Home Blog Page 91

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے پنجاب اسمبلی میں صوبائی وزراء کے ساتھ سیکیورٹی عملے کے ہتک آمیز رویے کی شدید الفاظ میں مذمت

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے پنجاب اسمبلی میں صوبائی وزراء کے ساتھ سیکیورٹی عملے کے ہتک آمیز رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں کی تذلیل کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور یہ طرزِ عمل فسطائی سوچ کی واضح عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی جیسے جمہوری ادارے میں منتخب نمائندوں کے ساتھ ناروا سلوک ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد عوامی آواز کو دبانا اور سیاسی انتقام لینا ہے۔ شفیع جان نے مطالبہ کیا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔شفیع جان نے کہا کہ ہمارے قائد پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے، پارٹی قیادت کو پابندِ سلاسل کیا گیا اور عوامی مینڈیٹ پر کھلے عام ڈاکہ ڈالا گیا۔ مسترد شدہ ٹولے کو اقتدار کے قلمدان سونپ کر عوام کے فیصلے کی توہین کی گئی، جس کے نتائج آج پورا ملک بھگت رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ نام نہاد اور مصنوعی ترقی کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ 19 دسمبر کو ڈان میں شائع ہونے والا کالم اسی سچ کی عکاسی کرتا ہے، جسے مسترد شدہ عناصر ہر ممکن طریقے سے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر اب حقائق کو زیادہ دیر دبایا نہیں جا سکتا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ لگانے والوں کو اب مزید پاکستانی عوام کے ووٹ کی بے حرمتی سے باز آ جانا چاہیے۔ عوام نے واضح اور بھاری اکثریت سے خان کو ووٹ دیا ہے اور عوامی فیصلے کا احترام جمہوریت کا بنیادی تقاضا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کے دوران پورے شہر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کی گئی، راستے بند کیے گئے اور لبرٹی چوک جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کون سے جمہوری ملک میں ایک منتخب وزیراعلیٰ کا اس طرح راستہ روکا جاتا ہے۔شفیع جان نے کہا کہ پنجاب کے عوام خوف کے بت توڑ چکے ہیں اور وزیراعلیٰ کے دورے نے کارکنوں اور عوام میں جوش و ولولہ مزید بڑھا دیا ہے۔ طاقت، جبر اور انتظامی ہتھکنڈوں سے عوامی شعور کو دبایا نہیں جا سکتا۔انہوں نے صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کے بیانات کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے قافلے میں شریک افراد کے لیے ہتک آمیز اور نسلی تعصب پر مبنی الفاظ قابلِ مذمت ہیں۔ ایسے بیانات سیاسی عدم برداشت اور پست ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔

KP Government Taking Practical Steps to Promote Sports — Taj Muhammad Khan Tarand.

Advisor to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa on Sports and Youth Affairs, Taj Muhammad Khan Tarand, has said that modern sports facilities of international standards are being constructed on the Sports Department’s land in Dotar, Abbottabad, to provide youth with opportunities for healthy and constructive activities.
He expressed these views while addressing the inaugural ceremony of the Jashn-e-Neeza Bazi as chief guest at the newly constructed sports ground — the largest in Hazara Division — spread over 85 kanals in Dotar. The event was organized by the district administration in collaboration with the Regional Sports Office Abbottabad.
Tarand said the KP government is implementing a comprehensive strategy to promote sports across the province, ensuring that every district receives modern and quality sports infrastructure. Encouraging youth toward positive activities, he added, is among the government’s top priorities so they may stay safe from drugs, extremism, and other negative tendencies.
Highlighting the importance of traditional sports, he said that events like Neeza Bazi are a vital part of our culture and history. By promoting such sports, the government aims not only to preserve cultural heritage but also to provide young athletes opportunities to excel at national and international levels.
Riders from across the country participated in the event and displayed impressive skills in the competitions. The advisor, along with members of the National and Provincial Assemblies and senior district officials, formally inaugurated the event and later distributed prizes among distinguished performers.
The provincial advisor announced a prize amount of three hundred thousand rupees for outstanding players, saying the incentive would encourage athletes to work harder and perform even better.
Commending the efforts of the Regional Sports Office and the district administration, he said such events play a crucial role in promoting awareness about sports among youth and in nurturing a spirit of healthy competition.
The ceremony was attended by MPA Mushtaq Ahmad Ghani, MNA Ali Khan Jadoon, MPA Iftikhar Khan Jadoon, Deputy Commissioner Abbottabad Sarmad Saleem Akram, and Regional Sports Officer Abbottabad Muhammad Zaman.

The Provincial Minister for Irrigation of Khyber Pakhtunkhwa, Riaz Khan, met with various delegations, local elders, and PTI workers at his hujra in Malik Pur Pir Baba Buner on the occasion of Public Day

The Provincial Minister for Irrigation of Khyber Pakhtunkhwa, Riaz Khan, met with various delegations, local elders, and PTI workers at his hujra in Malik Pur Pir Baba Buner on the occasion of Public Day. On this occasion, members of the public apprised the provincial minister of the issues and difficulties they were facing. Riaz Khan listened to public grievances with great attention and seriousness, resolved several issues on the spot, and issued clear instructions to the concerned departments for the prompt and effective resolution of other matters. While speaking on the occasion, Provincial Minister Riaz Khan said that resolving public issues is the true essence of politics, and that real satisfaction lies in serving the people. He stated that the politics of Pakistan Tehreek-e-Insaf is not about holding power, but is based on a clear vision of selfless public service and public welfare. In light of the directives of PTI Founder Chairman Imran Khan the provincial minister also briefed the participants about the street movement, stating that preparations to make the street movement successful are underway. He said that under the leadership of Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Muhammad Sohail Afridi and Provincial President Junaid Akbar Khan, the street movement will be made successful in a fully organized and effective manner. Riaz Khan further clarified that the struggle for the release of PTI Founder Chairman Imran Khan is continuing with full force, and that they will not rest until the supremacy of law, the sanctity of the Constitution, and the release of Imran Khan are ensured. He added that the struggle for the protection of public rights and for true freedom will continue under all circumstances.

عظمیٰ بخاری کے بیان پر شفیع جان کا ردعمل

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ، شفیع جان نے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی مہمان نوازی پوری قوم نے دیکھ لی، جہاں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کے استقبال کی بجائے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود والہانہ استقبال پر پنجاب کے عوام اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کے شکر گزار ہیں۔ شفیع جان نے واضح کیا کہ اداروں پر چڑھائی کرنا اور غیر ذمہ دارانہ بیانات دینا مسلم لیگ (ن) کا پرانا وطیرہ رہا ہے، عظمیٰ بخاری شاید ن لیگ کی جانب سے سپریم کورٹ پر ہونے والی چڑھائی کو بھول چکی ہیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک پرامن، جمہوریت پسند اور آئین کی پاسدار سیاسی جماعت ہے۔ پنجاب بھی ہمارا ہے اور لاہور بھی ہمارا ہے۔ پنجاب کے عوام نے تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیا تھا، جسے چوری کیا گیا، اور اب پنجاب میں چوری شدہ مینڈیٹ واپس لے کر رہیں گے۔شفیع جان کا کہنا تھا کہ عوام کو ان کا جمہوری حق واپس دلانا اور قانون و آئین کی بالادستی کو یقینی بنانا اب پاکستان تحریک انصاف کے مشن بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم صفدر کی جعلی حکومت نے پنجاب کے کسانوں کا برا حال کر دیا ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں پنجاب میں کرپشن کو منظم انداز میں فروغ ملا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بتیاں لگانے اور رنگ و روغن کو ترقی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ پنجاب میں شعبہ صحت کی حالت انتہائی خراب ہو چکی ہے اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان جعلی اور سیاسی مقدمات میں قید ہیں، اس کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کی لیڈر شپ اور کار کنان پر امن ہیں اور رہیں گے، بانی چیئرمین عمران خان نے ہمیشہ کارکنوں کو قانون کے احترام اور پرامن جدوجہد کا درس دیا ہے جس کی پاسداری ہر صورت کریں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ ملک کے کسی بھی حصے میں جانا اور کارکنوں سے ملاقات کرنا ہمارا جمہوری اور آئینی حق ہے، جسے کوئی طاقت سلب نہیں کر سکتی۔آخر میں شفیع جان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں خیبر پختونخوا میں گڈ گورننس کا عالمی سطح پر اعتراف کیا جا رہا ہے، جو موجودہ صوبائی حکومت کی شفاف اور عوام دوست پالیسیوں کا ثبوت ہے۔

نیشنل گیمز،خیبرپختونخوا ہیروز کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد گولڈ میڈلسٹ کو 6 لاکھ،سلور کو 4 جبکہ براونز میڈل جیتنے والے کھلاڑیوں کو 2 لاکھ روپے انعام کا اعلان

نیشنل گیمز کراچی میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے خیبر پختونخوا کے کھلاڑیوں کے اعزاز میں پشاورسپورٹس کمپلیکس میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند تھے۔مہمانِ خصوصی نے گولڈ میڈل جیتنے والے کھلاڑیوں کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے 6 لاکھ روپے، سلور میڈلسٹ کے لیے 4 لاکھ روپے جبکہ براونز میڈل حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے 2 لاکھ روپے نقد انعامات کا اعلان کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی تاج محمد خان ترند نے کھلاڑیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان ہیروز نے محدود وسائل کے باوجود بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر کے صوبے کا نام روشن کیا ہے، جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے کھلاڑیوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور وہ دیگر صوبوں کے کھلاڑیوں کو شکست دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایات کے مطابق صوبے کے تمام اضلاع میں کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ جنوری میں چترال میں آئس ہاکی کے مقابلے منعقد کیے جائیں گے جبکہ اسی ماہ انڈر 21 گیمز کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 2026 میں بین المدارس اور اقلیتی برادری کے لیے خصوصی گیمز کے ساتھ ساتھ نئے ٹیلنٹ کی تلاش کے لیے جونیئر گیمز بھی منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی ثقافت اور علاقائی شناخت کو اجاگر کرنے کے لیے روایتی اور علاقائی کھیلوں کے مقابلے بھی کرائے جائیں گے۔تاج محمد خان ترند نے مزید کہا کہ قائد اعظم گیمز کے میڈلسٹ کھلاڑیوں کو بھی وظائف دیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پشاور سپورٹس کمپلیکس میں سوئمنگ پول کو سردی اور گرمی دونوں موسموں کے لیے موزوں بنایا جا رہا ہے جبکہ ایتھلیٹکس ٹریک پر کام تیزی سے جاری ہے جو جلد مکمل کر لیا جائے گا۔

An important meeting regarding the improvement of health facilities in South Waziristan was held at the Health Secretariat, Peshawar, under the chairmanship of the Provincial Minister for Health, Mr. Khaliq ur Rehman.

The meeting was attended by the Secretary Health, Deputy Chief Planning Officer (P&D), Regional Director South Region Dr. Kamran Zakaria, Managing Director Health Foundation Dr. Khizar Hayat, and District Health Officer Upper South Waziristan Dr. Tufail Sherani.

During the meeting, detailed deliberations were held on the challenges faced by the health sector in South Waziristan, as well as ongoing and upcoming development projects. Special discussion was held on the long-standing issue of Mola Khan Sarai Hospital, which was being operated under the PPP mode. Due to certain administrative and technical issues, the hospital’s services had been affected. As a result of the continuous efforts of MPA Muhammad Asif Khan Mehsud and the Health Department, the recruitment advertisement for hospital staff has now been issued. The Provincial Minister for Health assured that formal approval will be granted in the upcoming cabinet meeting, after which the hospital will be made functional within the same month, Insha’Allah.

The meeting also reviewed the upgradation of Basic Health Units (BHUs) in South Waziristan. Due to past militancy and conflict, many BHU buildings and infrastructure had been severely damaged. It was decided that all BHUs in South Waziristan will be included in the upgradation scheme, for which principled approval has already been granted. Along with full rehabilitation of these facilities, shortages of human resources will also be addressed.

Detailed discussions were also held regarding the funding of Tank Nara and Makeen Hospitals, which are approximately 70 to 80 percent complete. The meeting emphasized the immediate release of remaining funds so that these projects can be completed at the earliest and better healthcare services can be provided to the public.

Furthermore, the Pakistan Red Crescent Society (PRCS) partnership model was discussed, under which more than half of the BHUs in South Waziristan will be handed over to PRCS under a sharing model, similar to the successful provision of quality healthcare services at BHU Baloch Kot.

The meeting also addressed shortages of infrastructure, medical equipment, and furniture in hospitals. On this occasion, the Provincial Minister for Health assured that these issues will be resolved on a war footing.

Similarly, it was agreed to provide 4 to 5 new ambulances to South Waziristan to expand Rescue 1122 emergency services, in order to strengthen emergency medical response across the district.

At the conclusion of the meeting, the Provincial Minister for Health and the Secretary Health directed the DHO Upper South Waziristan to submit a progress report every fifteen days to ensure continuous monitoring and evaluation of the projects.

Finally, the public was assured that the health sector in South Waziristan is being given top priority, and that, Insha’Allah, all health-related issues will be resolved on a priority basis, as healthcare is a fundamental right of the people and the government is fully committed to safeguarding this right.

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا دورہ لاہور/ چکری ریسٹ ایریا سیل/ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا بیان

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی منتخب پارلیمنٹیرینز کے ہمراہ دورہ لاہور کے لیے روانہ ہو چکے ہیں، شفیع جان

پنجاب حکومت نے خوف و بوکھلاہٹ میں چکری کے مقام پر قیام کے لئے مختص ایریا سیل کر دیا،شفیع جان

پنجاب پولیس نے چکری کے مقام پر وزیر اعلی سہیل آفریدی کا راستہ روکا، شفیع جان

منتخب وزیراعلیٰ کے دورے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا افسوسناک اور قابل مذمت ہے، شفیع جان

ریسٹ ایریا کو سیل کرنا اور راستہ روکنا پنجاب حکومت کے خوف کی واضح علامت ہے، شفیع جان

جعلی پنجاب حکومت عوام کی آواز دبانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے، شفیع جان

حسن ابدال اور چکری میں کارکنوں کے شاندار استقبال سے پنجاب حکومت خوفزدہ ہو گئی، شفیع جان

پنجاب پر زبردستی مسلط حکومت آمریت کا مظاہرہ کر رہی ہے، شفیع جان

ایک منتخب وزیراعلیٰ کا دیگر صوبوں کا دورہ آئینی، قانونی اور جمہوری حق ہے، شفیع جان

پنجاب حکومت حوصلہ رکھے، ابھی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لاہور پہنچے بھی نہیں، شفیع جان

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے استقبال کے لیے لاہور میں کارکنوں کا جوش و جذبہ عروج پر ہے، شفیع جان

پنجاب حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے، شفیع جان

قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کا یوم پیدائش، صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان کا پیغام

صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کے یوم پیدائش کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ قائداعظمؒ کی جدوجہد ہمیں نہ صرف ایک آزاد وطن دے گئی بلکہ خودداری، آئین کی بالادستی اور عوامی حاکمیت کا واضح راستہ بھی متعین کیا۔اپنے پیغام میں ریاض خان نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ اصولوں، دیانت داری اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والے عظیم رہنما تھے۔ ان کے فرمودات ایمان، اتحاد اور نظم آج بھی ہماری قومی زندگی کے لیے مشعل راہ ہیں۔ صوبائی وزیر آبپاشی نے کہا کہ آج قائداعظمؒ کے نظریے کو عملی شکل دینے کے لیے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان حقیقی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ عمران خان کی تحریک دراصل قائداعظمؒ کے اس خواب کی تعبیر ہے جس میں ایک خودمختار، باوقار اور آئین و قانون کے مطابق چلنے والا پاکستان شامل تھا۔ ریاض خان نے کہا کہ حقیقی آزادی کا مطلب عوام کی بالادستی، شفاف نظام، آزاد عدلیہ اور ایک ایسا پاکستان ہے جہاں فیصلے بیرونی دباؤ کے بجائے عوامی مفاد میں کیے جائیں۔ یہ وہی نظریہ ہے جس کی بنیاد قائدِاعظمؒ نے رکھی اور جسے آج عمران خان آگے بڑھا رہے ہیں۔ صوبائی وزیر آبپاشی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف قائداعظمؒ کے افکار اور عمران خان کے وژن حقیقی آزادی کی روشنی میں ملک کی ترقی، خوشحالی اور خودداری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

قومی تشخص اور وقار کی علامت ادارے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی نجکاری کو کیسے کامیاب قدم تصور کیا جا سکتا ہے،شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے وفاقی حکومت کی نجکاری پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے قومی تشخص اور وقار کی علامت ادارے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی نیلامی کر دی ہے، جسے کسی بھی صورت میں ایک کامیاب قدم نہیں کہا جا سکتا۔ اس نوعیت کے فیصلے وہی جماعتیں کر سکتی ہیں جنہیں نہ عوامی احساسات کا ادراک ہو اور نہ ہی جو عوامی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آئی ہوں۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی تباہی کی بڑی وجہ اس ادارے میں وفاق میں بغیر مینڈیٹ کے براجمان انہی جماعتوں کی سیاسی مداخلت، اقربا پروری اور کرپشن رہی ہے، جس کے باعث ایک وقت میں کامیاب ترین ادارے کو اس نہج تک پہنچا دیا گیا، اور اب اسے اونے پونے داموں فروخت کر دیا گیا ہے۔شفیع جان نے کہا کہ نجکاری کے عمل میں نہ قومی وقار کا خیال رکھا گیا اور نہ ہی اس ادارے سے وابستہ ہزاروں ملازمین کے مستقبل کو مدنظر رکھا گیا۔ نجکاری کے بعد 135 ارب روپے کی مالی بولی میں سے حکومت کے پاس محض 7.5 فیصد حصہ باقی رہ جائے گا، جو وفاقی حکومت کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملکی معاشی ترقی کے لیے وفاقی حکومت کے پاس نہ کوئی واضح وژن ہے اور نہ ہی عوامی مینڈیٹ، جس کے باعث نہ بیرونی سرمایہ کاری آ رہی ہے اور نہ ہی ملکی معیشت ترقی کر پا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ سازی کے فقدان اور واضح معاشی پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے ملک شدید معاشی عدم استحکام کا شکار ہے۔شفیع جان نے کہا کہ کرپشن اور اقربا پروری کے باعث یوٹیلیٹی اسٹورز جیسے قومی ادارے کو بھی تباہ کر دیا گیا، جبکہ جعلی وفاقی حکومت کی نااہلی کے سبب عوام روز بروز مہنگائی کے دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے بیرونی سرمایہ کاری ناگزیر ہے، مگر وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کار سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔بعد ازاں بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر شروع کی گئی اسٹریٹ موومنٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے بانی چیئرمین عمران خان کا پیغام ملتے ہی اسٹریٹ موومنٹ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں پارٹی کارکنوں، انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن سمیت دیگر پارٹی تنظیموں کو متحرک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جس کی مقبولیت کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کیا جا رہا ہے۔ عمران خان اور دیگر قائدین و ورکرز کی رہائی کے لیے اسٹریٹ موومنٹ ہمارا آئینی، قانونی اور جمہوری حق ہے۔ پاکستان تحریک انصاف ایک جمہوری سیاسی جماعت ہے جو جمہوریت کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتی ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ معدنیات کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ معدنیات کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی اکرام اللہ غازی نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین و ممبران صوبائی اسمبلی محمد یامین خان ، محمد نثارباز ، ارباب محمد عثمان،محمد انور خان، محبوب شیر اور محترمہ صوبیہ شاہد نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سیکرٹری معدنیات،مع متعلقہ عملہ، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں مختلف پارلمانی سوالات اور سابقہ اجلاس کے احکامات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ رکن صوبائی اسمبلی احمد کنڈی کی جانب سے 15 اپریل 2025 کے اجلاس میں پیش کیے گئے سوال پر محکمہ معدنیات نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں مجموعی طور پر 3900 بارودی (Blasting) لائسنس جاری کیے گئے ہیں، جن میں سے 2198 لائسنسوں کے تحت کان کنی کا عمل جاری ہے، جبکہ باقی لائسنس تنازعات کی وجہ سے غیر فعال ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بارودی لائسنسوں کا اجرا متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے احکامات کے تحت کیا جاتا ہے اور این او سی قانون کے مطابق جاری کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے محکمہ معدنیات کے حکام کو ہدایت کی کہ کان کنی کے لیے لیز جاری ہوتے ہی فوری طور پر کام شروع کر دینا چاہیے تاکہ تنازعات سے بچا جا سکے اور مقامی آبادی ترقیاتی ثمرات سے مستفید ہو سکے۔محترمہ صوبیہ شاہد کے سوال کے جواب میں محکمہ معدنیات کے ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ جہاں آبادی 50 گھروں پر مشتمل ہو، وہاں 2017 کے ایکٹ کے تحت کان کنی کے لیے لیز جاری نہیں کی جاتی۔ مزید بتایا گیا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں اب تک 7416 مقامات پر کان کنی کے لیے لیز دی جا چکی ہے۔ اس پر قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے مکمل اور تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔اجلاس میں رکن قائمہ کمیٹی اور رکن صوبائی اسمبلی محمد نثار کے سوال پر سیکرٹری معدنیات نے بتایا کہ ضلع باجوڑ میں گرائے ماٹ کے لیے چار سال قبل تین لائسنس جاری کیے گئے تھے، تاہم تنازعات کے باعث ان پر اب تک کام شروع نہیں ہو سکا۔ سیکرٹری معدنیات نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ ان تینوں لائسنسوں کو منسوخ کر دیا جائے گا اور آئندہ اجلاس میں اس کا نوٹیفکیشن پیش کیا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے حکم دیا کہ آئندہ اجلاس میں ڈی جی کوہاٹ اپنی حاضری یقینی بنائیں۔ انہوں نے سیکرٹری معدنیات کو ہدایت کی کہ متعلقہ ایکٹ میں ترمیم کے لیے اقدامات کیے جائیں اور عدالتی سٹے کے عمل کو روکنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ ترقیاتی کام بغیر کسی تعطل کے جاری رہ سکیں۔