چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت اجلاس میں محکمہ بلدیات کی عوامی خدمات کی بہتری کیلئے جاری اقدامات پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ بلدیات صوبے میں مؤثر عوامی خدمات کی فراہمی اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لئے مسلسل عملی اقدامات کر رہا ہے۔ محکمے نے اپنی جاری کوششوں کے تحت دسمبر کے لئے مقرر کردہ اہم اہداف کامیابی سے حاصل کر لئے ہیں۔ محکمہ بلدیات کی جانب سے عوامی شکایات کے ازالے کے لئے مختلف علاقوں میں مین ہول کورز کی تنصیب کا عمل جاری ہے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر کچرے کی باقاعدہ صفائی اور منتقلی کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ شفافیت اور احتساب کے فروغ کے لئے حکومت کی جانب سے عملے کی حاضری اور فیلڈ سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کے لئے ایک جدید مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے خدمات کی بروقت فراہمی اور کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔ مزید برآں محکمہ بلدیات نے پھل و سبزی منڈیوں، بس ٹرمینلز اور تفریحی فواروں سمیت مختلف عوامی مقامات پر صفائی کے مؤثر انتظامات کئے ہیں۔ پشاور میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، جبکہ پارکوں، بازاروں اور گلی محلوں میں صفائی کی نگرانی کے لئے کیمروں سے لیس کمانڈ اینڈ کنٹرول روم قائم کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔
کیپرا کی شاندار کارکردگی
خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) نے مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں 30 فیصد اضافے کے ساتھ 23.26 ارب روپے کے محاصل اکھٹے کرلئے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ وصولیاں 17.92 ارب روپے تھیں۔کیپرا کے میڈیا ونگ کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں 5.34 ارب روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو صوبہ بھر میں سروسز کے شعبے میں ٹیکس نیٹ کی توسیع اور بہتر حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اتھارٹی نے رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران مجموعی طور پر 26.62 ارب روپے کے محاصل اکٹھے کئے ہیں۔ جن میں 23.26 ارب روپے سیلز ٹیکس آن سروسز جبکہ 3.36 ارب روپے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (IDC) کی مد میں وصول کیے گئے ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کیپرا کے مجموعی محاصل 23.81 ارب روپے تھے، جن میں سیلز ٹیکس آن سروسز سے 17.92 ارب اور آئی ڈی سی سے 5.89 ارب روپے شامل تھے۔ڈائریکٹر جنرل کیپرا فوزیہ اقبال نے ادارے کے افسران اور عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیلز ٹیکس آن سروسز میں نمایاں اضافہ مؤثر منصوبہ بندی، انفورسمنٹ اور کیپرا کے افسران کی ان تک محنت کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ“سیلز ٹیکس آن سروسز میں شاندار اضافہ کیپرا ٹیم کی حکمت عملی، محنت اور پیشہ ورانہ کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی جذبے اور منظم حکمت عملی کے ساتھ کیپرا رواں مالی سال کے اہداف حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے ٹیکس دہندگان کا بھی شکریہ ادا کیا جن کے اعتماد، تعاون اور شراکت داری نے کے کیپرا کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جناب محمد سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ جناب مزمل اسلم کی رہنمائی اور تعاون کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی قیادت کیپرا میں اصلاحات کے نفاذ اور محصولات میں اضافے کے لیے کلیدی ثابت ہوئی ہے۔
صوبائی ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کا 108واں اجلاس چیئرمین بورڈ کیپٹن (ر) میاں عادل اقبال کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں محنت کشوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے
صوبائی ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کا 108واں اجلاس چیئرمین بورڈ کیپٹن (ر) میاں عادل اقبال کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں محنت کشوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ شیر عالم خان نے مختلف امور پر بورڈ کو تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کے سینئر افسران کے علاوہ حکومتی اور مزدور تنظیموں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں مختلف امور زیر غور لائے گئے اور ان پر سیر حاصل بحث کی گئی۔ اس موقع پر بورڈ نے اس اہم تجویز کی منظوری دی کہ رواں سال محنت کشوں کے 10 بچوں اور بچیوں کو سی ایس ایس امتحان کی تیاری کی خاطر چار ماہ کی خصوصی تربیت کے لیے سول سروسز اکیڈمی لاہور بھجوایا جائے گا، تاکہ محنت کش طبقے کے بچوں کو قومی سطح کے مقابلہ جاتی امتحانات میں مؤثر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔بورڈ نے محنت کشوں کی فلاح و بہبود کو مزید مستحکم بنانے کے لیے جہیز گرانٹ میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے رقم 4 لاکھ روپے سے بڑھا کر 6 لاکھ روپے کرنے کی منظوری دی، جبکہ ڈیتھ گرانٹ 8 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی، تاکہ مرحوم محنت کش کے اہل خانہ کو بہتر مالی سہارا فراہم کیا جا سکے۔اجلاس کے دوران HR کمیٹی اور ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (DPC) کی سفارشات بھی پیش کی گئیں، جنہیں بورڈ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔صوبائی وزیر برائے محنت فیصل خان ترکئی کی خصوصی ہدایت پر ریگی للمہ پشاور میں واقع 2056 فیملی فلیٹس میں کمرشل مارکیٹ، ہسپتال اور بچیوں کے لیے گرلز اسکول کے قیام کی بھی باقاعدہ منظوری دی گئی، جس سے رہائشیوں کو بنیادی اور معیاری سہولیات میسر آئیں گی۔اس کے علاوہ سابقہ بورڈ کی جانب سے منظور شدہ اسٹیچنگ (سلائی) پائلٹ پروجیکٹ کی کارکردگی بھی اجلاس میں پیش کی گئی۔ بورڈ نے ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس منصوبے کو پورے صوبے میں شروع کرنے کی منظوری دے دی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بورڈ کیپٹن (ر) میاں عادل اقبال نے کہا کہ خیبر پختونخوا ورکرز ویلفیئر بورڈ محنت کش طبقے کی فلاح، معاشی تحفظ اور سماجی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتا رہے گا
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم کا پشاورپبلک سکول اینڈ کالج کا دورہ
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے جمعرات کے روز پشاورپبلک سکول اینڈ کالج کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ادارے میں جاری اصلاحاتی و بحالی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران انہوں نے طلبہ کی تعلیمی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی سرگرمیوں کو غیر ضروری تقریبات اور نمائشی سرگرمیوں پر فوقیت دی جائے اور ادارے کی تمام تر توجہ خالصتاً اکیڈمکس امور پر مرکوز ہونی چاہیے۔ صوبائی وزیر نے اس موقع پر ادارے کے نئے تعینات ہونے والے پرنسپل کی کاوشوں اورسمارٹ سکول مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے مؤثر نفاذ کو سراہاتے ہوئے کہا کہ اس کی بددولت کم عرصہ میں ادارے کے انتظامی اور تعلیمی سرگرمیوں میں شفافیت اور بہتری آئی ہے۔ انہوں نے پشاورپبلک سکول اینڈ کالج کی ساکھ کی بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے پرنسپل کو ہدایت کی کہ فوری طور پر ایک جامع تعلیمی منصوبہ تیار کیا جائے اور گزشتہ سال کی اساتذہ کی کارکردگی رپورٹس بھی پیش کی جائیں تاکہ کے۔پی۔آئی بنیاد پر ترقیاتی نظام متعارف کرایا جا سکے۔ انہوں نے سکول کے انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے اور ترقیاتی کاموں کے لیے فوری طور پر PC-1 جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ انتظامی اصلاحات کے ساتھ ساتھ تعلیمی معیار کو اولین ترجیح دی جائے۔طلبہ کی فلاح و بہبود کے حوالے سے صوبائی وزیر نے ہاسٹل کی سہولیات میں مزید بہتری کی ہدایت کی۔
پشاور میں خیبر پختونخوا کی کابینہ کی قائمہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں بی آر ٹی منصوبے کے حوالے سے کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے ساتھ درپیش ادائیگیوں کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا
پشاور میں خیبر پختونخوا کی کابینہ کی قائمہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں بی آر ٹی منصوبے کے حوالے سے کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے ساتھ درپیش ادائیگیوں کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت صوبائی وزیر قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے کی۔ اجلاس میں وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان،وزیر بلدیات و دیہی ترقی مینا خان آفریدی، مشیر خزانہ مزمل اسلم نے زوم کے ذریعے شرکت کی جبکہ سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک،ڈی جی پی ڈی اے شاہ فہد، محکمہ قانون، محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرازٹ، محکمہ خزانہ، محکمہ بلدیات اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس میں بی آر ٹی کی مسلسل آپریشنل فعالیت کو یقینی بنانے کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے واجبات، مالی ذمہ داریوں اور باہمی معاہدوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ ادائیگیوں سے متعلق مسائل کو باہمی مشاورت اور قانونی و انتظامی دائرہ کار میں رہتے ہوئے جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ عوامی مفاد سے جڑے اس اہم منصوبے کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو۔صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ٹی منصوبہ شہری ٹرانسپورٹ کے نظام میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور حکومت اس سے متعلق تمام مالی اور انتظامی امور کو شفاف، منصفانہ اور قانون کے مطابق حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے ساتھ قریبی رابطہ رکھ کر قابلِ عمل تجاویز مرتب کی جائیں اور ادائیگیوں کے معاملات کو جلد حتمی شکل دی جائے۔اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے گی تاکہ مسئلے کا پائیدار اور دیرپا حل یقینی بنایا جا سکے۔
ساؤتھ ریجن واٹر سپلائی سکیموں کی بروقت تکمیل کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائی جائیں صوبائی وزیر فضل شکور خان
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت ساؤتھ ریجن میں جاری واٹر سپلائی سکیموں سے متعلق ایک اہم اجلاس جمعرات کے روز پشاور میں منعقد ہوا، جس میں چیف انجنئیر ساؤتھ، متعلقہ ایکسینز اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ساؤتھ ریجن میں جاری اور زیرِ تکمیل واٹر سپلائی سکیموں کی پیش رفت، درپیش مسائل اور تکمیلی مراحل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس موقع پرصوبائی وزیر فضل شکور خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ساؤتھ ریجن میں جاری واٹر سپلائی سکیموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے مذید ہدایت کی کہ واٹر سپلائی سکیموں پر کام کی رفتار میں مزید تیزی لائی جائے اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی تاخیر یا غفلت ناقابلِ برداشت ہوگی صوبائی وزیر نے کہا کہ جن واٹر سپلائی سکیموں میں میسنگ فسیلیٹیز موجود ہیں، انہیں فوری طور پر پورا کیا جائے تاکہ سکیموں کو مکمل طور پر فعال بنا کر عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی سکیموں میں سست روی اور غیر سنجیدگی کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی فضل شکور خان نے مزید کہا کہ واٹر سپلائی سکیموں کی بروقت تکمیل کے لیے فنڈز جلد ریلیز کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی ہے، کیونکہ پانی کی دستیابی صحتِ عامہ اور معیارِ زندگی میں بہتری کا بنیادی ذریعہ ہے واٹر سپلائی سکیموں کی تکمیل سے عوام زیادہ سے زیادہ مستفید ہو نگے۔
خیبر پختونخواکے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے شعبے کو مزید فعال اور مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ اس کی بہتری کے لیے اس میں دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق مربوط نظام لایا جا رہا ہے
خیبر پختونخواکے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے شعبے کو مزید فعال اور مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ اس کی بہتری کے لیے اس میں دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق مربوط نظام لایا جا رہا ہے جس کے تحت موجودہ تعلیمی معیار میں اضافہ ممکن ہو سکے گا اورصوبے کے بچے زیور تعلیم سے صحیح معنوں میں روشناس ہو سکیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی(پی ایس ار اے) کے ممبران سید انس تقریم کا کا خیل اور فضل اللہ داودزئی کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ملاقات کے دوران صوبائی وزیر نے نجی تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل نہایت سنجیدگی سے سنے اور یقین دلایا کہ عنقریب پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی کا ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ جس میں پی ایس آر اے کے منتخب ممبران کو شرکت کے لیے مدعو کیا جائے گا تاکہ درپیش مسائل کا حل نکالنے کے لیے قابل عمل تجاویز مرتب کی جا سکیں۔ اس موقع پر ممبر ان پی ایس ار اے نے مسائل توجہ سے سننے اور ان کے حل کی یقین دہانی پر صوبائی وزیر کا شکریہ اداکیا۔
آئینی عہدوں کو سیاست سے بالاتر رہنا چاہیے، شفیع جان
زیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے صوبائی حکومت کے خلاف دی جانے والی حالیہ سیاسی بیان بازی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی عہدوں سے وابستہ افراد کو سیاسی کردار ادا کرنے کی بجائے آئین کی پاسداری کرنی چاہیے۔ آئینی مناصب کا تقاضا ہے کہ وہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور استحکام کے فروغ کا ذریعہ بنیں، نہ کہ سیاسی محاذ آرائی کا۔انہوں نے کہا کہ منتخب صوبائی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے خلاف مسلسل سیاسی بیان بازی دراصل سیاسی مایوسی کی عکاس ہے۔ صوبائی حکومت اور پارٹی پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے برعکس ہیں۔شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں حقیقی عوامی مینڈیٹ سے حکومت قائم ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں عوام کی رائے کے برعکس حکومتیں مسلط کی گئی ہیں۔ عوامی مینڈیٹ سے قائم ہونے والی حکومت کو بیان بازی اور سیاسی دباؤ کے ذریعے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود، شفاف طرزِ حکمرانی اور بہتر گورننس کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔ صوبے میں امن و امان کی بہتری، شفافیت اور فلاحی اقدامات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، اور صوبائی حکومت کی کارکردگی کا عالمی سطح پر اعتراف بھی کیا جا چکا ہے۔معاون خصوصی نے واضح کیا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے فیصلے کا اختیار بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے پاس ہے، اور بانی پی ٹی آئی کو کسی این آر او کی ضرورت نہیں۔ این آر او کس نے لیے، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے۔
دریں اثناء وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور مریم اورنگزیب کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وفاق اور پنجاب کے وزراء میں سیاسی عدم برداشت عروج پر ہے۔ جعلی وفاقی اور پنجاب حکومت نے بشریٰ بی بی اور دیگر خواتین کو جعلی مقدمات کے ذریعے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کی خواتین کے خلاف ظلم و جبر کی ایک طویل تاریخ ہے۔ کیا پنجاب میں خواتین پر تشدد اور انہیں سڑکوں پر گھسیٹنا ہماری معاشرتی اقدار کی کھلی پامالی نہیں؟ عمران خان کی بہنوں اور دیگر خواتین پر واٹر کینن کا استعمال کون سے مہذب معاشرے میں ہوتا ہے؟۔شفیع جان نے مزید کہا کہ بے بنیاد الزامات لگانا مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا وطیرہ ہے، اور پاکستان تحریک انصاف ڈٹ کر نام نہاد جعلی اور عوام پر زبردستی مسلط حکمرانوں کا مقابلہ کرتی رہے گی۔
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ریلیف، بحالی و آباد کاری عاقب اللہ خان نے ڈیجیٹل کمپنسیشن پلیٹ فارم کا افتتاح کیا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبر پختونخوا نے صوبے بھر میں قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کو بروقت، شفاف اور مؤثر مالی امداد کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل کمپنسیشن پلیٹ فارم کامیابی سے متعارف کرا دیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت ضلعی انتظامیہ بغیر کسی تاخیر کے آفات سے متاثرہ افراد کے معاوضہ کیسز کا اندراج کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی یہ سہولت حاصل ہوگی کہ وہ دستک ایپ کے ذریعے اپنا کیس خود رجسٹر کر سکیں۔ کیس کے اندراج کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے تصدیق کا عمل مکمل کیا جائے گا، جس کے بعد مستحق افراد کے کیسز کو ڈیجیٹل سسٹم پر معاوضے کے لیے منظور کیا جائے گا۔ نظام کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کے عملے کے لیے چار روزہ جامع تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ تربیت کے دوران ڈیٹا اکٹھا کرنے، تصدیق کے عمل اور مطلوبہ دستاویزات کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کرنے کے حوالے سے تفصیلی رہنمائی فراہم کی گئی، تاکہ کیسز کی بروقت اور درست تکمیل ممکن ہو سکے۔ ڈیجیٹل سسٹم کے تحت جیسے ہی کسی کیس کی منظوری دی جاتی ہے، معاوضے کی رقم براہِ راست متاثرہ فرد کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جاتی ہے، جس سے دستی کارروائی اور غیر ضروری رکاوٹوں کا خاتمہ ممکن ہوا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانا اور متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔ڈیجیٹل کمپنسیشن پلیٹ فارم کا باقاعدہ افتتاح صوبائی وزیر برائے ریلیف و بحالی جناب عاقب اللہ خان نے سیکرٹری ریلیف، بحالی و آبادکاری سہیل خان کے ہمراہ کیا۔تربیتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر عاقب اللہ خان نے نظام کے مؤثر استعمال پر زور دیا اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اس پلیٹ فارم کو ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ استعمال کریں۔ انہوں نے پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے صوبائی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر سیکرٹری ریلیف جناب سہیل خان نے صوبائی وزیر کو ڈیجیٹل نظام کے مجموعی ڈھانچے اور طریقہ کار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کی جانب سے متعارف کرائے گئے اس جدید، شفاف اور عوام دوست نظام کو گڈ گورننس اور بروقت ریلیف کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان کی زیر صدارت پیڈیاٹرک ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا
وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان کی زیر صدارت پیڈیاٹرک ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبے کے بچوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر شاہین آفریدی سمیت تمام متعلقہ پیڈیاٹرک ڈائریکٹرز اور شعبہ جات کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس میں بچوں کی صحت سے متعلقہ سہولیات کی موجودہ صورتحال اور درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ صوبائی وزیرِ صحت نے اجلاس میں شریک افسران کے پیش کردہ تمام اہم مسائل توجہ سے سنے اور ان کے حل کے لیے محکمہ صحت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور تمام پیڈیاٹرک ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اداروں میں ڈاکٹرز، نرسز اور متعلقہ طبی عملے کی ڈیوٹی اوقات میں بروقت دستیابی کو یقینی بنائیں اور نظم و ضبط پر سختی سے عمل کریں۔ انہوں نے ہسپتالوں میں صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عملدرآمد کی بھی سختی سے ہدایت کی اور کہا کہ معیاری علاج کا آغاز صاف اور منظم ماحول سے ہوتا ہے۔اجلاس میں مستقبل کی منصوبہ بندی پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ جدید سہولیات سے آراستہ خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے قیام سے بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ نمایاں حد تک کم ہو جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ غیر ضروری ریفرلز کی حوصلہ شکنی کے لیے ضلعی اور تدریسی ہسپتالوں میں بستروں اور وارڈز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ بچوں کو علاج مقامی سطح پر میسر ہو سکے۔صوبائی وزیرِ صحت نے یقین دہانی کرائی کہ محکمہ صحت تمام ضروری طبی آلات کی فراہمی کو یقینی بنائے گا اور خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کو ہدایت کی کہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی کمی کو ریشنلائزیشن پالیسی کے تحت فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ صوبے بھر میں انسانی وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن بنائی جا سکے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری اور ایک بڑا قومی فریضہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت بنیادی صحت کے مراکز کو مضبوط بنانے میں مصروف ہے تاکہ عوام کو ضلعی سطح پر بنیادی علاج معالجہ میسر آ سکے اور انہیں غیر ضروری مالی بوجھ اور وقت کے ضیاع سے بچایا جا سکے۔صوبائی وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ ڈیوٹی میں کوتاہی، غیر حاضری اور غفلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اصلاحاتی پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے سخت احتساب اور مانیٹرنگ کا مربوط نظام نافذ کیا جائے گا تاکہ صحت کے شعبے میں خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
