طارق سعید مروت نے دہشت گردی کے خلاف خیبر پختونخوا کے عوام اور سیکیورٹی فورسز کی بے مثال قربانیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی اور دہشت گردی کے معاملے پر صوبوں کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کے بجائے اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے ہر شہری کو ملک پر برابر کا حق حاصل ہے اور سیاسی اختلافات کو قومی یکجہتی اور شہداء کی قربانیوں سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان زندہ باد
سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی سے گلگت بلتستان اسمبلی کے وفد کی ملاقات

سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی سے گلگت بلتستان اسمبلی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں اہم ملاقات کی، جس میں بین الصوبائی ہم آہنگی، قانون سازی کے تجربات، اور پارلیمانی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP) کے پروجیکٹ “BEST For WEER” کے تحت منعقدہ اس ایکسپوژر وزٹ کی قیادت ڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی ملک کفایت الرحمن نے کی۔ وفد میں گلگت بلتستان اسمبلی کے اراکین سید سہیل عباس شاہ، رانا فاروق، امام مالک، کلثوم جہانگیر، ساجدہ بیگم اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کی جینڈر ایکولٹی ہیڈ سوسن عزیز شامل تھیں۔ملاقات کے دوران سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے گلگت بلتستان اسمبلی کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے عوام کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور بھائی چارے کے روابط قائم ہیں۔ انہوں نے پارلیمانی نظام کی مضبوطی اور قانون سازی کے عمل کو مزید شفاف اور عوام دوست بنانے میں ایسی بین الصوبائی ملاقاتوں کے کردار کو سراہا۔سپیکر بابر سلیم سواتی کی خصوصی ہدایت پر سیکرٹری اسمبلی سید وقار شاہ نے جی بی وفد کو خیبر پختونخوا اسمبلی کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کروایا اور اسمبلی کی کارروائی کے طریقہ کار اور جدید قانون سازی پر روشنی ڈالی۔دورے کے دوران جی بی وفد نے خیبر پختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی، ومین پارلیمانی کاکس کی اراکین اور دیگر صوبائی اراکین اسمبلی سے بھی ملاقاتیں کیں، جہاں خواتین کی بااختیاری اور پارلیمانی نظام کے بہتری پر گفتگو کی گئی۔گلگت بلتستان اسمبلی کے وفد نے اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی جانب سے کی جانے والی گرمجوش مہمان نوازی اور رہنمائی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
پی ڈی ڈبلیو پی کے ساتویں اجلاس میں خیبر پختونخوا کے لیے اربوں روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

خیبر پختونخوا کے مالی سال 2026-27 کے لیے صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا ساتواں اجلاس منگل کے روز ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقی خیبر پختونخوا اسلام زیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔جس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایات پر صوبے بھر میں رابطوں کو بہتر بنانے اور سفری سہولیات کو فروغ دینے کے لیے صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں سڑکوں کے کئی اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔ان منصوبوں کے تحت ضلع چترال میں شوغر سے شاہ سلیم تک 45 کلومیٹر طویل سڑک تعمیر کی جائے گی جو دور دراز علاقوں کو ملائے گی۔ ضلع بونیر میں بٹئی سے خلیل ٹاپ تک 20 کلومیٹر سڑک کی کشادگی، بہتری اور بلیک ٹاپنگ کی جائے گی تاکہ مقامی آبادی کو محفوظ اور آسان سفری سہولت میسر آ سکے۔ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے تیرہ سب ڈویژن میں بھی ترقیاتی کاموں کو وسعت دی گئی ہے۔ اس کے تحت شانگر مرکز سے درس مسجد تک بذریعہ سندپال 11 کلومیٹر طویل سڑک اور احمدی سے ڈونگا تک 8 کلومیٹر سڑک تعمیر کی جائے گی۔اسی طرح ضلع ایبٹ آباد میں مکھنیال اسلام آباد باؤنڈری سے چنگلہ گلی تک بذریعہ دکھن پلسر سڑک کی فیزیبلٹی اسٹڈی، ڈیزائن اور تعمیر کا منصوبہ بھی منظور کیا گیا ہے تاکہ سیاحتی مقامات تک رسائی کو آسان اور محفوظ بنایا جا سکے۔وزیر اعلی کی ہدایت پر منظور کیے گئے یہ منصوبے صوبے بھر میں سڑکوں کے نیٹ ورک کو مضبوط بنائیں گے، سفر کے دورانیے میں کمی لائیں گے اور عوام کے لیے سفر کو محفوظ بنائیں گے۔ضلع تورغر کی ترقی و خوشحالی کے لیے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایات پر 9 ارب روپے سے زائد مالیت کا خصوصی ترقیاتی پیکج منظور کیا گیا ہے۔اس تاریخی پیکج کے تحت پورے ضلع تورغر میں سڑکوں، صحت، لائیو اسٹاک، زراعت اور دیگر کثیر شعبہ جاتی منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔ پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے سڑکوں کی تعمیر اور موجودہ سڑکوں کی بہتری شامل ہے۔یہ جامع ترقیاتی پیکج ضلع تورغر کے عوام کی زندگیوں میں واضح اور دیرپا تبدیلی لائے گا۔ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، صحت و سفری سہولیات بہتر ہوں گی اور بنیادی ضروریات تک رسائی آسان ہو گی۔اجلاس میں سڑکوں، کھیل، جنگلات، بی او آر اور کثیر شعبہ جاتی ترقی سمیت مختلف شعبوں سے متعلق 14 منصوبوں کی منظوری دی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلام زیب نے کہا کہ منظور شدہ منصوبوں پر بروقت عملدرآمد، شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، چیف اکانومسٹ اور سیکشنز کے نمائندوں نے شرکت کی۔منظور شدہ منصوبوں میں بلین ٹری افورسٹیشن سپورٹ پراجیکٹ، ضلع چارسدہ میں عمرزئی بائی پاس روڈ کی فیزیبلٹی اسٹڈی، ضلع چترال اپر میں سپورٹس سٹیڈیم کا قیام، ضم اضلاع میں کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد، کھیل کے میدانوں کی تعمیر، اپ گریڈیشن اور موجودہ کھیلوں کی سہولیات کی بحالی، ضلع تورغر کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج مرحلہ دوم، اربن پالیسی یونٹ کا قیام، خیبر پختونخوا پبلک ریسورس فار انکلوسیو ڈویلپمنٹ ملٹی فیز پروگرامیٹک اپروچ،لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی سینٹرلائزیشن منصوبے بھی شامل ہیں۔
خیبرپختونخوا کا اون سورس ریونیو 150.84 ارب روپے تک پہنچ گیا، نظرثانی شدہ ہدف سے 8 فیصد زائد وصولی کی: مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کی زیرِ صدارت صوبے میں اون سورس ریونیو (ٹیکس و نان ٹیکس) کی وصولیوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے محکموں کے سربراہان کے اعزاز میں محکمہ خزانہ کمیٹی روم سول سیکرٹریٹ پشاور میں تقریب منعقد ہوئی، جس میں متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔ تقریب میں بہترین کارکردگی دکھانے والے محکموں کے سربراہان میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔ تقریب میں سیکرٹری خزانہ خیبرپختونخوا کیپٹن(ر) کامران احمد آفریدی، سنئیر ممبر بورڈ آف ریونیو ظاہر شاہ، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل عباس احسن، سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ مطیع اللہ خان، سیکرٹری معدنیات ڈاکٹر محمد اصرار، سیکرٹری زراعت بختیار خان، سیکرٹری توانائی نثار احمد، سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خالد الیاس، سیکرٹری فوڈ شاہ محمود، سیکرٹری لائیو اسٹاک اینڈ فشریز ظریف المانی، ڈائریکٹر جنرل کیپرا ارم ناز سمیت متعدد سربراہان نے شرکت کی۔
مزمل اسلم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے اپنے وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن میں نمایاں اضافہ خوش آئند ہے، تاہم ریونیو بڑھانے کے لیے محکموں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ محکموں کے درمیان صحت مند مسابقت کی فضا قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے، جو افسران اور ملازمین بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں انہیں نہ صرف سراہا بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے اعزازیہ بھی دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں خیبرپختونخوا کی صوبائی اون سورس ریونیو وصولیاں 150.84 ارب روپے تک پہنچ گئیں، جبکہ نظرثانی شدہ ہدف 139.77 ارب روپے تھا۔ یوں صوبے نے اپنے نظرثانی شدہ ہدف کا تقریباً 108 فیصد حاصل کیا، جبکہ اصل بجٹ ہدف 129 ارب روپے کے مقابلے میں وصولیاں تقریباً 107.9 فیصد رہیں۔
مزمل اسلم کے مطابق ٹیکس وصولیاں 87.74 ارب روپے جبکہ نان ٹیکس وصولیاں 63.10 ارب روپے رہیں۔ نان ٹیکس ریونیو کی وصولیاں نظرثانی شدہ ہدف 52.35 ارب روپے کے مقابلے میں 120.5 فیصد تک پہنچیں۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے صوبائی اون سورس ریونیو کا ہدف 182.41 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جس میں 115.93 ارب روپے ٹیکس اور 66.48 ارب روپے نان ٹیکس ریونیو شامل ہے۔ یہ گزشتہ مالی سال کے اصل بجٹ ہدف 129 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 41 فیصد زیادہ ہے۔
اس موقع پر سیکرٹری خزانہ خیبرپختونخوا کیپٹن (ر) کامران احمد آفریدی نے کہا کہ صوبے کو ایک جانب ایف بی آر کی جانب سے جمع کیے گئے محصولات میں اپنے آئینی حصے کی وصولی ہوتی ہے، جبکہ دوسری جانب خیبرپختونخوا اپنے اون سورس ریونیو کے تحت ٹیکس اور نان ٹیکس محصولات بھی حاصل کرتا ہے۔
کامران احمد آفریدی نے کہا کہ صوبے کی مالی خودمختاری اور ترقی کے لیے اپنے وسائل سے حاصل ہونے والے ریونیو میں اضافہ ناگزیر ہے۔ بہترین کارکردگی دکھانے والے محکموں اور افسران کی حوصلہ افزائی سے نہ صرف ریونیو میں اضافہ ہوگا بلکہ دیگر محکموں میں بھی بہتر کارکردگی اور صحت مند مسابقت کو فروغ ملے گا۔
تقریب میں مختلف محکموں کی جانب سے ریونیو کارکردگی کا جائزہ بھی پیش کیا گیا اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کو تعریفی اسناد سے نوازا گیا
محکمہ ہاؤسنگ کا 46واں بورڈ اجلاس، اہم فیصلوں کی منظوری

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کی زیر صدارت منگل کے روز محکمہ ہاؤسنگ کے کمیٹی روم میں 46ویں بورڈ اجلاس کا انعقاد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ ہاؤسنگ، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ اور محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں 18 نکاتی ایجنڈے پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ متعلقہ حکام نے صوبائی وزیر کو مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں جلوزئی ہاؤسنگ اسکیم کے متاثرین کو سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں رقم کی ادائیگی کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح نشتر آباد پشاور میں خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے مرکزی دفتر کے قیام کی منظوری دی گئی۔بورڈ نے خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کمرشل پراپرٹی لیزنگ ریگولیشنز 2026 کی منظوری بھی دی، جبکہ سرکاری ملازمین کو مختلف ہاؤسنگ اسکیموں میں رہائشی پلاٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے ذریعے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی کی خصوصی ہدایت پر دنگرام ہاؤسنگ اسکیم سوات میں مقامی صحافیوں کے لیے مختص پلاٹس کی رقم کی ادائیگی کے لیے ایک اور موقع دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا، تاکہ مقامی صحافی پلاٹس کی منسوخی کے عمل سے محفوظ رہ سکیں۔اجلاس میں حیات آباد ہائی رائز سکیم میں پلاٹ مالکان اور فیملی رہائشی کرایہ داروں کے لیے نئی واضح کردہ پالیسی، ایس او پیز اور قواعد و ضوابط کی بھی منظوری دی گئی۔بورڈ اجلاس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 کے بجٹ پر تفصیلی غور کیا گیا اور بجٹ کی منظوری دی گئی۔ مختلف ہاؤسنگ اسکیموں میں ترقیاتی کاموں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی فنڈز کی منظوری دی گئی۔ملازئی ہاؤسنگ اسکیم میں سوئی گیس کی فراہمی کے حوالے سے محکمہ کی سفارشات پر عملدرآمد کی منظوری دی گئی، جبکہ مختلف ہاؤسنگ اسکیموں سے متعلق عدالتی مقدمات کی مؤثر پیروی کے لیے کیس ٹو کیس بنیاد پر لیگل ٹیم کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔بورڈ نے پولیس شہداء کے ورثاء کے لیے ہنگو ٹاؤن شپ اور میگا سٹی نوشہرہ میں پلاٹ کا سائز تین مرلہ سے بڑھا کر پانچ مرلہ کرنے کی بھی منظوری دے دی۔اس موقع پر صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ عوام کو بہترین سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے تمام ہاؤسنگ اسکیموں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پلاٹوں کے نظام کو ڈیجیٹائز کیا جائے تاکہ عوام اپنے پلاٹس کی معلومات آن لائن دیکھ سکیں اور نظام میں مزید شفافیت لائی جا سکے۔ڈاکٹر امجد علی نے مزید کہا کہ تعمیراتی اور ترقیاتی کاموں میں غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، تمام منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے اور ترقیاتی کاموں کو بلا تاخیر پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔اجلاس میں سیکرٹری ہاؤسنگ محمد انور خان، ڈی جی ہاؤسنگ زاہد خان، چیف آف سیکشن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ہاشم خان، ڈائریکٹر ایڈمن امان الحق، ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ طلعت فہد، ڈائریکٹر ٹیکنیکل ون عمران ہلال، ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی یعقوب خان سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
صوابی اور سوات میں فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی کارروائیاں، ناقص و مضر صحت خوراک تلف

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان کی ہدایت پر خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے غیر معیاری اور مضرِ صحت اشیائے خورد و نوش کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے سوات اور صوابی میں مختلف فوڈ بزنسز کے خلاف کارروائیاں کیں۔ اس دوران بڑی مقدار میں ناقص، جعلی اور غیر معیاری خوراکی اشیاء برآمد کرکے تلف کردی گئیں، جبکہ ذمہ دار کاروباروں کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کردی گئی۔ترجمان فوڈ اتھارٹی کے مطابق گزشتہ روز سوات فوڈ سیفٹی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر پولیس کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے 250 کلوگرام ناقص اور خراب قیمہ برآمد کرکے تحویل میں لیا، جسے بعد ازاں تلف کردیا گیا۔ کارروائی کے دوران فوڈ بزنسز کو حفظانِ صحت کے اصولوں پر عملدرآمد اور بہتری کے لیے امپروومنٹ نوٹسز جاری کیے گئے، جبکہ خلاف ورزیوں پر لائسنس چالان بھی کیے گئے۔ترجمان نے بتایا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹر گل رحمان اور ڈپٹی ڈائریکٹر ملاکنڈ اسد قاسم کی نگرانی میں سوات میں مختلف فوڈ سیفٹی آپریشنز کے دوران ضبط کی گئی مضرِ صحت اور غیر معیاری خوراکی اشیاء کی بڑی کھیپ بھی ڈمپنگ گراؤنڈ میں تلف کردی گئی۔ تلف کی جانے والی اشیاء میں 180 کلوگرام مصالحہ جات، 150 کلوگرام مس لیبل پاپڑ و چپس، 200 کلوگرام کیچپ اور 1200 لیٹر جعلی و زائد المیعاد مشروبات شامل تھے۔دوسری جانب صوابی فوڈ سیفٹی ٹیم نے مختلف فوڈ بزنسز کے معائنے کے دوران تقریباً 1100 لیٹر جعلی اور غیر معیاری کاربونیٹڈ ڈرنکس برآمد کرکے ضبط کرلیں اور ذمہ داران پر جرمانہ عائد کیا۔معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملاوٹ، جعلی اور غیر معیاری اشیائے خورد و نوش کی تیاری و فروخت میں ملوث کاروباروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور عوام کو معیاری، محفوظ اور صحت بخش خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوڈ سیفٹی ٹیموں کی کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جائیں گی۔
صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت میں ضلع بونیر کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس کا انعقاد
خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ ضلع بونیر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور تمام منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر ہر صورت مکمل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں کسی قسم کی سست روی، غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور منصوبوں کی بروقت تکمیل میں رکاوٹ بننے والے عوامل کو فوری طور پر دور کیا جائے۔یہ ہدایات انہوں نے منگل کے روز محکمہ آبپاشی کے کمیٹی روم میں ضلع بونیر میں لائن ڈیپارٹمنٹس کے تحت جاری، نئی اے ڈی پی اور امبریلا سکیموں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران اور محکمہ آبپاشی کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی وزیر کو ضلع بونیر میں مختلف محکموں کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں، نئے اے ڈی پی منصوبوں، تکمیل کے قریب منصوبوں اور امبریلا سکیموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ افسران نے منصوبوں کی موجودہ پیش رفت، تکمیل کی صورتحال، مختص فنڈز، درپیش مسائل اور منصوبوں کی تکمیل کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات سے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا۔صوبائی وزیر ریاض خان نے افسران کو ہدایت کی کہ جاری منصوبوں کی مانیٹرنگ کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے اور فیلڈ میں منصوبوں پر کام کی رفتار کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ کیے بغیر مقررہ وقت میں تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ضلع بونیر میں شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبے بھی عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیے گئے ہیں، جن کی بروقت تکمیل سے نہ صرف عوام کو سہولیات میسر آئیں گی بلکہ علاقے میں ترقیاتی عمل بھی مزید تیز ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی مفاد میں شروع کیے گئے منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں۔ متعلقہ افسران منصوبوں کی پیش رفت پر کڑی نظر رکھیں، مسائل کی بروقت نشاندہی کرکے ان کا فوری حل یقینی بنائیں اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں۔صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبوں کے حوالے سے پیش رفت رپورٹس باقاعدگی سے پیش کی جائیں اور جن سکیموں پر کام آخری مراحل میں ہے، انہیں ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ عوام جلد ان منصوبوں سے مستفید ہو سکیں۔
صوبائی وزیر ارشد ایوب خان کا عالمی یومِ خواندگی 2026 کے موقع پر خطاب

وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا ارشد ایوب خان نے جامعہ پشاور کے صاحبزادہ عبدالقیوم ہال میں منعقدہ عالمی یومِ خواندگی 2026 کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔تقریب میں ڈائریکٹر ایجوکیشن جعفر منصور عباسی، ایم ڈی ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن سمیت ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی، ماہرینِ تعلیم، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ خواندگی صرف پڑھنے اور لکھنے کا نام نہیں۔ یہ انسانی وقار، سماجی شمولیت اور معاشی مواقع کی بنیاد ہے۔ رواں سال کا عالمی موضوع ‘عوام، کرہِ ارض اور خوشحالی کے لیے خواندگی’ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواندگی کا مقصد بااختیار عوام، پائیدار کرہِ ارض اور مشترکہ خوشحالی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تقریباً 49 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ صوبے کی جغرافیائی، سماجی و اقتصادی اور سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر یہ چیلنج صرف حکومت نہیں بلکہ والدین، اساتذہ، کمیونٹی، ترقیاتی شراکت دار اور مذہبی و سماجی رہنماؤں کے اشتراک سے ہی حل ہو سکتا ہے۔وزیر تعلیم نے محکمے کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کمیونٹی بیسڈ ایجوکیشن، نان فارمل ایجوکیشن، ایکسلریٹڈ لرننگ پروگرام اور بالغ خواندگی کے ذریعے ان بچوں تک رسائی ممکن بنائی جا رہی ہے جو روایتی سکولنگ تک نہیں پہنچ پاتے، دور دراز علاقوں میں سکولوں کی اپگریڈیشن، اساتذہ کی تربیت اور معیارِ تعلیم کی بہتری اولین ترجیحات ہیں۔ارشد ایوب خان نے کہا کہ فاصلے اور رسائی کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کو اپنایا جا رہا ہے۔ گلوبل ورچوئل سکول کا قیام ایک اہم قدم ہے جس کے ذریعے معیاری تعلیم کو کلاس روم کی دیواروں سے باہر لے جایا جائے گا۔انہوں نے زور دیا کہ تعلیم کا مقصد صرف روزگار نہیں بلکہ ماحولیاتی ذمہ داری بھی ہے،سکولوں میں پانی و توانائی کا تحفظ، صفائی، شجرکاری اور پائیدار طرزِ زندگی کو فروغ دیا جائے تاکہ پڑھا لکھا بچہ دنیا کو بہتر بنانے والا بنے۔صوبائی وزیر نے کہا “ہماری عزت ہمارے بچے ہیں۔ کوئی بچہ غربت، جنس، جغرافیہ یا معذوری کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے اورآئیے عہد کریں کہ خواندگی کو عوام کی طاقت، کرہِ ارض کی ذمہ داری اور خوشحالی کا راستہ بنائیں گے۔”بعد ازاں انہوں نے اساتذہ، والدین، کمیونٹیز اور ترقیاتی شراکت داروں کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ آئیے سب مل کر ایک خواندہ، جامع، سرسبز اور خوشحال خیبر پختونخوا تعمیر کریں۔
صوبائی وزیر محنت فیصل خان ترکئی کی زیرِ صدارت ایپلائیز سوشل سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ خیبر پختونخوا کا جائزہ اجلاس
صوبائی وزیر برائے محنت فیصل خان ترکئی نے ایپلائیز سوشل سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ خیبر پختونخوا کے امور سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں ادارے کی مجموعی کارکردگی، سوشل سیکیورٹی سہولیات، طبی خدمات، مالی و انتظامی امور اور محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لیے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں متعلقہ حکام نے صوبائی وزیر کو ایپلائیز سوشل سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ کے تحت رجسٹرڈ محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کو فراہم کی جانے والی طبی و دیگر سہولیات، ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کی کارکردگی، دستیاب طبی وسائل، ادویات کی فراہمی اور جاری ترقیاتی و فلاحی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔صوبائی وزیر فیصل خان ترکئی نے کہا کہ محنت کش طبقہ صوبے کی معیشت اور ترقی میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے، اس لیے ان کے حقوق کا تحفظ اور انہیں معیاری سوشل سیکیورٹی و طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کو علاج معالجے، ادویات اور دیگر سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے ادارے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے شفافیت، میرٹ، مؤثر نگرانی اور جدید انتظامی نظام کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سوشل سیکیورٹی کے نظام کو حقیقی معنوں میں محنت کش دوست بنایا جائے۔ انہوں نے ہسپتالوں اور طبی مراکز میں سہولیات کی بہتری، ضروری ادویات کی بروقت دستیابی اور مریضوں کو بہتر طبی خدمات کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا محنت کشوں کے مسائل کے حل اور ان کے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ محنت کشوں کے بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنا بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ وہ بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہو سکیں۔فیصل خان ترکئی نے مزید کہا کہ محکمہ محنت کے تمام ذیلی اداروں کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ وسائل کا مؤثر استعمال، ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری اور محنت کشوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر ٹائم لائن کے مطابق عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور آئندہ جائزہ اجلاس میں پیش رفت کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔اجلاس میں محکمہ محنت اور ایپلائیز سوشل سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ خیبر پختونخوا کے متعلقہ افسران نے شرکت کی اور ادارے کی کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے صوبائی وزیر کو تفصیلی بریفنگ دی۔
ترقی کا انحصار روایتی ڈگریوں کی بجائے فنی تعلیم پر ہے،صوبائی وزیر قانون

خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم نے کہا ہے کہ کسی بھی قوم کی مستقل اور پائیدار ترقی کا اصل انحصار روایتی ڈگریوں کی بجائے ٹیکنیکی و فنی تعلیم پر ہے۔ نوجوانوں کو جدید فنی مہارتوں سے آراستہ کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ تکنیکی طور پر پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل نوجوان صوبے اور ملک کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن محمد عثمان خان بیٹنی کے ہمراہ پشاور میں گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی (جی سی ٹی) کوہاٹ کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ایم ڈی ٹیوٹا میاں عبد القادر شاہ، ڈائریکٹر ٹیوٹا،ڈائریکٹر ایکیڈیمک ٹیوٹا، پرنسپل جی سی ٹی کوہاٹ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ آفتاب عالم نے کوہاٹ کا تناظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ 25 سے 30 لاکھ کی آبادی والے اس اہم ضلع میں اگر فنی تعلیمی ادارے فعال نہ ہوں اور نوجوانوں کو جدید ہنر نہ سکھایا جائے، تو اس کا براہِ راست معاشی بوجھ صوبائی ہیڈکوارٹر پشاور پر پڑتا ہے جہاں روزگار کی تلاش میں نقل مکانی بڑھ جاتی ہے۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر انہوں نے ٹیکنیکل ایجوکیشن کی ترقی، بنیادی اصلاحات اور پبلک سیکٹر کے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات پر زور دیا۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 99 کنال رقبے پر محیط جی سی ٹی کوہاٹ NAVTTC سے تسلیم شدہ ہے، جہاں بی ایس سی انجینئرنگ ٹیکنالوجی، ڈی اے ای (سول، الیکٹریکل، مکینیکل) اور ڈی آئی ٹی کے پروگرامز جاری ہیں۔ تعلیمی سال 2025-26 کے دوران ڈی اے ای میں 314 جبکہ بی ایس ٹیک میں 18 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ادارے کو ماڈل انسٹیٹیوٹ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے اور تمام ڈی اے ای ٹیکنالوجیز کے لیے CBT سلیکشن کا عمل جاری ہے۔بریفنگ میں کوہاٹ میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDCL) کی موجودگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کالج میں پٹرولیم ٹیکنالوجی کا نیا پروگرام شروع کرنے کی تجویز پیش کی گئی، تاکہ صنعت کے ساتھ روابط قائم کر کے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ طلبہ کو دی جانے والی مختلف اسکالرشپس (KDDP، KCCL اور ZAMA) سمیت ہاسٹل کی سولرائزیشن، این ٹی ایس امتحانی مرکز، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور کریش کورسز کے اجرا سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔۔ اجلاس میں گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سنٹر فار وومن کوہاٹ کے حوالے سے ادارے کی کارکردگی، طلبہ کی انرولمنٹ، سٹاف کی دستیابی، انفراسٹرکچر اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سنٹر فار وومن کوہاٹ کے انسٹی ٹیوشنل پروفائل کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ادارے میں اس وقت چار مختلف پروگرامز میں مجموعی طور پر 103 طالبات زیر تعلیم ہیں، جبکہ ادارے کی کل سٹاف سٹرینتھ 20 ہے۔ اجلاس میں ادارے میں انرولمنٹ کی کم شرح اور دستیاب وسائل کے باوجود مطلوبہ تعداد میں طالبات کو تربیتی پروگراموں کی جانب راغب نہ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کی جانب سے ادارے کو بی گریڈ دیا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود ووکیشنل ٹریننگ سنٹر فار وومن کوہاٹ میں انرولمنٹ کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے، جس کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ خواتین کو فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ادارے میں انرولمنٹ بڑھانے کے لیے مؤثر آگاہی مہم چلائی جائے اور مقامی سطح پر طالبات اور ان کے والدین کو فنی تعلیم کے فوائد اور روزگار کے مواقع سے متعلق آگاہ کیا جائے۔انہوں نے ادارے کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے، دستیاب سہولیات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور طالبات کے لیے بہتر تعلیمی و تربیتی ماحول کی فراہمی پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف ادارے کا موجود ہونا کافی نہیں بلکہ اس کے وسائل اور تربیتی پروگراموں سے زیادہ سے زیادہ خواتین کو مستفید ہونا چاہیے تاکہ وہ ہنر حاصل کرکے باعزت روزگار کے مواقع حاصل کرسکیں۔آفتاب عالم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ادارے کی کارکردگی، انرولمنٹ اور سہولیات کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے اور جہاں ضروری ہو وہاں فوری اصلاحی اقدامات اٹھائے جائیں، تاکہ گورنمنٹ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل سنٹر فار وومن کوہاٹ کو خواتین کی فنی تربیت کا ایک مؤثر اور فعال مرکز بنایا جاسکے۔اجلاس کے اختتام پر وزیرِ قانون نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ جی سی ٹی کوہاٹ کے تدریسی عملے کی کمی، لیبارٹریز کی اپ گریڈیشن، عملے کی رہائشی کالونی، امتحانی ہال اور لینگویج لیب کے قیام سمیت تمام پیش کردہ تجاویز کا تفصیلی جائزہ لے کر فوری اور قابلِ عمل اقدامات اٹھائیں تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور صنعت کے ساتھ مؤثر رابطہ یقینی بنایا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
