Home Blog Page 78

وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا دورہ سندھ/ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا بیان

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی دورہ سندھ کے لئے اسلام آباد سے روانہ ہوگئے، شفیع جان

صوبائی کابینہ اراکین سمیت پارٹی پارلیمنٹیرینز بھی وزیراعلی کے ہمراہ ہیں، شفیع جان

بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایات پر سندھ کا دورہ اسٹریٹ موومنٹ میں مزید تیزی لانے کے لیے اہم ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ آج انصاف ہاؤس میں پارٹی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد پریس کلب کا دورہ کریں گے، شفیع جان

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پیر کے روز وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کریں گے، شفیع جان

11 جنوری کو مزار قائد پر بڑا جلسہ منعقد کرینگے ، شفیع جان

وزیراعلیٰ آج ضلع جنوبی، ملیر اور کورنگی میں اسٹریٹ موومنٹ،جیل اسیران سے ملے گے، شفیع جان

وزیراعلیٰ بروز ہفتہ ریلی کی صورت میں حیدرآباد جائیں گے، حیدرآباد بار اور پریس کلب میں خطاب کریں گے، شفیع جان

ہفتہ کے روز آئی ایس ایف کنونشن، سندھ کابینہ و دیگر معززین سے ملاقات کرینگے ، شفیع جان

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی حیدرآباد اور کوٹری میں اسٹریٹ موومنٹ کی قیادت کریں گے، شفیع جان

وزیراعلیٰ اتوار کو آئی ایل ایف، سینئر وکلاء کے علاوہ آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن سے ملاقات کریں گے، شفیع جان

وزیراعلیٰ کیماڑی اور ضلع غربی میں اسٹریٹ موومنٹ کے علاوہ مزار قائد پر حاضری دیں گے، شفیع جان

وزیراعلیٰ ایم ڈبلیو ایم قیادت اور ضلع مشرقی میں میڈیا نمائندوں سے ملاقات کریں گے، شفیع جان

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پیر کو سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کے بعد پشاور روانہ ہوں گے، شفیع جان

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان ان ایکشن

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے جمعرات کے روز حیات آباد پشاور میں روڈ کی بندش اور محکمہ ایکسائز کے اہلکاروں کے حوالے سے ناخوشگوار واقعہ پیش آنے کی شکایت ملنے پر فوری ایکشن لیتے ہوئے محکمہ کے اہلکاروں کی معطلی کے احکامات جاری کئے ہیں۔صوبائی وزیر کے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے ڈی جی ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول نے ملوث اہلکاروں کی معطلی کے باقاعدہ احکامات بھی جاری کیئے ہیں اورکہا ہے کہ اس ضمن میں شفاف انکوائری عمل میں لائی جائے گی۔ڈی جی ایکسائز نے صوبائی وزیر کی ہیدایت پر ناخوشگوار واقعے میں مبینہ طور پر ملوث اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد ابوزر، بیورو آف انٹیلیجنس اینڈ انویسٹی گیشن بمعہ اسکواڈ کی خدمات فوری طور پر معطل کرتے ہوئے انہیں ڈائریکٹوریٹ جنرل پشاور کلوز کیا ہے۔
صوبائی وزیر نے اس حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عوامی حکومت عوام کیلئے ہی ہوگی اور محکمہ ایکسائز میں عوام کی شکایات پر انشاللہ بروقت ایکشن لے کر اس کا ازالہ کیا جائے گا۔انھوں نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا وزیر آپ کیساتھ ہے اور جس طرح بانی چیئرمین عمران اور وزیر اعلی کا ویژن ہے اسی طرح عوام کی کوئی شکایت ایسی نہیں رہے گی جس پر کارروائی نہ ہو۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ زراعت کا اجلاس جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ زراعت کا اجلاس جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی اور رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام افریدی نے کی۔ اجلاس میں قائمہ کمیٹی کے اراکین و ممبران صوبائی اسمبلی زرشاد خان، داؤد شاہ، مخدوم زادہ محمد آفتاب حیدر محمد نثار باز، شرافت علی اور فضل الٰہی نے شرکت کی، جبکہ سپیشل سیکرٹری زراعت، ڈائریکٹر جنرل زراعت، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے متعلقہ افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس کے آغاز میں چیئرمین قائمہ کمیٹی عبدالسلام افریدی نے کہا کہ محکمہ زراعت کا یہ اجلاس غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں کسانوں کو فراہم کیا گیا گندم کا ناقص بیج نہ اگنے کے باعث پورے صوبے میں گندم کی پیداوار متاثر ہوئی، جس سے کسانوں اور زرعی زمین مالکان کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس موقع پر سپیشل سیکرٹری اور ڈی جی زراعت نے وضاحت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں محکمہ زراعت کے سیڈ سینٹرز کے ذریعے بیج فراہم کیا جاتا ہے اور ڈیرہ اسماعیل خان سیڈ سینٹر سے تقریباً 37 ہزار سر بمہر گندم کے بیگز مختلف اضلاع کے کسانوں نے خریدے تھے، جو ناقص ہونے کے باعث کاشت کے بعد اگ نہ سکے۔کمیٹی اراکین کی جانب سے ذمہ داران کے خلاف کارروائی سے متعلق سوالات پر ڈی جی زراعت نے بتایا کہ 17، 18 اور 19 گریڈ کے آٹھ افسران کو معطل کر کے ان کے خلاف محکمانہ انکوائری شروع کی جا چکی ہے۔ اس پر رکن کمیٹی فضل الٰہی نے معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک سب کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی، جس میں کسانوں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ سب کمیٹی کی سفارشات تک معطل افسران کو بحال رکھا جائے گا اور ذمہ داروں کا حتمی تعین سب کمیٹی کرے گی۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے محکمہ زراعت کے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں درست اور مکمل اعداد و شمار پیش کیے جائیں، تاکہ معاملے پر مزید کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

Transport & Mass Transit Dept weighs launch of 10,000 electric rickshaws in Peshawar

In line with the vision of Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa to promote modern, affordable and environment-friendly transport, the Transport and Mass Transit Department is considering the introduction of 10,000 electric rickshaws (e-rickshaws) in the provincial capital.

An important meeting in this regard was held in Peshawar under the chairmanship of the Secretary Transport and Mass Transit Department. The meeting was attended by the Director General Science and Information Technology, Managing Director Khyber Pakhtunkhwa Urban Mobility Authority, Chief Executive Officer TransPeshawar and senior officials of the Bank of Khyber.

The participants held detailed deliberations on the phased introduction of e-rickshaws in Peshawar, financial facilitation, technical and operational frameworks, employment generation and the project’s environmental impact.

Addressing the meeting, the Secretary Transport said the chief minister’s vision is to provide citizens with modern, low-cost and eco-friendly travel facilities, which would not only improve urban mobility but also significantly reduce air pollution. He said the e-rickshaw initiative could prove to be a transformative step for Peshawar’s transport system, fully aligned with provincial goals for sustainable development and green transport.
He noted that millions of commuters use transport services in Peshawar on a daily basis, where fuel-based vehicles contribute to air pollution, noise and rising fuel costs. The introduction of electric rickshaws, he added, would reduce dependence on fossil fuels while lowering travel expenses for low- and middle-income groups.

During the briefing, the DG Science and Information Technology informed the meeting that advanced battery technology, smart monitoring systems and a digital registration mechanism would be introduced for e-rickshaws. These measures, he said, would enable effective monitoring of vehicle performance, charging status and route operations, ensuring transparency and efficiency through modern IT solutions.

The Managing Director KP Urban Mobility Authority said the e-rickshaws would be integrated into the overall urban transport system to create a coordinated network with the Bus Rapid Transit (BRT) and other modes of transport. He said the initiative would help address the “last-mile connectivity” issue and provide smoother door-to-door travel for city residents.

The CEO TransPeshawar told the meeting that aligning e-rickshaws with BRT routes and feeder services could help reduce traffic congestion in the city. He added that TransPeshawar would play a key role in providing technical support, route planning and operational management for the project.

Concluding the meeting, the Secretary Transport said the initiative was a continuation of the chief minister’s people-centric and environment-friendly policies, aimed at improving mobility, creating new employment opportunities and steering the province towards green energy. He directed all relevant stakeholders to work jointly and prepare a clear roadmap for early implementation of the project.

KP Shifts Public Service Payments to Cashless System

In a major step towards transparency and ease of payments in public service delivery, the Khyber Pakhtunkhwa government has shifted financial payments for 43 public services to a digital payment system under its cashless policy.

These services include land mutation and fard, motor vehicle registration, motor vehicle token tax, university admission fees, and fees of various educational boards. Progress on cashless service delivery initiatives was reviewed in a meeting chaired by Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Shahab Ali Shah on Thursday.

The meeting was informed that digital payment systems have been introduced across various government departments. The Khyber Pakhtunkhwa Information Technology Board is gradually converting 170 services to a cashless mode. So far, 43 services have been made cashless, while another 23 services are scheduled to be shifted to the digital payment system by the end of January.
It was further shared that since October 2025, salaries of 280,650 government employees and pensions of 130,132 pensioners have been disbursed through digital systems. Efforts are also underway to make autonomous bodies and authorities of the Khyber Pakhtunkhwa government cashless, a process expected to be completed by December 2026.

Speaking on the occasion, Chief Secretary Shahab Ali Shah said that cashless service delivery would promote good governance, economic growth, and financial transparency. He directed the concerned authorities to ensure timely progress in accordance with the set timelines.

The meeting was attended by relevant administrative secretaries and officials of the Information Technology Board.

صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی زیرِ صدارت صوبے میں سپیشلائزڈ/یونیک نمبر پلیٹس کے اجرا کے منفرد منصوبے کے حوالے سے اہم اجلاس

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز ڈائریکٹوریٹ جنرل ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول، پشاور میں مخصوص ناموں اور شناخت پر سپیشلائزڈ/یونیک نمبر پلیٹس کے اجرا کے منفرد نئے منصوبے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس، متعلقہ ڈائریکٹرز اور خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران آئی ٹی بورڈ کے افسران نے صوبائی وزیر کو حکومت خیبرپختونخوا کے اس نئے اور منفرد منصوبے کی جلد از جلد شروعات کیلئے ان لائن سہولیات کے نظام کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔سپیشلائزڈ اور یونیک نمبر پلیٹس کا اجراء صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کے آئیڈیا کے تحت عمل میں لایا جارہا ہے جو پرسنلائزڈ نمبر پلیٹس کے جاری کردہ منصوبے کے بعد محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کے تحت صوبائی حکومت کا دوسرا بڑا اور اہم منفرد منصوبہ ہے۔اس منصوبے کے تحت خواہشمند مالکان اور صارفین کو اپنی نئی اور زیر استعمال گاڑیوں کیلئے انکی پسند کے مطابق مخصوص ومنفرد ناموں اور خصوصی شناخت پر مبنی نمبر پلیٹس جاری کی جائیں گے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز پشاور میں اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کے اہم اجلاس منعقد ہوئے جن میں صوبائی سطح پر قانون، امن و امان اور صحت سے متعلق اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز پشاور میں اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کے اہم اجلاس منعقد ہوئے جن میں صوبائی سطح پر قانون، امن و امان اور صحت سے متعلق اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاسوں میں وزیرِ بلدیات و اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی، وزیرِ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان، مشیرِ خزانہ مزمل اسلم، ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل، سیکرٹری محکمہ صحت شاہد اللہ خان، سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، رئیس خان اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔پہلے اجلاس میں پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (PPHI) کے کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کے 5 دسمبر 2024 کے فیصلے، موجودہ قوانین اور صوبائی پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ محکمہ صحت کی جانب سے عدالتی فیصلے کا باریک بینی سے تجزیہ پیش کیا گیا جبکہ ملازمین کی مستقلی سے متعلق مختلف قانونی و انتظامی تجاویز پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے پریزنٹیشنز اور ورکنگ پیپرز کے ذریعے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی اور عدالتی فیصلے کی روشنی میں حتمی سفارشات تیار کرنے کے لیے مشاورت کی گئی۔بعد ازاں وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت اے ٹی اے 1997، مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 144 سے متعلق امور پر متعلقہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، قوانین کے نفاذ کے موجودہ طریقہ کار، شہری آزادیوں کے تحفظ اور متعلقہ قوانین کے عملی اطلاق کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیر قانون نے اس موقع پر کہا کہ دہشت گردی اور امن و امان سے متعلق قوانین کا بنیادی مقصد عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے تاہم ان قوانین کے نفاذ میں آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کو ہر صورت مدنظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ دفعہ 144 اور MPO جیسے قوانین کا استعمال صرف ناگزیر حالات میں، شفاف طریقے سے اور مقررہ قانونی حدود کے اندر ہونا چاہیے تاکہ عوامی اعتماد مجروح نہ ہو۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ قوانین کے اطلاق، نگرانی اور جائزے کے مؤثر نظام کو مزید بہتر بنایا جائے اور کسی بھی ممکنہ زیادتی یا غلط استعمال کی روک تھام کے لیے واضح اور مؤثر میکنزم وضع کیا جائے۔ وزیر قانون نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت قانون کی بالادستی، امن و امان کے قیام اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

خیبرپختونخوا میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور میتھس پر مشتمل جدید لرننگ ماڈل کے نفاذ سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے کی

خیبرپختونخوا میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور میتھس پر مشتمل جدید لرننگ ماڈل کے نفاذ سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے کی۔ اجلاس میں سیکرٹری اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر اسرار سمیت محکمہ اعلیٰ تعلیم کے دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈگری کالجز میں سٹیم لرننگ ماڈل کے آغاز کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سٹیم لرننگ ماڈل کے پہلے مرحلے میں صوبے بھر کے ڈگری کالجز کے 2250 فیکلٹی ممبران کو خصوصی تربیت دی جائے گی، جن میں 50 فیصد خواتین فیکلٹی سٹاف شامل ہوں گی۔ اس مرحلے کے تحت تقریباً 30 ہزار طلبہ براہِ راست مستفید ہوں گے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ڈگری کالجز میں سٹیم لرننگ ماڈل کے نفاذ سے ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال میں 50 فیصد تک اضافہ ممکن ہو سکے گا، جس سے تدریسی معیار میں بہتری آئے گی۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سٹیم لرننگ کے نتیجے میں تیار ہونے والی مصنوعات اور تخلیقی منصوبوں کو صوبائی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں اس پروگرام پر مجموعی طور پر 341 ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ فیکلٹی سٹاف تربیت حاصل کرے اور اس کا فائدہ طلبہ تک نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیم لرننگ ماڈل کے ذریعے طلبہ کو جدید دور اور مارکیٹ بیسڈ ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے گا تاکہ وہ عملی زندگی میں بہتر کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں فیکلٹی ممبران کی پروموشن کے عمل میں بھی سٹیم لرننگ ماڈل سے وابستہ کارکردگی اور شمولیت کو بطور ایک اہم عنصر شامل کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ تعلیم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں جدید تعلیم کے فروغ کے لیے ایسے اصلاحاتی اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ تعلیمی ادارے قومی و بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ ہو سکیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع کرک کے ایم این اے شاہد خٹک اور ایم پی اے خورشید خٹک سمیت سیکٹری صحت شاہداللہ، متعلقہ ڈی ایچ اوز، ہسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت کے سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کرک سمیت ضلع بھر کے دیگر مراکز صحت کو درپیش انتظامی، انسانی وسائل اور سروس ڈیلیوری کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منہدم سول ڈسپنسریاں (سی ڈی) شاہندند اور سی ڈی لاواگر کی تعمیرِ نو نئی اے ڈی پی کے تحت کی جائے گی۔صوبائی وزیرِ صحت نے جنرل ڈیوٹی کے معاملات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ افسران و ملازمین جو ڈی ایچ او کرک سے تنخواہیں لے رہے ہیں مگر ضلع سے باہر خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں فوری طور پر واپس تعینات کیا جائے اور ان کے خلاف سخت انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ وزیرِ صحت نے اعلان کیا کہ 41 نئے ڈاکٹرز کی منتقلی اور بھرتی کی جائے گی تاکہ ڈی ایچ کیو اور دیگر صحت مراکز میں موجود خلا کو پُر کیا جا سکے اور طبی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔اجلاس میں ٹائپ ڈی ہسپتال لٹمبر کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ناقص کارکردگی کی بنیاد پر تبدیل کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ ڈی ایچ او کرک کو ڈاکٹروں کی ریشنلائزیشن پلان پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ افرادی قوت کی منصفانہ تقسیم اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔دواؤں کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے وزیرِ صحت نے ڈی ایچ کیو ہسپتال کرک میں ہسپتال کی اپنی فارمیسی قائم کرنے کی منظوری دی، جہاں ایم سی سی ادویات کی فہرست اور ایم سی سی ریٹس برقرار رکھے جائیں گے اور ایم سی سی کی آمدن ہسپتال کو حاصل ہوگی۔ اجلاس میں ڈی ایچ کیو کرک میں سی ٹی اسکین سروس کو پی پی پی موڈ کے تحت آؤٹ سورسنگ کے ذریعے شروع کرنے کی بھی منظوری دی گئی، جبکہ ہسپتالوں خصوصاً ایمرجنسی سروسز کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے کی ہدایت کی گئی۔انسانی وسائل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے وزیرِ صحت نے ہدایت کی کہ ڈی ایچ کیو کرک میں افرادی قوت کی کمی بالخصوص نرسنگ سٹاف کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہسپتال مینجمنٹ کمیٹی ہسپتال کی نگرانی میں سخت اور مؤثر کردار ادا کرے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صحت کارڈ کی سہولیات فعال ہیں اور انہیں مزید مؤثر بنایا جائے گا۔اجلاس میں نشاندہی کی گئی کہ مریضوں کا زیادہ دباؤ ٹائپ سی صحت مراکز پر ہے، لہٰذا اسٹاف تعیناتی، او پی ڈی توازن اور سہولیات کی فراہمی اسی تناسب سے یقینی بنائی جائے۔ وزیرِ صحت نے ایچ ایم سی ریونیو میں بہتری، صفائی کی صورتحال کی درستگی، مناسب سیوریج سسٹم کے قیام، ویسٹ مینجمنٹ پالیسی کے نفاذ اور بچوں کے لیے نرسری/چائلڈ فرینڈلی سہولت قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔اگرچہ ڈی ایچ کیو کرک کو خطے کی بہترین عمارتوں میں سے ایک قرار دیا گیا، تاہم وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ انتظامی اور مینجمنٹ کے مسائل کو ایک مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے کے تحت حل کرنا ہوگا۔ انہوں نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ ہسپتال کا جامع معائنہ کر کے تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ قلیل المدتی اصلاحاتی منصوبہ جلد تیار کیا جائے گا جبکہ پیتھالوجی کے تمام بنیادی ٹیسٹوں کی سہولت جلد دستیاب ہوگی۔ ریجنل ڈائریکٹر جنرلز (آر ڈی جیز) کو علاقائی سطح پر نگرانی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دی گئی۔ وزیرِ صحت نے فکسڈ پے پر ڈاکٹروں کی بھرتی کے لیے ڈویژنل کمیٹیاں قائم کرنے کی منظوری دی تاکہ بھرتی کے عمل کو تیز کیا جا سکے، اور اس امر کا اعادہ کیا کہ ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ بالخصوص امن و امان کے مسائل سے دوچار علاقوں میں ایک کامیاب ماڈل ثابت ہوئی ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے ضلع کرک میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات، انسانی وسائل کی بہتری، تشخیصی سہولیات کے فروغ اور شفاف ادویات کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا۔

فضائی آلودگی پر قابو پانے اور شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ خیبر پختونخوا کا سیکرٹری اور ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ کی خصوصی ہدایات پر صوبہ بھر میں زہریلا دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھرپور اور سخت کارروائی کا عمل جاری

فضائی آلودگی پر قابو پانے اور شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ خیبر پختونخوا کا سیکرٹری اور ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ کی خصوصی ہدایات پر صوبہ بھر میں زہریلا دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھرپور اور سخت کارروائی کا عمل جاری ہے۔ اس عمل کا مقصد ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اور فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لانا ہے۔منیجر ویٹس پشاور پیر زبیر کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے جاری اس خصوصی مہم کے دوران صوبہ بھر میں 15 ہزار سے زائد گاڑیوں کا باقاعدہ معائنہ کیا گیا۔ معائنے کے بعد 10 ہزار گاڑیاں مقررہ معیار پر پورا اترنے کے باعث پاس، جبکہ 5 ہزار گاڑیاں ماحولیاتی معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث فیل قرار دی گئیں۔ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے مالکان پر جرمانے عائد کیے گئے جبکہ متعدد کیسز میں گاڑیوں کے قانونی کاغذات بھی ضبط کیے گئے۔ موٹر وہیکل ایگزامینر (ایم وی ای) پشاور انضمام عالم کے مطابق خصوصی طور پر نجی سکولوں کی گاڑیوں کے اخراجی دھونئے کی جانچ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں پشاور کے نجی سکولوں کے مالکان کو باقاعدہ وضاحت جاری کر دی گئی ہیں جن میں انہیں تین دن کے اندر اندر سکولوں کی تمام گاڑیوں کا دھواں اور ایم وی فٹنس چیک کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایم وی ای نے مزید بتایا کہ پشاور کے کئی نامور نجی سکولوں کے مالکان نے اپنی گاڑیوں کا دھواں چیک کروانے کے لیے چالان جمع کرا دیے ہیں، جو ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ تاہم جن سکولوں یا گاڑیوں کے مالکان کی جانب سے ہدایات پر عمل نہیں کیا جائے گا، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔مینیجر ویٹس نے واضح کیا ہے کہ محکمہ کی طرف سے یہ مہم بلا تفریق جاری رہے گی اور ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی کسی بھی گاڑی کو سڑکوں پر چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی بروقت جانچ کروائیں اور صاف ماحول کے قیام میں حکومت کا ساتھ دیں۔