Home Blog Page 22

خیبر پختونخواحکومت کی ہدایات کی روشنی میں صوبے میں ٹیکس نظام کو مزید شفاف، سہل اور عوام دوست بنانے کے لیے محکمہ ایکسائز کی کوششیں جاری ہیں

خیبر پختونخواحکومت کی ہدایات کی روشنی میں صوبے میں ٹیکس نظام کو مزید شفاف، سہل اور عوام دوست بنانے کے لیے محکمہ ایکسائز کی کوششیں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک اہم اجلاس ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر مردان محمد خالد خان اور مردان چیمبر آف کامرس کے تاجران و نمائندگان کے مابین منعقد ہوا، جس میں تاجروں کو درپیش مسائل، تحفظات اور تجاویز پر تفصیلی اور مثبت انداز میں تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ حکومت اور تاجر برادری کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کو فروغ دے کر ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ تاجروں کی سہولت اور فوری رہنمائی کے پیش نظر مردان چیمبر آف کامرس میں“ٹیکس فیسلیٹیشن اینڈ شکایات ڈیسک”قائم کیا گیا جہاں نور رحمان انسپکٹر ایکسائز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ اس ڈیسک کے ذریعے تاجران اپنے مسائل اور شکایات آسانی کے ساتھ متعلقہ حکام تک پہنچا سکیں گے تاکہ ان کے بروقت حل کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کسی بھی قسم کی سیلنگ کارروائی سے قبل متعلقہ انجمن تاجران کو باقاعدہ طور پر اعتماد میں لیا جائے گا، تاکہ تاجروں کے تحفظات کا بروقت ازالہ ہو سکے اور کاروباری سرگرمیاں خوشگوار ماحول میں جاری رہیں۔اس موقع پر تاجران تنظیموں کے نمائندگان نے محکمہ ایکسائز کے اقدامات کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ اس قسم کے مثبت اقدامات سے نہ صرف تاجروں اور حکومتی اداروں کے درمیان روابط مضبوط ہوں گے بلکہ ٹیکس نظام میں بہتری اور عوامی اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔اجلاس میں ظاہر شاہ صدر مرکزی انجمن تاجران و صوبائی جنرل سیکریٹری خیبر پختونخوا، حاجی اویس خان صدر مردان چیمبر آف کامرس، حاجی وحید گل نائب صدر مردان چیمبر آف کامرس، صاحبزادہ سینئر وائس صدر مردان چیمبر آف کامرس، شاہ جی سینئر وائس پریزیڈنٹ انجمن تاجران مردان، غلام سرور صدر جیولرز ایسوسی ایشن، وقار باچا سیکریٹری انجمن تاجران مردان و صدر سبزی منڈی مردان، حاجی فقیر محمد صراف نائب صدر آل پاکستان جیولرز ایسوسی ایشن سمیت مختلف تاجران تنظیموں کے عہدیداران اور نمائندگان نے شرکت کی۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا.

خیبر پختونخوا اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا. اجلاس میں ممبران اسمبلی کی جانب سے پیش کردہ استحقاقات پر غور کیا گیا. اجلاس میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم, ممبران اسمبلی منیر حسین لغمانی, اکرام اللہ غازی, عبدالسلام آفریدی, خالد خان, ارباب محمد وسیم, ثوبیا شاہد, افتخار اللہ جان, نثار باز, عبید الرحمان, مصور خان اور شازیہ جدون شریک ہوئے جبکہ مختلف محکموں کے اعلی افسران بھی شریک ہوئے. اجلاس میں محمد نثار باز کی جانب سے پیش کردہ تحریک استحقاق پر چئیرپرسن استحقاق کمیٹی وڈپٹی سپیکر ثریا بی بی نے ممبران کمیٹی کی باہمی مشاورت سے آئندہ ہفتے اعلی سطحی اجلاس بلا نے کا فیصلہ کیا جس میں تمام متعلقین کو شرکت کی ہدایت کی ۔اجلاس میں ممبران صوبائی اسمبلی کی جانب سے پیش کردہ دیگر استحقاقات پر تفصیلی بحث کی گئی اور اس ضمن میں ممبران کے تحفظات کو دور کرنے اور عوامی نمائندوں کے وقار اور استحقاق کو پیش نطر رکھتے ہوئے اہم فیصلے کئے گیے. اس موقع پر استحقاق کمیٹی نے اسمبلی کاروائی کے تقدس اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند سے گرو آپ کے وفد نے بانی عثمان اشرف کی قیادت میں ملاقات کی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند سے گرو آپ کے وفد نے بانی عثمان اشرف کی قیادت میں ملاقات کی۔ وفد میں بشریٰ آفریدی، ڈاکٹر احمد، فروہ عقیل، مہران خان، ایڈووکیٹ رابیہ بصری، ایڈووکیٹ ماہور، ایڈووکیٹ ایمن اور زیبہ شامل تھیں۔
ملاقات میں گرو آپ کی آئندہ “ہر رائز کانفرنس” پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ یہ خواتین کے لیے خصوصی کانفرنس گلیات میں منعقد ہوگی۔ وفد نے کانفرنس کے مقاصد، وژن اور ان اہداف سے مشیر کھیل کو آگاہ کیا جو خیبرپختونخوا کی خواتین کو بااختیار بنانے، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں قیادت کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وفد نے کہا کہ “ہر رائز” ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو خواتین کو اپنی آواز مؤثر انداز میں بلند کرنے، آگے بڑھنے اور معاشرے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرے گا۔ وفد نے امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس صوبے کی متعدد خواتین کے لیے ایک مثبت اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہوگی۔مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے وفد کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین کو ترقی اور قیادت کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نوجوانوں اور خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے ایسے مثبت اور تعمیری اقدامات کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتی ہے۔انہوں نے وفد کو “ہر رائز کانفرنس” کے انعقاد کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اس اقدام میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام صوبے میں باصلاحیت خواتین کے لیے نئی راہیں ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان سے ان کے دفتر میں وزیر اعلیٰ کے سابق معاون خصوصی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارباب عاصم خان نے ملاقات کی

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان سے ان کے دفتر میں وزیر اعلیٰ کے سابق معاون خصوصی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارباب عاصم خان نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، بالخصوص عوامی فلاح و بہبود سے متعلق جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ارباب عاصم خان نے اپنے حلقہ میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے تحت جاری مختلف سکیموں اور منصوبوں کی پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے فنڈز کی فوری فراہمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صوبائی وزیر سے درخواست کی کہ متعلقہ سکیموں کے لیے درکار وسائل کی جلد از جلد فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو صاف پانی اور نکاسی آب جیسی بنیادی سہولیات بروقت میسر آسکیں۔صوبائی وزیر فضل شکور خان نے اس موقع پر ارباب عاصم خان کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زیر التواء اور جاری سکیموں کے لیے فنڈز کے بروقت اجرا کو یقینی بنایا جائے تاکہ ترقیاتی کاموں میں کسی قسم کی رکاوٹ حائل نہ ہو۔صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے مؤثر نظام کی بہتری حکومت کی اہم ذمہ داری ہے، اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ دور کا سب سے بڑا عالمی خطرہ بن چکی ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ دور کا سب سے بڑا عالمی خطرہ بن چکی ہے، جس کے اثرات خیبرپختونخوا سمیت پورے پاکستان پر انتہائی شدت کے ساتھ مرتب ہو رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں ڈان میڈیا گروپ کے زیر اہتمام منعقدہ “بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس 2026” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
شفیع جان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ انفراسٹرکچر اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔
معاون خصوصی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی صرف سیلاب یا گلیشیئرز تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ فضائی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور ماحول دشمن طرز زندگی بھی انسانی صحت اور ماحول کے لیے سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا آلودگی میں انتہائی کم حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سب سے زیادہ برداشت کر رہا ہے، لہٰذا فوری اور اجتماعی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کے تحفظ، سیلاب اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔شفیع جان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت نے بانی چیئرمین عمران خان کے سرسبز اور پائیدار پاکستان کے وژن کے تحت ماحولیاتی تحفظ کو اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلین ٹری سونامی منصوبہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ اقدام ہے، جس نے صوبے میں جنگلات کے فروغ میں تاریخی کردار ادا کیا۔ اسی تسلسل میں ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام شروع کیا گیا، جس کا مقصد شجرکاری کے فروغ کے ساتھ ساتھ کاربن اخراج میں کمی اور عالمی ماحولیاتی اہداف کے حصول میں کردار ادا کرنا ہےانہوں نے کہا کہ گرین پاکستان پروگرام اور جوائنٹ فارسٹ مینجمنٹ جیسے اقدامات کے ذریعے مقامی آبادی کو جنگلات کے تحفظ میں شریک کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جی آئی ایس مانیٹرنگ، تھرڈ پارٹی ویریفکیشن اور شفاف رپورٹنگ جیسے جدید نظاموں نے ان اقدامات کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا ہے۔صوبائی حکومت کی شجرکاری کی بدولت صوبے میں جنگلات کا رقبہ 19 فیصد سے بڑھ کر 26.5 فیصد تک پہنچ چکا ہے جبکہ ان اقدامات کے نتیجے میں دو لاکھ سے زائد گرین جابز بھی پیدا ہوئی ہیں۔شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ماحولیاتی پالیسی کو صرف جنگلات تک محدود نہیں رکھا بلکہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ اور صاف توانائی کے فروغ کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے جنگلات پاکستان کی تقریباً 50 فیصد کاربن جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔معاون خصوصی نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے خیبرپختونخوا کلائمیٹ ایکشن بورڈ (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دی ہے، جس کے تحت خیبرپختونخوا کلائمیٹ کونسل کے ذریعے کلائمیٹ ایکشن بورڈ کی نگرانی اور مؤثر رہنمائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
شفیع جان نے کہا کہ اگرچہ خیبرپختونخوا حکومت نے مؤثر ماحولیاتی پالیسیاں متعارف کرائی ہیں، تاہم قومی سطح پر ماحولیاتی ترجیحات کا درست تعین نہ ہونا تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ماحولیاتی تحفظ کو قومی پالیسی اور ترقیاتی ترجیحات میں مرکزی حیثیت دی جائے اور قومی مالیاتی کمیشن
کے فارمولے میں جنگلات کے تحفظ اور ماحولیاتی خدمات کو بھی شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی جنگلات کے تحفظ کے لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔معاون خصوصی شفیع جان نے ڈان میڈیا گروپ کے بریتھ پاکستان کانفرنس کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم نے ماحولیاتی تحفظ کے موضوع کو قومی مکالمے کا حصہ بنا دیا ہے، جو ایک قابل تحسین پیش رفت ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان اور وزیر اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے یونیورسٹی آف بونیر کے امور سے متعلق ایک اہم اجلاس کی مشترکہ صدارت کی

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان اور وزیر اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے یونیورسٹی آف بونیر کے امور سے متعلق ایک اہم اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ اجلاس میں سیکریٹری اعلی تعلیم ڈاکٹر محمد اسرار خان، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بونیر، جامعہ کے انتظامی افسران اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران یونیورسٹی آف بونیر کو درپیش مختلف انتظامی، تعلیمی اور ترقیاتی مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، جبکہ ان مسائل کے پائیدار اور مؤثر حل کیلئے مختلف تجاویز اور اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے وزیر ایکسائز سید فخرجہان کی موجودگی میں متعلقہ حکام کو یونیورسٹی کے حل طلب امور ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کیلئے ضروری ہدایات جاری کیں۔اس موقع پر وزیر ایکسائز سید فخرجہان نے کہا کہ صوبائی حکومت بونیر کے عوام، بالخصوص نوجوان نسل کو معیاری اور جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف بونیر کو ایک معیاری تعلیمی و تحقیقی ادارہ بنانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ علاقے کے طلباء و طالبات کو اپنے ہی ضلع میں اعلیٰ معیار کی تعلیم اور تحقیق کے مواقع میسر آسکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ “معیاری تعلیم ہر فرد کا حق ہے” اور یہ بانی چیئرمین عمران خان کا وژن بھی ہے۔ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں اسی وژن کو عملی شکل دینے کیلئے تعلیمی شعبے میں مؤثر اصلاحات اور ترقیاتی اقدامات پر عمل پیرا ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ، الیکشن اینڈ رورل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا اجلاس پیر کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ، الیکشن اینڈ رورل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا اجلاس پیر کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی عبدالکبیر خان نے کی۔ اجلاس میں ممبران قائمہ کمیٹی اور اراکین اسمبلی سریش کمار، عسکر پرویز لال بہاری گوپال سنگھ، محترمہ ثوبیہ شاہد، محترمہ فرزانہ شیرین اور محترمہ شازیہ طماس کے علاوہ سپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، محکمہ قانون، اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں دو اہم مسودہ قوانین،“ہندو میرج خیبر پختونخوا بل2026”اور“خیبر پختونخوا کالاش میرج بل 2026”کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اراکین کمیٹی نے دونوں بلوں کے مختلف قانونی، سماجی، مذہبی اور انتظامی پہلوؤں پر اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔ کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ مجوزہ قوانین متعلقہ برادریوں کے مذہبی عقائد، روایات اور بنیادی حقوق سے ہم آہنگ ہونے چاہییں تاکہ تمام طبقات کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔ہندو میرج بل 2026 پر بحث کے دوران اراکین کمیٹی اس بات پر متفق ہوئے کہ بل کی بعض شقوں میں ترمیم ایک اہم معاملہ ہے، کیونکہ ہندو برادری کے اندر مختلف فرقے اور روایات پائی جاتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ وہ تمام متعلقہ طبقات سے مشاورت کے بعد اپنی سفارشات مرتب کرے۔ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں بل میں ضروری ترامیم کی جائیں گی تاکہ یہ قانون ہندو برادری کے تمام طبقات کے لیے قابل قبول ہو۔اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا کالاش میرج بل 2026 پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اراکین نے فیصلہ کیا کہ کالاش میرج بل 2026 پر مزید غور خوض کمیٹی اگلے اجلاس میں کرے گیاجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی عبدالکبیر خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ زیرِ غور بلوں پر اراکین کی جانب سے پیش کی گئی سفارشات اور تجاویز کی روشنی میں آئندہ کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ ایسے قوانین مرتب کیے جا سکیں جو متعلقہ برادریوں کے حقوق، روایات اور سماجی تقاضوں کے مطابق ہوں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن، ممبران قائمہ کمیٹی اور اراکینِ صوبائی اسمبلی شفیع اللہ، اکرام اللہ غازی، محمد اعجاز، حامد الرحمن، لیاقت علی، گورپال سنگھ، سریش کمار، عبید الرحمن، عسکر پرویز، بحری لال، محترمہ ثوبیہ شاہد، محترمہ ریحانہ اسماعیل، محترمہ شہلا بانو اور محترمہ اسماء عالم سمیت سیکرٹری صحت، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ، ایڈووکیٹ جنرل آفس، خیبر میڈیکل یونیورسٹی اور صوبائی اسمبلی سیکرٹیریٹ کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے میں صحت کے شعبے سے متعلق مختلف اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا اور 18 دسمبر 2025 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی محمد اعجاز کی جانب سے سیٹلائٹ ہسپتال نحقی میں ڈی ایم ایس کی مبینہ من مانی اور انتظامی مسائل کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔ سیکرٹری صحت نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے اور جلد فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش کر دی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہسپتال میں نئے ایم ایس کی تعیناتی کر دی گئی ہے جبکہ ڈی ایم ایس کے تبادلے کے لیے سمری ارسال کر دی گئی ہے۔ اس موقع پر چیئرمین قائمہ کمیٹی مشتاق احمد غنی نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی کہ صحت کا شعبہ انسانیت کی خدمت سے وابستہ ہے، اس لیے افسران اور عملہ اپنے رویوں میں نرمی، شائستگی اور خوش اخلاقی کو فروغ دیں۔
رکن صوبائی اسمبلی حامد الرحمن کی جانب سے باجوڑ ہسپتال میں پیرامیڈیکل اسٹاف کی تعیناتیوں اور ترقیوں سے متعلق سوال پر محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ پوسٹوں کی اپ گریڈیشن اور نئی آسامیوں کی منظوری کا معاملہ محکمہ خزانہ کے ساتھ زیرِ غور ہے۔ منظوری ملنے کے بعد پیرامیڈیکل اسٹاف کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل ہو جائیں گے۔ حکام نے مزید بتایا کہ باجوڑ نرسنگ کالج کی فعالیت کے لیے خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ساتھ رابطہ جاری ہے اور جلد اس حوالے سے پیش رفت متوقع ہے۔ اجلاس میں ثمر باغ ہسپتال کی کارکردگی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جہاں محکمہ صحت نے مؤقف اختیار کیا کہ ہسپتال کی صورتحال پہلے سے بہتر ہو چکی ہے۔ حکام کے مطابق صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح بعض ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے کی پالیسی پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس سے عوام پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا اور نہ ہی طبی سہولیات یا فیکلٹی متاثر ہوگی۔وزیر صحت خلیق الرحمن نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پنجاب میں پرائمری ہیلتھ کیئر یونٹس کی آؤٹ سورسنگ کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور خیبر پختونخوا میں بھی اس عمل سے عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔ اجلاس میں اراکین اسمبلی نے تیمرگرہ میڈیکل کالج کو ہر صورت فعال بنانے اور اس کے معاملات جلد از جلد پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عوام کو فیکلٹی اور جدید طبی سہولیات سے مستفید کیا جا سکے اور حکومتی فنڈز کا ضیاع نہ ہو۔ اس کے علاوہ ایوب میڈیکل کالج میں ایم آر آئی مشین سے متعلق رپورٹ آئندہ اجلاس میں ذیلی کمیٹی کی جانب سے پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس کے دوران رکن صوبائی اسمبلی سریش کمار نے اقلیتی برادری کے لیے میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیےدو فیصد کوٹے کے معاملے کو بھی اٹھایا۔ اس پر سیکرٹری صحت نے کمیٹی کو بتایا کہ اس حوالے سے ڈرافٹ سمری تیار کر لی گئی ہے اور منظوری کے بعد اقلیتی برادری کے کوٹے سے متعلق مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہو جائے گا۔ قائمہ کمیٹی نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے فوری حل اور صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے تمام اقدامات تیز کیے جائیں تاکہ صوبے کے عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

ای-ٹرانسفر پلس پالیسی میں نئی اصلاحات اور اہم اضافے متعارف

صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان اور سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم خالد خان نے محکمہ تعلیم کی جدید، مزید مؤثر اور اپ گریڈ شدہ“ای-ٹرانسفر پلس پالیسی 2026”کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر محکمہ تعلیم کے سپیشل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ، سپیشل سیکرٹری ڈویلپمنٹ، ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔اس موقع پر ڈائریکٹر ای ایم آئی ایس نے بتایا کہ“ای-ٹرانسفر پلس پالیسی 2026”دراصل پہلے سے نافذ العمل ای-ٹرانسفر پالیسی کا ایک جدید، جامع اور مزید بہتر توسیعی ورژن ہے، جس میں وقت کے تقاضوں، انتظامی ضروریات اور شفافیت کے فروغ کو مدنظر رکھتے ہوئے متعدد نئی اصلاحات اور اہم اضافے شامل کئے گئے ہیں۔ نئی پالیسی میں ایسے کئی شعبوں اور معاملات کو بھی شامل کیا گیا ہے جو ماضی کی پالیسی میں واضح طور پر کور نہیں تھے۔صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا کہ نئی پالیسی میں پہلی مرتبہ پرفارمنس کی بنیاد پر ای-ٹرانسفر سسٹم کو مزید مؤثر انداز میں شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت سکول سربراہان، سیکنڈری سکول ٹیچرز، سبجیکٹ اسپیشلسٹس اور دیگر متعلقہ تدریسی عملے کی کارکردگی کو سکول بیس اسسمنٹ، میٹرک اور انٹر کے نتائج، طلبہ و اساتذہ کی حاضری اور دیگر تعلیمی اشاریوں کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار میں بہتری، احتساب کے نظام کے فروغ اور بہتر کارکردگی کی حوصلہ افزائی میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم مرحلہ وار تمام پوسٹنگز اور تبادلوں کو مکمل طور پر ای-ٹرانسفر پلس پالیسی کے تحت لانے کی جانب پیش رفت کر رہا ہے تاکہ ہر قسم کی تعیناتی اور تبادلہ ایک مربوط، ڈیجیٹل اور میرٹ پر مبنی نظام کے ذریعے انجام پائے۔سیکرٹری تعلیم خالد خان نے کہا کہ“ای-ٹرانسفر پلس پالیسی 2026”میں متعدد نئے ماڈیولز، سہولیات اور حفاظتی اقدامات شامل کئے گئے ہیں جن سے تبادلوں کے نظام کو مزید مضبوط، مؤثر اور قابلِ اعتماد بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی میں سپیشل پروویژن گراؤنڈ ماڈیول کو مزید وسعت دی گئی ہے، جس کے تحت بیوہ، طلاق یافتہ، معذور، میڈیکل، سکیورٹی خدشات اور زوجین پالیسی کے تحت تبادلوں کیلئے واضح طریقہ کار، آن لائن درخواست اور دستاویزی ثبوت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی میں پہلی مرتبہ اوور سائٹ کمیٹی اور پلیسمنٹ کمیٹی کا باقاعدہ نظام متعارف کروایا گیا ہے تاکہ شکایات کے بروقت ازالے، ڈیٹا ویریفکیشن، نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی طرح جعلی یا غلط دستاویزات جمع کرانے والوں کیلئے دو سالہ پابندی اور محکمانہ کارروائی کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔سیکرٹری تعلیم خالد خان نے کہا کہ نئی پالیسی میں انٹر ڈسٹرکٹ ای-ٹرانسفر کیلئے آن لائن نان آبجیکشن سرٹیفیکیٹ سسٹم، ڈیجیٹل ویریفکیشن، میرٹ بیسڈ اسکورنگ سسٹم اور واضح قواعد و ضوابط متعارف کروائے گئے ہیں، جبکہ میوچل ٹرانسفرز کو سال بھر فعال رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ اساتذہ کو زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پالیسی میں طلبہ و اساتذہ کے تناسب (STR)، تعلیمی نتائج، سکول کی ضروریات، حاضری، ڈومیسائل، سروس ٹینیور اور اعلیٰ تعلیمی قابلیت جیسے عوامل کو باقاعدہ اسکورنگ سسٹم کا حصہ بنایا گیا ہے، جس سے تبادلوں کا عمل مزید منظم، متوازن اور میرٹ پر مبنی ہوگا۔صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان اور سیکرٹری تعلیم خالد خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ تعلیم میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اصلاحات اور میرٹ کے فروغ کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ تعلیمی نظام کو مزید مؤثر، جوابدہ، شفاف اور عوام دوست بنایا جا سکے۔

خیبر پختونخوا کے کھلاڑیوں کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر شاندار کارکردگی قابلِ فخر ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر خیبر پختونخوا کے کھلاڑیوں کی کارکردگی انتہائی قابلِ فخر ہے۔ ہر قومی و بین الاقوامی ایونٹ میں میڈلز جیت کر یہ کھلاڑی نہ صرف صوبے بلکہ ملک و قوم کا نام بھی روشن کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود اور انہیں ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔وہ خیبر پختونخوا بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ساﺅتھ ایشین ریجنل بیڈمنٹن چیمپئن شپ میں میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر، ریجنل سپورٹس آفیسر کاشف فرحان، چیف کوچ شفقت اللہ، پراجیکٹ ڈائریکٹر ارباب فیض، خیبر پختونخوا بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کے سیکرٹری میاں صداقت شاہ، پشاور سپورٹس کمپلیکس کے ایڈمنسٹریٹر یوسف آفریدی اور ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔
مشیر کھیل نے اس امید کا اظہار کیا کہ کھلاڑی اپنی محنت اور تسلسل کے ساتھ کامیابیوں کا سفر جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ نیشنل گیمز میں میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں میں اڑھائی کروڑ روپے سے زائد کے نقد انعامات تقسیم کیے گئے ہیں، اور حکومت مستقبل میں بھی کھلاڑیوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔قبل ازیں مشیر کھیل نے ساﺅتھ ایشین بیڈمنٹن چیمپئن شپ میں میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں حسنین، محمد زید، فہد احمد، عمر جہانگیر، محمد حاشر شاہ، قاری محمد عمر اور دیگر عالمی مقابلوں میں شاندار کارکردگی دکھانے والے شبیر، سمیع خان اور قاری محمد عدنان میں انعامات تقسیم کیے۔ حکومت کی جانب سے گولڈ میڈلسٹ کھلاڑیوں کے لیے ایک ایک لاکھ روپے، سلور میڈلسٹ کے لیے 75، 75 ہزار روپے اور برونز میڈلسٹ کے لیے 50، 50 ہزار روپے انعام کا اعلان کیا گیا۔
اس کے علاوہ کوچز ندیم خان، بشریٰ خان، ملک فراز اور حیات اللہ کو بھی انعامات سے نوازا گیا۔ساﺅتھ ایشین بیڈمنٹن چیمپئن شپ میں قومی ٹیم میں خیبر پختونخوا کے چھ کھلاڑی شامل تھے جنہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر پانچ گولڈ، پانچ سلور اور چار برونز میڈلز حاصل کیے۔۔