Home Blog Page 313

صوبائی وزیر تعلیم خیبرپختونخوا فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کا اجلاس

خیبرپختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت خیبرپختونخوا ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں تعلیمی شعبے سے متعلق مختلف امور اور تجاویز پر غور کیا گیا۔وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے غیر فعال سکولوں کی بحالی کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جو مسائل کی نشاندہی کر کے ان کے حل کے لیے فوری اقدامات پر مبنی رپورٹ وزیر تعلیم کو پیش کرے گی۔وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے حکام کو ہدایت کی کہ محکمہ جاتی مسائل کو فوری اور مؤثر بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ نظام تعلیم کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مزید 800 اسکول لیڈرز کی بھرتی کا منصوبہ بنایا گیا ہے جو تعلیمی معیار بلند کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن مسعود احمد، سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن قیصر عالم، ڈائریکٹر ایجوکیشن ثمینہ الطاف اور ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے تمام اسکولوں میں فرنیچر کی فراہمی یقینی بنانے اور طلبہ و اساتذہ کو بہترین تعلیمی ماحول فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔انہوں نے والدین اور اساتذہ کی باقاعدہ ملاقاتوں کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی تاکہ باہمی مشوروں سے تعلیمی بہتری کیلئے اقدامات کئے جاسکیں۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت تعلیم کے شعبے کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور اس کی ترقی کے لئے ہر ممکن وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی حکام نے فورم کو صوبہ بھر کے سکولوں میں موجوداساتذہ و طلباء و طالبات کی حاضری اور سہولیات کے بارے میں بریفننگ دی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان کی زیر صدارت

خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان کی زیر صدارت ڈپٹی کمشنر کانفرنس روم سوات میں انڈسٹریل زون سے متعلق اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ممبران قومی و صوبائی اسمبلی سلیم الرحمان، سہیل سلطان ایڈوکیٹ، ڈاکٹر امجد علی خان، چیئرمین ڈیڈیک سوات اختر خان ایڈوکیٹ، سلطان روم، محمد نعیم، ڈپٹی کمشنر سوات شہزاد محبوب اور چیمبر آف کامرس سوات کے وفد سمیت متعلقہ افسران و نمائندوں نے شرکت کی۔اس موقع پر صوبائی وزیر اور ممبران اسمبلی کو سوات کے مجموعی صورتحال اور انڈسٹری زون سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے چیمبر آف کامرس سوات کے وفد اور دیگر نے سوات کے مختلف علاقوں میں انڈسٹریل زون بنانے کے لئے تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں عوامی مفاد کیلئے ضروری فیصلے بھی کئے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے کہا کہ سوات کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں اور اس حوالے سے تمام ممبران اسمبلی کی کوشش ہے کہ سوات کی فلاح و بہبود اور ترقی و خوشحالی کیلئے دن رات محنت سے کام کریں انہوں نے کہا کہ سوات کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے انڈسٹریل زون کا قیام انتہائی ضروری ہے انشائاللہ ہماری کوشش ہوگی کہ انڈسٹریل زون کا قیام عملی طور پر جلد سے جلد لایا جائے انہوں نے کہا کہ چیمبرز آف کامرس سوات کے تمام عہدیداروں کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اس اجلاس میں شرکت کی اور انڈسٹریل زون کیلئے اپنی تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں صوبائی وزیر نے انڈسٹریل زون پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لئے کمیٹی بھی تشکیل دی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیرصحت احتشام علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیرصحت احتشام علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ محکمہ صحت غریب اور نادار افراد کیلئے مفت او پی ڈی ادویات کی فراہمی کے منصوبے کا آغاز کرنے جارہا ہے اور اس منصوبے کا آغاز مردان میڈیکل کمپلیکس سے کیا جائیگا۔ان خیالات کا اظہار انھوں گزشتہ روز باچا خان میڈیکل کالج کے دورہ کے موقع پر کیا۔اس موقع پر مشیرصحت کوطبی تدریسی ادارہ مردان کے امور بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صوبائی وزیرخوراک ظاہر شاہ طورو، ممبرز صوبائی اسمبلی افتخار مشوانی اور عبدالسلام آفریدی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ چیئرمین بورڈ آف گورنرز طبی تدریسی ادارہ مردان پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید، ممبرز بی او جی ارشد صاحب،محمد فہیم اور فضل قارد نے ان کا استقبال کیا۔ ڈین و چیف ایگزیکٹو آفیسر طبی تدریسی ادارہ باچا خان میڈیکل کالج و ایم ایم سی پروفیسر ڈاکٹر امجد علی، میڈیکل ڈائریکٹر ایم ایم سی پروفیسر ڈاکٹر رحمان الدین، ہسپتال ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد فاضل،پروفیسر ڈاکٹر معتصم بااللہ، سیکرٹری بی او جی اظہرخان،ڈائریکٹر فنانس محمد شیراز، نرسنگ ڈائریکٹر برکت اللہ یوسفزئی، ڈائریکٹر ہیومن ریزورس عابدالرحمان، مینیجر آئی ٹی محسن علی،مینیجر ہیومن ریسورس الطاف احمد، مینیجر ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر فرہان اکرم،فوکل پرسن شعبہ حادثات ڈاکٹر قاسم خان، سی این ڈبلیو کے حکام و دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔مشیر صحت نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت مستحق افراد کے انتخاب کیلئے قواعد ضوابط طے کئے جارہے ہیں جس کے بعد ان افراد کو باقائدگی سے مختلف بیماریوں کے علاج کیلئے ڈاکٹرز کی تجویز کردہ ادویات مفت فراہم کی جائیں گی۔ انھوں کہا کہ یہ ایک پائلٹ پراجیکٹ ہے جس کو بعد ازاں صوبے کے دوسرے علاقوں میں بھی متعارف کرایا جائیگا۔مشیرصحت احتشام علی نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں کی ترقی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اور ان شعبوں کی بہتری میں کوئی کسر روا نہیں رکھی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ مردان ان کا آبائی علاقہ ہے اور یہاں کے ہسپتالوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائیگا۔انھوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو چلڈرن ہسپتال کو درکار تمام مالی معاونت فراہم کی جائیں گی تاکہ باقی ماندہ ترقیاتی کام کو جلد ازجلد مکمل کیا جا سکے۔انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ریجنل سطح پر ایک ایک بڑا طبی ادارہ قائم کرنے کے منصوبے پر کام کررہی ہے جس سے تدریسی اداروں پر مریضوں کی رش میں خاطرخواہ کمی آئے گی۔انھوں نے کہا کہ محکمہ صحت ٹائپ ڈی،تحصیل ہیڈکوارٹرز اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں میں سہولیات کے معیار کو بہتر اور عملے کی حاضری کو یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہے جس سے بڑے ہسپتالوں پر رش میں کمی کے ساتھ مریضوں کو گھر کی دہلیز پر ہی طبی سہولیات میسر آئیں گی۔انھوں نے کہا کہ محکمہ صحت ایک آن لائن پورٹل پر بھی کام کر رہی ہے جس پر صوبے کے تمام ہسپتالوں و طبی مراکز میں موجود ادویات کی تفصیلات آن لائن میسر ہوں گی اور اس پورٹل کے ذریعے ہسپتالوں میں موجود ادویات کے دستیاب سٹاک بارے ان کو براہ راست آگاہی حاصل ہوگی۔انھوں نے کہا کہ کسی بھی بڑے و چھوٹے طبی ادارے کے بارے میں عوامی شکایات پر فوری اور سخت ایکشن لیاجائیگا اور ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔قبل ازیں ڈین و چیف ایگزیکٹو آفیسر طبی تدریسی ادارہ باچا خان میڈیکل کالج و ایم ایم سی پروفیسر ڈاکٹر امجد علی نے مشیرصحت، وزیرخوراک و ممبرز صوبائی اسمبلی کو ادارے میں فراہم کی جانے والی طبی وتدریسی اور جاری اور مکمل کیئے گئے منصوبوں بارے تفصیلی بریفنگ دی۔انھوں نے کہا کہ ایم ایم ایم سی میں گزشتہ 6 ماہ کے قلیل عرصے میں انڈوکرونالوجی، نیورالوجی، ڈرمٹالوجی اور شعبہ پلاسٹک سرجری قائم کیئے گئے ہیں جبکہ 10 بڈز پر مشتمل میڈیکل آئی سی یو اور کیتھ لیب کے جاری منصوبوں کو فعال کرنے کیلئے تمام انتظامات مکمل کر لیئے گئے قائم ہیں۔انھوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو چلڈرن ہسپتال میں 130 بڈز پر مشتمل چلڈرن وارڈز بنائے گئے ہیں جن کو جلد فعال کر دیا جائے گا اور شعبہ اطفال کو وہاں منتقل کیا جا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو چلڈرن ہسپتال کا تعمیراتی کام آخری مراحل میں ہے اور باقی ماندہ کام کی جلد تکمیل کیلئے فنڈز کی جلد اجراء کی درخواست کی۔انھوں نے ایم ایم سی کیلئے ایک ایک عدد ایم آر آئی اور سٹی سکین خریدنے کیلئے مالی وسائل فراہم کرنے کی بھی استدعاء کی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف، بحالی و آباد کاری، ملک نیک محمد خان داوڑ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف، بحالی و آباد کاری، ملک نیک محمد خان داوڑ نے پشاور میں میران شاہ پریس کلب کے نو منتخب عہدیداران سے حلف لیا۔ تقریب میں ممبر صوبائی اسمبلی شیر علی آفریدی سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔نو منتخب کابینہ میں زین اللہ خان صدر، عابد اقبال جنرل سیکرٹری،اشرف الدین سینیئر نائب صدر،عبداللہ نور جائنٹ سیکرٹری،محمد فاروق رابطہ سیکرٹری، حاجی سید خالیم فنانس سیکرٹری پریس سیکرٹری عمر فاروق شامل ہیں۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے صحافت کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ صحافت جمہوریت کا ایک بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت صحافیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ملک نیک محمد خان داوڑ نے نو منتخب عہدیداران کو ان کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ عہدیداران اپنی ذمہ داریاں بہترین طریقے سے انجام دے کر صحافتی اقدار کو فروغ دیں گے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے آبنوشی پختون یار خان بنوں کے دور افتادہ علاقے

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے آبنوشی پختون یار خان بنوں کے دور افتادہ علاقے غوریوالہ گئے جہاں انہوں نے 26 نومبر کے احتجاج کے دوران ڈی چوک کے مقام پر شدید زخمی ہونے والے پارٹی کارکن وہاب خان سے ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی اس موقع پر ملک نافد خان جھنڈوخیل، سابق امیدوار صوبائی اسمبلی ملک نیک مرجان وزیر، پریس کلب کے صدر پیر نیاز علی اور دیگر معززین بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر پختون یار خان نے زخمی کارکن وہاب خان سے طویل گفتگو کی انہوں نے ان کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی اور اپنی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا نیک خواہشات پر مبنی پیغام بھی زخمی کارکن تک پہنچایا صوبائی وزیر نے کہا کہ پارٹی کارکنان جماعت کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہتے ہیں اور وہ عوام اور کارکنوں کی ہر ممکن مدد کریں گے۔

صوبائی حکومت صوبے میں مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر خصوصی توجہ

صوبائی حکومت صوبے میں مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور ساتھ ہی غیر ملکی سیاحوں کو ہر قسم کی سہولیات کی فراہمی کے لئے ضروری اقدامات اٹھا رہی ہے، گندھارا تہذیب ہمارا ثقافتی ورثہ ہے کیونکہ گندھارا تہذیب کا 90 فیصد ورثہ خیبرپختونخوا میں واقع ہے اور آج اس موقع کا فائدہ اتھاتے ہوئے میں گندھارا نالج کوریڈور کھولنے کی تجویز پیش کرنا چاہتا ہوں، یہ راہداری تکنیکی ترقی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اقدام کے لئے علم کے اشتراک کے پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی،نالج کوریڈور کے ذریعے ہمارا مقصد عالمی تحقیق اور تعاون کو فروغ دینا ہے اس سے دنیا میں خیبر پختونخوا کا مثبت چہرہ بہترین انداز میں پیش کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے سائنس، ٹیکنالوجی و آئی ٹی شفقت ایاز نے پشاور میوزیم میں گندھارا تہذیب کے حوالے سے منعقدہ بین الاقوامی ورکشاپ میں بطور مہمان خصوصی خطاب میں کیا۔ تقریب میں 14 مختلف ممالک کی20 بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے آئے ہوئے چالیس سے زیادہ محققین اور سکالرز نے شرکت کی۔یہ وفد خیبرپ پختونخوا کے خصوصی دورے پر ہے وفد نے گزشتہ روز تخت بائی کا دورہ کیا اور اگلے مرحلے میں سوات کا دورا بھی کرے گا۔پشاور میوزیم میں ورکشاپ کا انعقاد سائنس، ٹیکنالوجی و آئی ٹی اور محکمہ آرکیالوجی نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ورکشاپ میں سیکرٹری سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈی جی ایس ٹی آئی ٹی، ڈائریکٹر آرکیالوجی خیبر پختونخوا اور دیگر حکام نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی خیبرپختونخوا نے کہا کہ گندھارا تہذیب ایک عظیم تاریخی ورثہ ہے جو قدیم بدھ مت، فن تعمیر، مجسمہ سازی اور ثقافت کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تہذیب کے مختلف اجزاء کو سمجھنے اور جدید تحقیق میں بہتر طریقے سے پیش کرنے میں سائنس و آئی ٹی کے ساتھ ساتھ محکمہ آرکیالوجی و عجائب گھر کا اہم کردار ہے۔خیبر پختونخوا میں مذہبی سیاحت کے وسیع مواقع موجود ہیں صوبائی حکومت ان کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے جیولوجیکل اسٹڈیز اور ڈیجیٹل آرکائیو کے ذریعے گندھارا تہذیب کو بہتر انداز میں پیش کیا جاسکتا ہے اور آنے والی نسلوں کو آسانی سے منتقل کیا جاسکتا ہے۔ آخر میں معاون خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ورکشاپ میں شریک غیر ملکی شرکاء اور محققین میں اعزازی شیلڈ اور تحائف بھی تقسیم کئے۔

القادر ٹرسٹ ایسا کیس ہے جس میں پیسے بیرون ملک سے پاکستان آئے ہیں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ القادر ٹرسٹ ایسا کیس ہے جس میں پیسے بیرون ملک سے پاکستان آئے ہیں نہ پیسے عمران خان کے اکاؤنٹ میں ہیں اور نہ ہی بشریٰ بی بی کے اکاؤنٹ میں القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا، اور نہ ہی ملک کو نقصان پہنچا ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ کرپشن وہ ہوتی ہے جس میں ملکی پیسہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کیا جائے،عمران خان نے شریف اور زرداری خاندان کی طرح پیسہ بیرون ملک منتقل نہیں کیا القادر یونیورسٹی ملک میں دینی اور عصری علوم کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر جعلی مقدمات کی طرح یہ مقدمہ بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔ مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ جعلی حکومت نے عمران خان کے خلاف جعلی مقدمات بنائے ہیں یہ تمام مقدمات اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جعلی حکومت نے ملک میں لاقانونیت عام کی ہوئی ہے۔ جعلی حکومت نے ملک میں جمہوریت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ جعلی مقدمات کے ذریعے عمران خان کو سیاست سے مائنس نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جعلی حکومت کو تمام غیر قانونی اقدامات کا جواب دینا ہوگا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی ہدایت پر صوبائی وزیر لائیو سٹاک

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی ہدایت پر صوبائی وزیر لائیو سٹاک و پی ٹی آئی ملاکنڈ ریجن کے صدر فضل حکیم خان کی قیادت میں مینگورہ سوات میں قائد عمران خان کی رہائی اور ان کیساتھ جیل میں ناروا سلوک، مراد سعید کو تحفظ فراہم کرنے اور 26 نومبر کو گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کی رہائی کیلئے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا احتجاجی مظاہرے میں ممبران قومی و صوبائی اسمبلی سلیم الرحمان، چیئرمین ڈیڈیک سوات اختر خان ایڈوکیٹ، سلطان روم، محمد نعیم، سٹی میئر شاہد علی خان، بلدیاتی نمائندوں اور کثیر تعداد میں پی ٹی آئی کارکنان و عہدیداران بھی موجود تھے صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومتیں فسطائیت پر اتر آئی ہیں قائد عمران خان کو قید تنہائی میں اور کارکنان کو 26 نومبر سے ناحق جیل میں رکھا ہوا ہے اور ان پر ناجائز مقدمات درج کر رکھے ہیں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے عمران خان جیسے مقبول لیڈر کو ظلم و جبر کا نشانہ بنا رہی ہے اور پی ٹی آئی کارکنان پر ظلم و ستم کررہی ہے انہوں نے کہا کہ ہم اس حکومت کے ہر ظلم کا حساب لیں گے، عزم کرتے ہیں کہ عمران خان کی رہائی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان لیڈر مراد سعید کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے، موجودہ وفاقی حکمران نہ تو عوامی نمائندے ہیں اور نہ ہی عوام کے مینڈیٹ کی عزت کرتے ہیں،عوام اب جاگ چکی ہے اور انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ عمران خان ہی اس ملک سے تمام مسائل کا خاتمہ کر سکتے ہیں فضل حکیم خان نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی اپنے قائد عمران خان کی رہائی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک عمران خان کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی پاکستان کی آخری امید ہے اور قوم عمران خان کی کال پر لبیک کہنے کے لیے ہر وقت تیار ہے پی ٹی آئی اپنے قائد کے ساتھ ہر محاذ پر کھڑی ہے اور جب تک ہم حقیقی آزادی حاصل نہیں کر لیتے، ہم عمران خان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے،کوئی ظلم اور جبر اس نظرئیے کو ختم نہیں کر سکتا۔

کُرم صورتحال، ادویات کی ترسیل کا سلسلہ جاری: مشیر صحت احتشام علی کا بیان

مشیر صحت احتشام علی نے کہا ہے کہ ضلع کُرم میں موسم میں شدت کی وجہ سے ادویات کی کھپت زیادہ ہوگئی ہے جبکہ بچوں کی بیماریوں کے علاج کیلئے او پی ڈی میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع کرم کے مراکز صحت میں ادویات کی سپلائی آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج بھی لوئر کرم صدہ ہسپتال کو 2900 کلوگرام وزنی ادویات بھیجی گئی ہیں۔ یہ ادویات خیبرپختونخوا کے ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کے ذریعے دو پروازوں پر صدہ پہنچائی گئیں۔ ان کے مطابق 15 لاکھ مالیت کی ایمرجنسی ادویات ایم ایس صدہ کے حوالے کردی گئیں۔مشیر صحت نے کہا کہ جب تک حالات معمول پر نہیں آتے ادویات کی ترسیل بذریعہ ہیلی کاپٹر جاری رہے

اپوزیشن اتحاد کے حوالے سے اہم سیاسی پیش رفت

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے سربراہ پیر صاحب پگارا سید صبغت اللہ شاہ راشدی سے پی ٹی آئی کا اہم رابطہ
مشیر اطلاعات خیبرپختون خوا اور عمران خان کے قریبی ساتھی بیرسٹر محمد علی سیف کی پیر پگارا سے لاہور میں اہم ملاقات

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ اور عمران خان کے قریبی ساتھی بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے لاہور میں پیر پگارا سے لاہور میں اہم ملاقات،ملاقات میں سینئر سیاستدان محمد علی درانی بھی موجود تھے۔ملاقات میں پیر پگارا کا عمران خان کے لئے نیک تمناؤں اور خیرسگالی کا پیغام۔اس موقع پر بیرسٹر محمد علی سیف نے عمران خان کی طرف سے پیر پگارا اور جی ڈی اے کی قیادت کے لئے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔اس اہم ملاقات میں قائدین کی سیاسی صورتحال اور مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے اہم مشارت ہوئی،پی ٹی آئی اور جی ڈی اے کا ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لئے مشاورت پر اتفاق۔اجلاس میں مستقبل میں رابطوں کو مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔بیرسٹر محمد علی سیف نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی طرف سے نیک تمناؤں کا پیغام دیا جس پر پیر پگارا نے ان کے لئے جوابی خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پیر پگارا پاکستان کی قابل احترام شخصیت ہیں، پاکستان کو مسائل سے نکالنے میں اُن کی سیاسی بصیرت اہم ہے۔پیر پگارا نے اپوزیشن کو قریب لانے میں محمد علی درانی کے کردار کو سراہا اور کہاکہ اپوزیشن جماعتوں میں باہمی رابطوں کے لیے وہ اپنا کردار مزید بڑھائیں۔بیرسٹر محمد علی سیف نے پارٹی قیادت کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں میں رابطوں کے حوالے سے محمد علی درانی کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔