سی اینڈ ڈبلیو سہیل آفریدی نے کہا ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے سی اینڈ ڈبلیو سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ اپنے حلقے کے اجتماعی بنیادی مسائل کے حل کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہے ہیں اور تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، سڑکوں کی تعمیر اور عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے حلقے کے اجتماعی مسائل کے حوالے سے اپنے دفتر باڑہ میں بلائے گئے حلقے کے مشران اور عمائدین پر مشتمل گرینڈ جرگے کے شرکاء سے خطاب کر تے ہوئے کیا کیا۔اس موقع پر حلقہ پی کے 70 سے تعلق رکھنے والے عمائدین اور تاجر یونین کے عہدیداران نے بھی شرکت کی۔جرگے میں قومی مسائل اور مشکلات کے حوالے سے عمائدین نے بات کرتے ہوئے کہا کہ قبیلہ شلوبر میں نہری پانی کا بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں ایکڑ زمین بنجر ہو چکی ہے، دوسرا بڑا مسئلہ کرش انڈسٹری کی بندش ہے جس سے علاقے کے ہزاروں لوگ کا روزگار وابستہ تھا جو گزشتہ 17 سالوں سے بند پڑی ہیں جن کی بحالی کے لیے کئی احتجاج بھی ہوئے اور اگر کرش انڈسٹری بحال ہو تی ہیں تو علاقے کے ہزاروں گھرانوں کو دوبارہ روزگار مل جائے گا۔جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے سی اینڈ ڈبلیو سہیل آفریدی نے کہا کہ اپنے حلقے کے مسائل سے وہ بخوبی آگاہ ہیں اور باڑہ میں نہری نظام کی بحالی اور حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گای جس میں تمام قبیلوں کی نمائندگی موجود ہوگی اور یہ کمیٹی باقی ماندہ مسائل کے حل کے لئے بھی اقدامات اٹھائے گی، سہیل آفریدی نے کہا کہ کرش انڈسٹری کی بندش بارود کے استعمال پر عائد پابندی کے سبب ہے اور اس پابندی کو ختم کرنے کے لیے صوبائی سطح پر کام جاری ہے جس کا جلد حل نکالا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ باڑہ بائی پاس روڈ اور سراج الدین مدرسہ ٹو برقمبر خیل روڈ کی تعمیر کے لیے فنڈ منظور کردیا ہے جس پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ کوکی خیل، برقمبر خیل اور شلوبر میں لنکس روڈز کی تعمیر و مرمت اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر کام کا آغاز ہو چکا ہے سہیل آفریدی نے کہا کہ تعلیمی نظام کی بہتری پر کام ان کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرائمری سکولوں میں 54 ہزار طلباء زیر تعلیم ہوتے ہیں لیکن جب یہی طلباء میڈل سکولوں میں جاتے ہیں تو ان کی تعداد صرف 8 ہزار تک رہ جاتی ہے اور باقی 46 ہزار ہمارے بچے تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں جس میں محکمہ تعلیم کے ساتھ ساتھ والدین کی بھی کوتاہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے علاقے کو تاریکیوں سے نکال کر روشنیوں کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔