Home Blog Page 18

وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان کی نرسنگ کالج پشاور کے طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام کو تحقیقات کی ہدایت

صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان نے نرسنگ کالج پشاور کے طلبہ کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل اور شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے۔صوبائی وزیر صحت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ معاملے کے تمام حقائق سامنے لائے جائیں اور اگر کسی فرد کی جانب سے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی، غفلت، بدانتظامی یا کسی بھی قسم کی کوتاہی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار شخص کے خلاف قانون اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔وزیر صحت خلیق الرحمان نے نرسنگ کالج پشاور کے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ انہوں نے طلبہ کو یقین دلایا کہ ان کے تمام جائز مسائل اور شکایات کو متعلقہ حکام کی جانب سے میرٹ اور قواعد و ضوابط کے مطابق دیکھا جائے گا اور کسی بھی جائز حق کے معاملے میں ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ نرسنگ کالج پشاور کے طلبہ کے جائز حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور اگر تحقیقات کے دوران کسی حق تلفی یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو قانون کے مطابق اس کا ازالہ کیا جائے گا۔صوبائی وزیر صحت نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ موجودہ صورتحال میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور اپنی تعلیم، تربیت اور تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ نرسنگ کے طلبہ ملک اور صوبے کے صحت کے نظام کا اہم حصہ ہیں اور ان کا تعلیمی و پیشہ ورانہ مستقبل انتہائی اہم ہے۔وزیر صحت نے متعلقہ پولیس آفیسرز کو بھی ہدایت کی کہ وہ معاملے کا ذاتی طور پر جائزہ لیں اور تمام متعلقہ فریقین سے رابطے کے ذریعے تنازع کو بات چیت، افہام و تفہیم اور قانونی طریقہ کار کے تحت حل کرنے کے لیے اقدامات کریں۔خلیق الرحمان نے کہا کہ پرامن احتجاج اور اپنے جائز مطالبات کے اظہار کا حق ہر شہری کو حاصل ہے اور حکومت اس حق کا احترام کرتی ہے۔ تاہم احتجاج کے دوران قانون کی پاسداری، امن و امان اور دیگر شہریوں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج یا کسی بھی سرگرمی کے نتیجے میں قانون و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے، سرکاری امور میں خلل نہیں پڑنا چاہیے اور دیگر شہریوں کی روزمرہ زندگی اور معمولات متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔وزیر صحت نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نرسنگ کالج پشاور کے طلبہ کے معاملے کو غیر جانب دارانہ، ذمہ دارانہ اور قانون کے مطابق حل کیا جائے اور تمام جائز شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔صوبائی وزیر صحت نے طلبہ، انتظامیہ اور تمام متعلقہ فریقین سے اپیل کی کہ وہ تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور معاملے کے پرامن حل کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کریں۔انہوں نے یقین دلایا کہ طلبہ کے جائز حقوق کے حوالے سے کسی قسم کی ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی، تاہم قانون کی بالادستی، نظم و ضبط، امن و امان اور تعلیمی ماحول کا تحفظ بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے صنعت وحرفت ہمایون خان کا حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ کا تفصیلی دورہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے صنعت وحرفت ہمایوں خان نے کہا ہے کہ صوبے میں صنعت کاروں کو تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں گی اورصنعتی شعبے کا فروغ موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ کے ایک روزہ دورے کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر مشیر صنعت وحرفت نے صنعتی برادری کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور انڈسٹریل اسٹیٹ سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے مختلف صنعتی یونٹس کا بھی دورہ کیا جن میں زکوری انڈسٹریز، فرنیچر پاکستان، اور یوٹیلٹیز سٹور شامل ہیں، جہاں انہوں نے ان کے امور کا مشاہدہ کیا اور مختلف سرگرمیوں میں دلچسپی لیتے ہوئے ان کو سراہا۔ ہمایوں خان نے پشاور اکنامک زون آفس کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں طاہر سبحان، زون منیجر پشاور نے دفتر کے آپریشنز، جاری سرگرمیوں اور اکنامک زون کے انتظام سے متعلق مختلف امور کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی ہے۔ دورے کے موقع پر، مشیر برائے صنعت وحرفت ہمایون خان نے پشاور اکنامک زون میں شجر کاری مہم کے تحت درخت بھی لگایا اور کہا کہ درخت صاف، سرسبز اور پائیدار صنعتی ماحول کی ضمانت ہے۔ اس موقع پرہمایون خان نے صنعتکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی ترقی میں صنعتی شعبے کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ صوبائی حکومت صنعت کے فروغ کے لیے مربوط اقدامات کر رہی ہے۔ صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا اور صنعتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے اس موقع پر A-1 روڈ حیات آباد کی بندش کے حوالے سے امور کا بذات خود جائزہ لیا اورصنعتکاروں کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کے جلد حل کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

ڈیجیٹل خیبر پختونخوا: خدمت، جدت اور شفافیت کا نیا ویژن

ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر عوامی خدمت، جدت کے ذریعے تیز تر ترقی اور شفافیت کے ذریعے مضبوط گورننس۔ یہی ہے ایک جدید اور ڈیجیٹل خیبر پختونخوا کا عزم

بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن کے مطابق اور وزیراعلی سہیل آفریدی کی قیادت میں ڈیجیٹل خیبر پختونخوا ویژن کے تحت مزید کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں؟ سنیے وزیر اطلاعات و سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان کی زبانی

ریڈیو پاکستان پشاور سانحہ 9 اور 10 مئی 2023: خصوصی کمیٹی کا اجلاس، اصل حقائق سامنے لانے اور بے گناہ افراد کے حقوق کے تحفظ پر زور –

خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور سانحہ 9 اور 10 مئی 2023 کا اجلاس پیر کے روزصوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں کمیٹی کے چیئرمین اور وزیرِ قانون و پارلیمانی امور افتاب عالم کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ آبپاشی ریاض خان، معاونِ خصوصی برائے داخلہ طارق سعید، محکمہ پولیس کے اعلیٰ حکام، ایڈووکیٹ جنرل، اسپیشل پراسیکیوٹر، اسپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کا بنیادی مقصد 9 اور 10 مئی 2023 کو ریڈیو پاکستان پشاور کے احاطے میں پیش آنے والے واقعات کے اصل حقائق، تفتیشی عمل اور دیگر تمام متعلقہ پہلوؤں کا جامع جائزہ لینا تھا، تاکہ شفاف، غیر جانب دارانہ اور قانون کے مطابق تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے جا سکیں اور کسی بھی بے گناہ شخص کے ساتھ ناانصافی کا احتمال نہ رہے۔ کمیٹی نے گزشتہ اجلاس میں محکمہ پولیس کو ایک سوالنامہ فراہم کرتے ہوئے مختلف امور سے متعلق تفصیلی جوابات طلب کیے تھے، جبکہ سابقہ تفتیشی افسر کو بھی اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا تاکہ تحقیقات کے حوالے سے ضروری معلومات، ریکارڈ اور شواہد کمیٹی کے سامنے پیش کیے جا سکیں۔
اجلاس کے دوران محکمہ پولیس کی جانب سے کمیٹی کے سوالنامے کے جوابات پیش کیے گئے، تاہم کمیٹی نے نشاندہی کی کہ مذکورہ جوابات باقاعدہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ۔ اس پر چیئرمین خصوصی کمیٹی نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ کارروائی اور تفتیش سے متعلق تصدیق شدہ جوابات کی نقول دو روز کے اندر کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔ اسی طرح اسپیشل پراسیکیوٹر نے متعلقہ تفتیشی افسر سے 9 اور 10 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق تصدیق شدہ ڈائری رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تفتیشی افسر آئندہ اجلاس میں لازماً شرکت کرے، تاکہ واقعات کے اصل حقائق، تفتیشی پیش رفت اور قانونی کارروائی سے متعلق تمام امور کو واضح کیا جا سکے۔
چیئرمین خصوصی کمیٹی اور وزیرِ قانون و پارلیمانی امور افتاب عالم نے محکمہ داخلہ اور محکمہ پولیس کے حکام کو ہدایت کی کہ اجلاس کے دوران کمیٹی کی جانب سے فراہم کردہ رہنما اصولوں اور جاری کردہ ہدایات پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ متعلقہ محکموں کو مزید ہدایت کی گئی کہ مطلوبہ کارروائی کی مکمل اور تصدیق شدہ رپورٹ آئندہ اجلاس میں کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے، جبکہ تمام متعلقہ ریکارڈ اور شواہد بھی مکمل صورت میں فراہم کیے جائیں۔

KP supplies 478,057 flour bags at official rates through 1,653 dealers

The Khyber Pakhtunkhwa Food Department has released weekly figures regarding the supply of flour at official rates across the province, stating that 478,057 flour bags were provided to consumers through 1,653 active flour dealers during the past week.
According to the details released by the Food Department, 142,326 flour bags were supplied in Peshawar Division, 61,047 in Mardan Division and 87,030 in Malakand Division. Similarly, 83,846 bags were supplied in Hazara Division, 4,640 in Bannu Division, 80,539 in Dera Ismail Khan Division and 18,629 in Kohat Division.
Food Department officials said that 3,000 metric tons of government wheat were being released daily to flour mills from the provincial strategic reserve to ensure regular supply of flour at official rates. They added that fines had also been imposed on flour mills found violating the prescribed standard operating procedures (SOPs).
The provincial government is providing a 20-kilogram bag of flour prepared from government wheat at Rs2,520 through designated dealers. Teams of the Khyber Pakhtunkhwa Food Authority and Food Department are regularly monitoring the quality of wheat and flour.
Special Assistant to the Chief Minister for Food, Dr Muhammad Israr Khan, urged citizens to monitor the quality of flour prepared from government wheat and immediately report any substandard flour.
He said that the government quota of any flour mill found supplying substandard flour would be cancelled, besides initiating legal proceedings against the mill.
Dr Israr Khan said the provincial government was taking all possible measures to ensure the provision of quality and affordable flour to the people.
He further said that the increase in flour prices across the country had been caused by what he termed the unconstitutional restrictions imposed by the Punjab government on the inter-provincial movement of wheat and flour. He added that obstacles to the free inter-provincial trade of wheat and flour continued to persist.

سندھ کے عوام نے ثابت کردیا کہ وہ حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے تیار ہیں، شفیع جان

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات و سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں سندھ کا پانچ روزہ دورہ انتہائی کامیاب رہا۔انہوں نے کہا کہ گھوٹکی سے کراچی تک اسٹریٹ موومنٹ میں ہزاروں افراد کی بھرپور شرکت نے ثابت کردیا ہے کہ سندھ کے عوام حقیقی آزادی کی جدوجہد میں بانی چیئرمین عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ سندھ کے عوام نے جس جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا، وہ قابل تحسین ہے۔شفیع جان نے اسٹریٹ موومنٹ میں بھرپور شرکت پر پاکستان تحریک انصاف کے عہدیداروں، کارکنوں اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ملک میں آئین، قانون کی بالادستی، عمران خان ان کی رہائی اور حقیقی جمہوریت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا سندھ ہائیکورٹ بار میں کامیاب وکلاء کنونشن آئین و قانون کی بالادستی کی جدوجہد میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ وکلاء برادری نے ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت نے بانی چیئرمین عمران خان سے متعلق عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی کی، ان کی صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست کی گئی اور انہیں طبی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا۔ وفاقی حکومت کو اپنے ان اقدامات پر توہین عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے قافلے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے حوالے سے شفیع جان نے کہا کہ بدقسمتی سے کراچی اور حیدرآباد میں منتخب وزیراعلیٰ کے قافلے کا راستہ روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ ساڑھے چار کروڑ عوام کے منتخب وزیراعلیٰ کو رکاوٹوں کے باعث رات کی تاریکی میں کچے راستوں سے سفر کرنا پڑا۔ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے نہ پاکستان تحریک انصاف کا عزم کمزور کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ہمیں خوفزدہ کیا جاسکتا ہے۔شفیع جان نے کہا کہ کراچی ٹول پلازہ پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے استقبال کے لیے عوام کا جم غفیر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام عمران خان کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ملک پر مسلط فارم 47 کے حکمران یاد رکھیں کہ عوام ہی عمران خان کی اصل طاقت ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ کو سیاسی جاگیر سمجھنے والوں کی اجارہ داری اب ختم ہونے والی ہے۔ بانی چیئرمین عمران خان کی جانب سے عوام کو دیا گیا سیاسی شعور سے ملک پر مسلط موجودہ نظام خوفزدہ ہے۔وزیر اطلاعات شفیع جان نے واضح کیا کہ عمران خان کی رہائی، آئین کی بحالی اور قانون کی حکمرانی تک پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔

ورکر ویلفیئر بورڈ کے سکولوں میں تعلیمی معیار مزید بہتر بنانے کا فیصلہ، سولرائزیشن، نئے فرنیچر اور جدید سائنس لیبارٹریز کی فراہمی کی ہدایت

صوبائی وزیر برائے محنت فیصل خان ترکئی نے ورکر ویلفیئر بورڈ کے زیرِ انتظام سکولوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے، طلبہ کو جدید تعلیمی سہولیات فراہم کرنے اور بہترین کارکردگی دکھانے والے طلبہ و اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کیا۔

اجلاس میں ورکر ویلفیئر بورڈ کے سکولوں کی مجموعی تعلیمی کارکردگی، طلبہ کے نتائج، دستیاب سہولیات اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی سیمینار منعقد کرنے کی ہدایت کی، جس میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو خصوصی طور پر سراہا جائے گا۔

صوبائی وزیر فیصل خان ترکئی نے ورکر ویلفیئر بورڈ کے ان سکولوں کی انتظامیہ اور پرنسپلز کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے بہتر تعلیمی نتائج حاصل کیے۔ انہوں نے کہا کہ محنت اور بہترین کارکردگی کا اعتراف نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ اور سکول انتظامیہ کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے۔ بہترین نتائج دینے والے سکولوں کے پرنسپلز کو تعریفی سرٹیفیکیٹس دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

فیصل خان ترکئی نے کہا کہ صوبائی حکومت ورکر ویلفیئر بورڈ کے سکولوں میں طلبہ کو معیاری اور جدید تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مرحلہ وار تمام متعلقہ سکولوں کو سولرائز کیا جائے گا تاکہ بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی سرگرمیوں میں بجلی کی بندش کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سکولوں میں پرانے اور ناکافی فرنیچر کو تبدیل کرکے نیا اور معیاری فرنیچر فراہم کیا جائے گا، جبکہ طلبہ کو سائنسی تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے سکولوں کی سائنس لیبارٹریز کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ جدید لیبارٹریز کی فراہمی سے طلبہ کو عملی تعلیم اور تجربات کے ذریعے سیکھنے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔

صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سکولوں کی ضروریات کا جامع جائزہ لے کر ترجیحی بنیادوں پر سہولیات کی فراہمی کا منصوبہ تیار کیا جائے اور تعلیمی معیار میں بہتری کے لیے مسلسل مانیٹرنگ کا مؤثر نظام وضع کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف طلبہ کے امتحانی نتائج بہتر بنانا نہیں بلکہ انہیں ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے جہاں وہ جدید علوم، سائنسی تحقیق اور عملی مہارتوں سے بھی مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے اساتذہ پر بھی زور دیا کہ وہ طلبہ کی تعلیمی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔

فیصل خان ترکئی نے کہا کہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی اور ان کے لیے خصوصی مواقع پیدا کرنے سے دیگر طلبہ میں بھی محنت، مقابلے اور کامیابی کا جذبہ فروغ پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ورکر ویلفیئر بورڈ کے سکولوں میں تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے محنت کش کا بچہ ہی مستقبل کا ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان، استاد اور ملک کا مؤثر کردار بن سکتا ہے، اس لیے ان کی تعلیم پر سرمایہ کاری دراصل صوبے اور ملک کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ 23 ستمبر 2026 کو محنت کشوں کے پانچ بچوں کو دنیا کی ٹاپ 100 یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اس عزم کا اظہار ہے کہ محنت کشوں کے بچوں کو بھی عالمی معیار کی تعلیم اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو فیصلوں پر بروقت عملدرآمد یقینی بنانے اور سکولوں میں بنیادی و جدید سہولیات کی فراہمی کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

Meeting of SESWA Held Under the Chairmanship of CM’s Adviser Malak Liaqat Ali Khan

A meeting regarding the Shewa Educated Social Workers Association (SESWA) was held under the chairmanship of Adviser to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa for Social Welfare, Special Education and Women Empowerment, Malak Liaqat Ali Khan.

During the meeting, the Adviser was briefed on the educational and welfare activities of SESWA and its ongoing services in Swabi district.It was informed that SESWA has been working in the field of education and is also playing an effective role in promoting educational activities and public welfare in Swabi district.

Adviser to the Chief Minister Malak Liaqat Ali Khan appreciated SESWA’s educational services and efforts in Swabi, saying that the role of social organizations in promoting education is commendable. He termed the organization’s services important for public welfare and social development.The meeting also discussed in detail various matters related to the Social Welfare Department. The Adviser emphasized that effective coordination and cooperation between government institutions and social organizations is essential for the welfare of deserving and marginalized segments of society and for the promotion of education.He further said that organizations working for public welfare and educational development would be encouraged, and consultations with relevant institutions in this regard would continue.

صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت ٹانک واٹر سپلائی و سینیٹیشن سکیموں سے متعلق اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت ضلع ٹانک میں واٹر سپلائی اور سینیٹیشن سکیموں سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں جاری منصوبوں، مختلف واٹر سپلائی سکیموں کی فعالیت، سینیٹیشن سہولیات اور عوام کو درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایکسین پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ٹانک نے صوبائی وزیر کو ضلع میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے تحت جاری مختلف واٹر سپلائی اور سینیٹیشن سکیموں، ان کی موجودہ صورتحال، پیش رفت اور درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ مختلف علاقوں میں عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے متعدد واٹر سپلائی سکیموں پر کام جاری ہے، اجلاس میں مختلف سکیموں کی بحالی، ضروری مرمت اور عوامی ضرورت کے مطابق ان کی کارکردگی بہتر بنانے کے امور بھی زیرِ غور آئے۔صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ضلع ٹانک میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور تمام سکیموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے لوگوں کو پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔صوبائی وزیر نے سینیٹیشن منصوبوں کے حوالے سے بھی متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کی سہولیات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور جاری منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل یقینی بنائی جائے۔صوبائی وزیر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے فوری ازالے کے لیے ضلعی سطح پر مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنایا جائے اور واٹر سپلائی سکیموں سے متعلق عوامی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے۔

سر خوائی بارانی ڈیم کی تعمیر سے علاقے میں زرعی انقلاب برپا ہوگا، کسانوں کی مالی خوشحالی یقینی بنائیں گے: طفیل انجم

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے بہبودِ آبادی طفیل انجم نے کہا ہے کہ ضلع مردان میں سر خوائی بارانی ڈیم تقریباً تین ارب روپے کی خطیر لاگت سے تعمیر کیا جائے گا، جس سے تقریباً 1162 ایکڑ بنجر زمین سیراب ہوگی۔ ڈیم کی تعمیر سے علاقے میں زرعی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، کسانوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا اور سال کے بارہ مہینے زراعت کے لیے پانی کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز پشاور میں سر خوائی بارانی ڈیم سے متعلق منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل سمال ڈیمز انجینئر اختر رشید، ڈائریکٹر سمال ڈیمز سلیمان داؤد، ڈپٹی ڈائریکٹر سمال ڈیمز سید سلیمان سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں سر خوائی بارانی ڈیم کے مختلف پہلوؤں، تعمیراتی منصوبے اور اس کے علاقے کی زراعت اور معیشت پر مرتب ہونے والے مثبت اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے معاونِ خصوصی کو منصوبے کی اہمیت اور متوقع فوائد کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
طفیل انجم نے کہا کہ سر خوائی بارانی ڈیم کی تعمیر ایک اہم عوامی اور زرعی منصوبہ ہے، جس سے نہ صرف بنجر زمینیں قابلِ کاشت بنیں گی بلکہ علاقے کے کسانوں کو سال بھر آبپاشی کے لیے پانی کی مستقل سہولت بھی میسر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل سے زرعی شعبے میں نمایاں بہتری آئے گی، پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوگا اور علاقے میں حقیقی معنوں میں زرعی انقلاب برپا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت عوامی فلاح و بہبود اور زرعی شعبے کی ترقی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔ دیہی علاقوں میں پانی کے ذخائر اور آبپاشی کے منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف کسانوں کی مالی خوشحالی ممکن ہوگی بلکہ مقامی معیشت بھی مستحکم ہوگی۔
معاونِ خصوصی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کے تمام تکنیکی اور انتظامی امور کو بروقت مکمل کرتے ہوئے تعمیراتی عمل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام جلد از جلد اس اہم منصوبے کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔