خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن، ممبران قائمہ کمیٹی اور اراکینِ صوبائی اسمبلی شفیع اللہ، اکرام اللہ غازی، محمد اعجاز، حامد الرحمن، لیاقت علی، گورپال سنگھ، سریش کمار، عبید الرحمن، عسکر پرویز، بحری لال، محترمہ ثوبیہ شاہد، محترمہ ریحانہ اسماعیل، محترمہ شہلا بانو اور محترمہ اسماء عالم سمیت سیکرٹری صحت، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ، ایڈووکیٹ جنرل آفس، خیبر میڈیکل یونیورسٹی اور صوبائی اسمبلی سیکرٹیریٹ کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے میں صحت کے شعبے سے متعلق مختلف اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا اور 18 دسمبر 2025 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی محمد اعجاز کی جانب سے سیٹلائٹ ہسپتال نحقی میں ڈی ایم ایس کی مبینہ من مانی اور انتظامی مسائل کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔ سیکرٹری صحت نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے اور جلد فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش کر دی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہسپتال میں نئے ایم ایس کی تعیناتی کر دی گئی ہے جبکہ ڈی ایم ایس کے تبادلے کے لیے سمری ارسال کر دی گئی ہے۔ اس موقع پر چیئرمین قائمہ کمیٹی مشتاق احمد غنی نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی کہ صحت کا شعبہ انسانیت کی خدمت سے وابستہ ہے، اس لیے افسران اور عملہ اپنے رویوں میں نرمی، شائستگی اور خوش اخلاقی کو فروغ دیں۔
رکن صوبائی اسمبلی حامد الرحمن کی جانب سے باجوڑ ہسپتال میں پیرامیڈیکل اسٹاف کی تعیناتیوں اور ترقیوں سے متعلق سوال پر محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ پوسٹوں کی اپ گریڈیشن اور نئی آسامیوں کی منظوری کا معاملہ محکمہ خزانہ کے ساتھ زیرِ غور ہے۔ منظوری ملنے کے بعد پیرامیڈیکل اسٹاف کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل ہو جائیں گے۔ حکام نے مزید بتایا کہ باجوڑ نرسنگ کالج کی فعالیت کے لیے خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ساتھ رابطہ جاری ہے اور جلد اس حوالے سے پیش رفت متوقع ہے۔ اجلاس میں ثمر باغ ہسپتال کی کارکردگی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جہاں محکمہ صحت نے مؤقف اختیار کیا کہ ہسپتال کی صورتحال پہلے سے بہتر ہو چکی ہے۔ حکام کے مطابق صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح بعض ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے کی پالیسی پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس سے عوام پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا اور نہ ہی طبی سہولیات یا فیکلٹی متاثر ہوگی۔وزیر صحت خلیق الرحمن نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پنجاب میں پرائمری ہیلتھ کیئر یونٹس کی آؤٹ سورسنگ کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور خیبر پختونخوا میں بھی اس عمل سے عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔ اجلاس میں اراکین اسمبلی نے تیمرگرہ میڈیکل کالج کو ہر صورت فعال بنانے اور اس کے معاملات جلد از جلد پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عوام کو فیکلٹی اور جدید طبی سہولیات سے مستفید کیا جا سکے اور حکومتی فنڈز کا ضیاع نہ ہو۔ اس کے علاوہ ایوب میڈیکل کالج میں ایم آر آئی مشین سے متعلق رپورٹ آئندہ اجلاس میں ذیلی کمیٹی کی جانب سے پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس کے دوران رکن صوبائی اسمبلی سریش کمار نے اقلیتی برادری کے لیے میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیےدو فیصد کوٹے کے معاملے کو بھی اٹھایا۔ اس پر سیکرٹری صحت نے کمیٹی کو بتایا کہ اس حوالے سے ڈرافٹ سمری تیار کر لی گئی ہے اور منظوری کے بعد اقلیتی برادری کے کوٹے سے متعلق مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہو جائے گا۔ قائمہ کمیٹی نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے فوری حل اور صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے تمام اقدامات تیز کیے جائیں تاکہ صوبے کے عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
