Home Blog Page 330

کمشنر بنوں محمد عابد خان وزیر نے کہا ہے کہ انسداد پولیو مہم میں غفلت کی کوئی گنجائش نہیں

کمشنر بنوں محمد عابد خان وزیر نے کہا ہے کہ انسداد پولیو مہم میں غفلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔تاکہ اس موذی مرض سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد پولیو ایک قومی فریضہ ہے اسلئے آئندہ انسداد پولیو مہم میں ہر کوئی اپناحصہ ڈال کر پولیو سے بچاؤ میں تعاون یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کیلئے قومی مہم برائے انسداد پولیو 16 دسمبر سے 20 دسمبر2024 تک کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج اپنے دفتر میں ڈویژنل ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ریجنل پولیس افیسر عمران شاہد،ڈپٹی کمشنر بنوں عبدالحمید خان،ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان آنلائن، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بنوں ضیاء الدین احمد،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لکی آنلائن، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لکی مروت اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شمالی آنلائن،شعبہ صحت کے افسران جبکہ ریجنل کوآرڈینیٹر عید نواز شیرانی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر آنلائن اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران موجود تھے۔اس موقع پر کمشنر بنوں ڈویژن محمد عابد خان وزیر نے کہا کہ انسداد پولیو مہم ایک قومی فریضہ ہے اور بنوں ڈویژن کو اس مقصد کے حصول کے سلسلے کے راستے میں ہر رکاوٹ ختم کرنا ناگزیر ہوگیا ہے۔ جن میں پولیو ورکرز کو مستعد اور سیکیورٹی صورتحال کو مضبوط بنانا ہے تاکہ ہر بچے کو قطرے پلا کر پولیو وائرس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔اجلاس میں ضلع بنوں، لکی مروت اور شمالی وزیرستان کے متعلقہ پولیو افسران نے کارکردگی رپورٹ پیش کرکے تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر کمشنر بنوں ڈویژن نے انسداد پولیو میں کامیابیوں کے حصول پر پولیو افسران کو مزید کاوشیں تیز کرنے پر زور دیااور کہا کہ وہ آئندہ طے شدہ اہداف کی تکمیل تک تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ کمشنر بنوں ڈویژن نے مزید کہا کہ سیکورٹی اداروں کی جانب سے پولیو مہم میں حصہ لینے والے کارکنان کو تحفظ فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔اس کے علاؤہ ڈویژن بھر کی ضلعی انتظامیہ انسداد پولیو مہم میں حصہ لینے والی ٹیموں کی تمام ضروریات اور جائز مطالبات کوپورا کریگی۔ تاہم انسداد پولیو مہم کی طے شدہ اہداف کے تکمیل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت علی خان نے کہا ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت علی خان نے کہا ہے کہ طلباء علم حاصل کرکے اپنی محنت اور کردار سے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔عالمی دنیا میں اساتذہ کا احترام کیا جاتا ہے اساتذہ بھی طلباء کے کردار سازی میں بھر پور توجہ دیں۔صوبائی حکومت تعلیم کی ترقی میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہے اور اس مقصد کیلئے مختلف پراجیکٹس پر کام جاری ہے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان نوجوانوں کو اس ملک کا اثاثہ سمجھتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سٹی یونیورسٹی پشاور میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کے دوران کیا۔اس موقع پر سٹی یونیورسٹی کے وائس چانسلر،رجسٹرار اور دیگر سٹاف بھی موجود تھے۔معاون خصوصی نے یونیورسٹی میں قائم مختلف سٹالز کا دورہ کیا اور طلباء کے کام کو سراہا۔تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کا کردار قابل تحسین ہے اور بہت کم عرصہ میں یو نیورسٹی نے ترقی کے منازل طے کئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ طلباء تکنیکی تعلیم سے ہم آہنگ ہوکر نئے ٹیکنالوجی کی طرف توجہ دیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ اساتذہ طلباء کیساتھ محنت کرکے طلباء کے کردار سازی میں خصوصی دلچسپی لیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ہمارے طلباء میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں اوورسیز پاکستانی ہمارے اثاثہ ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت محکمہ تعلیم کے بجٹ اخراجات کے حوالے سے جائزہ اجلاس

صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت محکمہ تعلیم پر کثیر بجٹ خرچ کر رہی ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ ہر سال تعلیم کے لئے زیادہ پیسے رکھیں تاکہ شرح خواندگی میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے اور ایجوکیشن کی کوالٹی میں مزید بہتری لانے کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کے عوام کو ان کے گھروں کی دہلیز پر تعلیمی سہولیات فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ امسال خیبر پختونخوا کے تعلیم کے لیے 326.865 بلین روپے رکھے گئے ہیں جن میں کرنٹ سائیڈ کے لیے 303.582 ملین اور ڈیویلپمنٹ کے لیے 23.283 بلین روپے رکھے گئے ہیں۔ وزیر تعلیم نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت کی کہ ریلیز شدہ بجٹ فوری طور پر خرچ کیا جائے اور محکمہ تعلیم کے جتنے بقایا جات رہتے ہیں اس کی تفصیلی رپورٹ فراہم کی جائے تاکہ فنڈز کے بروقت اجراء کے لئے محکمہ خزانہ کے ساتھ بات چیت کی جا سکے۔ انہوں نے ڈی پی ڈی حکام کو بھی ہدایت کی کہ اساتذہ کی مختلف تربیتوں کے لیے جامعہ رپورٹ اور درکار بجٹ بھیج دی جائے تاکہ بجٹ بروقت ریلیز ہو کر اساتزہ کی تربیت میں اضافہ کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ تعلیم کے بجٹ اخراجات اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن قیصر عالم، ایڈیشنل سیکرٹری محمد شعیب، ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے حکام، ایجوکیشن ایڈوائزر میاں سعد الدین اور محکمہ تعلیم کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم نے حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ ڈی پی ڈی اور ڈی سی ٹی ای کی ریسٹرکچرنگ اور مزید فعالیت بشمول ان اداروں سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کے لیے تجاویز پر مبنی جامع رپورٹ پیش کی جائے انہوں نے کہا کہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بقایات کی ادائیگی اور محکمہ خزانہ سے منظوری کے لیے رپورٹ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تنخواہیں کم سے کم اجرت تک لانے کے لیے بھی پروپوزل تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ستوری دپختونخوا سکالرشپ بشمول ایٹا سکالرشپ، رحمت اللعالمین سکالرشپ اور دیگر میرٹ بیسڈ سکالرشپس کے لیے سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی تاکہ ان سکالرشپس کو بروقت مکمل کیا جا سکے اور فنڈز کے بروقت اجراء کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر صورت قابل، ذہین اور ضرورت مند طلبہ و طالبات کو مالی سپورٹ فراہم کرنی ہے تاکہ ان کا تعلیمی سلسلہ چلتا رہے۔ وزیر تعلیم نے یہ بھی ہدایت کی کہ ڈسٹرکٹ پرفارمنس سکور کارڈ پروگرام دوبارہ شروع کیا جائے تاکہ اضلاع کی کارکردگی کو جانچا جا سکے اور پرفارمنس کی بنیاد پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفسز کے فیصلے کیے جا سکے انہوں نے مزید ہدایت کی کہ پورے صوبے کے اسکولوں میں وائٹ بورڈز اور فرنیچر کی فراہمی کے لیے رپورٹ ایک ہفتے کے اندر تیار کی جائے اور اس ضمن میں ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کے ٹیکنیکل ٹیم کی سپورٹ حاصل کی جائے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ بجٹ اخراجات پر میٹنگ ہر 15 دن بعد منعقد ہوگی جبکہ ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کا اجلاس ہر مہینے کے پہلے ہفتے منعقد ہوگا وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا کہ تعلیمی بہتری کے لیے ہم ضم اضلاع پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور ان اضلاع کے لیے زیادہ فنڈز بھی جاری کیے جارہے ہیں۔

چچا اور بھتیجی مل کر عمران خان پر جعلی مقدمات کی ڈبل سنچری بنانے کے قریب پہنچ گئے ہیں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ شہباز شریف اور مریم نوازچچا اور بھتیجی مل کر عمران خان پر جعلی مقدمات کی ڈبل سنچری بنانے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔پنجاب میں عمران خان پر 99، جبکہ اسلام آباد میں 74 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ درجنوں مقدمات عمران خان کی گرفتاری کے بعد درج کیے گئے ہیں۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزیدکہا ہے کہ جیل کے اندر بیٹھ کر کوئی جرم کیسے کر سکتا ہے عمران خان بالکل صحیح کہتے ہیں، ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں، اور اوپر سے کوشش بھی نہیں کرتے۔ عمران خان چچا اور بھتیجی سمیت پوری ن لیگ کے اعصاب پر سوار ہیں۔ عمران خان تمام جعلی مقدمات کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں جعلی مقدمات سے خان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ وہ دن دور نہیں جب جعلی مقدمات کا خاتمہ ہوگا اور خان عوام کے درمیان ہوں گے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ رنگیز احمد کی سربراہی میں منگل کے روزایک اجلاس منعقد ہوا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ رنگیز احمد کی سربراہی میں منگل کے روزایک اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ سیاحت اور کلچر سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں اتلہ،بیرگلی صوابی تا مہابنڈ بنیر بین الضلاعی سیاحتی سڑک کی تعمیر پر تفصیلی تبادلہ کیا گیا اورشرکاء اجلاس کو بتایا گیا کہ مذکورہ سڑک تقریبا 7کلومیر طویل ہے اور اس پرا بھی کام بند ہے۔جس پر معا ون خصوصی نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے علاقے کے عوام کا ایک دیرنہ مطالبہ پورا ہوگا اور انہیں آمد رفت کی بہتر سہولت میسر ہونے کے ساتھ علاقے میں سیاحت کے شعبہ کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس منصوبہ کی بروقت تکمیل کیلئے بھر پور اقدامات اٹھائیں تاکہ علاقے کے عوام اس سکیم سے استفادہ کر سکیں۔اجلاس میں محکمہ سیاحت کے افسران نے یقین دلایا کہ وہ مذکورہ سڑک کی جلد تکمیل کے لئے علاقہ کا دورہ کریں گے اور اسے جلد پائیہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔

خیبرپختونخوا کابینہ کا 18 واں اجلاس

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 18واں اجلاس پیر کے روز منعقد ہوا، جس میں ضلع کرم کی صورتحال پر غور کیا گیا اور علاقے میں پائیدار امن اور استحکام کی بحالی کے لیے ایک جامع ایکشن پلان کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں صوبائی کابینہ کے اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز اور متعلقہ انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس کو کرم میں موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی، جہاں حالیہ افسوسناک واقعات میں 133 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور 177 افراد زخمی ہوئے۔ پلان کے تحت صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے ایک گرینڈ جرگہ تشکیل دیا ہے، جس میں مقامی معززین شامل ہیں۔ یہ جرگہ علاقے میں اس وقت تک موجود رہے گا جب تک امن مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتا۔ حکومت نے کمیونٹی کے کردار کو اہم قرار دیا اور مقامی عمائدین سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ نفرت اور انتشار پھیلانے والے عناصر کی نشاندہی میں تعاون کریں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ حکومت علاقے میں ہم آہنگی کی بحالی کے لیے اپنے پر عزم ہے، مقامی کمیونٹیز کو ان تفرقہ انگیز عناصر کے خلاف متحد رہنا ہوگا جو ہمارے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔صوبائی کابینہ نے نفرت پھیلا کر تشدد کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دینے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ ایسے عناصر کو قانون کے تحت شیڈول IV میں شامل کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ علاقے میں موجود بنکرز کو ختم کرنے اور مقامی افراد کے پاس موجود بھاری ہتھیار جمع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ امن و امان کے قیام کے لیے کرم ہائی وے سمیت اہم مقامات پر 65 چیک پوسٹس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح وفاقی حکومت سے ایف سی پلاٹونز کی تعیناتی کے لیے باضابطہ درخواست بھی کی گئی ہے۔ کابینہ نے کرم میں تشدد سے متاثرہ افراد کے لیے جامع امدادی پیکج کی بھی منظوری دی۔ شہداء کے اہل خانہ اور زخمیوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی جبکہ نقصان زدہ جائیدادوں کا معاوضہ بھی دیا جائے گا۔ نقصان کے تخمینے کے لیے سروے جاری ہے اور اس مقصد کے لیے 380 ملین روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ کابینہ نے ضرورت کے تحت مزید فنڈز فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ حکومت نے گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں کو منتقل ہونے والے خاندانوں کی فوری اور باعزت واپسی کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ کرم میں ضروری ادویات کی شدید قلت کے پیش نظر کابینہ نے فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ادویات کی فراہمی کی ہدایت کی۔ کابینہ نے ایک اعلیٰ سطحی مانیٹرنگ کمیٹی بھی تشکیل دی، جس میں صوبائی وزیر قانون، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اور متعلقہ پارلیمنٹیرین شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی ایکشن پلان کے نفاذ کی نگرانی کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مالی امداد سے لے کر امن قائم کرنے کی کوششوں تک تمام اقدامات مؤثر اور شفاف طریقے سے انجام پائیں۔ مزید برآں، کابینہ نے ضم شدہ اضلاع، جنوبی اضلاع اور ملاکنڈ میں سول انتظامیہ، سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بُلٹ پروف اور بم پروف گاڑیاں اور دیگر ضروری سازوسامان فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ پرتشدد واقعات کی روک تھام میں موثر کردار ادا کر سکیں۔ اسی طرح کابینہ نے 26 نومبر کو ڈی چوک واقعے کے شہداء کے اہل خانہ کے لیے معاوضہ پیکج کی منظوری بھی دی ہے، جس کے تحت ہر شہید کے اہل خانہ کو 10 ملین روپے اور شدید زخمی ہونے والے افراد کو 1 ملین روپے فراہم کیے جائیں گے۔اسی طرح، دہشت گردی کے واقعات کے دوران شہید ہونے والے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی اہلکاروں کے اہل خانہ کے لئے مجموعی طور پر 187.00 ملین روپے کا پیکج منظور کیا گیا ہے۔کابینہ نے پشاور ہائی کورٹ کے لیے 10 ججز کی نئی آسامیاں تخلیق کرنے کی بھی منظوری دی۔ صدر پاکستان نے ہائی کورٹ کے ججز کی تعداد 20 سے بڑھا کر 30 کر دی ہے، جس کے تحت پشاور ہائی کورٹ کے لئے یہ درخواست کی گئی تھی۔مزید برآں، کابینہ نے خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کی سالانہ رپورٹ 2023 کی منظوری دی اور اقلیتوں کے کوٹے کے تحت بھرتیوں کے معیار میں نرمی کے لیے حکمت عملی بنانے کی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ نے کمیشن کی کارکردگی کو سراہا اور محکمہ خزانہ کو مالی ضروریات فوری حل کرنے کی ہدایت کی۔کابینہ نے مالی سال 2022-23 کے لیے خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کی سالانہ رپورٹ کو اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے انفارمیشن کمشنرز (سوشل اور جوڈیشل) کی تعیناتی کی منظوری دی، جو خیبرپختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن کے تحت کام کریں گے۔اجلاس میں جیلوں میں سیکیورٹی آلات، جیمرز، کمیونیکیشن سسٹم اور سی سی ٹی وی کیمروں کی خریداری اور تنصیب کے لیے اضافی فنڈز کی منظوری دی گئی۔ جیل کی لکڑی کی صنعتوں کو ”منظور شدہ ادارہ” کا درجہ دیا گیا تاکہ وہ سرکاری اداروں کو براہ راست فرنیچر اور لکڑی کی مصنوعات فروخت کر سکیں۔کابینہ نے ضلع مہمند کے 106 خاصہ داروں کو خیبرپختونخوا پولیس میں ضم کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے سال 2024-25 کے لیے خیبرپختونخوا شوگرکین اینڈ شوگر بیٹ کنٹرول بورڈ کی تشکیل اور ایبٹ آباد اور کوہاٹ کے واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنیز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ناموں کی منظوری دی۔مزید برآں، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ایکٹ 2022 کے تحت 1% رعایت دینے، خیبرپختونخوا بایوسفئیر ریزرو اور کنزرویسی رولز 2022 میں ترامیم، اور خیبرپختونخوا ریورز پروٹیکشن آرڈیننس 2002 کے سیکشن 13 کے تحت جرائم کی سماعت کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کو اختیارات دینے کی بھی منظوری دی گئی۔کابینہ نے خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے لیے سال 2024-25 کے بجٹ تخمینے اور 2023-24 کے نظرثانی شدہ بجٹ تخمینے کی منظوری دی۔کابینہ نے جاری پاک-پی ڈبلیو ڈی کے منصوبے صوبائی حکومت کے دائرہ احتیار میں لانے اربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹی ہری پور کے لیے گرانٹ، اور فرنٹیئر فاؤنڈیشن کے لیے مالی سال کے دوران گرانٹ میں اضافے کی منظوری دی۔مزید برآں، کابینہ نے متحدہ علماء بورڈ کے اراکین کے لیے اعزازیے، اور لینگ لینڈ اسکول اینڈ کالج چترال کے لیے گرانٹ کی منظوری دی۔صوبائی کابینہ نے خصوصی تعلیم کے اداروں میں زیر تعلیم خصوصی طلباء کی آمد و رفت کے لیے گاڑیوں کی خریداری پر عائد پابندی میں نرمی کی منظوری دے دی ہے۔ کابینہ نے خیبرپختونخوا کے دو ہیلی کاپٹرز کے آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے پاک فضائیہ کے ساتھ مزید تین سال کا معاہدہ کرنے کی منظوری بھی دی ہے۔ مزید برآں، کابینہ نے غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے لیے ٹرانزٹ پوائنٹ کو بند کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے پاسکو کی درآمد کردہ گندم کے لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تکنیکی کمیٹی تشکیل دی ہے اور اس ناقص معیار کی گندم کی خریداری کے معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ بینک آف خیبر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں مناسب نمائندگی کے لیے کابینہ نے بینک آف خیبر ایکٹ 1991 میں ترامیم کی منظوری دی گئی ہے۔ کابینہ نے سابق معاون خصوصی وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا، آنجہانی سردار سورن سنگھ کے قانونی ورثاء کے لیے خصوصی معاوضے کی منظوری بھی دی۔ جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ایک اسکیم کو بحال کرتے ہوئے 70 پرائمری اسکولوں کو مڈل سطح پر اپ گریڈ کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے ڈی آئی خان میں 1984 کنال اراضی محکمہ تعمیرات سے محکمہ سیاحت کو منتقل کرنے اور تحصیل پہاڑ پور، گاؤں ٹھٹھہ بلوچاں میں غیر ADP اسکیم کے تحت ایم سی ایچ سینٹر کے قیام کی منظوری بھی دی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹر کا دورہ، جدید بلاک کا افتتاح اور کارکردگی میں بہتری کا عزم

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈا پورنے اتوار کے روز سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے سی ٹی ڈی کی استعداد کو بڑھانے کیلئے نو تعمیر شدہ انوسٹی گیشن اور انٹیلی جنس بلاک کا افتتاح کیا۔جدید سہولیات سے آراستہ انوسٹی گیشن اینڈ انٹیلی جنس بلاک میں جدید طرز کے آڈیٹوریم ، کانفرنس روم ، لائبریری ، دفاتر اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف ، چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری، انسپکٹر جنرل پولیس اختر حیات گنڈا پور ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجیداور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ پولیس حکام کی جانب سے وزیراعلیٰ کو سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے کیلئے موجودہ صوبائی حکومت کے اقدامات پر بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سی ٹی ڈی کو موجودہ حالات کے تقاضوں کے مطابق مستحکم بنانے اور دہشت گردی کے مقدمات میں تکنیکی معاونت کیلئے ڈیٹا کلیکشن سیکشن، ڈیٹا مائننگ سیکشن ، کرائم سین یونٹ اور سائبر کرائم یونٹس قائم کئے گئے ہیں۔انٹیلی جنس کے نظام کو موثر بنا نے کیلئے سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جبکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور بھتہ خوری کی روک تھام کیلئے کاونٹر ٹیرازم فنانسنگ ایند ایکسٹارشن یونٹ قائم کیا گیا ہے۔اسی طرح سی ٹی ڈی کی تحقیقاتی اور تکنیکی استعداد کو بڑھانے کیلئے ڈی جی آئی ٹی اورڈی جی ریسرچ انالسسز کی آسامیوں کی منظوری دی گئی ہے ۔سی ٹی ڈی کا دائرہ کار بڑھانے کیلئے صوبہ بھر میں سی ٹی ڈی کے ریجنل ہیڈکوارٹر اور تمام ضم شدہ اضلاع میں سی ٹی ڈی کے دفاتر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔دہشت گردی کے مقدمات کی مو¿ثر پیروی کیلئے 18 پبلک پراسکیوٹرز کی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔سی ٹی ڈی انٹیلی جنس کو بہتر بنانے کیلئے 314 ڈیٹکٹیو آفیسر کی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیںجبکہ آپریشن کی استعداد کو بہتر بنانے کیلئے تمام اضلاع کی سطح پر جدید ہتھیاروں اور آلات سے لیسSWATٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔مزید بتایا گیا کہ فارنزک لیب میں جدید آلات کی فراہمی اور تربیت یافتہ ماہرین کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے،سی ٹی ڈی کی 30 عدد گاڑیوں میں جیمرز نصب کئے گئے ہیں۔ انٹیلی جنس اور انوسٹی گیشن عملے کی استعداد بہتر بنانے کیلئے جدید لیپ ٹاپس اور موبائل فونز فراہم کئے گئے ہیں،حساس اضلاع میں سی ٹی ڈی کو سات عدد بلٹ پروف گاڑیوںفراہم کر دی گئی ہیںاور دہشت گردوں کی نقل و حمل کی نگرانی کیلئے جدید ڈرونز ، نائٹ وژن آلات اور تھرمل گنز فراہم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح سی ٹی ڈی کی افرادی قوت میں مجموعی طور پر 1263 افرادکا اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے سی ٹی ڈی عملے کی تعداد 3167 سے بڑھ کر 4430 ہوگئی ہے۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ موجودہ صوبائی حکومت کے ان اقدامات سے سی ٹی ڈی کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے،سی ٹی ڈی نے انٹیلی جنس بنیادوں پر کئی کامیاب کاروائیاں کی ہیںجن سے دہشت گردی کے کئی منصوبے ناکام ہو گئے ،۔ سی ٹی ڈی کو مستحکم کرنے کے اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردی کے مجرمان کو سزا دلانے کی شرح 50 فیصد بڑھ گئی ہے،سال2022 میں عدالتوں سے دہشت گردوں کو سزا دلانے کی شرح 13 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 38 فیصد ہو گئی ہے،انوسٹی گیشن کے عمل کو بہتر بنانے سے اب ملزمان کی ریمانڈاوسطاً 1.4 دن سے بڑھ کر اب 25 دن ہو گئی ہے اور 2022 میں عدالتوں سے ملزمان کی 55 ضمانتیں مسترد ہوئیںجبکہ سال2024 میں 123 درخواستیں مسترد ہوئیں۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ سال2023 میں خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی سیٹ اپ نہ ہونے کے برابر تھا۔گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے میں سی ٹی ڈی کو ہنگامی بنیادوں پر مستحکم کیا گیا ہے اوراس دوران سی ٹی ڈی کی کارکردگی میں بہت زیادہ بہتری آئی ہے ۔ا

صوبائی وزیر لائیو سٹاک و فشریز فضل حکیم خان یوسفزئی کا سیدو شریف ہسپتال کا دورہ،

صوبائی وزیر لائیو سٹاک و فشریز فضل حکیم خان یوسفزئی کا سیدو شریف ہسپتال کا دورہ، اسلام آباد مظاہرے کے دوران زخمی ہونے والے پی ٹی آئی کارکنوں کی عیادت کی اور ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ان کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرے صوبائی وزیر کے ہمراہ پی ٹی آئی رہنما آفتاب عالم اور دیگر بھی ہمراہ تھے فضل حکیم خان یوسفزئی نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی انہوں نے کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنے کارکنان کی جرت اور بہادری کو سلام پیش کرتا ہوں جس دلیری اور بہادری سے پی ٹی آئی کارکنان قائد عمران خان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ڈی چوک اسلام آباد پہنچے اور ڈٹ کر مقابلہ کیا پارٹی اور عوام ہمیشہ یاد رکھے گی انہوں نے کہا کہ ڈی چوک واقعہ افسوسناک ہے پرامن مظاہرین پر تشدد ناقابل قبول ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سردار علی امین گنڈاپور، بشریٰ بی بی اور ورکرز پر ڈی چوک اور مختلف جگہوں پر قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں تحریک انصاف کے کارکنوں کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی جبکہ پی ٹی آئی کارکنان اور ان کے اہل خانہ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ہر قسم تعاون کرینگے انہوں نے کہا کہ ظلم و جبر کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کے حوصلے بلند ہیں یہ جبر اور ظلم عمران خان اور ان کے کارکنوں کے عزم و حوصلے کو مزید مضبوط کر رہا ہے صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے کارکن عمران خان کی قیادت میں حقیقی آزادی کے مشن کو اپنی آخری سانس تک جاری رکھیں گے گرفتار پی ٹی آئی ورکرز کے خاندانوں کیساتھ ہم کھڑے ہیں، ہم گرفتار ورکرز کو رہا کرائیں گے۔

اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی خیبر پختونخوا کے وزیر کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان

پشاور پریس کے زیر اہتمام سب سے بڑے سالانہ تفریحی ایونٹ آر ایم ائی میڈیا کرکٹ لیگ ٹورنامنٹ کا فائنل جمعرات کے روز جمخانہ کرکٹ گراؤنڈ پشاور میں کھیلا گیا جس کے اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی خیبر پختونخوا کے وزیر کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان تھے۔فائنل میچ پی پی سی مارخور اور پی پی سی ذلمی کی ٹیموں کے مابین کھلا گیا جو پی پی سی مارخور نے جیتا۔میڈیا کرکٹ لیگ میں کل 18 ٹیموں نے حصہ لیا جن میں 300 صحافی شریک ہوئے۔ اختتامی تقریب کے دوران صوبائی وزیر کھیل نے ونر اور رنر آپ آنے والی ٹیموں کو ٹرافیاں اور نقد انعامات دئیے اور انھیں بہترین کارکردگی پر سراہا۔تقریب میں صدر پشاور پریس کلب ارشد عزیز ملک،جنرل سیکرٹری عرفان موسی زئی،سینئر صحافیوں اور پریس کلب کے ممبران،اور انتظامی کمیٹی کے ذمہ داران نے شرکت کی۔صوبائی وزیر نے تقریب کے دوران پشاور پریس کلب کیلئے پانچ لاکھ روپے اور فائنل میچ میں وونر اور رنر آپ ٹیوں کیلئے 50،50 ہزار روپے انعام کا اعلان کرکے صدر پریس کلب اور دونوں ٹیموں کو انعامات کیچیک حوالے کیئے۔اس طرح انھوں نے پریس کلب کی جانب سے تمام ٹیموں کیلئے اعلان کردہ 30،30 ہزار روپے اور ونر کیلئے ایک لاکھ جبکہ رنر آپ کیلئے 50 ہزار روپے،مین آف دی میچ کیلئے 5 ہزار اور میں آف دی ٹورنامنٹ کیلئے 10 ہزار روپے کے انعامات بھی حوالے کیئے۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ کھیل انسان کی صحت کیلئے انتہائی ضروری ہے اور ہماری صحافی برداری کیلئے کھیل جیسی تفریحی سرگرمیوں کا انعقاد انکی مصروف زندگی اور ذمہ داریوں کیساتھ انتہائی اہم ہے ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ صحافی حضرات کی صحت و تندرستی اور اور ذہنی نشونما و راحت کیلئے اس قسم کے تقریبات و سرگرمیوں کا انعقاد پشاور پریس کلب کی انتظامیہ اور منیجمنٹ کمیٹی کی ایک اچھی کاوش ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اس ایونٹ کے بعد محکمہ اطلاعات اور اراکین اسمبلی کیساتھ بھی صحافی برادری کے دوستانہ کرکٹ میچ کھیلے جائیں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ تفریحی سرگرمیوں کے سلسلے میں حکومت نے حالیہ ثقافتی میلے کا انعقاد کیا اور ایک سالانہ کلینڈر کے تحت مزید سرگرمیاں بھی محکمہ کھیل کے تحت ہوں گی۔ انھوں نے سپورٹس جرنلسٹس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ان سرگرمیوں کے حوالے سے خبروں کی فراہمی میں ایک اہم کردار ادا کررہے ہیں جبکہ اس شعبے میں درپیش مسائل کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔قبل ازیں صحافیوں کے جوابات دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ قیوم اسٹیڈیم میں سہولیات فراہمی کے حوالے سے ترقیاتی کام جلدی کیساتھ جاری ہے جبکہ ارباب نیاز سٹیڈیم کے تعمیری کام کی جلد از جلد تکمیل پر بھی خاص توجہ مرکوز ہے اور اس اسٹیڈیم کو سہولیات سے آراستہ کرنے کیلئے اس پر کام تیز کیا گیا ہے۔تقریب کے دوران صوبائی وزیر کو صدر پشاور پریس کلب کی جانب سے صدر ارشد عزیز ملک نے شیلڈ فراہم کی جبکہ صوبائی وزیر نے بھی انھیں شیلڈ سے نوازا۔ دریں اثنا انھوں نے جمخانہ کیساتھ متصل ٹینس کورٹ کا بھی ویزٹ کیا اور وہاں پر سہولیات کا جائزہ لیا جبکہ وہاں پر کرکٹ اکیڈمی کے ممکنہ قیام کیلئے انھوں نے محکمہ کے افسران کو ہدایات بھی جاری کیئے۔