Home Blog Page 72

کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف ترمیمی بل 2026 پر خصوصی کمیٹی کا تفصیلی غور، خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی پر زور

خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق کا اجلاس جمعہ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین خصوصی کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی منیر حسین لغمانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین اصف مسعود اور محترمہ ستارہ آفرین کے علاوہ سیکرٹری قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق، محکمہ قانون کے متعلقہ افسران اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ”کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف ترمیمی بل 2026“ پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ یہ بل 16 اپریل 2026 کو صوبائی اسمبلی کے ایوان کی جانب سے مزید جانچ، مشاورت اور سفارشات کی تیاری کے لیے خصوصی کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا۔ کمیٹی کے اراکین نے بل کی مختلف شقوں، قانونی پہلوؤں اور خواتین کے تحفظ سے متعلق مجوزہ اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس حوالے سے اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔سیکرٹری قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف قانون پہلی مرتبہ 2010 میں نافذ کیا گیا تھا، جبکہ بعد ازاں 2021 میں اس کے انتظامی و قانونی معاملات محکمہ قانون کے سپرد کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2025 میں ہراسمنٹ سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے تمام صوبوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے قوانین کو عدالتی احکامات کے مطابق ہم آہنگ بنائیں۔ اسی تناظر میں محکمہ قانون نے موجودہ قانون میں ضروری ترامیم اور اصلاحات تجویز کی ہیں۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ موجودہ قانون کا اطلاق بنیادی طور پر سرکاری اداروں تک محدود تھا، تاہم مجوزہ ترامیم کے ذریعے اس کا دائر? کار نجی شعبے تک بھی وسیع کیا جا رہا ہے۔ بل میں ”ملازم“ اور ”طالب علم“ جیسی اصطلاحات کو شامل کرنے، محتسبِ اعلیٰ کے اختیارات میں توسیع کرنے اور بعض انتظامی امور میں تبدیلی کی تجاویز دی گئی ہیں۔ مجوزہ قانون کے تحت متعلقہ رپورٹس اور سفارشات گورنر کے بجائے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو پیش کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔اجلاس کے دوران رکن اسمبلی اصف مسعود نے تجویز پیش کی کہ خواتین کو ہراساں کرنے کے مرتکب افراد کے لیے سزاؤں کو مزید مؤثر اور سخت بنایا جائے تاکہ ایسے جرائم کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی منیر حسین لغمانی نے محکمہ قانون کو ہدایت کی کہ کمیٹی اراکین کی تمام قابلِ عمل تجاویز کو ترمیمی بل میں شامل کیا جائے تاکہ خواتین کو کام کی جگہ پر محفوظ، باوقار اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ اجلاس میں مجوزہ ترمیمی بل کا شق وار اور حتمی جائزہ لے کر سفارشات مرتب کی جائیں گی۔

صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن کی صدارت میں ہیلتھ کیئر کمیشن کے اہم اجلاس کا انعقاد، صحت کے نظام میں معیار اور احتساب کے فروغ کے عزم کا اعادہ

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمن نے ہیلتھ کیئر کمیشن کے ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں چیف ایگزیکٹو آفیسراور کمیشن کے دیگر اراکین سمیت سیکریٹری صحت شاہد اللہ خان اور محکمہ صحت کے متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے وزیر صحت کو کمیشن کی مجموعی کارکردگی، جاری اصلاحاتی اقدامات، ریگولیٹری سرگرمیوں، معائنہ جاتی کارروائیوں اور مستقبل کے اہداف کے حوالے سے ایک جامع بریفنگ دی جس میں صوبے بھر میں صحت کی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کمیشن کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔سی ای او نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ صحت کی سہولیات کے معیار کو برقرار رکھنے اور ریگولیٹری فریم ورک کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے متعدد انتظامی، مالی اور قانونی رکاوٹیں موجود ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بعض موجودہ قوانین میں خامیوں کے باعث قواعد و ضوابط پر مؤثر عملدرآمد میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اسی طرح جرمانوں اور سزاؤں سے متعلق قانونی معاملات، جرمانوں کی عدم ادائیگی، غیر قانونی طور پر سیل شدہ مراکز کو دوبارہ کھولنے (De-sealing) کے واقعات، اور قانون شکن اداروں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قانونی اصلاحات کی ضرورت ہے۔اجلاس میں صحت کے شعبے میں معیار، مریضوں کی حفاظت، نجی و سرکاری صحت مراکز کی رجسٹریشن، لائسنسنگ، مانیٹرنگ اور احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے مختلف پہلوؤں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر کمیشن کی استعداد کار میں اضافے، افرادی قوت کی ضروریات، مالی وسائل کی دستیابی اور جدید ریگولیٹری نظام کے فروغ سے متعلق تجاویز بھی پیش کی گئیں۔صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے کمیشن کی کارکردگی اور صحت کے شعبے میں معیاری خدمات کے فروغ کے لیے اس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہیلتھ کیئر کمیشن صوبے میں محفوظ، معیاری اور ذمہ دارانہ طبی خدمات کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ریگولیٹری اداروں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔وزیر صحت نے یقین دہانی کرائی کہ ہیلتھ کیئر کمیشن کی مالی، انتظامی اور قانونی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا تاکہ ادارہ اپنی ذمہ داریاں مزید مؤثر انداز میں انجام دے سکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کمیشن کو درپیش مسائل اور ضروریات کے حل کے لیے قابلِ عمل سفارشات مرتب کی جائیں اور ان پر جلد پیش رفت یقینی بنائی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا صحت کے نظام میں شفافیت، احتساب اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ صحت کے شعبے میں اصلاحات کا مقصد نہ صرف عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا ہے بلکہ مریضوں کے حقوق کا تحفظ اور صحت کے اداروں میں عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانا بھی ہے۔اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزیر صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ہیلتھ کیئر کمیشن کو مکمل تعاون فراہم کرے گی تاکہ صوبے بھر میں صحت کی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے اور ایک مضبوط، مؤثر اور عوام دوست صحت کا نظام تشکیل دیا جا سکے۔

Legislative Committee Reviews Key Reform Bills, Urban Property Tax Act in KP

A meeting of the Legislative Committee was held on Thursday under the chairmanship of Khyber Pakhtunkhwa Minister for Law, Human Rights and Parliamentary Affairs Aftab Alam to deliberate on a number of important legislative proposals aimed at strengthening the province’s legal and criminal justice framework.
The committee reviewed and discussed the Code of Criminal Procedure (Khyber Pakhtunkhwa) (Amendment) Bill, 2026, Khyber Pakhtunkhwa Witness Protection (Amendment) Bill, 2026, The Anti-Terrorism (Khyber Pakhtunkhwa) (Amendment) Bill, 2026, and The Khyber Pakhtunkhwa Prosecution Service (Constitution, Functions and Powers) (Amendment) Bill, 2026.
The meeting also took up the agenda item regarding the vetting of the Khyber Pakhtunkhwa Urban Immovable Property Tax Act, 2026, and discussed various legal and administrative aspects of the proposed legislation.
During the meeting, committee members and senior officials exchanged views on the proposed amendments and reforms, focusing on enhancing the effectiveness of law enforcement, prosecution mechanisms, witness protection measures and counter-terrorism efforts, while also improving the province’s taxation and legal governance framework.
Speaking on the occasion, Law Minister Aftab Alam underscored the importance of modernizing laws in accordance with contemporary requirements and ensuring that legislation serves the public interest through efficient and transparent governance.
The meeting was attended by Secretary Law, Human Rights and Parliamentary Affairs Akhtar Saeed Turk, Secretary Excise, Taxation and Narcotics Control Khalid Ilyas, and other relevant officials.
The committee decided to continue consultations on the proposed bills and incorporate recommendations from stakeholders before the legislation is finalized and presented for further consideration.

پشاور آفیسرز میس میں بنوں کے عمائدین کا امن گرینڈ جرگہ منعقد ہوا

پشاور آفیسرز میس میں بنوں کے عمائدین کا امن گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں بنوں میں امن و امان کی صورتحال، دہشتگردی کے خاتمے اور عوامی تعاون کے حوالے سے مختلف امور پر غور کیا گیا۔جرگہ نے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے قوم، پولیس اور ریاستی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کیا۔ شرکاء نے بنوں میں دہشتگردی کی حالیہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مؤثر آپریشنز کا مطالبہ کیا۔جرگہ نے عزم ظاہر کیا کہ تمام اقوام دہشتگردی کے خلاف ریاستی اداروں کا ساتھ دیں گی۔ اس موقع پر پولیس، سیکیورٹی فورسز اور عوامی شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔شرکاء نے مطالبہ کیا کہ پولیس اور سی ٹی ڈی کو جدید اسلحہ، ٹیکنالوجی اور وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔جرگہ نے بنوں میں بند سڑکیں فوری کھولنے اور عوامی مشکلات ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ امن کے فروغ کیلئے قبائلی مشران پر مشتمل رابطہ کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی گئی۔جرگہ کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ قوم اور ریاستی اداروں کا ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا وقت کی ضرورت ہے۔چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس نے جرگے کی تجاویز اور عزم کو سراہ دیا۔اس موقع پر چیف سیکرٹری نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح صوبے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔آئی جی پولیس نے کہا کہ بنوں کے عوام کے تعاون سے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنائیں گے۔جرگہ کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قوم، پولیس، فوج اور سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے بنوں میں امن جلد بحال ہوگا۔

ریسکیو 1122 خیبرپختونخوا میں نئے بھرتی ہونے والے اہلکاروں میں تقرر ناموں کی تقسیم

ریسکیو 1122 خیبرپختونخوا کے صوبائی ہیڈکوارٹر پشاور میں نئے بھرتی ہونے والے اہلکاروں میں تقرر ناموں کی تقسیم کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں صوبائی وزیر برائے ریلیف، بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان، سیکرٹری ریلیف خیبرپختونخوا سہیل خان اور ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 شاہ فہد نے شرکت کی۔صوبائی ہیڈکوارٹر آمد پر ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 شاہ فہد نے صوبائی وزیر عاقب اللہ خان اور سیکرٹری ریلیف سہیل خان کا استقبال کیا، جبکہ ریسکیو 1122 کے چاق و چوبند دستے نے معزز مہمانوں کو سلامی پیش کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 شاہ فہد نے کہا کہ زیر التوا بھرتیوں کا عمل مکمل کرتے ہوئے تمام خالی آسامیوں کو میرٹ کی بنیاد پر پُر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سال سے التوا کا شکار یہ بھرتیاں شفاف طریقے سے مکمل کی گئی ہیں اور ادارے میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے فروغ کے لیے مزید اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 کو خواتین اہلکاروں کی ضرورت ہے اور مستقبل قریب میں تقریباً 1200 مزید آسامیوں پر بھرتیاں کی جائیں گی۔ ڈی جی ریسکیو 1122 نے بتایا کہ دورانِ ڈیوٹی عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے خدمات انجام دیتے ہوئے ادارے کے تقریباً 12 اہلکار شہادت کا رتبہ حاصل کر چکے ہیں، جن کے لیے شہداء پیکیج کی منظوری حاصل کر لی گئی ہے۔سیکرٹری ریلیف خیبرپختونخوا سہیل خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریسکیو 1122 پیشہ ورانہ خدمات اور عوامی اعتماد کے حوالے سے ملک کے ممتاز اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے نئے بھرتی ہونے والے اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ خدمتِ خلق کے جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں کیونکہ ریسکیو سروس چوبیس گھنٹے عوام کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔صوبائی وزیر برائے ریلیف، بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھرتیوں کے دوران مختلف حلقوں سے سفارشات موصول ہوئیں، تاہم کسی قسم کی سفارش یا دباؤ کو قبول نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھرتی کے پورے عمل کی ذاتی طور پر نگرانی کی گئی اور تمام امیدواروں کا انتخاب مکمل طور پر میرٹ، شفافیت اور اہلیت کی بنیاد پر کیا گیا۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محکمہ ریلیف اور ریسکیو 1122 میں میرٹ اور شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے رشوت ستانی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رشوت لینے اور دینے والے دونوں معاشرے اور نظام کے لیے نقصان دہ ہیں۔تقریب کے اختتام پر کامیاب امیدواروں میں تقرر نامے تقسیم کیے گئے۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ نئے اہلکار ریسکیو 1122 کی پیشہ ورانہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے عوام کی خدمت میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں گے۔

خیبرپختونخوا میں ٹیچرز لائسنسنگ رجیم عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے گا، ارشد ایوب خان

خیبرپختونخوا کے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے جمعرات کے روز ڈائریکٹوریٹ آف کریکولم اینڈ ٹیچرز ایجوکیشن (DCTE) ایبٹ آباد کا دورہ کیا اور پالیسی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس برائے ٹیچرز لائسنسنگ اِن خیبرپختونخوا میں شرکت کی۔ کانفرنس میں سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد خالد، منیجنگ ڈائریکٹر خیبرپختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن قیصر عالم، ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، ڈائریکٹر ڈی سی ٹی ای، بی ٹیگ (B-TAG)، ایف سی ڈی او (FCDO) کے نمائندوں سمیت مختلف اداروں کے افسران شریک ہوئے۔ اس موقع پر سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے ماہرین تعلیم نے ٹیچرز لائسنسنگ رجیم کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ کانفرنس میں اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے، جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت، کلاس روم ٹیچنگ کو مزید مؤثر بنانے، کارکردگی کے مسلسل جائزے اور شفاف جانچ پڑتال کے نظام پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے تعلیم کے شعبے میں جاری اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے متعدد تجاویز بھی پیش کیں جبکہ اساتذہ کی انڈکشن، سرٹیفیکیشن اور گریڈنگ کے حوالے سے بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ پالیسی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس برائے ٹیچرز لائسنسنگ اِن خیبرپختونخوا کے اختتام پر سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد خالد نے کانفرنس کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں ٹیچرز لائسنسنگ رجیم کے لیے محکمہ تعلیم اور متعلقہ اداروں کے افسران پر مشتمل ایک مشترکہ ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان کیا، جو ٹیچرز لائسنسنگ سمیت دیگر متعلقہ امور کے لیے جامع روڈ میپ اور ایکشن پلان مرتب کرے گی۔ صوبائی وزیر ارشد ایوب خان نے کہا کہ ٹیچرز لائسنسنگ رجیم کو عالمی معیار کے مطابق استوار کیا جائے گا اور اس عمل میں بین الاقوامی سطح پر خدمات انجام دینے والے پاکستانی ماہرین کی مہارت سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی سرٹیفیکیشن کا نظام بہترین، شفاف اور میرٹ پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ تدریسی معیار میں مزید بہتری لائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ٹیچنگ اور لرننگ دونوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا صوبائی حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔ طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی اور تعلیمی نظام میں پائیدار اصلاحات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں، جن کے ذریعے صوبے میں تعلیمی معیار کو مزید بلند کیا جائے گا۔

یونیسیف کے ایک وفد نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور سیکرٹری اسمبلی سید وقار شاہ سے اسمبلی سیکرٹریٹ میں ملاقات کی

یونیسیف کے ایک وفد نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور سیکرٹری اسمبلی سید وقار شاہ سے اسمبلی سیکرٹریٹ میں ملاقات کی۔ ملاقات میں رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی، رکن صوبائی اسمبلی عسکر پرویز بھی موجود تھے۔اس ملاقات میں صوبے میں پانی، صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت (WASH) کے شعبے میں جاری اقدامات، درپیش چیلنجز اور پارلیمنٹیرینز کے مؤثر کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یونیسیف کے وفد نے اسپیکر کو ادارے کی جانب سے خیبر پختونخوا میں جاری مختلف پروگرامز اور سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔اس موقع پر اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ صاف پانی، بہتر صفائی اور حفظانِ صحت کی سہولیات عوام کی بنیادی ضرورت ہیں اور ان شعبوں میں بہتری کے لیے قانون سازی، مؤثر نگرانی اور عوامی نمائندوں کی فعال شمولیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور خصوصاً WASH سیکٹر میں مؤثر قانون سازی اور پالیسی معاونت کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔ملاقات میں خیبر پختونخوا اسمبلی اور یونیسیف کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید مستحکم بنانے، اراکینِ اسمبلی بالخصوص خواتین پارلیمنٹیرینز کی استعداد کار میں اضافے، آگاہی سیشنز کے انعقاد اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ فریقین نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پالیسی سازی، مؤثر عملدرآمد اور نوجوانوں کی شمولیت کے ذریعے پانی اور صفائی سے متعلق خدمات کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔اس سے قبل یونیسیف کے وفد نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے سیکرٹری سید وقار شاہ سے بھی تفصیلی ملاقات کی، جس میں اسپیکر بابر سلیم سواتی کے ویژن اور اسمبلی کے عوام دوست قانون سازی و نگرانی کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔

KP Introduces Pakistan’s First Provincial University Ranking System

The Khyber Pakhtunkhwa government on Monday unveiled Pakistan’s first-ever provincial university ranking system, introducing a performance-based framework aimed at improving governance, academic standards and competitiveness among higher education institutions across the province.
The rankings were announced by Khyber Pakhtunkhwa Minister for Higher Education and Local Government Mina Khan Afridi during a press conference attended by Information Minister Shafi Jan, vice chancellors and senior officials from public and private universities.
Speaking on the occasion, Mr Afridi said the ranking framework had been developed after reviewing internationally recognised university assessment models as well as national ranking mechanisms, incorporating indicators considered most relevant to the provincial higher education sector.
He said the evaluation process was conducted on the basis of 12 major indicators and 66 sub-indicators, covering areas such as governance, academic excellence, research performance, student services, financial management and institutional development.
According to the minister, universities were assessed under four separate categories: Overall Rankings, General Universities, Technical & Professional Universities, Emerging Universities and Private Universities.
In the Overall University Rankings, Institute of Management Sciences (IMSciences), Peshawar, secured the top position among 45 universities, followed by Hazara University in second place and Pak-Austria Fachhochschule: Institute of Applied Sciences and Technology (PAF-IAST), Haripur, in third.
Under the General Universities Category, IMSciences ranked first, Hazara University second and the University of Malakand third.
In the Technical and Professional Universities Category, the University of Engineering and Technology (UET), Peshawar, secured the top position, followed by Khyber Medical University (KMU) and the University of Agriculture, Peshawar.
The minister said a separate Emerging Universities Category had been introduced for institutions established after 2011. In this category, PAF-IAST secured first place, followed by Shuhad e APS University of Technology Nowshera in second place and the University of Haripur in third.
Among private-sector institutions, the Ghulam Ishaq Khan Institute of Engineering Sciences and Technology (GIKI) topped the rankings, while CECOS University of Information Technology and Emerging Sciences and Qurtuba University of Science and Information Technology, Dera Ismail Khan, secured the second and third positions respectively.
Mr Afridi described the initiative as a landmark reform in Pakistan’s higher education sector, saying Khyber Pakhtunkhwa had become the first province to institutionalize a university ranking system at the provincial level.
He announced that universities would, in future, receive performance-based grants linked to their rankings, encouraging healthy competition and continuous improvement in academic standards.
“The ranking exercise will be conducted annually to ensure accountability, transparency and quality enhancement across higher education institutions,” he said.
The minister further stated that the provincial government had established 14 universities over the past 13 years and was planning additional incentives and facilities for students in the upcoming provincial budget.
He expressed confidence that the ranking system would help universities improve their performance, strengthen research and innovation, and enhance their standing at both national and international levels.

صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان سے یونیسیف کے واش مینیجر اِتسورو (Itsuro) کی پشاور میں اہم ملاقات

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان سے جمعرات کے روز پشاور میں یونیسیف کے واش (WASH) مینیجر اِتسورو (Itsuro) نے ملاقات کی۔ ملاقات میں یونیسیف واش سپیشلسٹ فاروق خان اور واش آفیسر رحمان اللہ جبکہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے چیف سنٹر امجد شمشیر، ڈائریکٹر ٹیکنیکل وسیم اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ملاقات کے دوران صوبے میں صاف پانی کی فراہمی، سینیٹیشن کی سہولیات، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور ان سے نمٹنے کے لیے جاری اور مجوزہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یونیسیف کے واش مینیجر نے صوبائی وزیر کو چارسدہ، نوشہرہ اور سوات میں یونیسیف کی جانب سے جاری منصوبوں اور سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ملاقات میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے تناظر میں صاف پانی اور سینیٹیشن کے شعبوں میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر ماڈل ویلجز کے قیام، پائیدار واٹر سپلائی نظام، نکاسی آب کی سہولیات کی بہتری اور عوامی آگاہی مہمات کے فروغ سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ عوام میں صاف پانی کے استعمال، حفظان صحت کے اصولوں اور سینیٹیشن سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ عوامی صحت کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔صوبائی وزیر فضل شکور خان نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت عوام کو صاف پانی کی فراہمی اور سینیٹیشن نظام کی بہتری کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری اور دیہی علاقوں میں واٹر سپلائی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے یونیسیف کی جانب سے خیبر پختونخوا میں عوامی فلاح و بہبود کے مختلف منصوبوں میں تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت صوبے میں صاف پانی، سینیٹیشن اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں یونیسیف کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، پائیدار واٹر سپلائی منصوبوں کے فروغ، نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور عوامی سہولیات میں اضافے کے لیے مشترکہ اقدامات کو مزید تیز کیا جائے گا۔اس امر پر بھی زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر مؤثر اور پائیدار اقدامات ناگزیر ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ صاف پانی اور نکاسی آب کے نظام میں بہتری سے عوامی صحت کو درپیش متعدد مسائل میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے، جبکہ حکومت اور یونیسیف کے درمیان مضبوط شراکت داری صوبے میں پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

وزیر اطلاعات کی کوہاٹ میں خواتین و بچوں کے فلیگ شپ ہسپتال کی تکمیل تیز کرنے کی ہدایت، صحت کے بڑے منصوبوں کا بھی اعلان

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے زیرِتعمیر لیاقت میموریل ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال کوہاٹ کی تعمیراتی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اسے ایک اہم فلیگ شپ منصوبہ قرار دیا ہے جس کا مقصد خواتین اور بچوں کو جدید اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ہے۔ شفیع جان نے ڈیڈک چیئرمین و رکنِ صوبائی اسمبلی داؤد شاہ آفریدی اور ڈپٹی کمشنر کوہاٹ محمد نواز وزیر کے ہمراہ ہسپتال کا دورہ کیا جہاں انہوں نے جاری تعمیراتی کام کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام سے منصوبے پر پیشرفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔حکام نے بتایا کہ ہسپتال کا اے بلاک افتتاح کیلئے تیار ہے جبکہ پورا منصوبہ آئندہ سال مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔ بریفنگ میں منصوبے کے مختلف حصوں پر جاری کام اور متوقع تکمیل کے مراحل سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے کے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کر رہی ہے تاکہ عوام کو جدید طبی سہولیات میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ لیاقت میموریل ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال کوہاٹ اور ملحقہ اضلاع کی خواتین اور بچوں کو ایک ہی چھت تلے خصوصی طبی خدمات فراہم کرے گا۔ شفیع جان نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کیلئے تعمیراتی رفتار برقرار رکھی جائے اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ عوامی فلاح کے منصوبوں کی مقررہ وقت میں تکمیل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ صوبائی وزیر نے ضلع کوہاٹ میں صحت کے شعبے کے دیگر بڑے منصوبوں کا بھی اعلان کیا جن میں ایک ہزار بستروں پر مشتمل جدید ہسپتال کی منظوری، کے ڈی اے ہسپتال کیلئے ایک ارب روپے سے زائد مالیت کا ترقیاتی پیکیج اور ضلع بھر کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔ دورے میں پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما سلمان خان شنواری سمیت متعلقہ محکموں کے افسران بھی شریک تھے۔ شفیع جان نے تعمیراتی معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تمام جاری صحت منصوبوں کی بروقت تکمیل کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔