خیبر پختونخوا میں ایسڈ، تیزابی و کاسٹک مادّوں اور جلانے کے جرائم کی روک تھام اور متاثرین کی بحالی کے لیے مجوزہ قانون ”خیبر پختونخوا ایسڈ، تیزابی و کاسٹک مادّوں اور جلانے کے جرائم (روک تھام و بحالی) ایکٹ 2026“ کا جامع مسودہ باضابطہ طور پر محکمہ سماجی بہبود کے حوالے کر دیا گیا۔یہ مسودہ چھ سالہ مسلسل اور سنجیدہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس جدوجہد کا آغاز ابتدائی طور پر ویمن پارلیمنٹری کاکس کے پلیٹ فارم سے ہوا تھا، جسے بعد ازاں خیبرپختونخوا کمیشن ان دے سٹیٹس آف ویمن کے پلیٹ فارم سے باقاعدہ اور منظم انداز میں آگے بڑھایا گیا۔مسودہ عائشہ نعیم کی قیادت میں تیار کیا گیا، جبکہ آسیہ خٹک نے قانونی اور تکنیکی معاونت فراہم کی۔ اس قانون میں نہ صرف سخت سزاؤں اور مؤثر عملدرآمد کا طریقہ کار شامل ہے بلکہ متاثرین کے علاج، نفسیاتی مدد، قانونی رہنمائی اور سماجی بحالی کے واضح اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ اس طرح یہ قانون متاثرین کے حقوق کے تحفظ پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔کمیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس نے اس عمل میں خصوصی شرکت کی اور اپنی رہنمائی اور سرپرستی سے اس اہم پیش رفت کو آگے بڑھایا۔پروگرام ڈائریکٹر آمنہ درانی نے مختلف اداروں کے درمیان رابطوں، مشاورت اور مسودے کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح ایڈووکیٹ آمنہ پرویز، محکمہ سماجی بہبود کی جینڈر اسپیشلسٹ ندرت، اور پراسیکیوشن و لا ڈیپارٹمنٹ کے نمائندگان نے بھی اپنی پیشہ ورانہ آراء اور قانونی مہارت سے مسودے کو عملی تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے میں معاونت کی۔حکام کے مطابق یہ اقدام صوبے میں ایسڈ اور جلانے کے جرائم کے خاتمے، مجرموں کے مؤثر احتساب اور متاثرین کی باعزت بحالی کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ یہ قانون سازی نہ صرف قانونی اصلاحات بلکہ سماجی انصاف کے فروغ کی جانب بھی ایک مضبوط قدم ہے۔
