سیکرٹری لائیو سٹاک،ماہی پروری اور کو آپریٹو خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد اسرار نے اینیمل ہسبنڈری ان سروس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (اے ایچ آئی ٹی آئی) پشاوع کا دورہ کیا اور سنٹر کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا۔اس موقع پر پرنسپل اے ایچ آئی ٹی آئی میاں احد اللہ اور دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔سیکرٹری لائیو سٹاک نے اپنے دورے کے دوران انسٹی ٹیوٹ کے ٹریننگ فیسیلٹی کلاس روم،زنانہ و مردانہ ہاسٹل سیمینار روم اور دیگر تربیتی حصوں میں کا م کی پیش رفت اور نوعیت کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا جبکہ اس موقع پر انہیں انسٹی میں جانوروں کے پالنے کی تکنیکی تربیت،مشاورتی خدمات اور کورسز کی تکمیل کے اقدامات اور دیگر سر انجام دیئے جانے والے اہم امور کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی۔سیکرٹری لائیو سٹاک نے انسٹی ٹیوٹ کے جائزہ کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے میٹ ٹریننگ فیسیلیٹی سنٹر کے چلانے میں یونیڈو اور جیکاکے تعاون کو سراہتے ہوئے ان کی جانب سے پاکستان میں اس منصوبے کے لیئے خیبر پختونخوا کا انتخاب کرنے اور پھر اینیمل ہسبنڈری ان سروس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کی فعالیت کو ترجیح دیتے ہوئے اس منصوبے میں سرمایہ کاری پر ان کا شکریہ ادا کیاجس میں قصابوں کو کچھ عرصہ کے دوران مویشیوں کے ذبح کرنے سمیت اہم امور کی تربیت دی جا ئے گی۔ انہوں نے پرنسپل اے ایچ آئی ٹی آئی کوہدایت کی کہ انسٹی ٹیوٹ کو مزید بہتر بنانے کے لیئے جدید ضروریات اور سہولیات پر مبنی منصوبہ سے متعلق انہیں رپورٹ بھیجیں تاکہ اس انسٹی ٹیوٹ کو مزید بہتر سے بہتر بنایا جاسکے جس سے مویشی پال زمیندار خاطر خواہ فوائد حاصل کر سکیں۔
پورے ملک کا استحکام ضم اضلاع میں امن و استحکام سے وابستہ ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و املاک کے تحفظ میں پولیس کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے،ملک دشمن عناصر کے خلاف پالیسی بڑی واضح ہے،اس سلسلے میں مرکزی و صوبائی حکومتیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام سب ایک پیج پر ہیں۔ پورے ملک کا استحکام ضم اضلاع میں امن و استحکام سے وابستہ ہے، سابقہ فاٹا کا انتظامی انضمام تو مکمل ہو چکا مگر مالی انضمام بدستور نامکمل ہے جو خصوصی توجہ کا متقاضی ہے، قومی سطح پر موجودہ مالی عدم استحکام کی وجہ سے ضم اضلاع میں بھی ترقی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ ضم اضلاع کی فنڈنگ کا مسئلہ وزیراعظم کے ساتھ اٹھا رکھا ہے، امید ہے جلد صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں زیر تربیت اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹس آف پولیس (اے ایس پیز) پر مشتمل مطالعاتی دورے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چودھری، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ عابد مجید اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ زیر تربیت پولیس افسران کو اس موقع پر محکمہ داخلہ اور محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے اعلی حکام کی جانب سے صوبے کی ڈیموگرافی، امن و امان کی صورتحال، صوبے میں امن کی بحالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات، ترقیاتی پورٹ فولیو، مجموعی معاشی صورتحال،ضم اضلاع کے مسائل اور دیگر اہم امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ نگران وزیر اعلیٰ سید ارشد حسین شاہ نے مطالعاتی دورے پر آنے والے اے ایس پیز کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یقینی طور پر آپ لوگوں نے پولیس سروس میں شامل ہونے کے لیے بڑی محنت کی ہے اور ملک و قوم کی خدمت کے لیے خود کو پیش کیا ہے۔ انہوں نے زیر تربیت پولیس افسران سے کہا کہ وہ فرض شناسی، ایمانداری اور حق کی حمایت کو اپنا شعار بنائیں، ظلم اور برائی کے خلاف سینہ سپر رہیں اور مظلوم انسانیت کی حمایت کریں، ہماری زندگی، یہ عہدے اور مرتبے سب امانت ہیں، کوشش کرنی چاہیے کہ ان میں خیانت نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک و قوم کے محافظ ہونے کی وجہ سے پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز پر بڑی بھاری ذمہ داری ہے،امن و امان کے قیام اور ملک و قوم کے تحفظ میں پولیس نے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے اور اس مقصد کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ خیبرپختونخوا پولیس کے کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشد حسین شاہ نے کہا کہ ہمارے جوانوں نے صوبے میں دہشت گردی کا ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ہمارے اداروں کا مورال بلند یے، چیلنجز ضرور ہیں مگر حوصلے بلند ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی ملک کے خلاف ہے وہ ہم سب کا دشمن ہے، جو ریاست کے آئین کو نہیں مانتا اس کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا۔ وزیر اعلی نے ضم اضلاع میں ترقیاتی و فلاحی عمل کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ضم اضلاع کی فلاح و ترقی ترجیح یے، اس سلسلے میں باضابطہ منصوبہ بندی کی گئی ہے، تاہم قومی سطح پر مالی مسائل کی وجہ سے ضم اضلاع کی فلاح و ترقی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انضمام کے وقت جو وعدے کیے گئے تھے، بدقسمتی سے ابھی تک پورے نہیں ہوئے، یہی وجہ ہے کہ ضم اضلاع میں ترقی کا عمل رکا ہوا ہے۔ ارشد حسین شاہ کہا کہنا تھا کہ وہ ضم اضلاع کے سلسلے میں نہایت سنجیدہ ہیں اور پر امید ہیں کہ نگران وزیراعظم کے تعاون مسائل پر جلد قابو پا لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نگران صوبائی حکومت ضم اضلاع کے عوام کو درپیش مسائل سے بخوبی واقف ہے اور فلاحی سرگرمیوں میں ان اضلاع کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ہم جلد خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام کا اجراء کریں گے جس کے تحت نوجوانوں کو بین الاقوامی مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق فنی تربیت دیکر روزگار کے لیے باہر بھیجیں گے، اس پروگرام کے تحت بھی ضم اضلاع کے نوجوانوں کو پہلی ترجیح دی جائے گی۔ ارشد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ حتمی مقصد نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کرکے انہیں منفی سرگرمیوں سے بچانا ہے، اس طرح وہ نا صرف وہ اپنے لیے کمانے کے قابل ہوں گے بلکہ ایک ذمہ دار فرد کے طور پر قومی ترقی و خوشحالی میں بھی کردار ادا کر سکیں گے۔
شہید پولیس ہیڈ کانسٹیبل بنوں محمداشرف خان کی نماز جنازہ پولیس لائن میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کردی گئی۔
بنوں میں شہید پولیس ہیڈ کانسٹیبل محمداشرف خان کی نماز جنازہ پولیس لائن میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کرنے کے بعد شہید کے جسد خاکی کو ان کے آبائی گاؤں کو روانہ کر دیا گیا ہے جہاں پر شہید کو پورے سرکاری اعزاز کیساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔نماز جنازہ میں ریجنل پولیس آفیسر بنوں ڈویژن قاسم علی خان اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بنوں افتخار شاہ سمیت پولیس افسران و اہلکاروں اور مقامی افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔واضح رہے کہ شہید پولیس ہیڈ کانسٹیبل بنوں محمد اشرف تھانہ صدر میں تعینات تھے اور انسدادِ پولیو مہم کے دوران اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے نامعلوم دہشتگردوں کی فائرنگ سے زخمی ہوئے،ا نہیں علاج معالجے کی خاطر لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور ریفر کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتہ ہوئے شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔آر پی او بنوں قاسم علی خان اور دیگر پولیس آفسران نے قومی پرچم میں لپٹے شہید کے تابوت پر پھول چڑھائے اور ان کی مغفرت کے لئے خصوصی دعا کی۔ اس موقع پر ریجنل پولیس آفیسرقاسم علی خان نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہید پولیس اہلکار محمد اشرف خان جیسے جوان ہمارا فخر ہیں جنہوں نے ملک و قوم کی سلامتی و بقا کی خاطر اپنی جان قربان کردی،ہم ان جانبازوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ دہشتگرد اپنے ناپاک عزائم سے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے، ہم ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور ان کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیں گے۔
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کا پشاور میں چھٹی کے دن بھی چھاپوں کا سلسلہ جاری
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کا صوبہ بھر میں ملاوٹ مافیا کا خاتمہ اور شہریوں کو معیاری اور ملاوٹ سے پاک خوردونوش اشیاء کی فراہمی کیلئے کاوشیں جاری رکھتے ہوئے پشاور فوڈ سیفٹی نے چھٹی کے روز بھی باچا خان چوک، کوہاٹ روڈ اور پشاور موٹر وے ٹول پلازہ پر کاروائیاں کیں اور سینکڑوں کلوگرام غیر معیاری گوشت اور دودھ پکڑ کر موقع پر تلف کر دیا گیا اس سلسلے میں ترجمان حلال فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ فوڈ سیفٹی ٹیموں نے گزشتہ روز باچا خان چوک میں قصائیوں پر اچانک چھاپہ مارا قصائی فوڈ اتھارٹی کے اہلکاروں کو دیکھتے ہی فرار ہو گئے تفصیلات کے مطابق قصائی کم عمر بچھڑوں کا غیر معیاری گوشت سڑک کے کنارے صفائی کی انتہائی ناقص صورتحال میں بیچ رہے تھے فوڈ افسران نے1000 کلو گرام سے زائد غیر معیاری گوشت پکڑ کر تلف کیا اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے قصائی کی موٹر سائیکل کو سرکاری تحویل میں لیا،اسی طرح فوڈ اہلکاروں نے کوہاٹ روڈ پر ناقہ بندی بھی کی جس کے دوران موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیب سے دودھ ٹینکرز سے دودھ کے نمونوں کی چیکنگ کی گئی اور تمام سیمپلز تسلی بخش پائے گئے۔مزید تفصیلات دیتے ہوئے بتایا گیا کہ فوڈ سیفٹی ٹیم نے پشاور موٹر وے ٹول پلازہ پر بھی ناکہ بندی کی اور انسپکشن کے دوران 36 بسوں، 9 عدد دودھ، 5 عدد شہد،3 عدد مچھلی، 21 عدد مرغیوں اور 13 دیگر خوراکی اشیاء سپلائی کرنے والی گاڑیوں کے معائنے کیے گئے،موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیب سے دودھ کے 35 نمونے چیک کیے گئے اور پانچ سیمپلز میں پانی کی ملاوٹ پائی جانے پر جرمانے عائد کیے گئے اور 100 لیٹرز ملاوٹی دودھ موقع پر تلف کر دیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل حلال فوڈ اتھارٹی شفیع اللہ خان نے کامیاب کاروائیوں کو سراہتے ہوئے ہدایت دی کہ خیبرپختونخوا کو دوسرے صوبوں سے داخلی راستوں پر دودھ ٹینکرز کی باقاعدگی سے چیکنگ ہر صورت یقینی بنائیں تاکہ صوبے کو خالص دودھ کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا کی حضرت کاکاصاحب کے مزار پر حاضری
خیبرپختونخوا کے نگران وزیر اطلاعات،ثقافت و سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے شیخ المشائخ حضرت کاکاصاحب ‘المعروف شیخ رحمکار صاحب’ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی اور رب العالمین کے حضور ملک کی سلامتی، معاشی استحکام، خوشحالی اور پائیدار امن کے لئے خصوصی دعائیں کیں۔نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے اس موقع پر رب العالمین کے حضور خیبرپختونخوا میں امن و امان کی پائیداری، عوام کی خوشحالی اور اتحاد و اتفاق کے لئے بھی خصوصی دعا کی۔انہوں نے اس موقع پر رب العالمین کے حضور نہتے اور مظلوم مسلمانوں خصوصاً غزہ کے فلسطینیوں اور مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کے لئے جدوجہد میں کامیابی کے لئے خصوصی دعا کی۔بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے تنگ دستی اور افلاس سے نجات اور رزق کی فراوانی کے لئے بھی خصوصی دعائیں کی۔اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ان بزرگانِ دین نے اسلام کی تبلیغ اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے اسوہ حسنہ کو دوسروں تک پہنچانے میں زندگیاں صرف کیں یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان بزرگانِ دین کی تعلیمات اور طرزِ زندگی مشعل راہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی موجودہ مسائل سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔نوشہرہ کا دورہ کرتے ہوئے نگران صوبائی وزیر بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے اس سے پہلے حضرت کاکاصاحب کے دربار پر حاضری دی، کچھ دیر وہاں قیام کیا، فاتحہ پڑھی اور دعائیں کیں، بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل اپنے والد محترم حضرت میاں جمال شاہ کاکاخیل مرحوم و دیگر مرحومین کے مزاروں پر بھی حاضر ہوئے اور ایصال ثواب کے لئے دعائیں کیں۔
بد عنوانی کے خلاف جدوجہد، کرپشن کا خاتمہ، اور عوام میں شعور بڑھانے کی ضرورت ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا
نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ بد عنوانی ایک ایسی معاشرتی برائی ہے جو کسی بھی معاشرے کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے، بدعنوانی پر مبنی نظام ہی کسی معاشرے کی تباہی اور بربادی کیلئے کافی ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بدعنوانی کو ہمیشہ سے سماجی و معاشی ترقی کیلئے ناسور سمجھا جاتا ہے ۔ اُنہوںنے مزید کہاکہ بد عنوانی کی وجہ سے کسی بھی ملک میں ترقیاتی سرگرمیاں ماند پڑ جاتی ہیں ، نظام پر عوام کا اعتماد اُٹھ جاتا ہے ۔ کرپشن کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس میں ہمیں اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اُنہوںنے واضح کیا کہ صوبائی حکومت شفافیت کو فروغ دینے اور بد عنوانی کے خاتمے کیلئے نہ صرف پر عزم ہے بلکہ سنجیدہ اقدامات بھی اُٹھا رہی ہے ۔ ہم خوشحال خیبرپختونخوا وژن متعارف کرا رہے ہیں جس کا اہم ترین جز بد عنوانی کے خلاف زیر و ٹالرنس پالیسی ہے ۔ ہم عوامی خدمات کی فراہمی کے تمام مراکز او ردفاتر کی کڑی نگرانی کریں گے اور برائی اور بدعنوانی جہاں شروع ہو تی ہے ہم وہیں پر اسے ختم کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوںنے جمعرات کے روز نشتر ہال پشاور میںقومی احتساب بیورو خیبرپختونخوا اور صوبائی اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کے زیر اہتمام انسداد بدعنوانی کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نگران کابینہ اراکین ، اعلیٰ سرکاری حکام ، طلبہ اورسول سوسائٹی کے نمائندوں نے سمینار میں شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بدعنوانی کی وجہ سے بہت سے سماجی، معاشی اور مالی مسائل جنم لیتے ہیں جو رفتہ رفتہ پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ بدعنوانی سے معاشرے میں عدم مساوات ، عدم انصاف اور ظلم کو فروغ ملتا ہے اور اس طرح مجموعی طور پر پورا معاشرہ اخلاقی گراوٹ ، پستی اور انتشار کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اسلئے بدعنوانی کا تدارک ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ کرپشن کا خاتمہ ایک جہاد ہے جس میں ہم سب کو اپنا اجتماعی اور انفرادی کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ کا کہناتھا کہ نگران دور کے مختصر وقت میں ہم کوئی اور بڑا کام نہ بھی کر سکیں تاہم کرپشن کے خلاف ایک موثر میکنزم ضرور تیار کریں گے ۔ یہ امر انتہائی خوش آئند ہے کہ نیب خیبرپختونخوا اور صوبائی اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ بدعنوانی کے خلاف متحرک ہیں۔ نیب میں اصلاحات کا عمل بھی قابل تعریف ہے ۔ صوبائی حکومت صوبے سے کرپشن کے خاتمے کیلئے نیب کے شانہ بشانہ رہے گی ۔ ارشد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ عوام میں بدعنوانی کے خلاف شعور اُجاگر کرنے اور سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ مساوات ، شفافیت ، عدل و انصاف اور میرٹ کا بول بالا ہی بہتر طرز حکمرانی کی اصل روح ہیں ۔بد عنوانی ایک معاشرتی برائی ہے اور معاشرتی برائیاں معاشروں کی تباہی کا سبب بنتی ہیں ۔ معاشرتی برائیوں کو روکنے کیلئے ہم سب نے اپنا کردار ادا کرنا ہے ۔ اُنہوںنے کہاکہ ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ صوبے سے کرپشن کے خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔
خیبر پختونخوا حکومت کی ہدایت پرمحکمہ لائیو سٹاک کے تحت آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد
خیبر پختونخوا حکومت اور نگران صوبائی وزیر زراعت،لائیو سٹاک،فشریز،خوراک اورجنگلات آصف رفیق اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخواکی ہدایت پر محکمہ لائیو سٹاک کے حوالے سے عوام کو درپیش مسائل اور ان کے فوری حل کے لیے محکمہ لائیو سٹاک کے زیراہتمام آن لائن کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں سیکرٹری لائیو سٹاک،ماہی پروری اور کوآپریٹو ڈاکٹر محمد اسرار اور دیگر متعلقہ حکام نے کسانوں سے مسائل سنے اور ان کے فوری حل کے لئے احکامات جاری کیئے۔آن لائن کھلی کچہری میں ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر عالمزیب مہمند، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک ریسرچ ڈاکٹر اعجاز علی، ڈائریکٹر جنرل فشریز ڈاکٹر حسرو کلیم، کوآپریٹیو رجسٹرار فرحان خان اور دیگر افسران و عملے نے شرکت کی۔آن لائن کھلی کچہری میں صوبہ بھر کے مختلف اضلاع سے زمینداروں نے درپیش مسائل اور شکایات کے بارے میں حکام کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔آن لائن اور ویڈیو کالز کے ذریعے 50 سے زائد سائلین نے اپنے مسائل اور مشکلات کو ریکارڈ کروایا۔ مویشی پال زمینداروں نے مویشیوں کی ادویات کی کمی،ان کے معیار، لیباٹریوں کے قیام، ویکسین کی بروقت فراہمی کوآپریٹوبینک کے لیے فنڈز کی دستیابی، مچھلیوں کے لئے ہچری فارمز کے قیام،بعض علاقوں میں موبائل وٹرنری کلینکس کی عدم موجودگی،ماڈل ڈیری فارمز کا قیام، ہسپتالوں میں جانوروں کے علاج معالجے کے امور اور درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔ آن لائن کھلی کچہری میں زیادہ تر مویشی پال زمینداروں نے حکومت اورمحکمہ لائیو سٹاک کی جانب سے زمینداروں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔ اس موقع پر شکایات اور تجاویز سننے کے بعد سیکرٹری لائیو سٹاک ڈاکٹر محمد اسرار نے آن لائن کھلی کچہری کے دوران بڑی تعداد میں زمینداروں کی شرکت کو خوش آئند قرار دیااور کہا کہ زمینداروں کی جانب سے آن لائن فراہم کی جانے والی تجاویز انتہائی مفید ہیں اوران پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آ ن لائن کھلی کچہری کا بنیادی مقصد لوگوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بروقت اور بھر پور اقدامات اٹھانا ہے اور اور ترقی میں جہاں پر کوئی کمی یا حکومتی منصوبے کسی تاخیر کا شکار ہوں ان کی نشاندہی کرنا ہے کھلی کچہری کے موقع پر سیکرٹری لائیو سٹاک نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ مویشی پال زمینداروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے کیونکہ دیہی علاقوں کے عوام کے روزگارکا زیادہ تر انحصار مال مویشی پر منحصرہے۔
نگران وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا کی زیر صدارت جرنلسٹس ویلفیئر انڈوومنٹ فنڈ کمیٹی کا اجلاس۔
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اطلاعات،ثقافت و سیاحت بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے ہدایت کی ہے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے جرنلسٹس ویلفیئر انڈوومنٹ فنڈ رولز کے تحت مالی مشکلات سے دوچار صحافیوں کی درخواستوں پر کارروائی تیز کی جائے اور تمام پہلوؤں سے مکمل درخواستیں کمیٹی میں پیش کی جائیں تاکہ صحافیوں کو بروقت امداد مل سکے. یہ ہدایات انہوں نے سول سیکریٹریٹ میں منعقدہ جرنلسٹس انڈوومنٹ ویلفیئر فنڈ کمیٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے د یں. اجلاس میں سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ حکومت خیبرپختونخوا سید جبار شاہ، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات و تعلقات عامہ محمد عمران خان، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز لیاقت آمین، پریس رجسٹرار انصاراللہ خلجی کے علاوہ کمیٹی ممبران بجٹ آفیسر محکمہ فنانس محمد ایوب، صدر پریس کلب پشاور ارشد عزیز ملک، صدر مردان پریس کلب بخت محمد و دیگر نے شرکت کی. اجلاس کو بتایا گیا کہ کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں فنڈ رولز میں ترامیم پر کام جاری ہے. نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے فنڈ رولز میں ترامیم پر کام تیز کرنے کی ہدایت بھی کی. انہوں نے کہا کہ بیروزگاری اور پنشن الاؤنس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تاکہ بیروزگار اور مالی مشکلات سے دوچار سینئر صحافیوں کی بہتر طریقے سے مدد ہو سکے، انہوں نے کہا کہ فنڈ سے متعلق اجلاس باقاعدگی کے ساتھ منعقد کئے جائیں تاکہ مالی معاونت کی درخواستیں تاخیر کا شکار نہ ہوں. یاد رہے کہ نگران وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل کی زیر صدارت کمیٹی کا یہ دوسرا اجلاس تھا جس میں مختلف صحافیوں کی جانب سے مالی معاونت کے لئے بھیجی گئی درخواستیں پیش کی گئیں اس موقع پر مکمل درخواستوں پر مالی معاونت کی منظوری دی گئی. اجلاس سے خطاب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحافی مشکل حالات میں فرائض انجام دیتے ہیں جبکہ حکومتی معاملات میں شفافیت لانے اور حکومتی اقدامات عوام تک پہنچانے میں صحافیوں کا کلیدی کردار ہے. ایسے میں جب صحافی پیشہ ورانہ زمہ داریوں کے دوران بیماری کا شکار ہوں یا ضعیف العمر ہوجائیں تو فنڈ رولز کے تحت ان کی دیکھ بھال کے لئے ہمیں اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن ادا کرنی چاہیے جبکہ اس نیک کام میں دیر نہیں ہونی چاہیئے۔
نگران وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت امریکن قونصل جنرل کی ملاقات، دو طرفہ تعلقات اور تعاون پر گفتگو
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ سے منگل کے روز پشاور میں تعینات امریکن قونصل جنرل شانتی مور نے وزیراعلیٰ ہاو¿س پشاور میں ملاقات کی ۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کی امور اور دو طرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیا ل کیا گیا ۔ مختلف شعبوں میں صوبائی حکومت اور امریکی ترقیاتی اداروں کے درمیان اشتراک کار اور تعاون سے متعلق معاملات پر گفتگو ہوئی ۔ نگران وزیراعلیٰ ارشد حسین شاہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت مختلف شعبوں میں امریکی حکومت اور اداروں کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ، امید ہے سوشل سیکٹرز میں امریکی حکومت صوبے کے ساتھ تعاون کا یہ سلسلہ مزید بہتر انداز میں جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت اور امریکی ترقیاتی ادارے مختلف شعبہ جات بشمول پولیس، تعلیم، صحت، زراعت میں تعاون فراہم کر رہے ہیں جو قابل ستائش ہے۔ ارشد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں دوست ممالک اور ڈونر ایجنسیوں کے تعاون کی اشد ضرورت ہے کیونکہ کئی دہائیوں پر محیط بد امنی کی وجہ سے یہ علاقے ترقی کے میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں ۔ ان جنگ زدہ علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ضم اضلاع میں روڈ انفراسٹرکچر کی تعمیر ، امن و امان کو بہتر بنانا، تعلیم و صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ امن و امان کو یقینی بنانے کے لئے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔ نگران صوبائی حکومت ان شعبوں میں امریکی تعاون کا خیر مقدم کرے گی اور اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ امریکی قونصل جنرل شانتی مور نے اپنی گفتگو میں کہا کہ امریکی حکومت خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر عوامی فلاح و بہبود کے کاموں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین دوستانہ اور دیرینہ تعلقات قائم ہیں جنہیں مزید مستحکم اور مضبوط بنایا جائے گا۔
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت امن و امان کے اجلاس میں اقدامات پر غور
نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت منگل کے روز امن و امان سے متعلق ایک اہم اجلاس وزیر اعلیٰ ہاو¿س پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبہ بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ضم اضلاع میں پولیس کو مستحکم کرنے سے متعلق امور پر غور و خوص کیا گیا۔ نگران صوبائی وزراءڈاکٹر عامر عبداللہ، بیرسٹر فیروز جمال شاہ کا کاخیل کے علاو¿ہ چیف سیکرٹری ندیم اسلم چودھری، انسپکٹر جنرل آف پولیس اختر حیات خان گنڈاپور، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محمد عابد مجید اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ تمام ڈویژنل کمشنرز اور ریجنل پولیس آفیسرز بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے وزیر اعلی کو صوبہ بھر میں امن وامان کی مجموعی صورتحال، درپیش مسائل، پولیس کے اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی گئی۔ نگران وزیر اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کو برقرار رکھنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گااوراس مقصد کے لئے پولیس کو تمام تر درکار وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام کے لئے پولیس فورس کی کوششیں قابل تحسین ہیں تاہم موجودہ حالات کے تناظر میں پولیس فورس کو مزید بہتر اور مربوط انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبے میں امن و امان کو بحال رکھنے کے لئے پولیس کی تمام درکار ضروریات پوری کی جائیں گی اور پولیس جوانوں کے مورال کو ہر قیمت پر بلند رکھا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ضم اضلاع میں پولیس کی استعداد کو بڑھانے کے لئے فوری طور پر قابل عمل پلان ترتیب دیا جائے جبکہ صوبائی حکومت اس پلان پر عملدرآمد کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی ہدایت کی کہ اچھی کارکردگی کے حامل پولیس جوانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے میکنزم تیار کیا جائے جبکہ سنگین جرائم اور دہشتگردی کے واقعات میں ملوث عناصر کو سزائیں دلانے کے لئے استغاثہ کے موجودہ نظام کو بہتر بنانے پر کام کیا جائے۔
