محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے منشیات کے خلاف صوبائی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی اور وزیر ایکسائز سید فخر جہان کی ہدایات پر انسدادِ منشیات کی کارروائیاں مزید تیز کردی ہیں۔ اس ضمن میں جمرود، وزیر ڈھنڈ سمیت مختلف علاقوں میں کامیاب کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں منشیات برآمد کرکے 2 مبینہ منشیات فروشوں کو گرفتار کرلیا گیا۔محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (کاؤنٹر نارکوٹکس آپریشنز) ڈاکٹر ماجد خان اور انچارج ایکسائز انٹیلیجنس بیورو عاکف نواز خان کی سربراہی میں،ایس ایچ او خیبر علی جان خان، ایس ایچ او پشاور روئیداد خان اور ایڈیشنل انچارج ای ائی بی وحید اکبر خان سمیت تھانہ ایکسائز پشاور، تھانہ ایکسائز خیبر اور ایکسائز انٹیلیجنس سکواڈ پر مشتمل ٹیم نے جمرود، وزیر ڈھنڈ سمیت مختلف علاقوں میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کے دوران 1000 گرام سے زائد آئس اور آئس ٹوکن، 6000 گرام چرس، 1500 گرام افیون، 50 گرام ہیروئن، 3000 نشہ آور گولیاں اور 2 بوتلیں شراب برآمد کی گئیں، جبکہ 2 مبینہ منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔محکمہ ایکسائز کے مطابق منشیات خصوصاً آئس اور ہیروئن کے خاتمے کے لیے منشیات فروشوں اور سمگلرز کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر انداز میں جاری رہیں گی۔
خیبرپختونخوا میں پیپر لیس گورننس کے فروغ کے لیے ایک اور اہم اقدام
خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ اور کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان معاہدہ طے پا گیا
معاہدے کے تحت اتھارٹی میں ای گورننس،کاروباری سہولیات اور سیاحتی خدمات کو ڈیجیٹل بنایا جائے گا
مفاہمتی یادداشت پیپر لیس گورننس،سیاحت کے فروغ اور کاروبارمیں آسانی کی جانب عملی پیشرفت ہے، شفیع جان
پیپر لیس گورننس سے وقت اور سرکاری وسائل کی بچت سمیت شفافیت آئے گی، شفیع جان
سیاحت سمیت ہر شعبے میں ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے گا،شفیع جان
ڈیجیٹل اقدامات کا مقصد عوام کو تیز، شفاف اور آسان خدمات کی فراہمی ہے، شفیع جان
سیاحتی مقامات کو ڈیجیٹل سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا، شفیع جان
منیجنگ ڈائریکٹر آئی ٹی بورڈ ڈاکٹر عاکف خان اور ڈائریکٹر جنرل کاغان ڈویلپمنٹ شیراز خان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے
کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تمام دفتری امور اور ریکارڈ ڈیجیٹائز کیے جائیں گے
ریگولیٹری منظوریوں اور این او سیز کے لیے آن لائن پلیٹ فارم قائم کیا جائے گا
کاروباری افراد آن لائن فیڈبیک، ٹریکنگ اور ڈیجیٹل فیس ادا کر سکیں گے
سیاحوں کے لیے ” کاغان” کے نام سے موبائل ایپلی کیشن بھی متعارف کرائی جائے گی
ایپ پر سیاحتی مقامات، رہائش، نقشے اور ہنگامی الرٹس کی سہولت دستیاب ہوگی
معاون خصوصی برائے سیاحت و ثقافت ملک عدیل اقبال کی زیر صدارت کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کا چھٹا بورڈ آف ڈائریکٹرز اجلاس
رکن صوبائی اسمبلی و پارلیمانی سیکرٹری برائے سیاحت و ثقافت فتح الملک علی ناصر، سیکرٹری محکمہ سیاحت و ثقافت سعادت حسن، ڈائریکٹر جنرل کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی شاہد خان سمیت بورڈ کے دیگر اراکین کی اجلاس میں شرکت
اجلاس میں کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے مالی سال 2026-27 کا بجٹ منظور، ٹورازم پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ
معاون خصوصی ملک عدیل اقبال کی اتھارٹی کو اخراجات میں کمی لانے اور دستیاب وسائل کے مؤثر و بہترین استعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت
سرکاری املاک کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جائے – معاون خصوصی ملک عدیل اقبال
ملک عدیل اقبال کی صوبے میں پیرا گلائڈنگ کی سرگرمیاں شروع کرنے کی ہدایت
کیمپنگ پوڈز اور ریسٹ ہاؤسز کی آؤٹ سورسنگ کی منظوری
ٹورازم اینڈ ہاسپٹلٹی ایڈوائزری کمیٹی کے قیام کا فیصلہ ، کمیٹی سولہ اراکین پر مشتمل ہوگی۔
خیبر پختونخوا ٹورازم بوٹنگ سیفٹی ریگولیشنز 2026 کی منظوری
ریگولیشنز کے ذریعے صوبے میں ٹورازم بوٹنگ کی رجسٹریشن، لائسنسنگ، فٹنس اور آپریشنز کا طریقہ کار واضح کردیا گیا
ریگولیشنز مقصد کشتی رانی کی سرگرمیوں کو باقاعدہ بنانے کے ساتھ سیاحوں اور مقامی افراد کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ ملک عدیل اقبال
اجلاس میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پانچویں اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ
پنجاب کے آرٹیکل 151 اور وفاق کے آرٹیکل 161(2) کی مسلسل خلاف ورزی آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے: مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 151 کی مسلسل خلاف ورزی کے بعد وفاقی حکومت بھی گزشتہ تین سال سے آئین کے آرٹیکل 161(2) کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے، جس کے باعث خیبرپختونخوا کو اس کے آئینی حق، یعنی خالص پن بجلی منافع (Net Hydel Profit) کی مکمل ادائیگی نہیں کی جا رہی۔مزمل اسلم نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 151 کی مسلسل خلاف ورزی کے باعث گندم کی بین الصوبائی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ ملک بھر میں گندم کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رواں سال ملک میں گندم کے نرخوں میں 85 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دوسری جانب وفاقی حکومت بھی گزشتہ تین سال سے آئین کے آرٹیکل 161(2) کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے اور خیبرپختونخوا کو اس کے آئینی حق، یعنی خالص پن بجلی منافع کی مکمل ادائیگی نہیں کی جا رہی۔مشیر خزانہ نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 161(2) کے تحت کسی صوبے میں واقع پن بجلی گھر سے حاصل ہونے والے خالص منافع کا حق اسی صوبے کو حاصل ہے جہاں وہ پن بجلی گھر واقع ہو۔ اس آئینی اصول کے تحت پن بجلی کی پیداوار کے ماحولیاتی، سماجی اور معاشی اثرات برداشت کرنے والے صوبے کو اس کا خالص پن بجلی منافع ادا کرنا لازم ہے۔مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا سب سے بڑا پن بجلی پیدا کرنے والا صوبہ ہے اور قومی گرڈ میں مجموعی پن بجلی پیداوار کا 70 فیصد سے زائد حصہ فراہم کرتا ہے، جبکہ پنجاب کی پن بجلی پیداوار تقریباً 30 فیصد ہے، جس میں نمایاں حصہ غازی بروتھا پن بجلی منصوبے اور دیگر منصوبوں سے حاصل ہوتا ہے۔ اس تناظر میں خیبرپختونخوا کو صوبے میں ہونے والی پن بجلی کی پیداوار کی بنیاد پر خالص پن بجلی منافع میں ایک اہم آئینی حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سال، یعنی 2024 سے 2026 کے دوران خالص پن بجلی منافع کی مد میں پنجاب کو 177.7ارب روپے ادا کیے گئے، جبکہ خیبرپختونخوا کو صرف 71.5ارب روپے ملے۔ یوں پنجاب کو خیبرپختونخوا کے مقابلے میں 106.2ارب روپے زیادہ ادا کیے گئے، حالانکہ پن بجلی کی پیداوار کے اعتبار سے خیبرپختونخوا کا حصہ پنجاب کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ اسی عرصے کے دوران خیبرپختونخوا میں واقع 12 پن بجلی گھروں نے مجموعی طور پر 61.2ارب یونٹس بجلی پیدا کی، جبکہ پنجاب میں واقع پن بجلی گھروں کی اسی مدت کے دوران مجموعی پیداوار صرف23.5ارب یونٹس رہی۔مزمل اسلم نے کہا کہ ان اعداد و شمار کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے پنجاب کو 106.2ارب روپے اضافی خالص پن بجلی منافع کی مد میں ادا کیے گئے، جبکہ خیبرپختونخوا کو اس کے جائز اور آئینی حق سے محروم رکھا گیا۔ یہ صورتحال وفاقی حکومت کی جانب سے وسائل کی تقسیم میں واضح عدم توازن اور پنجاب حکومت کے حق میں غیر معمولی جھکاؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پنجاب حکومت کو مضبوط اور کامیاب بنانے کے لیے اضافی وسائل فراہم کیے جانے کا تاثر اس وقت مزید گہرا ہوتا ہے جب خیبرپختونخوا کو اس کے آئینی اور جائز حقوق کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر کا سامنا ہو۔ وفاقی وسائل کی غیر متوازن تقسیم سے خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ ناانصافی کا احساس بڑھ رہا ہے اور ان کے معاشی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا دوٹوک مطالبہ ہے کہ صوبے کو اس کا جائز آئینی حق فوری طور پر دیا جائے اور خالص پن بجلی منافع کی مد میں واجب الادا 106.2ارب روپے فوری جاری کیے جائیں۔مزمل اسلم نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو مزید تاخیر کے بغیر مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کے اجلاس میں پیش کیا جائے تاکہ آئین کے مطابق وسائل کی منصفانہ تقسیم اور خیبرپختونخوا کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
Culture and Tourism Authority’s 2026-27 Budget Approved, Pay Hike for Tourism Police Decided

The sixth meeting of Board of Directors of Culture and Tourism Authority was held under the chairmanship of Special Assistant to Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Tourism, Culture, Archaeology and Museums Malik Adeel Iqbal, where important decisions were taken to promote tourism in the province and improve the performance and affairs of the authority.
Member Provincial Assembly and Parliamentary Secretary for Tourism and Culture Fateh-ul-Mulk Ali Nasir, Secretary Tourism and Culture Saadat Hassan, Director General Culture and Tourism Authority Shahid Khan and other board members attended the meeting.
The meeting reviewed in detail the implementation status of decisions taken during the fifth meeting of Board of Directors. The authority’s budget for the financial year 2026-27 was presented and, after detailed deliberations, approved by the board. The meeting also decided to increase the salaries of Tourism Police personnel.
Special Assistant Malik Adeel Iqbal directed the authority to reduce expenditures and ensure effective and optimum utilisation of available resources. He also directed the authorities to initiate paragliding activities in the province and include a clause for an annual increase in lease rentals in agreements concerning government properties leased out to private parties.
The board also approved the outsourcing of camping pods and rest houses, with the matter referred to the Technical Committee for further consideration. Malik Adeel Iqbal directed the authority to ensure better utilisation of government properties and further improve the relevant rules in this regard.
The meeting also decided to establish a Tourism and Hospitality Advisory Committee comprising 16 members. The committee will present recommendations for improvement and development in the tourism and hospitality sectors.
The board also approved Khyber Pakhtunkhwa Tourism Boating Safety Regulations 2026. The new regulations lay down a clear mechanism for the registration, licensing, fitness certification and operation of tourism boats in the province. The regulations aim to regulate boating activities and ensure the safety of tourists as well as local residents.
محکمہ آبپاشی کے حسابات سے متعلق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس، متعدد آڈٹ اعتراضات کا جائزہ

خیبر پختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی برائے محکمہ آبپاشی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ذیلی کمیٹی کے چیئرمین افتخار علی مشوانی نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے ممبران رکن صوبائی اسمبلی انور خان نے شرکت کی، جبکہ احمد کنڈی اور ساجد اللہ بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ آبپاشی، متعلقہ محکمانہ افسران، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ، محکمہ آڈٹ اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر آڈٹ نے محکمہ آبپاشی سے متعلق مختلف نوعیت کے آڈٹ اعتراضات کمیٹی کے سامنے پیش کیے، جن میں انکم ٹیکس، سروس ٹیکس، ملازمین کو سفری و آمدورفت الاؤنسز کی ادائیگی سمیت دیگر مالی معاملات شامل تھے۔ چیئرمین اور کمیٹی ارکان نے ہر آڈٹ اعتراض کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے اعتراضات کی وجوہات، محکمانہ کارروائی اور مالی معاملات میں اختیار کیے گئے طریقہ کار سے متعلق وضاحتیں طلب کیں۔کمیٹی نے بعض آڈٹ اعتراضات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ متعلقہ معاملات میں محکمانہ اور قبل از محکمانہ جانچ پڑتال کا عمل بروقت کیوں مکمل نہیں کیا گیا۔ چیئرمین افتخار علی مشوانی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ تمام مالی معاملات میں قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے اور ایسے معاملات جن پر محکمانہ یا قبل از محکمانہ جانچ پڑتال ضروری ہو، انہیں نظرانداز نہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت، مالی نظم و ضبط اور مقررہ قواعد پر عمل درآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں پیش کیے گئے آڈٹ اعتراضات کا ایک ایک کرکے تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ حکام کی جانب سے فراہم کردہ وضاحتوں اور ریکارڈ کی روشنی میں بعض اعتراضات کو نمٹا دیا گیا، جبکہ دیگر اعتراضات کو مزید تصدیق اور جانچ پڑتال کے لیے محکمہ آڈٹ کی تصدیق سے مشروط کیا گیا۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زیرِ التوا اعتراضات کے حوالے سے تمام ضروری ریکارڈ اور دستاویزات بروقت فراہم کیے جائیں تاکہ ان معاملات کو قواعد کے مطابق حتمی طور پر نمٹایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین افتخار علی مشوانی نے محکمہ آبپاشی کے حکام کو ہدایت کی کہ ذیلی کمیٹی کی جانب سے کیے گئے فیصلوں اور جاری کردہ ہدایات پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد اور زیرِ التوا آڈٹ اعتراضات سے متعلق تفصیلی پیش رفت رپورٹ آئندہ اجلاس سے قبل ذیلی کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے، تاکہ سرکاری مالی معاملات میں شفافیت اور جوابدہی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
KP Minister Fazal Shakoor Khan chairs reviews meeting of KP-RIISP

The Khyber Pakhtunkhwa Minister for Public Health Engineering, Fazal Shakoor Khan, on Wednesday chaired a review meeting of Khyber Pakhtunkhwa Rural Investment and Institutional Support Project (KP-RIISP) being implemented in the merged tribal districts with the support of the World Bank.
Member of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly Abdul Ghani Afridi attended the meeting, while Project Director Adnan Ahmad briefed the Provincial Minister and other participants in detail about various components of the project, progress made so far and the future course of action.
The meeting held a detailed discussion on the ongoing and proposed KP-RIISP interventions in Bara, district Khyber. The Project Director briefed the participants on progress regarding water supply and sanitation schemes aimed at improving access to clean drinking water and sanitation facilities for the local population.
A detailed briefing was also given on the rehabilitation, improvement and restoration of various water supply schemes in Bara. The meeting was further apprised of plans for the solarization of water supply systems to reduce dependence on conventional electricity and minimize operational costs.
It was informed that special focus was being given under the project to the provision of basic public facilities and rehabilitation of existing infrastructure in the merged tribal districts, enabling local communities to have improved access to clean drinking water and better sanitation services.
Provincial Minister Fazal Shakoor Khan directed the concerned authorities to ensure the timely completion of water supply and sanitation projects in Bara and other merged districts.
He emphasized that the pace of work should be accelerated in accordance with the needs and priorities of the local population.
He said that provision of clean drinking water is among the KP government’s top priorities, and all possible measures should be taken to ensure sustainable and uninterrupted water supply to the people.
He further said that solarization of water supply systems is an important initiative for ensuring the sustainability of water supply schemes and reducing electricity costs. He said the initiative would not only help strengthen water supply systems but also contribute to saving public resources in the long run.
He issued directives to the relevant authorities to ensure transparency, quality standards and timely completion of all projects being implemented with the support of the World Bank.
خیبرپختونخوا کی جیلوں میں قیدیوں کو معیاری اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹیلی میڈیسن سروس کے قیام کی جانب اہم پیش رفت

خیبرپختونخوا کی جیلوں میں قیدیوں کو بروقت، معیاری اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹیلی میڈیسن سروس کے قیام کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ اقدام وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت اور معاونِ خصوصی برائے جیل خانہ جات افتخار اللہ کی خصوصی توجہ، رہنمائی اور قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ان کے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ جس کا مقصد جیلوں میں مقید افراد کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ماہر ڈاکٹرز اور مختلف شعبہ جات کے پیشلسٹس سے بروقت طبی مشاورت فراہم کرنا اور قیدیوں کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر نا ہے اور اس حوالے سے انتظامی و سیکیورٹی مشکلات کو کم کرنا ہے۔ معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت اور معاونِ خصوصی برائے جیل خانہ جات افتخار اللہ نے کہا ہے کہ محکمہ داخلہ و قبائلی امور، محکمہ جیل خانہ جات اور محکمہ صحت کے باہمی تعاون سے Hub-and-Spoke Model کے تحت ٹیلی میڈیسن سروس قائم کی جائے گی۔ پولیس سروسز ہسپتال پشاور کو مرکزی ٹیلی میڈیسن ہب جبکہ پشاور، مردان اور ہری پور کی جیلوں کو ابتدائی پائلٹ اسپوکس کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔مجوزہ نظام کے تحت قیدیوں کو مختلف طبی شعبہ جات کے ماہر ڈاکٹرز اور کنسلٹنٹس سے آن لائن طبی مشاورت کی سہولت حاصل ہوگی۔ ضرورت پڑنے پر مریضوں کو مزید علاج اور طبی سہولیات کے لیے تدریسی، tertiary care یا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز (DHQ) ہسپتالوں کو ریفر بھی کیا جا سکے گا۔ٹیلی میڈیسن نیٹ ورک ابتدائی طور پر تین طریقہ کار کے ذریعے خدمات فراہم کرے گا، جن میں براہِ راست ویڈیو مشاورت (Live Video Consultation)، اسٹور اینڈ فارورڈ سروسز (Store-and-Forward) اور ریموٹ پیشنٹ مانیٹرنگ (Remote Patient Monitoring) شامل ہیں۔ابتدائی مرحلے میں میڈیسن، سائیکاٹری/کلینیکل سائیکالوجی، گائناکالوجی، کارڈیالوجی، آپتھلمولوجی، ای این ٹی، ریڈیالوجی اور ڈرماٹولوجی سمیت آٹھ طبی شعبہ جات کے ماہرین کی خدمات فراہم کی جائیں گی۔
اس منصوبے سے قیدیوں کو ماہر طبی سہولیات تک رسائی میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ قیدیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے دوران درپیش سیکیورٹی خطرات، ٹرانسپورٹ اور سیکیورٹی سکواڈ کی ضروریات میں کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ بڑے سرکاری ہسپتالوں پر مریضوں کے اضافی بوجھ کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔معاونِ خصوصی برائے جیل خانہ جات افتخار اللہ نے جیل اصلاحات میں قیدیوں کی صحت، فلاح و بہبود اور بنیادی ضروریات کو ترجیح دینے کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی خصوصی توجہ جیلوں کے اندر طبی سہولیات، بحالی اور انسانی بنیادوں پر خدمات کے معیار کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔ ٹیلی میڈیسن سروس کا قیام اسی وژن کی عملی شکل ہے، جس کے ذریعے جیلوں میں رہنے والے افراد کو جدید طبی سہولیات زیادہ آسان اور مؤثر انداز میں فراہم کی جا سکیں گی۔ابتدائی پائلٹ منصوبے میں ایک مرکزی ہب اور تین سپوکس شامل ہوں گے، جبکہ کامیاب تجربے کے بعد اس نظام کو صوبے کی دیگر جیلوں تک توسیع دینے کی گنجائش بھی موجود ہوگی۔اس سلسلے میں محکمہ جیل خانہ جات اور محکمہ صحت کی جانب سے ضروری انتظامی و تکنیکی اقدامات کیے جائیں گے، جن میں متعلقہ نوٹیفکیشنز کا اجرا، ٹیکنیکل اور پروکیورمنٹ کمیٹیوں کی تشکیل، ضروری آلات کی خریداری، تکنیکی عملے کی تعیناتی اور دیگر متعلقہ انتظامات شامل ہیں۔محکمہ صحت پولیس سروسز ہسپتال پشاور کو مرکزی ٹیلی میڈیسن ہب کے طور پر فعال کرے گا جبکہ پائلٹ جیلوں میں ایکسرے اور کارڈیالوجی ٹیکنیشنز کی تعیناتی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ سنٹرل جیل مردان میں ایک خاتون میڈیکل آفیسر کی تعیناتی سمیت دیگر ضروری طبی و تکنیکی انتظامات بھی کیے جائیں گے۔معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت نے کہا کہ صوبائی حکومت جیلوں میں صحت، بحالی اور انسانی فلاح سے متعلق سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیدی بھی معاشرے کا حصہ ہیں اور انہیں بروقت، معیاری اور باوقار طبی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔طارق سعید مروت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ داخلہ و قبائلی امور، محکمہ جیل خانہ جات اور محکمہ صحت کے درمیان مؤثر رابطہ اور تعاون کے ذریعے جیلوں میں طبی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے قیدیوں کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی، جیل اصلاحات اور انسانی فلاح کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔افتخار اللہ نے کہا کہ جیل اصلاحات کا مقصد صرف محفوظ حراست تک محدود نہیں بلکہ قیدیوں کی صحت، بحالی، عزت اور بنیادی انسانی ضروریات کو بھی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن جیسی جدید ٹیکنالوجی جیلوں میں طبی خدمات کو زیادہ مؤثر، قابلِ رسائی اور بروقت بنانے کے ساتھ ساتھ محکمہ جیل خانہ جات اور محکمہ صحت کے درمیان بہتر رابطے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔سیکرٹری محکمہ صحت فیاض علی شاہ نے کہا کہ محکمہ صحت قیدیوں کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن سروس کے ذریعے جیلوں میں موجود مریضوں کو مختلف شعبہ جات کے ماہر ڈاکٹرز اور کنسلٹنٹس سے طبی مشاورت کی سہولت میسر آئے گی، جس سے نہ صرف قیدیوں کو ان کی ضرورت کے مطابق طبی خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے گی بلکہ غیر ضروری طور پر قیدیوں کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت بھی کم ہوگی۔فیاض علی شاہ نے کہا کہ محکمہ صحت پولیس سروسز ہسپتال پشاور کو مرکزی ٹیلی میڈیسن ہب کے طور پر فعال کرنے، پائلٹ جیلوں میں ضروری طبی و تکنیکی عملے کی تعیناتی اور مطلوبہ آلات کی فراہمی سمیت دیگر ضروری انتظامات میں بھرپور معاونت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ صحت عامہ کی سہولیات تک رسائی ہر فرد کا بنیادی حق ہے اور قیدیوں کو بھی مناسب، بروقت اور باوقار طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ محکمہ صحت جیل خانہ جات کے ساتھ مربوط رابطہ کاری کے ذریعے اس منصوبے کو کامیاب بنانے اور مستقبل میں اس کا دائرہ صوبے کی دیگر جیلوں تک بڑھانے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔دونوں معاونینِ خصوصی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا کی جیلوں میں قیدیوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی، جیل اصلاحات، اور انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعلقہ محکموں کے درمیان تعاون اور اصلاحاتی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیر صدارت کابینہ کی تشکیل کردہ قانون ساز کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیر صدارت کابینہ کی تشکیل کردہ قانون ساز کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوا، جس میں صوبے میں قانون سازی سے متعلق مختلف اہم امور اور مسودات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے سماجی بہبود وومن ایمپاورمنٹ و سپیشل ایجوکیشن ملک لیاقت علی خان، ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو،سیکرٹری محکمہ قانون،سیکرٹری محکمہ ایکسائز ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول،سی ایم آفس کے حکام، بورڈ آف ریونیو، سماجی بہبود،پی ایس آر اے، محکمہ انڈسٹری اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں قانون سازی کے عمل کو مؤثر، جامع اور عوامی مفاد سے ہم آہنگ بنانے کے لیے متعلقہ امور پر غور کیا گیا۔اجلاس میں مجوزہ خیبر پختونخوا احساس سوشل پروٹیکشن اینڈ ریزیلینس اتھارٹی ایکٹ 2026 کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، مستحق اور کمزور طبقات کے لیے معاونت کے دائرہ کار کو بہتر بنانے اور قدرتی و دیگر بحرانوں کے دوران عوامی سطح پر لچک اور بحالی کی صلاحیت کو مضبوط بنانے سے متعلق قانونی پہلوؤں پر غور کیا۔اجلاس میں لینڈ ایکوزیشن بل 2026 بھی زیر غور آیا۔ کمیٹی نے اراضی کے حصول کے عمل سے متعلق قانونی طریقہ کار، متاثرہ مالکان کے حقوق، شفافیت اور عوامی منصوبوں کے لیے اراضی کے حصول کے دوران تمام متعلقہ فریقین کے جائز مفادات کے تحفظ سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔کمیٹی نے تمباکو سیس اور نیٹ ہائیڈل پرافٹ سے متعلق ڈرافٹ بل پر بھی تفصیلی غور کیا۔ اجلاس میں صوبائی محصولات، مالی حقوق اور صوبے کے وسائل سے متعلق قانونی و آئینی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر پر توجہ دی گئی کہ مجوزہ قانون سازی آئینی تقاضوں، صوبائی مفاد اور قابلِ عمل مالیاتی طریقہ کار سے ہم آہنگ ہو۔اسی طرح خیبر پختونخوا رجسٹریشن آف گودامز ایکٹ اینڈ رولز 2026 کے ڈرافٹ پر بھی غور کیا گیا۔ مجوزہ قانون سازی کے ذریعے گوداموں کی رجسٹریشن، نگرانی اور متعلقہ انتظامی و قانونی معاملات کو باقاعدہ بنانے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا تاکہ گوداموں سے متعلق نظام میں شفافیت، جواب دہی اور مؤثر انتظام کو فروغ دیا جا سکے۔کمیٹی نے خیبر پختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2017 میں ترمیم کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ اجلاس میں نجی تعلیمی اداروں کی مؤثر نگرانی، ریگولیٹری نظام میں بہتری، طلبہ و والدین کے مفادات کے تحفظ اور نجی شعبے میں معیاری تعلیم کے فروغ سے متعلق قانونی پہلوؤں پر غور کیا گیا۔وزیر قانون آفتاب عالم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں قانون سازی کو جدید تقاضوں، عوامی ضروریات اور آئینی و قانونی اصولوں سے ہم آہنگ بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مجوزہ قانون کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اس کی قانونی حیثیت، عملی افادیت اور عوامی مفاد کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ متعلقہ محکموں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی قابلِ عمل تجاویز کو بھی قانون سازی کے عمل کا حصہ بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ مؤثر قانون سازی ہی مضبوط انتظامی نظام، عوام کے حقوق کے تحفظ اور صوبے میں بہتر طرز حکمرانی کی بنیاد ہے، اس لیے قانون ساز کمیٹی کے فورم پر ہر مسودے کا جامع اور غیر جانب دارانہ قانونی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کا فروغ خیبرپختونخوا کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا، شفیع جان

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات، سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا دورہ کیا جہاں انھوں نے فن ٹیک یونٹ سمیت مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور جاری منصوبوں کا جائزہ لیا،اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹر خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ڈاکٹر عاکف خان نے صوبائی وزیر کو ڈیجیٹل گورننس، کیش لیس حکومتی ادائیگیوں، نوجوانوں کی ڈیجیٹل تربیت، آئی ٹی سیکٹر میں روزگار کے مواقع، ڈیجیٹل عوامی خدمات اور مختلف جاری منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر صوبائی وزیر شفیع جان نے آئی ٹی بورڈ کو دو عالمی ایوارڈز سمیت ملکی سطح پر متعدد اعزازات حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا فروغ خیبرپختونخوا کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا،انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبے کو ڈیجیٹل وژن 2030 دیا گیا ہے،خیبرپختونخوا کو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کا مرکز بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔شفیع جان نے کہا کہ عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکروں سے بچایا جا سکے اور سرکاری خدمات گھر کی دہلیز تک پہنچائی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال 48 سرکاری نظام ڈیجیٹلائز کیے گئے ہیں جبکہ دسمبر 2026 تک مزید400سرکاری خدمات کو ڈیجیٹائز ڈ کیا جائے گا، صوبائی وزیر کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ دستک ایپ کے ذریعے شہریوں کو گھر بیٹھے ڈرائیونگ اور اسلحہ لائسنس سمیت مختلف سرکاری خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ دستک ایپ کا نیا ورژن بھی لانچ کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے شہریوں کو 146 سرکاری خدمات تک رسائی حاصل ہوگی۔صوبائی وزیر نے کیش لیس حکومتی ادائیگیوں کے نظام کو مزید مستحکم اور وسیع کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ جدید ڈیجیٹل ادائیگیوں سے سرکاری امور میں شفافیت اور بہتری آئے گی۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پامیر کے ذریعے 34 محکموں کی 319 سرکاری خدمات کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت فراہم کی گئی ہے اور خیبرپختونخوا سرکاری ادائیگیوں کی ڈیجیٹلائزیشن میں ملک کے دیگر صوبوں سے آگے ہے۔شفیع جان نے کہا کہ بانی چئیر مین عمران خان کے ویژن کے مطابق نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل اسکلز سے آراستہ کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ روزگار پر مبنی ہنرمندی کے پروگرام کے تحت 27 ہزار 500 نوجوانوں کی تربیت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ اب تک 16 ہزار 300 نوجوانوں کو ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو عالمی آئی ٹی مارکیٹ سے جوڑنے اور انہیں روزگار و کاروبار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ خیبر پاس لانچ کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے شہریوں کو ایک ہی ڈیجیٹل شناخت کے تحت مختلف سرکاری خدمات تک آسان اور محفوظ رسائی حاصل ہوگی۔صوبائی وزیر کو صوبے میں آئی ٹی انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے جاری منصوبوں سے بھی اگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈی آئی خان سمیت صوبے میں تین آئی ٹی پارکس قائم کیے گئے ہیں جبکہ پشاور اور مردان میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس مکمل کیے جا چکے ہیں۔جبکہ ایک ارب 60 کروڑ روپے کی لاگت سے ڈیجیٹل سٹی ہری پور پر کام تیزی سے جاری ہے، جبکہ درشل انوویشن نیٹ ورک کے تحت 199 اسٹارٹ اپس کو انکیوبیشن سپورٹ فراہم کی جا چکی ہے۔شفیع جان نے کہا کہ ای گورننس کے فروغ سے سرکاری نظام میں شفافیت، جوابدہی اور عوامی سہولت میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری محکموں کی ڈیجیٹائزیشن کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے اور سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل تمام جاری اور نئے منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے منصوبے صوبے میں نوجوانوں کے لیے روزگار، کاروبار اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا عزم ہے کہ خیبرپختونخوا کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل گورننس اور ڈیجیٹل معیشت کے میدان میں ملک کا صف اول کا صوبہ بنایا جائے۔
