Home Blog Page 29

مشیرِ وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان کی زیرِ صدارت چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کا 33واں اجلاس ہوا، جس میں صوبے کی پہلی چائلڈ پروٹیکشن پالیسی کی منظوری دے دی گئی

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے زکوٰۃ و عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان کی زیرِ صدارت پشاور میں خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کا 33واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی پہلی چائلڈ پروٹیکشن پالیسی کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں بچوں کے تحفظ، حقوق اور فلاح و بہبود سے متعلق پالیسی کے مختلف پہلوؤں اور دیگر امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین، اراکین صوبائی اسمبلی مس ثریا بی بی اور مس شہلا بانو، وکلاء کی نمائندہ مس لاریب، سول سوسائٹی کے نمائندگان سجاد اللہ اور ڈاکٹر سلیمان خٹک، مذہبی اسکالر غلام اللہ سمیت دیگر متعلقہ اراکین نے شرکت کی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ 2010 کے تحت کمیشن کے کردار اور بچوں کے تحفظ سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ پالیسی میں خطرے سے دوچار بچوں، یتیم و بے سہارا بچوں، معذور بچوں، بے گھر بچوں، سڑکوں پر رہنے والے بچوں اور والدین کی مناسب نگہداشت سے محروم بچوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے اقدامات شامل ہوں گے۔ پالیسی میں بچوں کو بدسلوکی، جسمانی و ذہنی تشدد، غفلت، استحصال، چائلڈ لیبر، بھیک منگوانے، جنسی استحصال، کم عمری کی شادی اور دیگر خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے روک تھام، بروقت نشاندہی، رپورٹنگ، تحفظ، بحالی اور نگرانی کے مؤثر نظام شامل ہوں گے۔ بچوں کی شناخت و رجسٹریشن، کیس کی جانچ، حفاظتی منصوبہ بندی، متعلقہ اداروں کو حوالگی اور بعد ازاں نگرانی کے طریقہ کار، نیز صوبائی، ضلعی اور کمیونٹی سطح پر متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بھی پالیسی کا حصہ بنایا جائے گا۔ متبادل نگہداشت میں بچوں کے بہترین مفاد، ضرورت اور موزونیت کو بنیادی اہمیت دی جائے گی، خاندان پر مبنی نگہداشت کو ترجیح دی جائے گی اور ادارہ جاتی نگہداشت کو آخری حل کے طور پر اختیار کیا جائے گا۔ متبادل نگہداشت فراہم کرنے والے اداروں میں خوراک، صفائی، صحت، تعلیم، ذہنی صحت، فنی تربیت اور شکایات کے ازالے سمیت کم از کم معیار یقینی بنانے کی پالیسیاں شامل ہوں گی۔ بچوں کی سرپرستی کے لیے ممکنہ سرپرست کی جانچ، گھر کے ماحول کا جائزہ، بچے کی ضروریات کے مطابق سرپرست کا انتخاب، عدالتی نگرانی اور سرپرستی کے بعد مسلسل نگرانی کے طریقہ کار بھی پالیسی میں شامل ہوں گے۔اس موقع پر ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ بچوں کا تحفظ حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ یتیم، بے سہارا اور خطرے سے دوچار بچوں کو محفوظ ماحول، مناسب خوراک، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ان کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی نشوونما پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔مشیرِ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ 2010 کے تحت بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے، بچوں کے خلاف کسی بھی قسم کی بدسلوکی، تشدد، غفلت یا استحصال کی بروقت روک تھام اور کارروائی یقینی بنائی جائے اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کی استعدادِ کار مزید بہتر کی جائے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے روک تھام، بروقت مداخلت، مؤثر کیس مینجمنٹ، ادارہ جاتی رابطہ کاری اور والدین و کمیونٹی کی شمولیت ضروری ہے۔ بچوں کے حقوق، محفوظ ماحول اور ڈیجیٹل تحفظ سے متعلق آگاہی کو بھی فروغ دیا جائے۔اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا میں بچوں کے تحفظ، صحت، تعلیم، نشوونما اور باوقار زندگی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں گے اور صوبائی، ضلعی و کمیونٹی سطح پر مربوط چائلڈ پروٹیکشن نظام کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق کا اہم اجلاس

خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق کا اہم اجلاس چیئرمین و رکن صوبائی اسمبلی منیر حسین لغمانی کی زیرِ صدارت صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنے سے متعلق قانون 2010 میں مجوزہ ترامیم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی علی حادی، عسکر پرویز، فائزہ ملک اور سعیدہ سونیا ملک نے شرکت کی جبکہ محترمہ ستارہ آفرین نے زوم کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا۔ اس کے علاوہ سیکرٹری قانون، متعلقہ محکموں کے افسران اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔ کمیٹی نے قانون کو موجودہ معاشرتی، پیشہ ورانہ اور ڈیجیٹل تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے اور اس میں پائی جانے والی عملی ابہامات کو دور کرنے پر تفصیلی غور کیا۔مجوزہ ترامیم میں “ملازم” اور “طالب علم” کی تعریفیں وسیع کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اس کے تحت عارضی، جز وقتی، زیرِ تربیت، انٹرن شپ، رضاکارانہ اور فری لانس کام کرنے والے افراد سمیت مختلف تعلیمی و تربیتی اداروں سے وابستہ افراد کو بھی قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ اسی طرح “کام کی جگہ” کے دائرہ کار میں ورچوئل و ڈیجیٹل ماحول، ریموٹ اور گھر سے کام، آن لائن پلیٹ فارمز، آجر کی جانب سے منعقدہ تقریبات اور روزگار یا تربیت سے متعلق دیگر مقامات کو بھی شامل کرنے کی تجویز ہے تاکہ بدلتے ہوئے کام کے ماحول میں خواتین کو ہراسانی کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔کمیٹی نے شکایات کے نظام کو مزید مؤثر اور قابلِ رسائی بنانے پر بھی زور دیا۔ مجوزہ ترامیم میں شکایت درج کرانے کی مدت میں توسیع، تاخیر کی صورت میں معافی، ڈیجیٹل و الیکٹرانک شواہد کے حصول اور جائزے کے اختیارات، بدنیتی پر مبنی شکایات کے تدارک اور شکایت کنندگان کو انتقامی کارروائی سے تحفظ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ محتسب کے اختیارات میں توسیع، مناسب جرمانوں، اپیل کے طریقہ کار، انتظامی و مالی خودمختاری، مفت قانونی معاونت، ہیلپ لائن کے قیام اور آگاہی پروگرامز کو مؤثر بنانے کی تجاویز بھی زیرِ غور آئیں۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مجوزہ ترامیم کو تمام قانونی، انتظامی اور عملی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید بہتر بنایا جائے اور سپریم کورٹ کی متعلقہ ہدایات سے ہم آہنگی یقینی بنائی جائے۔ چیئرمین اور اراکین نے مجوزہ ترامیم پر متفقہ طور پر اتفاق کا اظہار کیا اور سفارش کی کہ ترمیمی مسودہ ضروری کارروائی کے لیے اگے بھجوایا جائے۔

صوبائی وزیر ریاض خان کا مشیر کھیل تاج محمد ترند سے بونیر میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ اور انعقاد کے حوالے سے اہم ملاقات

خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان اور وزیراعلیٰ کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند کے درمیان بونیر میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ اور مختلف کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد کے حوالے سے اہم ملاقات مشیر کھیل کے دفتر پشاور میں ہوئی۔ملاقات میں ضلع بونیر میں نوجوانوں اور کھلاڑیوں کو کھیلوں کے بہتر مواقع فراہم کرنے، مختلف کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد، موجودہ کھیلوں کی سہولیات کو مزید مؤثر بنانے اور مقامی سطح پر کھیلوں کے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے کہا کہ بونیر کے نوجوانوں میں کھیلوں کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، جسے مواقع اور سہولیات فراہم کرکے ملک و قوم کا نام صوبائی اور قومی سطح پر روشن کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیل نوجوان نسل کو صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں نظم و ضبط، ٹیم ورک اور قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ریاض خان نے کہا کہ بونیر میں کھیلوں کے زیادہ سے زیادہ مقابلوں کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع میسر آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع بونیر میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔مشیر کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو کھیلوں کی معیاری سہولیات اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام اضلاع خصوصاً دور دراز علاقوں میں کھیلوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ مقامی سطح پر موجود ٹیلنٹ کو قومی اور بین الاقوامی سطح تک پہنچایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ بونیر میں مختلف کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد سے نہ صرف نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ ضلع میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو بھی مزید فروغ ملے گا۔ محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان کی جانب سے دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے کھیلوں کی سرگرمیوں کے انعقاد اور کھلاڑیوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا ارشد ایوب خان کی صدارت میں پی ٹی سی گائیڈ لائنز اور فنڈز ٹریکنگ کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد

وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا ارشد ایوب خان کی صدارت میں پی ٹی سی گائیڈ لائنز اور فنڈز ٹریکنگ کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقادہو جس میں اے ایس (آر اینڈ آئی) نے پی ٹی سی گائیڈ لائنز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر موصوف نے گائیڈ لائنز کا جائزہ لیا اور سکول کی سطح پر شفافیت کو یقینی بنانے اور پی ٹی سی فنڈز کے بہتر استعمال کے لیے مؤثر نفاذ کی ہدایات جاری کیں۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو پی ٹی سی فنڈز ٹریکنگ پر بریفنگ بھی دیتے ہوئے سکولز سپیشل سروے، امتحانات کی مانیٹرنگ اور دیگر امور سے آگاہ کیا۔وزیر تعلیم نے تعلیمی نتائج کی بہتری کے لیے درست ڈیٹا، بروقت رپورٹنگ اور سخت مانیٹرنگ کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں ڈائریکٹر ای ایس ای ڈی جعفر منصور عباسی، ایڈوائزر ایجوکیشن میاں سعد الدین، پارلیمانی سیکرٹری برائے سیاحت و آثار قدیمہ فتح الملک، ایڈیشنل سیکرٹری ظہیر اور محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور پیش رفت پر رپورٹس بروقت جمع کرائیں۔

ایبٹ آباد میں 6 ہزار کلو ناقص و ملاوٹی بیسن برآمد اور ضبط

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں غیر معیاری خوردونوش اشیاء کیخلاف ایکشن جاری رکھتے ہوئے گزشتہ روز فوڈ سیفٹی ٹیم نے ایبٹ آباد میں کارروائی کی اور ایک ٹرک سے تقریباً 6 ہزار کلوگرام ناقص و ملاوٹی بیسن برآمد کرکے ضبط کرلیا۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کی اور بتایا کہ فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے شہر کے داخلی راستوں پر ناکہ بندی کے دوران اشیائے خوردونوش لے جانے والی گاڑیوں کی چیکنگ کی۔ کارروائی کے دوران ایک ٹرک سے بیسن برآمد ہوا، جس کے نمونے موقع پر موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے ذریعے چیک کیے گئے۔فوڈ اتھارٹی کے مطابق بیسن کے مزید تجزیے اور تصدیق کے لیے نمونے صوبائی فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری بھی ارسال کیے گئے، جہاں لیبارٹری رپورٹس میں بیسن کو غیر معیاری اور ملاوٹی قرار دیا گیا۔فوڈ اتھارٹی حکام کا کہنا تھا کہ ناقص و ملاوٹی بیسن کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے جبکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز بھی شروع کردیا گیا۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے ممعاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کامیاب کاروائی پر فوڈ سیفٹی ٹیم کو سراہا اور کہا کہ خوردونوش اشیاء کے معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ملاوٹ مافیا اور غیر معیاری اشیائے خوردونوش کی تیاری و ترسیل میں ملوث کاروباروں کے خلاف بلا تفریق سخت قانونی کارروائی ہوگی۔معاون خصوصی نے فوڈ سیفٹی ٹیموں کو ہدایت کی کہ عوام کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے نگرانی اور کارروائیوں کا سلسلہ مزید مؤثر بنایا جائے۔

خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے یوم ولادت باسعادت کے موقع پر وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ اور سائنس و ٹیکنالوجی خیبر پختونخوا شفیع جان کا پیغام

وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ اور محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی خیبر پختونخوا شفیع جان نے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے یوم ولادت باسعادت کے موقع پر اپنے پیغام میں پوری امت مسلمہ کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آقائے نامدار ﷺ کی ولادت باسعادت محض اہل ایمان کے لیے نہیں بلکہ روئے زمین پر بسنے والی پوری انسانیت کے لیے رحمت، برکت اور مسرت کا پیغام لے کر آئی۔ آپ ﷺ کی تعلیمات عالیہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مکمل اور جامع ضابط حیات ہیں، جن پر عمل پیرا ہو کر ہی دنیا و آخرت کی سرخروئی حاصل کی جا سکتی ہے۔بارہ ربیع الاول کی بابرکت مناسبت سے سرکار دو عالم، رحمت کائنات، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے یوم ولادت باسعادت پرانہوں نے مزید کہا کہ نبی آخر الزماں ﷺ کی تشریف آوری اللہ رب العزت کی جانب سے بنی نوع انسان پر احسان عظیم ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس سے محبت ایمان کی بنیادی شرط ہے، اور آپ ﷺ کی سیرت طیبہ ہر دور اور ہر زمانے کے انسانوں کے لیے مینار نور اور مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ رحمۃ للعالمین ﷺ نے ہمیشہ احترامِ انسانیت، عفو و درگزر، قیامِ عدل و انصاف کا درس دیا۔ آپ ﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع آج بھی پورے عالمِ انسانیت کے لیے حقوقِ انسانی کا ایک لازوال اور جامع منشور ہے، جو رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ریاستِ مدینہ کے سنہری اصولوں کو اپنا کر ہی ایک ترقی یافتہ، فلاحی اور اسلامی معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بابرکت اور مقدس دن ہمیں نئے سرے سے عہد کرنا چاہیے کہ اپنی زندگیوں، اخلاق و کردار اور اعمال کو سیرتِ طیبہ ﷺ کے مطابق ڈھالیں گے، اور ایک عادلانہ، منصفانہ اور فلاحی معاشرے کے قیام میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

ہری پور میں آیت نور قتل کیس/ وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان کا بیان

وزیر اطلاعات شفیع جان کا ہری پور میں معصوم بچی آیت نور کے قتل پر اظہار افسوس

معصوم بچی آیت نور کا قتل انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے آیت نور کی گمشدگی کا سخت نوٹس لیا تھا، شفیع جان

آیت نور کی گمشدگی کے بعد پولیس نے مؤثر کارروائیاں کیں، شفیع جان

پولیس نے آیت نور کے قتل میں ملوث ملزمان میں تین کو گرفتار کر لیا ہے، شفیع جان

آیت نور کے قتل میں ملوث ملزمان قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے، شفیع جان

آیت نور کے قاتلوں کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دلوائی جائے گی، شفیع جان

حکومت خیبرپختونخوا معصوم بچی کے اہلخانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے، شفیع جان

Review of Progress on the Distribution of Laptops to Students Associated with Special Education

A meeting was held under the chairmanship of Malik Liaqat Ali Khan, Adviser to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa for Zakat & Ushr, Social Welfare, Special Education and Women Empowerment, to review progress regarding the distribution of laptops among students with special educational needs. Secretary Social Welfare Khyber Pakhtunkhwa Sharif Hussain, along with relevant officers of the Social Welfare Department, attended the meeting.

The meeting was given a detailed briefing on the distribution of laptops, selection of deserving students, eligibility and priority criteria, and the mechanism for distribution.

It was informed that these are not ordinary laptops; rather, they are specially designed laptops developed keeping in view the educational needs of persons with disabilities. The initiative aims to facilitate students with special educational needs in accessing education through modern technology.

The meeting decided that being a student would be a mandatory requirement for receiving a laptop. Priority for distribution would be given to students with special educational needs who are enrolled in institutions under the Special Education Department.

It was further clarified that if a particular institution does not have an eligible student meeting the prescribed criteria, the laptop would be provided to the next eligible student to ensure that the facility reaches a genuinely deserving student with special educational needs.

Adviser to the Chief Minister Malik Liaqat Ali Khan directed that merit, transparency and genuine need must be given primary importance in the distribution process, and that no negligence should be tolerated in the selection of deserving students.

The relevant authorities were also directed to take necessary measures for identifying deserving students, preparing lists and ensuring the timely distribution of laptops.

Malik Liaqat Ali Khan said that providing students with special educational needs access to modern technology is among the government’s priorities. He said such initiatives aim to improve educational opportunities for these students, enable them to benefit from modern technology and help them become more productive and integrated members of society.

ضلعی سطح پر مستحق ، خصوصی افراد اور یتیم بچوں کے ڈیٹا کلیکشن کمپین 2026 کی پیش رفت پر جائزہ

مشیر وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا برائے زکوٰۃ و عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان کی زیرِ صدارت زکوٰۃ و سماجی بہبود کے تحت مستحق، خصوصی و افراد، یتیم بچوں کے جامع ڈیٹا مکمل کرنے کے لیے جاری ڈیٹا کلیکشن کمپین 2026 کی پیش رفت کا ایک جائزہ اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین بھی موجود تھے، جبکہ صوبے کے مختلف اضلاع کے ضلعی زکوٰۃ افسران اور ضلعی سماجی بہبود افسران نے اجلاس میں زوم کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس کے دوران تمام اضلاع میں جاری ڈیٹا کلیکشن کے عمل، اب تک کی پیش رفت اور مرتب کیے جانے والے ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی کہ خصوصی و معذور افراد، یتیم بچوں، مستحق خاندانوں، خواتین، بزرگ شہریوں اور دیگر مستحق افراد کا ڈیٹا کیٹیگری وائز مرتب کیا جائے اور ہر ضلع سے درست، مکمل اور مستند ڈیٹا حاصل کیا جائے، جس کا مقصد انکی مستحق خصوصی افراد کی درجہ بندی ہے ،ملک لیاقت علی خان نے ہدایت کی کہ ڈیٹا کلیکشن کے عمل میں مکمل شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی مستحق، یتیم، معذور یا خصوصی فرد کا حق کسی غیر مستحق شخص کو نہ مل سکے اور زکوٰۃ و دیگر حکومتی فلاحی وسائل صرف حقیقی حقداروں تک پہنچیں۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ہر ضلع سے موصول ہونے والے ڈیٹا کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے، تمام معلومات کو باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے اور مستحق افراد کے حوالے سے ضروری دستاویزی ثبوت اور متعلقہ ریکارڈ بھی محفوظ رکھا جائے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈیٹا کلیکشن کمپین کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ہر دس دن کے اندر باقاعدگی سے اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ آئندہ اجلاس میں تمام اضلاع کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس میں جمع کیے گئے ڈیٹا، متعلقہ ریکارڈ، دستاویزی ثبوت اور دیگر شواہد کی بھی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ درست اور جامع ڈیٹا کی دستیابی سے زکوٰۃ کے مستحق افراد، خصوصی و معذور افراد اور یتیم بچوں کی حقیقی ضروریات کا تعین کرنے اور انہیں حکومتی فلاحی پروگراموں میں مؤثر انداز میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ ڈیٹا کلیکشن کمپین 2026 کا بنیادی مقصد مستحق افراد، خصوصی و معذور افراد اور یتیم بچوں کی درست نشاندہی، ان کے حقوق کا تحفظ اور زکوٰۃ و فلاحی وسائل کی منصفانہ اور شفاف تقسیم کو یقینی بنانا ہے، اس لیے اس عمل میں کسی قسم کی غفلت، غلط اندراج یا غیر مستحق افراد کی شمولیت برداشت نہیں کی جائے گی۔

معاون خصوصی عثمان خان بیٹنی کا دورہ ٹانک، ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ

معاون خصوصی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا برائے فنی تعلیم محمد عثمان خان بیٹنی نے ٹانک کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی و عوامی سرگرمیوں میں بھی شرکت کی۔معاون خصوصی نے ٹانک سٹی میں واپڈا کالونی، ڈیرہ روڈ کے قریب زیرِ تعمیر مین نکاسی نالے کا معائنہ کیا اور متعلقہ حکام کو تعمیراتی کام مزید تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔بعد ازاں محمد عثمان خان بیٹنی نے گاؤں گولہ کورائی میں جشنِ عید میلادالنبی ﷺ کے سلسلے میں منعقدہ جلوس میں بھی شرکت کی۔بیٹنی ہاؤس ڈیرہ اسماعیل خان میں معاون خصوصی سے علاقہ مشران، پارٹی کارکنان بھی ملے اور عوامی مسائل سے انہیں آگا کیا،۔ معاون خصوصی نے ان کے مسائل توجہ سے سنے اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر عثمان خان بیٹنی نے کہا کہ ان شائ اللہ ٹانک میں ترقی کا سفر تیزی سے جاری ہے۔ عوام کو بنیادی و اجتماعی سہولیات کی فراہمی اور علاقے کی تعمیر و ترقی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ٹانک میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوں گے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے گا۔