Home Blog Page 214

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت علی خان نے کہا ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت علی خان نے کہا ہے کہ ملک کے مسائل کا سب سے اہم مسلہ آبادی کا تیزی سے بڑھنا ہے،آئے روز آبادی میں تیزی سے اضافہ تشویشناک ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی کی روک تھام اور اس سنگین مسلہ کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔علماء و مشائخ کیساتھ مل بیٹھ کر سکول کالجز اور سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی سیمینار منعقد کرکے عوام میں شعور پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔عوام کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں میرے دفتر کے دروازے عوام کیلئے ہر وقت کھلے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سماجی تنظیم“راہنما”اور UNFPAکی جانب سے فیملی پلاننگ کے حوالے منعقد کیئے گئے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی عسکر پرویز و سابق رکن صوبائی اسمبلی مہر سلطانہ اور سیکرٹری بہبود آبادی عماد علی لوحانی،گوہر زمان ریجنل ڈائریکٹر راہنما و دیگر مقررین نے خطاب کیا۔سیمنار میں سول سوسائیٹی آرگنائیزیشن اور سماجی تنظیم“راہنما“کے حکام نے صوبہ میں بڑھتی ہوئی آبادی کو قابو کرنے اور انکے تدارک کیلئے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔حکام نے فیمیلی پلاننگ 2030 وژن، اسکے پس منظر اور اہداف کے حصول پر معاون خصوصی کو آگاہ کیا۔حکام نے آبادی کنٹرول کرنے کیلئے مختلف تجاویز اور احتیاطی تدابیر، عوام میں آگاہی مہم کو مزید تیز کرنے کیلئے علماء کی حمایت و تعاون،قانون سازی،تعلیمی نصاب میں مضمون کے طور شامل کرنا اور دور دراز علاقوں میں ادویات کی ترسیل پر بات چیت کی گئی۔حکام نے آبادی کنٹرول کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے“توازن”کے نام سے ایک بیانیہ قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد بچوں کی پیدائش میں وقفہ اور توازن پیدا کرنا ہے۔اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی ملک لیاقت خان نے کہا ہے کہ اپنے وسائل کو مد نظر رکھ کر فیمیلی پلاننگ وقت کی ضرورت ہے اور جب ماں صحت مند ہوگی تو بچہ بھی صحت مند ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کزن میریج کے اثرات اور نقصانات سے بچنے کیلئے عوام میں آگاہی ضروری ہے۔سول سوسائٹی ان دور دراز علاقوں میں بھی سیمنار منعقد کرے جہاں شعور و آگہی کی کمی ہے۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ عوام کی خدمت کیلئے میرے دفتر کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ اس مسلہ کو حل کرنے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے صرف زبان خرچی سے یہ مسلہ حل نہیں ہوگا۔

کے ایم یو کے زیر اہتمام الائیڈ ہیلتھ سائنسز پروگرامات میں داخلوں کے لئے سنٹرالائزڈ ایڈمشن ٹیسٹ کاکامیاب انعقاد

ٹیسٹ اسلام آباد، پشاور،چترال،بونیر،ڈی آئی خان،پاڑاچنار،سوات،مردان،ملاکنڈ،ایبٹ آباد،کوہاٹ،صوابی اور ہری پور میں منعقد کیاگیا
ٹیسٹ میں 21000سے زائد طلباء وطالبات کی شرکت کے ایم یو کے تعلیمی معیار پراعتماد کا اظہار ہے:پروفیسرڈاکٹر ضیاء الحق
خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاور کے زیراہتمام صوبے بھر میں بی ایس الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے مختلف پروگراموں میں داخلے کے لیے پہلا مرکزی ایڈمشن ٹیسٹ (کے ایم یو کیٹ) کامیابی سے منعقد کیاگیا۔یہ ٹیسٹ کے ایم یو کے ساتھ الحاق شدہ فارمیسی ڈی، ڈی پی ٹی، بی ایس نرسنگ،بی ایس ویژن سائنسز،بی ایس آڈیالوجی،بی ایس مینٹل ہیلتھ،بی ایس پراستھیٹکس اینڈ آرتھیٹکس،بی ایس آکوپیشنل تھراپی،بی ایس سپیچ اینڈ لینگویج تھراپی، بی ایس پبلک ہیلتھ،بی ایس مائیکروبیالوجی اور بی ایس الائیڈ ہیلتھ سائنسز (پیرامیڈیکل سائنسز)کے تمام پروگرامات میں داخلوں کے لیئے لازمی ہے۔تفصیلات کے مطابق ٹیسٹ اسلام آباد کے علاوہ صوبے کے 12شہروں کے 14مراکز میں منعقد ہوا جس میں کل 21,665 امیدواروں نے شرکت کی۔ ٹیسٹ کے نتائج 72 گھنٹوں کے اندر جاری کیے جائیں گے اور نتیجہ کے ایم یو کی آفیشل ویب سائٹ http://cat.kmu.edu.pk پر دستیاب ہوگا۔ کے ایم یو کے میڈیا سیل کے مطابق پشاور کے تین امتحانی مراکز جس میں اسلامیہ کا لجیٹ سکول، یونیورسٹی کالج فار بوائز اور گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول نمبر 1 پشاور سٹی میں کل 8,705 امیدواروں نے شمولیت کی۔اسی طرح ایبٹ آباد اور ہری پور میں 1,220 امیدوار، میڈکس کالج چکدرہ ملاکنڈ میں 1,669 امیدوار، اقراء یونیورسٹی سوات میں 3,680 امیدوار، مردان میں 2,112 امیدوار، کوہاٹ میں 1,028 امیدوار، اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 649 امیدواروں نے شرکت کی۔ صوابی میں 813 امیدواروں نے ٹیسٹ دیا، جبکہ بونیر، چترال اور اسلام آباد میں بالترتیب 328، 932 اور137امیدواروں نے شرکت کی۔دریں اثناء وائس چانسلر کے ایم یو، پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے کے ایم یو کیٹ کے کامیاب انعقاد کی تعریف کرتے ہوئے اسے یونیورسٹی کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے ٹیسٹ کے پُرامن اور شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے شامل تمام اداروں اور حکام کا شکریہ ادا کیا۔پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے اس بات پر زور دیا کہ 21,000 سے زائد امیدواروں کی شرکت کے ایم یو کے تعلیمی معیار پر اعتماد کا ثبوت ہے اور یہ خطے میں الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے مستقبل کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم یو شروع دن سے میڈیکل اور ڈینٹل سائنسز کے ساتھ ساتھ صحت کو ایک جامع نظام کے طور پر اہمیت دیتے ہوئے فارمیسی، فزیوتھراپی، نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے پیشہ ور افراد کی تیاری میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم یو ترجیحی بنیادوں پر طلباء وطالبات کو ہرممکن سہولیات فراہم کررہی ہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے طلباء اور ان کے والدین کے وسیع ترمفاد میں کے ایم یوٹیسٹ صرف بڑے شہروں میں منعقد کرنے کی بجائے چترال،بونیر،ملاکنڈ،ڈی آئی خان اور پاڑاچنار کے دورافتادہ علاقوں میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جس کا مقصد ان علاقوں کے طلباء کو ان کی دہلیز پر ٹیسٹ کی سہولت فراہم کرنا تھا جس سے اگر ایک طرف طلباء کے قیمتی وقت کی بچت ہوئی تودوسری جانب اس سے ان کو اور ان کے والدین کو سفری اخراجات میں بھی کافی ریلیف ملا۔ نہوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ مرکزی انٹری ٹیسٹ نہ صرف باصلاحیت طلباء کو ان شعبوں میں ترقی کے مواقع فراہم کرے گا بلکہ صوبے میں صحت کے نظام کی مجموعی بہتری میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

خیبرپختونخواکے تمام اضلاع میں دینی مدارس کومفت سولرسسٹم کی فراہمی کا فیصلہ

محکمہ اوقاف ومذہبی امورجلد1000سے زائددینی مدارس کی سولرائزیشن کے لئے سروے کاآغاز کرے گا
خیبرپختونخواحکومت نے دینی تعلیم کے فروغ اورطلباء کودینی تعلیم کی طرف راغب کرنے کیلئے صوبے بھر بشمول ضم شدہ قبائلی اضلاع کے 1000سے زائددینی مدارس میں مفت سولرسسٹم کی تنصیب کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکی ہدایات کی روشنی میں محکمہ اوقاف ومذہبی امورخیبرپختونخواجلدہرضلع میں دینی مدارس کوشمسی توانائی پرمنتقل کرنے کیلئے صوبے بھرمیں محکمہ توانائی کے تعاون سے سروے کاآغاز کرے گا۔ا س سلسلے میں محکمہ اوقاف کی درخواست پرسیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد خان کی زیرصدارت سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت رجسٹرڈ دینی مدارس کی سولرائزیشن کے حوالے سے ایک خصوصی اجلاس منعقد ہواجس میں سیکرٹری اوقاف ومذہبی امورعادل صدیق،پراجیکٹ ڈائریکٹرسولرائزیشن انجینئراسفندیارخان موسیٰ زئی اورسینئرپلاننگ آفیسرانجینئرلقمان حکیم نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری اوقاف عادل صدیق نے بتایا کہ ڈائریکٹرجنرل مذہبی تعلیمDGREحکومت پاکستان کی مشاورت سے سروے کے بعد صوبے بھر میں رجسٹرڈدینی مدارس کو مفت سولر سسٹم کی فراہمی کے لئے محکمہ توانائی وبرقیات کے تعاون سے منصوبے پر جلدکام کا آغازکیا جائے گا اورہرمدرسے کو ضرورت کے مطابق سولرسسٹم فراہم کیا جائیگا۔اس موقع پر سیکرٹری توانائی نثاراحمد خان نے متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹرکو ہدایت جاری کی کہ محکمہ اوقاف ومذہبی امورکے ساتھ مل کر سروے کرکے منصوبے کا PC-1تیارکیا جائے تاکہ منصوبے پر فوری طورپر عملی کام کاآغازکیا جائے۔انہوں نے منصوبے کی بروقت تکمیل کے لئے محکمہ اوقاف کی طرف سے فنڈزکی بروقت فراہمی کویقینی بنانے اور ہرضلع کے تناسب سے رجسٹرڈ دینی مدارس کی سولرائزیشن کے لئے لسٹیں مرتب کرکے فراہم کرنے پرزوردیا۔

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے مختلف کارروائیوں کے دوران ضبط شدہ بڑی مقدار میں مضر صحت و غیر معیاری خوردونوش اشیاء تلف کیں، فوڈ اتھارٹی حکام

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے پشاور ڈویژن میں مختلف کارروائیوں کے دوران ضبط شدہ بڑی مقدار میں غیر معیاری اور مضر صحت مشروبات، مصالحہ جات،چائنا سالٹ،چائے کی پتی، پاپڑ، کیچپ، آچار، ملک پیکس اور دیگر خوردنی اشیاء گزشتہ روز پشاور میں ڈمپنگ سائٹ پر تلف کردیں۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ فوڈ سیفٹی اتھارٹی پشاور ڈویژن میں تقریباً 36 لاکھ 40 ہزار روپے مالیت کے 202 بیگز ممنوعہ چائنا سالٹ، تقریباً 4 لاکھ روپے مالیت کے غیر معیاری اور مضر صحت 580 کارٹن جوس، انرجی ڈرنکس، اور ڈبہ بند دودھ تلف کیے گئے۔ اس کے علاوہ، 20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے 3 ہزار 4 سو کلو گرام غیر معیاری اور مضر صحت مصالحہ جات اور چوکر کو بھی ضائع کیا گیا۔مزید تفصیلات کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 10 ہزار لیٹر مختلف برانڈز کے جعلی مشروبات بھی ضبط کیے گئے جن کی مالیت تقریباً 12 لاکھ روپے تھی۔ ترجمان کے مطابق، 3 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کے 1 ہزار کلو غیر معیاری آچار بھی تلف کیا گیا۔ ترجمان فوڈ اتھارٹی کے مطابق 3 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کی غیر معیاری اور مضر صحت چائے کی پتی، پاپڑ، کیچپ، ٹماٹر کی چٹنی، کافی، بسکٹ، چاکلیٹ، کوکنگ آئل، سرکہ وغیرہ بھی تلف کیے گئے۔تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ تمام غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء کو ڈائریکٹر جنرل واصف سعید کی ہدایت پر ڈپٹی ڈائریکٹر لطیف الرحمان اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز فوڈ سیفٹی، مانیٹرنگ اینڈ ایوالوویش آفیسر ڈاکٹر سمیع اللہ کی نگرانی میں تلف کیا گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ تمام اشیاء کو ایس او پیز کے مطابق چارسدہ روڈ پر ڈبلیو ایس ایس پی کی جانب سے قائم ڈمپنگ سائٹ پر تلف کیا گیا۔

خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے بیان پر اپنے ردعمل میں کہا

خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے بیان پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ علیمہ خان اور بشری بی بی کی پارٹی پر قبضہ کی خبریں مینڈیٹ چور حکومت کی خواہش ہوسکتی ہے مگر اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے، پارٹی عمران خان کی ہے اور وہ خود تمام معاملات دیکھ رہے ہیں، عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف متفق و متحدا ور منظم ہے۔اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بشری بی بی اور علیمہ خان بارے نااہل حکومت جھوٹ کا پروپیگنڈہ کررہی ہے حالانکہ اختلافات شریف خاندان میں ہیں جسکے مزے عطاء تارڑ خود لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہباز اور نواز گروپ کی آپس کی لڑائی نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، دونوں بھائی میڈیا کے سامنے کچھ اور اندر کچھ اور ہوتے ہیں، دونوں گروپ پارٹی پر قبضے کی کوشش میں ہیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ الزامات تراشی اور پروپیگنڈوں کی سیاست کرنا مسلم لیگ ن کا پرانا وطیرہ ہے۔ شریف خاندان نے ملک کے تمام اداروں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ شریف خاندان کے اثاثے دن بدن بڑھتے جارہے ہیں جبکہ قومی خزانہ خالی ہورہا ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے نئے تعمیر شدہ گورنمنٹ گرلز ماڈل پرائمری سکول کاریڑہ، جامبل، تحصیل بابوزئی سوات کا افتتاح کر دیا

> صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی جانب سے دورہ سوات کے دوران متعدد سرکاری سکولوں کا سرپرائز وزٹ بھی کیا گیا

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ صوبے میں تعلیم کی فراہمی کیلئے صوبائی حکومت ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے, انہوں نے کہا کہ صوبے میں نامساعد حالات کے باوجود محکمہ تعلیم پر اربوں روپے کے فنڈ خرچ کرنا صوبائی حکومت کی تعلیم دوست پالیسی کا ثبوت ہے طلبہ میں محنت کو پروان چڑھانے اور تعلیمی رجحان پیدا کرنے کے لیئے مختلف سکالرشپ پروگرام لائے ہیں طلبہ کو سکولوں میں بہترین اور سازگار ماحول فراہم کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑیں گے، ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر فیصل خان ترکئی نے کاریڑہ جامبل سوات میں نئے تعمیر شدہ گورنمنٹ گرلز ماڈل پرائمری سکول کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب کے مہمان خصوصی فیصل خان ترکئی تھے، اس موقع پر چیئرمین ڈیڈیک سوات اختر خان ایڈوکیٹ، مئیر تحصیل بابوزئی شاہد علی خان،سپیشل سیکرٹری ڈیویلپمنٹ اسفندیار خٹک، چیف پلاننگ آفیسر امداد اللہ خان سمیت محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام اور معززین علاقہ نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی، صوبائی وزیر تعلیم نے صوبے میں رواں سال سرکاری سکولوں میں داخلے مہم کے تحت متعدد طلبہ کو سکول میں داخل کرا کر باقاعدہ رجسٹریشن کا آغاز کیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کا کہنا تھا کہ اس سال سرکاری سکولوں میں داخلے مہم کے تحت پہلے مرحلے میں 11 لاکھ 90 ہزار بچوں کو سکولوں میں داخل کیا گیا ہے جبکہ یکم ستمبر سے داخلہ مہم کے تحت دوسرا مرحلہ بھی شروع کیا جا رہا ہے جس میں مزید 3 لاکھ طلبہ کو سرکاری سکولوں میں داخل کرانے کا حدف رکھا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لیے خوشی کا مقام ہے کہ جس کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی کا وہ عزم لے کر آئے تھے وہ آج پورا ہو رہا ہے،صوبہ بھر میں طلبہ و طالبات کے لیے تعلیم کے حصول کو آسان بنایا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ عمران خان کے وژن کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور کی سربراہی میں محکمہ تعلیم دن دگنی اور رات چگنی ترقی کر رہا ہے، طلبہ و طالبات کو بہترین سہولیات دینا اور تعلیمی معیار کو بلند کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ عہدیداران کے ساتھ سرحد رولر سپورٹ پروگرام اور سیو دا چلڈرن انٹرنیشنل کی ٹیم بھی موقع پر موجود تھی،صوبائی وزیر تعلیم کی جانب سے دونوں ڈیویلپمنٹل پارٹنرز کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس سکول کی تعمیر میں محکمہ تعلیم کے ساتھ تعاون کیا، بعدازاں صوبائی وزیر نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے عوامی ایجنڈا کے تحت صوبے میں گرین گروتھ سٹریٹجی بلین ٹری پلس پلانٹیشن مہم کے تحت سکول میں پودا بھی لگایا اور تعمیر شدہ سکول کا تفصیلی معائنہ کیا اور سکول کے بچوں میں مفت کتابیں اوربیگز بھی تقسیم کئے۔

پاکستان تحریک انصاف ملاکنڈ ڈویژن کے صدر و خیبر پختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے

پاکستان تحریک انصاف ملاکنڈ ڈویژن کے صدر و خیبر پختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی نے قائد عمران خان کی کال پر آج اسلام آباد میں ہونے والے عظیم الشان جلسے میں ملاکنڈ ڈویژن کے کارکنوں کو بھر پور شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انشاء اللہ آج اسلام آباد میں ہونے والا جلسہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا، پی ٹی آئی ٹائیگرز اس جلسہ میں اپنی بھر پور شرکت کو یقینی بنائیں تاکہ فارم 47 کے تحت بننے والی وفاقی حکومت جان سکے کہ عوام اب بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ ہیں، کارکنان دوپہر 1 بجے میلہ ڈاگ مینگورہ پہنچیں جہاں سے مینگورہ کا قافلہ روانہ ہوگا اس سلسلے میں پورے ملاکنڈ ڈویژن کے تمام ممبران اسمبلی کو بھی مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ 2 بجے تک اپنے اپنے قافلوں کے ہمراہ چکدرہ انٹر چینج پہنچ جائے جبکہ 3بجے صوابی انٹر چینج سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور کی قیادت میں جلسہ میں شرکت کیلئے روانگی ہوگی ان خیالات کا اظہار پاکستان تحریک انصاف ملاکنڈ ڈویژن کے صدر و صوبائی وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو فضل حکیم خان یوسفزئی نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس اسلام آباد جلسے کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقد ہوا تھا جس میں چیئرمین ڈیڈیک سوات ایم پی اے اختر خان ایڈوکیٹ، ایم این اے سلیم الرحمان، ایم پی اے سلطان روم، پی ٹی آئی مینگورہ سٹی صدر حیدر علی، خلیل احمد اور دیگر بھی موجود تھے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا کہ آج کا جلسہ پاکستان کا تاریخی جلسہ ثابت ہوگا اس ملک کو عمران خان کی ضرورت ہے عمران خان ہی اس ملک کی تقدیر بدلے گا انہوں نے کہا پاکستانی عوام عمران خان کو جلد از جلد جیل سے رہائی کے منتظر ہیں ملاکنڈ ڈویژن کے کارکنان صوابی پہنچ کر وزیراعلی خیبرپختونخوا سردار علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد روانہ ہونگے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے خوراک، ظاہر شاہ طورو نے کہا ہے کہ فوڈ سکیورٹی کے تمام چیلنجز سے نمٹنے کے لیے

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے خوراک، ظاہر شاہ طورو نے کہا ہے کہ فوڈ سکیورٹی کے تمام چیلنجز سے نمٹنے کے لیے محکمہ زراعت، آبادی، آبپاشی اور محکمہ خوراک کو ایک مربوط نظام کے تحت کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ایک دوسرے کے اچھے اقدامات اور تجربات سے سیکھنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے زیر اہتمام لاہور میں فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے منعقدہ دوسری کانفرنس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر نے کانفرنس کے شرکاء کو آگاہ کیا کہ خیبرپختونخوا کی سالانہ گندم کی پیداوار 1.5 ملین میٹرک ٹن ہے جبکہ صوبے کی سالانہ ضرورت 5 ملین میٹرک ٹن ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے خیبرپختونخوا پنجاب سے گندم خریدتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے پاس 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے، لیکن اس ذخیرہ کو محفوظ بنانے کے لیے گوداموں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ صوبائی حکومت گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ، کسانوں اور پاسکو سے گندم خریدتی ہے۔ انہوں نے کانفرنس میں گندم کی خریداری کے عمل میں درپیش چیلنجز کا بھی تفصیلی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب سے گندم اور آٹا کی سپلائی چین میں جگہ جگہ چیک پوسٹوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، جنہیں ختم کرنے کے لیے پنجاب حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ درآمد شدہ گندم کے معیار کی جانچ پڑتال کی جانی چاہیے اور مستقبل کے لیے ایک جامع لائحہ عمل مرتب ہونا چاہیے۔ ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے گندم کی ٹرانسپورٹیشن اور محکمانہ امور کو ڈیجیٹائز کر دیا ہے اور مزید بہتری کے لیے کاوشیں جاری ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں بیماریوں سے بچاؤ کے لیے علاج کے بجائے احتیاطی اقدامات پر توجہ دینی چاہیے۔ صوبائی حکومت نے احتیاطی اقدامات پر ترجیحی بنیادوں پر کام کا آغاز کر دیا ہے اور اس مقصد کے لیے خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کو خوراک کی جانچ کے لیے جدید مشینیں فراہم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیر خوراک نے کانفرنس کے شرکاء کو خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی جانب سے جدید مشین ”ملکو سکین” کے ذریعے دودھ کے نمونوں کی جانچ کے حوالے سے آگاہ کیا اور بتایا کہ حکومت بہت جلد تیل و گھی، مشروبات، پاپڑ اور دیگر خوراکی اشیاء کی سائنسی بنیادوں پر ٹیسٹنگ کا آغاز کرے گی۔

مشیر کھیل سید فخر جہان کی پیراپلیجک سینٹر پشاور آمد، فرینڈز آف پیراپلیجکس کے زیراہتمام افراد باہم معذوری میں کاروبار کیلئے امدادی چیک تقسیم کئے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے بدھ کو پیراپلیجک سنٹر حیات آباد پشاور میں منعقدہ تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی جہاں پر انھوں نے ”اپنا روزگار پروگرام” کے تحت باہم معذور ہنرمند افراد میں کاروبار کیلئے امدادی چیک تقسیم کئے جس کا اہتمام فرینڈز آف پیراپلیجکس، امریکی امدادی ادارے ایکولی ایبل اور پیراپلیجک سنٹر نے باہمی اشتراک سے کیا تھا۔ اس موقع پر صوبہ کے تمام اضلاع سے میرٹ کی بنیاد پر کوالیفائی کرنے والے 16 افراد باہم معذوری کو فی کس ایک لاکھ چالیس ہزار روپے کے چیک دیئے گئے جن میں ایک معذور خاتون بزنس ویمن بھی شامل ہے۔ پیراپلیجک سنٹر کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر سید محمد الیاس، ڈائریکٹر ری ہیب امیر زیب، سینئر فزیوتھراپسٹ گوہر رحمان، فرینڈز آف پیراپلیجکس کے چیئرمین ثناء اللہ، وائس چیئرمین احسان اللہ، جنرل سیکرٹری عرفان اللہ اور اسسٹنٹ کمشنر پشاور حسینہ کامران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سید فخر جہان نے تقریب سے خطاب میں وسائل کی قلت کے باوجود افراد باہم معذوری کے علاج اور مکمل بحالی، انکی ضروریات کے مطابق وہیل چیئرز اور مصنوعی سہارا جات کی تیاری، پیدائشی ٹیڑھے پاؤں والے بچوں (کلب فٹ)، پولیو اور آٹزم کے شکار بچوں کے مکمل علاج کی سہولیات پر پیراپلیجک سنٹر کی انتظامیہ بالخصوص چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر محمد الیاس کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آج سے وہ خود بھی پیراپلیجک سنٹر اور فرینڈز آف پیراپلیجکس کے رضاکار کے طور پر کام کرینگے۔ انہوں نے پیراپلیجک سنٹر کے سپورٹس ایرینا کیلئے فوری کھیلوں کا سامان مہیا کرنے جبکہ وزیراعلی سے رابطہ کرکے صوبائی حکومت کی جانب سے سنٹر کے انڈومنٹ فنڈ کیلئے کم از کم ایک ارب روپے سیڈ منی رکھنے کی یقین دہائی بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اگلے مہینے محکمہ یوتھ افئیرز کے ذریعے نوجوانوں کیلئے پانچ پانچ لاکھ روپے کے بلاسود جبکہ احساس کلسٹر پروگرام کے تحت ایک ایک کروڑ روپے قرضے کی سکیم متعارف کر رہی ہے جس میں پیراپلیجک سنٹر کی سفارش پر افراد باہم معذوری کیلئے الگ کوٹہ مختص کیا جائے گا۔ مشیر کھیل نے سنٹر کے دیگر مسائل کے حل کیلئے گاہے بگاہے یہاں کا دورہ کرنے کی یقین دہانی بھی کی۔ چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر محمد الیاس نے اختتامی کلمات میں ادارے کی کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی اور سنٹر سے مخلصانہ تعاون پر مشیر کھیل اور صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے متعلقہ حکام کو شاہ منصور ٹاؤن شپ صوابی کے ترقیاتی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے متعلقہ حکام کو شاہ منصور ٹاؤن شپ صوابی کے ترقیاتی عمل کو تیز کرنے اور اس اہم ہاؤسنگ سکیم کے رہائشیوں کو ہر لحاظ سے درکار سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس منصوبے کے تعمیراتی ماسٹر پلان میں رہائشیوں کیلئے ضروری تفریحی،مواصلاتی اور طرز معاشرت کے مکمل سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔معاون خصوصی نے کہا کہ منصوبے کے لئے فالوقت درکار مالی ضروریات کے حل کیلئے وہ متعلقہ فورمز پر بات کرنے کیلئے تعاون فراہم کریں گے جبکہ مستقبل میں اس ہاؤسنگ سکیم کی کامیابی اور مستقل پائیداری کیلئے ایک بہتر بزنس ماڈل کے تحت اس کے امکانی کمرشل زونز کو ڈویلپ کیا جائے تاکہ شہری رہائش کیلئے علاقے میں یہ ایک کامیاب اور تمام آسائشوں سے آراستہ ہاؤسنگ منصوبہ قرار پائے۔یہ ہدایات انھوں نیبدھ کے روز اپنے دفتر میں اربن ایریاز ڈویلپمنٹ اتھارٹی خیبر پختونخوا کے حکام سے شامنصور ٹاؤن شپ کے حوالے سے لی جانے والی بریفنگ کے موقع پر جاری کئے۔بریفنگ میں اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر رشید خان پائندہ خیل و دیگر حکام موجود تھے جبکہ معاون خصوصی کو اتھارٹی کی ڈائریکٹر آمنہ امین نے اس رہائشی منصوبے کے ترقیاتی عمل کے مجموعی صورتحال،مختکف سیکٹرز کی ڈویلپمٹ،ائندہ کے مجوزہ سہولیاتی پلان،جاری ترقیاتی کام اور حائل رکاوٹوں کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ اس موقع پر معاون خصوصی نے کہا کہ سکیم کے مختلف حصوں کی بیوٹیفیکیشن کا خیال رکھا جائے اورمتعلقہ رہائشیوں کے مسائل کے ازالے کیلئے مشاورت میں انکی آرا کو شامل کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ اس رہائشی منصوبے میں عوام کیلئے کثیر المقاصد تفریحی سرگرمیوں کیلئے پارکس اور موزوں جگہوں کی دستیابی یقینی بنائی جائے جبکہ معیاری تعلیمی سہولیات کیلئے بھی منصوبے میں ضروری انفراسٹرکچر رکھا جائے۔انھوں نے کہا کہ اس منصوبے کی کامیابی اور سہولیات سے لیس کرنے کیلئے ان کے کمرشل مقامات کو بروئے کار لانے کیلئے ایک معقول بزنس ماڈل پر عمل درآمد کیا جائے جس کے سلسلے میں کے پی ایزڈمک کے تیکنیکی تجربات پر مبنی خدمات بھی اتھارٹی کو فراہم کی جاسکتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ صوابی میں پر آسائش اور شہری رہائش کیلئے حکومت کا یہ ایک اہم سرکاری منصوبہ ہے اور ہماری خواہش ہے کہ یہاں کے رہائشیوں کو کسی بھی معیاری رہائشی منصوبے میں درکار تمام سہولیات یہاں فراہم کی جا سکیں۔