Home Blog Page 369

وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما ملک لیاقت علی خان نے کہا

وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما ملک لیاقت علی خان نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع میں زچہ و بچہ کی صحت اور بہترین نشوونما کو یقینی بنانے کے لیے 120 فیملی ویلفیئر سنٹرز کو جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جائے۔ خاندانی منصوبہ بندی پر عملدرآمد وقت کا تقاضا ہے جو خوشحال اور باوقار معاشرے کا ضامن ہے۔ محکمہ بہبود آبادی کے تمام منصوبوں کا محور عوام ہے اور اس کا حقیقی فائدہ عوام تک پہنچانے کے لیے خلوصِ دل سے کام کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سیکرٹری محکمہ بہبودِ آبادی کے دفتر میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ بہبود آبادی عماد علی لوہانی کے علاؤہ ڈائریکٹر جنرل بہبود آبادی عائشہ احسن اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ معاون خصوصی برائے بہبود آبادی کو محکمہ کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں اور ان پر اب تک کے عملدرامد پر تفصیلی بریفننگ دی گئی۔ ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ عوام کے فلاح و بہبود اور خاندانی منصوبہ بندی کے منصوبوں کی جلد تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے محکمہ انتک محنت کرے کیونکہ ان منصوبوں کی تکمیل میں زرہ کوتاہی اور ہیلے بہانے برداشت نہیں کئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ آبادی کے بے ہنگم اضافے کو کنٹرول کرنا اشد ضروری ہے کیونکہ خوشحال زندگی اور لوگوں کو یکساں بنیادی ضروریات کی فراہمی اسی کی مرہون منت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے محکمہ اپنے عملے سے فوکل پرسن منتخب کریں تاکہ کوئی کوتاہی یا کمی نا رہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کو مزید موثر بنانے کے لیے ریجنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کو مزید بہتر طریقے سے چلایا جائے تاکہ خاندانی منصوبہ بندی کے اہلکار دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر لوگوں کی خدمت جاری رکھ سکیں۔ ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عوام کی خدمت کا موقع دیا ہے تو پورے خلوص نیت سے ایک ٹیم بن کر عوام کی خدمت اور ان کے معیار اورامنگوں پر پورا اترنے کے لیے اپنی بھرپور توانائی خرچ کریں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ ز راعت ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ ز راعت ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ملک کی جی ڈی پی کا 22فیصد حصہ زراعت پر منحصر ہے۔ اس لئے زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنا لوجی اور ریسرچ کو بروئے کار لاکر ملک اور خصوصا صوبے کی اقتصادی ترقی کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی آمین خان گنڈاپور نے اس سلسلے میں تمام دستیاب وسائل کو استعمال کرنے اور رکاوٹوں کو ختم کرنے کے احکامات دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی سرپرستی سے جامعات کی سطح پر زرعی شعبے میں ہونے والی ریسرچ اور زرعی سائنسدانوں کی شبانہ روز محنت سے مستقبل میں خوراک کی کمی جیسے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ کیجانب سے نتھیا گلی میں منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی سیمینار کے اختتامی روز بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زاہد حسین سمیت مختلف جامعات کے وائس چانسلر ز نے شرکت کی۔ تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں ملکی اور بین الاقوامی سطح کے زرعی ماہرین سمیت رجسٹرار باچا خان یونیورسٹی ڈاکٹر اعزاز احمد خان اورکانفرنس کے فوکل پرسن ڈاکٹر  واجد علی شاہ سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا اور زراعت کے شعبے میں جدت لانے سمیت حکومتی سطح پر زراعت کے شعبے کے لئے اہم پالیسیاں مرتب کرنے پر زور دیا۔ صوبائی وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال کا کہنا تھا کہ ملک کو حقیقی معنوں میں زرعی بنانے اورمستقبل میں غذاتی قلت پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر صوبائی وزیرنے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسی کانفرنسز کے انعقاد میں حکومت تعاون کرے گی تاہم انہوں نے زور دیا کہ جامعات کی سطح پر ہونے والی تحقیق اور کامیابیوں کے ثمرات نچلی سطح پر زمینداروں تک پہنچانا وقت کی ضرورت ہے تب ہی اصل معنوں میں ہماری زراعت ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہوگی۔ وائس چانسلر ڈاکٹر زاہد حسین نے تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر کو سوینئر بھی پیش کیا۔

صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی سے انصاف ٹیچرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے وفد کی ملاقات۔ وفد نے صدر بخت افسر اور جنرل سیکرٹری سفارش خان

صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی سے انصاف ٹیچرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے وفد کی ملاقات۔ وفد نے صدر بخت افسر اور جنرل سیکرٹری سفارش خان کی سربراہی میں ملاقات کرتے ہوئے اپنے مطالبات پیش کئے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کے جائز تمام مطالبات حل کئے جائیں گے۔ اور مختلف مسائل کے حل کے لئے کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ جن کی سفارشات کی روشنی میں اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے اور ملک کی ترقی میں اساتذہ کرام کا کلیدی کردار ہے اور ہم ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے اساتذہ کے مسائل حل کرنے کے لیے سابقہ دور حکومت میں بھی ریکارڈ اقدامات کئے ہیں اور موجودہ حکومت بھی اپ لوگوں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ ایس ایس ٹی اساتذہ کی اپگریڈیشن کا دیرینہ مسئلہ جلد حل کیا جائے گا اور کابینہ سے باقاعدہ منظوری لی جائے گی۔ جبکہ محکمہ خزانہ اور تشکیل شدہ کمیٹیوں کے سفارشات کی روشنی میں اساتذہ کی اپگریڈیشن اور سی پی فنڈ کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام قانون سازی اور سفارشات مرتب کرنے میں اساتذہ یونین کے نمائندوں سے مشاورت کی جائے گی۔ فیصل خان ترکئی نے اساتذہ کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ اپنی تمام تر توجہ طلباء اور طالبات پر دیں۔ صوبائی حکومت آپ لوگوں کے تمام جائز مطالبات قانون کے مطابق حل کرے گی۔ وفد میں محتلف ریجنزکے صدور نظام الدین، طارق احمد، منصف شاہ، طاہر الطاف سرحدی، ظفر اللہ اور پشاور ریجن کے جنرل سیکرٹری محمد جان بشمول دیگر ممبران نے شرکت کی۔

محکمہ صنعت و حرفت اور فنی تعلیم میں اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے جامع حکمت عملی تیار۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت منگل کے روز محکمہ صنعت و حرفت اور فنی تعلیم کا ایک جائزہ اجلاس وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں منعقد ہوا جس میں محکمہ صنعت کے ذیلی اداروں بشمول سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ، خیبرپختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی ، بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور ٹیکنکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے جملہ اُمور بارے تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صنعت عبد الکریم،وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکر ٹری امجد علی خان، سیکرٹری صنعت عامر آفاق کے علاوہ محکمہ صنعت کے ذیلی اداروں کے سربراہان نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں مذکورہ بالا خود مختار اداروں میں اصلاحات ، درپیش مسائل کے حل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور و خوص کیا گیا ۔اجلاس میں خود مختار اداروں کے انتظامی اُمور ، آپریشنل معاملات ، بجٹ ، کارکردگی ، کامیابیوں اور دیگر مختلف اُمور کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ صنعت کے ذیلی اداروں میں اصلاحات کیلئے پالیسی گائیڈ لائنز اور احکامات جاری کرتے ہوئے خود مختار اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں میرٹ کی بنیاد پر متعلقہ شعبوں کے ماہرین کو شامل کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ ان اداروں کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے متعلقہ قوانین ، قواعد و ضوابط میں ضروری ترامیم کی جائیں اورمروجہ قواعد وضوابط کے مطابق ان اداروں میں خالی آسامیوں کو پرُ کیا جائے ۔ علی امین خان گنڈا پور نے صوبے میں صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے مربوط اور جامع حکمت عملی ترتیب دینے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں ۔ اُنہوںنے مزید ہدایت کی کہ سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے سرکار کے روایتی پیچیدہ نظام کو آسان بنایا جائے اور اس مقصد کیلئے ون ونڈ آپریشن کے نظام کو مزید مستحکم کیا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ صنعت کے ذیلی اداروں کے جملہ اُمور کو ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ محکموں کے درمیان کوآرڈنیشن کا موثر نظام وضع کیا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں صنعتوں کی بندش کی وجوہات پر مبنی ڈیٹا اکٹھا کرنے اور ان کی فوری بحالی کیلئے اقدامات تجویز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے میں تیار ہونے والی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن پر بھی کام کیا جائے ۔ اُنہوںنے نئے اکنامک زونز کے قیام کیلئے پہلے سے دستیاب سرکاری اراضی کو استعمال میں لانے کی ہدایت کی ہے ۔ اس کے علاوہ صوبے میں صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرنے کیلئے بھی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ایس آئی ڈی بی کے زیر انتظام غیر فعال وڈورکس سنٹرز کو فعال اور منافع بخش بنانے کیلئے تجاویز پیش کی جائیں جبکہ ٹیکنکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے زیر انتظام فنی تربیتی اداروں کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے قابل عمل پلان تیار کیا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے ان اداروں میں فراہم کی جانے والی فنی تربیت کو صنعت اور مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس مقصد کیلئے فنی تربیت کے موجودہ نظام کو تبدیل کیا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے ان اداروں میں فراہم کی جانے والی تربیت کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے پر کام کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ فنی تربیت کیلئے نوجوان خواتین کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ سرکاری محکموں میں الیکٹریشن ، کارپینٹراور کک سمیت دیگر تمام ٹیکنکل آسامیوں پر بھرتی کیلئے متعلقہ شعبے میں تربیت لازمی قرار دی جائے ۔

مویشی پال لوگوں کی سہولیات کے لیے بھرپور اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ فضل حکیم خان

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، ماہی پروری و کو آپریٹیو فضل حکیم خان یوسف زئی نے کہا ہے کہ شعبہ لائیو سٹاک انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس کی بدولت صوبے کی ایک کثیر آبادی کو روزگار میسر ہے اور بڑی حد تک غذائی ضروریات کو پوری کرنے میں مدد ملتی ہے یہی وجہ ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت اس شعبہ کی بہتری کے لیے بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے اور مویشی پال لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز محکمہ لائیو سٹاک پشاور میں منعقدہ بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل لا ئیو سٹاک تو سیع ڈاکٹر اصل خان، ڈائریکٹر جنرل لا ئیو سٹاک تحقیق ڈاکٹر اعجاز علی، ڈی جی فشریز شفیع مروت اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے، اجلاس میں ڈی جی لا ئیو سٹاک توسیع نے وزیر موصوف کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے محکمہ کے جاری منصوبوں خاص طور پر اے ڈی پی میں شامل سکیموں اور جانوروں کے علاج معالجہ کے پروگراموں سمیت نئے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا جبکہ صوبائی وزیر نے بریفنگ میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے افسران سے صوبے میں موجود سرکاری ویٹرنری فارمز، جانوروں کی تعداد اور مویشی پال لوگوں کو دی جانے والی سہولیات سے متعلق تفصیلات حاصل کیں اور ہدایت کی کہ دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانے کے لیے اعلیٰ اقسام کے جانوروں خاص کر اچئی گائے، اذاخیلی بھینس اور دیگر مقامی نسل کے جانوروں کی تعداد بڑھانے کے لیے بھرپور اقدامات اٹھائے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ شعبہ لا ئیو سٹاک سے وابستہ کسانوں کے مسائل بروقت حل کیے جائیں تاکہ وہ خوشحالی سے ہمکنار ہو ں اور صوبے کی معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ بعد ازاں صوبائی وزیر نے محکمہ لا ئیو سٹاک کی عمارت کے احاطے میں پودا لگا کر شجرکاری مہم کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا۔

وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما ملک لیاقت علی خان نے کہا ہے

وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما ملک لیاقت علی خان نے کہا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کی ترقی، سیاحت کے فروغ اور آمن وامان کی صورتحال کو یقینی اور مزید بہتر بنانے کیلئے ترجیحات متعین کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم بنیادی ضروریات ہیں عوام کو بہترین صحت، بہبودِ آبادی کی سہولیات عوامی دہلیز تک پہنچانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ رکھتا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ ایڈوائزری کمیٹی دیر کے چیئرمین عبید الرحمن سے ملاقات میں کیا۔ ملاقات میں صوبہ بھر سے آئے ہوئے وفود اور دیر کے عمائدین بھی موجود تھے۔معاون خصوصی نے وفود سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بہبودِ آبادی اور بالخصوص زچہ و بچہ کی بھترین صحت کو یقینی بنانے کیلئے پالیسیوں کی تشکیل اور ان کے نفاذ کو یقینی بنا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود بہبود آبادی کی تمام سہولیات کو علاقائی سطح پر فراہم کر رہے ہیں۔ ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ ایڈوائزری کمیٹی کو علاقائی ترقی اور خوشحالی کے لیے دیگر حکومتی محکموں، اداروں اور تنظیموں کے ساتھ رابطہ کاری کو مزید موثر بنانے میں بھرپور معاونت فراہم کرتا رہونگا تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اور انفراسٹرکچر میسر اور موجود ہو۔

خیبر پختونخوا میں مختلف سکلز و تیکنیکی تربیت سے نئی نسل کو آراستہ کرنے کیلئے ٹیوٹ سیکٹر سپورٹ پروگرام کے تعاون

خیبر پختونخوا میں مختلف سکلز و تیکنیکی تربیت سے نئی نسل کو آراستہ کرنے کیلئے ٹیوٹ سیکٹر سپورٹ پروگرام کے تعاون سے جاری مرحلہ وار تربیتی پروگرام کے چوتھے مرحلے میں خواتین کو ٹیکنالوجی سکلز فراہم کی جائیں گی جن کے تحت 2 ہزار خواتین کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سکلز سکھلائی جائیں گی۔ منگل کے روز انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ سائنسز پشاور میں اس منصوبے کے حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز کا ایک مشاورتی ورکشاپ منعقد ہوئی جس میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی جبکہ دیگر شرکا میں ڈائریکٹر آئی ایم سائنسز عثمان غنی،ادارے کا تدریسی عملہ،ڈی جی نیوٹیک،یونیورسٹیز،جی آئی زیڈ و برٹش کونسل کے نمائندے،اکیڈیمیا،نجی شعبے کے ماہرین اور سرکاری اداروں کے حکام شامل تھے۔ منعقدہ ورکشاپ میں ماہرین نے جدید دور میں بے روزگاری کے خاتمے اور نوجوان نسل کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تربیت سے آراستہ ہونے پر زور دیا جبکہ اس سلسلے میں انڈسٹری اور اکیڈیمیا کے مابین روابط کو اہم قرار دیا۔ماہرین نے بتایا کہ نوجوانوں کو عصر حاضر میں درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے ٹیکنالوجی پر مبنی شعبوں میں مہارت فراہم کرنے اور انہیں تیار کرنے کی ضرورت ہے۔اس طرح انڈسٹری کی ڈیمانڈ کے مطابق ٹیکنالوجی سے آراستہ سکلڈ ہنرمندوں کی تیاری کیلئے کوششیں کرنی چاہیے۔ورکشاپ میں آئی ٹی بورڈ کے حکام نے بتایا کہ ہم صوبے کو ڈیجیٹل سکلز کا ہب بنانے کی طرف جارہے ہیں اور دنیا میں ڈیجیٹل اکانومی میں اپنا حصہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ورکشاپ سے خطاب کے دوران وزیر اعلی کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ہمارا صوبہ ملک میں ایک تجارتی مرکز کا مقام رکھتا ہے جو کئی راہداریوں کے ذریعے تجارت کیلئے موزوں ہے۔انھوں نے کہا کہ ہماری حکومت نوجوانوں کو ہنر اور ٹیکنالوجی کی مہارت سے آراستہ کرنے کیلئے کسی بھی قسم کی سرمایہ کاری کیلئے تیار ہے کیونکہ بہترین سرمایہ کاری اس قوم کی نئی نسل کو ترقی یافتہ دنیا کیساتھ ترقی کے دور میں ہم پلہ بنانا ہے۔انھوں نے کہا کہ 15 صنعتی اداروں میں طلبہ کو ان جاب ٹریننگ کے مواقع فراہم کر رہے ہیں جن میں زیر تربیت طلبہ کو مالی وظیفہ بھی دیا جائے گا۔معاون خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ تقریبا 4 بلین روپے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ کے شعبے میں پاس آؤٹ ٹرینیز کو اخوت فاؤنڈیشن کے ذریعے قرضہ کی شکل میں دئے جائیں گے جس سے وہ اپنے لئیے کوئی ٹیکنیکل یا ہنر پر مبنی روزگار یا کاروبار شروع کریں گے۔انھوں نے ٹیوٹ سیکٹر کے چوتھے مرحلے میں خواتین کے ڈیجیٹل سکلز ڈویلپمنٹ کو انتہائی مفید اقدام قرار دیا اور کہا کہ اس منصوبے سے ہماری بچیاں استفادہ اٹھائیں گی۔انھوں نے اس سلسلے میں صوبائی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ورکشاپ میں سٹیک ہولڈرز کی جانب سے سوال وجواب کا سیشن بھی ہوا اور چوتھے مرحلے کوزیادہ مفید اور موثر بنانے کیلئے اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن بنانے پر مسلم لیگ ن کے اوسان خطا ہوگئے ہیں،

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن بنانے پر مسلم لیگ ن کے اوسان خطا ہوگئے ہیں، جوڈیشل کمیشن کے قیام پر لیگی رہنماوں بالخصوص مریم نواز کی چیخیں نکل رہی ہیں، لیگی رہنما جوڈیشل کمیشن پر بے جا تنقید کررہے ہیں، بے جا تنقید کا مطلب ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال کالی ہے۔ مسلم لیگ کی جعلی حکومت خود بھی جوڈیشل کمیشن بنانے کے لئے تیار نہیں اور صوبے کے جوڈیشل کمیشن پر بھی تنقید کررہے ہیں۔ عمران خان نے پہلے دن ہی کہا تھا کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ 9 مئی کو جواز بناکر مینڈیٹ چور سرکار نے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی بھی ناکام کوشش کی۔ مخصوص نشستوں کے کیس کی طرح پی ٹی آئی 9 مئی کے کیسز میں بھی سرخرو ہو گی۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائیگا، جوڈیشل کمیشن رپورٹ مسلم لیگ ن کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی، فارم 47 کی جعلی حکومت کا پی ٹی آئی کے خلاف ہر حربہ ناکام ہوگیا ہے، جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد جعلی حکومت کو ایک، ایک زیادتی کا حساب دینا ہوگا۔

پی ٹی آئی کا پہلا اور حتمی ہدف خیبر پختونخوا کو مسائل کی دلدل سے نکال کر

پی ٹی آئی کا پہلا اور حتمی ہدف خیبر پختونخوا کو مسائل کی دلدل سے نکال کر دیر پا ترقی کی راہ پر گامزن کرنا اور خدمات کی فراہمی کے نظام تک عوام کی یکساں رسائی کو یقینی بنانا ہے

مخالفین کی طرف سے منفی پروپیگنڈے کے باوجود عوام کی پی ٹی آئی کے طرز حکومت پر اعتماد میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ آئے دن پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پختون یار خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت چند دنوں کی مہمان ہے اس کو مظلوم عوام کی بدعائیں لگی ہیں جلد ہی مرکز میں پی ٹی آئی برسر اقتدار آئے گی موجودہ صوبائی حکومت نے قائد پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی فلاحی ریاست کے قیام کے وژن کے تحت عوام کی فلاح وبہبود کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں جن سے عوام بلاتفریق مستفید ہورہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کے موقع پر کیا انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کی ترقیاتی حکمت عملی کا مقصد شہریوں کے طرز زندگی کو بہتر بنانا اور انہیں دور جدید کی تمام سہولیات فراہم کرنا ہے انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کا پہلا اور حتمی ہدف خیبر پختونخوا کو مسائل کی دلدل سے نکال کر دیر پا ترقی کی راہ پر گامزن کرنا اور خدمات کی فراہمی کے نظام تک عوام کی یکساں رسائی کو یقینی بنانا ہے خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت نے اپنے اقدامات سے ثابت کیا ہے کہ یہ واحد سیاسی جماعت ہے جو عوام کے حقوق کیلئے کھڑی ہے انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے عوامی نمائندگی کا حق ادا کرنے کیلئے اپنی استعداد سے بڑھ کر اقدامات اٹھارہی ہے اور اس نے بے شمار چیلنجز اور مسائل کے باوجود فلاح انسانیت کے منشور پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ مخالفین کی طرف سے منفی پروپیگنڈے کے باوجود عوام کی پی ٹی آئی کے طرز حکومت پر اعتماد میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ آئے دن پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رواں سال تین ماہ مئی سے جولائی تک 90 لاکھ سیاحوں نے خیبرپختونخوا کا رخ کیا جو پچھلے سال کے مقابلے میں سو فیصد زیادہ ہے مشیر خزانہ مزمل اسلم

 ہمارا اگلا ہدف غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے تاکہ لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر ہوسکیں اور صوبے کی معیشت بہتر ہو۔ مشیر خزانہ مذمل اسلم

 وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر اگلے سال سے چار نئے سیاحتی زونز قائم کیا جائیں گے۔ مشیر سیاحت زاہد چن زیب

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کی زیر صدارت محکمہ سیاحت کا اجلاس انکے دفتر سول سیکریٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا جس میں مشیر سیاحت زاہد چن زیب، ممبران صوبائی اسمبلی افتخار محمد خان جدون، رجب علی عباسی، سیکرٹری سیاحت محمد بختیار خان،سیکرٹری سیاحت محمد بختیار خان، چیف پلاننگ آفیسر سیاحت زین اللہ شاہ سمیت متعدد حکام نے شرکت کی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل کو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ رواں سال پہلی مئی سے جولائی تک 90 لاکھ سیاحوں نے خیبرپختونخوا کا رخ کیا جبکہ سیاحوں کی آمد پچھلے سال کے مقابلے میں سو فیصد زیادہ ہے اسی طرح پچھلے سال 45 لاکھ سیاحوں نے خیبرپختونخوا کا رخ کیا تھا۔ بریفینگ میں بتایا گیا کہ ڈھائی ہزار غیر ملکی سیاح بھی خیبرپختونخوا کی ٹھنڈی فضاؤں سے لطف اندوز ہوئے۔ مزمل اسلم نے محکمہ سیاحت کی کارکردگی کو سراہا بالخصوص مشیر سیاحت زاہد چن زیب کی شبانہ روز کاوشوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت میں سو فیصد اضافہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بہتری اور مہیا کردہ سیاحتی سہولیات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بریفینگ میں بتایا گیا کہ رواں سال 26 لاکھ سیاحوں نے سوات کا رخ کیا ہے جبکہ 35 لاکھ سیاح گلیات کے پرفضا مقامات سے لطف اندوز ہوئے اور چترال کاغان میں 25 لاکھ سیاحوں کی آمد ریکارڈ ہوئی اس کے علاؤہ ہزاروں سیاح خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں سے لطف اندوز ہوئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ قابل فخر بات یہ ہے کہ 90 لاکھ سیاحوں کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ بھی پیش نہیں آیا جبکہ چند ایک عوامی شکایات این ایچ اے کی شاہراہوں کے بارے میں موصول ہوئی ہیں اور ان شکایات کو صوبائی حکومت کی طرف سے این ایچ اے حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ مشیر خزانہ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہمارا اگلا ہدف غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہے جس سے نہ صرف مقامی لوگوں کو روزگار کے میسر ہونگے بلکہ صوبے اور ملک کی معیشت مضبوط ہوگی انہوں نے کہا کہ مقامی سیاحوں سمیت غیر ملکی سیاحوں کو بہتر سیکورٹی اور مزید سہولیات مہیا کی جائینگی تاکہ خیبرپختونخوا میں سیاحت کو مزید پرکشش بنایا جاسکے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ موسم سرما سیاحت کو بہتر اور منفرد بنانے کیلئے تمام اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ گرما کی طرح سرما سیاحت کو بھی مزید کامیاب بنایا جاسکے۔ اور سال بھر سیاحتی سرگرمیاں جاری رکھی جا سکیں۔ مشیر سیاحت خیبرپختونخوا زاہد چن زیب نے کہا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی خصوصی ہدایات کے تحت اگلے سال سے چترال، مانسہرہ اور کاغان میں چار نئے سیاحتی زونز قائم کے جائینگے جن سے سیاحوں کو نئے پرفضا مقامات دیکھنے کا موقع ملے گا اور وہ ان سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہونگے