Home Blog Page 21

چھ ستمبر

آج چھ ستمبر — یومِ دفاعِ پاکستان کے پروقار موقع پر ان عظیم شہداء اور جانبازوں کو سلام جو ہماری شاموں کو امن اور ہماری صبحوں کو روشن رکھنے کے لیے سرفروش ہو گئے۔

سرحدوں کے رکھوالوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اس کیپشن کو اپنی پوسٹ کا حصہ بنائیں:

کُچھ دِن تَاریخ میں لِکھے جاتے ہیں، کُچھ دِلوں پَر

۶ ستمبر وہ دن ہے جب مٹی نے اپنے بیٹوں کو پکارا اور بیٹوں نے اپنا لہو دے کر مٹی کا قرض اتارا۔ جو شہید ہوئے، وہ ہماری سانسوں کی ضمانت بنے۔

آج بھی ہوا میں ایک عزم ہے کہ یہ پرچم کبھی نہیں جھکے گا

#DefenceDay #6September #PakistanZindabad #OurHeroesOurPride #PakArmy #YomEDefah #SaluteToMartyrs #ISPR

معاون خصوصی ٹرانسپورٹ سمیع اللہ خان کی زیر صدارت ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کا اجلاس، غیر قانونی اڈوں کے خلاف کارروائی اور محصولات میں بہتری کی ہدایات

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سمیع اللہ خان کی زیر صدارت جمعرات کے روز ان کے دفتر پشاور میں ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کے امور کا جائزہ لینے کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکریٹری پراونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نوید اکبر کے علاوہ صوبہ بھر کی ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کے سیکریٹریز نے شرکت کی۔اجلاس میں محصولات میں بہتری، کیٹیگری سی اڈوں اور اسٹینڈز کے محاصل میں ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کے قانونی حقوق و معاملات اور ٹرانسپورٹ نظام کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اس طرح واجبات کی وصولی، بغیر لائسنس غیر قانونی اڈوں اور اسٹینڈز کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں معاون خصوصی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز نے گزشتہ سال محصولات کے حصول میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور مقررہ ہدف کے مقابلے میں سرکاری خزانے کے لئے زیادہ محاصل جمع کیے گئے۔اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ ٹی ایم ایز کی جانب سے کیٹیگری سی اڈوں کی نیلامی کے عمل میں مقامی سطح پر ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کی نمائندگی یقینی بنانے اور ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کے قانونی حقوق کے حصول کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔معاون خصوصی نے بغیر لائسنس کام کرنے والی اور قانونی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی گڈز فارورڈنگ ایجنسیوں، غیر قانونی اڈوں اور اسٹینڈز کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ایسے اڈوں اور ایجنسیوں کو سیل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید منظم، شفاف اور عوام دوست بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز اپنی قانونی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں اور عوام کو محفوظ، بہتر اور معیاری سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات یقینی بنائیں۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں قانون کی بالادستی، شفافیت اور نظم و ضبط کے قیام کے لیے قواعد و ضوابط کے تحت ہر کسی کو اپنی ذمہ داریاں اور فرائض ادا کرنے چاہیے۔انھوں نے کہا کہ ریونیو میں بہتری کے ساتھ ساتھ عوامی مفاد، سہولیات کی فراہمی اور بہتر گورننس کو اولین ترجیح دی جائے۔

ضلع خیبر میں خصوصی افراد اور محروم طبقات کے مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے جمعرات کے روز ضلع خیبر کے دورہ کے دوران جمرود جرگہ ہال میں خصوصی افراد، یتیم بچوں، بیواؤں اور دیگر محروم و مستحق طبقات کے مسائل سننے کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر انہوں نے عوام کے مسائل براہِ راست سنے اور ان کے حل کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔کھلی کچہری میں سوشل ویلفیئر آفیسر ڈسٹرکٹ خیبر عبدالہادی، ڈسٹرکٹ زکوٰۃ چیئرمین شبیر اور وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن شمشیر سمیت متعلقہ افسران اور حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے فلاحی ریاست کے وژن اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات کے مطابق محروم اور کمزور طبقات کی فلاح و بہبود اور خصوصی افراد کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا یہاں آنے کا مقصد فوٹو سیشن نہیں بلکہ عوام کے مسائل سننا اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔مشیر وزیراعلیٰ نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود کی ذمہ داری سنبھالتے ہی ضلعی افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ دفاتر تک محدود رہنے کی بجائے گھر گھر جا کر مستحق افراد کی رجسٹریشن اور ڈیٹا کی تصدیق کریں، تاکہ کوئی حقدار حکومتی سہولت سے محروم نہ رہے۔ وزیراعلیٰ کی خصوصی ہدایت کے مطابق خصوصی افراد کی ضروریات اور مشکلات کی مکمل نشاندہی کرکے ڈیٹا کی بنیاد پر مؤثر منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ضلع خیبر میں 272 خصوصی افراد کو 30،30 ہزار روپے فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ امید کارڈ کے تحت مستحق خصوصی افراد کو ماہانہ 5 ہزار روپے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اسی طرح 247 یتیم بچوں کو 5،5 ہزار روپے اور 414 بیواؤں کو ماہانہ 5،5 ہزار روپے کی مالی معاونت دی جا رہی ہے، جبکہ مستحق طلبہ و طالبات کو زکوٰۃ اسکالرشپس بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ملک لیاقت علی خان نے اعلان کیا کہ ضلع خیبر میں اسپیشل ایجوکیشن و سوشل ویلفیئر کمپلیکس کے قیام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ ضلع باجوڑ میں بھی خصوصی افراد اور محروم طبقات کے لیے ضروری سہولیات کی فراہمی پر کام کیا جائے گا۔ ان کمپلیکسز میں خصوصی تعلیم، ٹریننگ سینٹرز، دارالامان اور سماجی بہبود سے متعلق دیگر سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ADP 2027-28 میں ان سہولیات کی توسیع کے لیے بھی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ جن اضلاع میں اسپیشل ویلفیئر کمپلیکس، دارالامان، خصوصی تعلیم کے مراکز، زمونگ کور یا دیگر سماجی بہبود کے ادارے موجود نہیں، وہاں ضرورت کے مطابق نئے ادارے قائم کیے جائیں گے، جبکہ موجودہ اداروں میں عمارت، عملے، تربیتی پروگرامز اور دیگر سہولیات کی کمی بھی دور کی جائے گی۔مشیر وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی کوشش صرف مالی امداد تک محدود نہیں بلکہ مستحق افراد کو ہنر سکھا کر خودکفیل بنانا اصل مقصد ہے۔ خصوصی افراد، خواتین، مرد، یتیم اور بیواؤں کو قالین بافی، سلائی کڑھائی، دستکاری، آئی ٹی اور دیگر ہنر کی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ گھروں میں بیٹھ کر باعزت روزگار کما سکیں اور اپنے خاندانوں کا سہارا بنیں۔انہوں نے ضلع خیبر میں خصوصی افراد کو درپیش ٹرانسپورٹ کے مسئلے کے حل کے لیے بھی عملی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آمدورفت کی بہتر سہولت فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ خصوصی افراد تعلیم، علاج، تربیت اور دیگر بنیادی خدمات تک باآسانی رسائی حاصل کرسکیں۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ خصوصی افراد معاشرے پر بوجھ نہیں بلکہ معاشرے کا باصلاحیت حصہ ہیں۔ اگر انہیں تعلیم، ہنر، تربیت اور مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنے خاندانوں کا سہارا بن سکتے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔انہوں نے خصوصی افراد سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: “میں آپ کا وکیل ہوں، میں آپ کے لیے یہاں موجود ہوں۔ یہ دفتر آپ لوگوں کی خدمت کے لیے ہے۔” انہوں نے یقین دلایا کہ خصوصی افراد، یتیموں، بیواؤں اور دیگر محروم طبقات کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔مشیر وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومتی کوششوں کا مقصد ایسا نظام قائم کرنا ہے جہاں لوگوں کو مستقل طور پر زکوٰۃ یا امداد کا محتاج نہ رہنا پڑے بلکہ وہ ہنر اور روزگار کے ذریعے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں اور باعزت زندگی گزاریں۔ محکمہ سماجی بہبود کو عوام کی دہلیز تک لے جانا حکومت کی ترجیح ہے۔جمرود میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے حوالے سے مشیر وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان کو بریفنگ
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے جمرود کے دورے کے موقع پر چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ لی۔متعلقہ حکام نے مشیر وزیراعلیٰ کو یونٹ کی کارکردگی، بچوں کے تحفظ، نگہداشت، درپیش مسائل اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے آگاہ کیا۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ بچوں کو تشدد، استحصال، غفلت اور دیگر خطرات سے تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ضرورت مند بچوں کی بروقت نشاندہی، رہنمائی اور بحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے اس نظام کو مزید مؤثر اور فعال بنانا ضروری ہے۔مشیر وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بچوں سے متعلق مسائل اور شکایات پر بروقت کارروائی، مؤثر نگرانی اور ضروری معاونت کو یقینی بنایا جائے، جبکہ یتیم، بے سہارا اور مشکلات سے دوچار بچوں کو دستیاب سماجی بہبود کی سہولیات سے بھی منسلک کیا جائے۔بعدازاں مشیر وزیراعلیٰ نے ضلع خیبر میں قائم چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کا دورہ بھی کیا جہاں متعلقہ حکام کی جانب سے یونٹ کی کارکردگی، بچوں کے تحفظ، نگہداشت اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر مشیر وزیراعلیٰ نیچائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے مختلف امور کا جائزہ لیا اور بچوں کو درپیش مسائل، تحفظ کے اقدامات اور یونٹ کی ضروریات کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ بچوں کو ہر قسم کے تشدد، استحصال، غفلت اور دیگر خطرات سے محفوظ رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے، جبکہ ضرورت مند اور بے سہارا بچوں کی بروقت نشاندہی، تحفظ اور بحالی کے لیے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کا کردار انتہائی اہم ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بچوں کے تحفظ سے متعلق اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے اور ضرورت مند بچوں کو تعلیم، نگہداشت، بحالی اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

گومل یونیورسٹی سے ملحقہ نجی کالجوں میں بے ضابطگیاں، محکمہ ہائر ایجوکیشن کا ایچ ای سی سے جامع تحقیقات کا مطالبہ

خیبر پختونخوا میں گومل یونیورسٹی، ڈیرہ اسماعیل خان سے ملحقہ نجی کالجوں کے ریکارڈ میں سنگین بے ضابطگیوں اور تضادات کا انکشاف ہوا ہے۔ ہائر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی (HERA) کی جانب سے دستیاب ریکارڈ کے جائزے اور بعض ملحقہ کالجوں کی فزیکل انسپکشن کے دوران داخلوں، رجسٹریشن، انرولمنٹ، حاضری، امتحانات اور دیگر تعلیمی ریکارڈ میں متعدد خامیوں اور تضادات کی نشاندہی کی گئی۔ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا نے HERA کی رپورٹ کی روشنی میں معاملہ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اسلام آباد کے سامنے اٹھاتے ہوئے گومل یونیورسٹی اور اس سے ملحقہ نجی کالجوں کی جامع اور مکمل تصدیق کی درخواست کی ہے۔محکمہ کی جانب سے ایچ ای سی سے کہا گیا ہے کہ گومل یونیورسٹی اور اس کے نجی شعبے سے ملحقہ کالجوں کی وابستگی، علاقائی دائرہ اختیار، داخلوں، حاضری، امتحانات اور ڈگریوں کے ریکارڈ کی مکمل جانچ کی جائے۔اس کے علاوہ ایسے نجی کالجوں یا پروگراموں میں مزید داخلوں پر عبوری پابندی عائد کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے جو HERA کے ساتھ متعلقہ شعبے میں باقاعدہ رجسٹرڈ نہ ہوں، تاکہ ان کی حیثیت کی مکمل تصدیق تک مزید طلبہ کے داخلوں کا عمل روکا جا سکے۔محکمہ نے ایسے جاری کردہ ڈگریوں کی بھی تصدیق کی سفارش کی ہے جن کے متعلق طلبہ کا بنیادی ریکارڈ نامکمل، مشکوک یا دستیاب نہ ہو۔ مزید برآں، ایسے گریجویٹس سے مناسب صلاحیت/تصدیقی ٹیسٹ لینے پر بھی غور کرنے کی درخواست کی گئی ہے جہاں دستیاب تعلیمی ریکارڈ مقررہ تعلیمی تقاضوں کی تکمیل ثابت نہ کرتا ہو۔حکام کے مطابق نجی کالجوں کے طلبہ، امتحانات، حاضری اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کو گومل یونیورسٹی کے ریکارڈ سے باقاعدہ طور پر ملایا جائے گا اور تضادات ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔محکمہ ہائر ایجوکیشن نے معاملے کو فوری بنیادوں پر نمٹانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اسناد کی ساکھ، طلبہ کے مستقبل اور اعلیٰ تعلیم کے نظام کی شفافیت کے تحفظ کے لیے جامع کارروائی ضروری ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا سندھ میں شاندار استقبال ثابت کرتا ہے کہ سندھ کے عوام بھی لانگ مارچ کے لیے تیار ہیں، شفیع جان

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات و سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور پارٹی قیادت کی سندھ آمد پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اور عوام کی جانب سے شاندار استقبال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سندھ کے عوام اور پارٹی کارکنان بھی 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پارٹی قیادت کی خیبر پختونخوا میں تاریخی اسٹریٹ موومنٹ کے بعد سندھ میں عوامی رابطہ مہم 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے لیے تاریخ ساز ثابت ہوگی۔ سندھ کے مختلف اضلاع میں عوام اور کارکنوں کی اسٹریٹ موومنٹ میں بھرپور شرکت عمران خان کے ساتھ عوامی وابستگی اور تحریک انصاف کی مقبولیت کا مظہر ہے۔ضلع گھوٹکی اور سندھ کے دیگر شہروں میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے شاندار استقبال اور عوامی رابطہ مہم میں بھرپور شرکت پر سندھ کے عوام اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، عمران خان وہ واحد قومی لیڈر ہیں جن کی مقبولیت چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک پھیلی ہوئی ہے۔ سندھ کے عوام کی جانب سے جس محبت اور جوش و جذبے کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہ اس بات کا مظہر ہے کہ عمران خان کی رہائی اور آئین و قانون کی بالادستی کی جدوجہد کو ملک بھر میں عوامی حمایت حاصل ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ سندھ میں جاری اسٹریٹ موومنٹ عوامی جدوجہد کو فیصلہ کن مرحلے میں داخل کرے گی۔ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریاں بھرپور انداز میں جاری ہیں اور ملک بھر سے عوام اور کارکن اس میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔شفیع جان نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ ہونے والا سیاسی انتقام اب عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان کی بہنوں کو ان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا توہین عدالت ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کی فیملی سے ملاقاتوں اور ان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آنے والے حکمران عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ عمران خان کی رہائی اور آئین و قانون کی بالادستی اور عوام کے بنیادی حقوق کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے اعلان سے حکمران شدید خوفزدہ ہیں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ہر صورت ہوگا۔شفیع جان نے کہا کہ سندھ کے عوام کے ساتھ مل کر عمران خان کی رہائی اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کو مزید آگے بڑھائیں گے۔

خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ اور کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

خیبرپختونخوا میں پیپر لیس گورننس اور ڈیجیٹل عوامی خدمات کے فروغ کے لیے وزیر اطلاعات و سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان کی موجودگی میں خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت طے پاگیا جسکے تحت کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتری امور اور ریکارڈ کو ڈیجیٹائز کیا جائے گا، جبکہ ریگولیٹری منظوریوں اور این او سیز کے لیے آن لائن پلیٹ فارم قائم کیا جائے گا، اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر شفیع جان نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پیپر لیس و کیش لیس گورننس،سیاحت کے فروغ اور کاروبار میں آسانی کی جانب عملی پیشرفت ہے۔ پیپر لیس گورننس سے نہ صرف وقت اور سرکاری وسائل کی بچت ہوگی بلکہ سرکاری امور میں شفافیت اور کارکردگی بھی بہتر ہوگی انھوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی چئیر مین عمران خان کے ویژن پر عمل پیرا ہے جسکے تحت وزیراعلی سہیل آفریدی کی قیادت میں عوامی خدمات و سہولیات کے لئے موثر اقدامات اٹھارہے ہیں، اس ضمن میں خیبرپختونخوا حکومت عوام کو تیز، شفاف اور آسان خدمات کی فراہمی کے لیے ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنا رہی ہے۔ سیاحت سمیت ہر شعبے میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے گا اور سیاحتی مقامات کو ڈیجیٹل سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اقدامات کا بنیادی مقصد شہریوں، کاروباری افراد اور سیاحوں کو سہولت فراہم کرنا اور سرکاری خدمات تک رسائی کو مزید آسان بنانا ہے۔ یاد رہے کہ مفاہمتی یادداشت پر خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر عاکف خان اور کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل شیراز خان نے دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت وادی ناران کاغان میں نجی کاروباروں اور سروسز کے لیے کیو آر کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام متعارف کرایا جائے گا، جس کے ذریعے ادائیگیوں کو کیش لیس بنایا جائے گا،کاروباری افراد کو آن لائن درخواست، فیڈبیک، درخواستوں کی ٹریکنگ اور ڈیجیٹل فیس کی ادائیگی کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کاروباری افراد اور سیاحوں کو بہتر اور جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے “کاغان” کے نام سے موبائل ایپلی کیشن متعارف کرائی گی۔ ایپلی کیشن کے ذریعے سیاحتی مقامات، رہائش، نقشوں اور ہنگامی صورتحال سے متعلق الرٹس سمیت مختلف معلومات اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط، کارِ استحقاقات اور حکومتی یقین دہانیوں کے نفاذ کا اجلاس

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط، کارِ استحقاقات اور حکومتی یقین دہانیوں کے نفاذ کا اجلاس جمعرات کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ڈپٹی اسپیکر و چیئرپرسن قائمہ کمیٹی ثریا بی بی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم، کمیٹی اراکین، متعلقہ اراکین صوبائی اسمبلی اور محکمہ قانون، پولیس، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ایڈووکیٹ جنرل آفس، پیسکو اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے تحریکِ استحقاق کے مختلف معاملات اور متعلقہ محکموں کی جانب سے دی گئی حکومتی یقین دہانیوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ رکن صوبائی اسمبلی محترمہ مہر سلطانہ کی جانب سے ضلع کرک میں طویل لوڈشیڈنگ اور پیسکو حکام کے مبینہ نامناسب رویے سے متعلق تحریکِ استحقاق پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے عوامی مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پیسکو حکام کو مسائل کے فوری حل اور منتخب نمائندوں سے مؤثر رابطے کی ہدایت کی۔چیف انجینئر پیسکو نے یقین دہانی کرائی کہ اراکین صوبائی اسمبلی کی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا، جبکہ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے جدید میٹرنگ نظام متعارف کرانے کے اقدامات سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ بجلی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، تاہم اس کے نقصانات کا بوجھ بے گناہ صارفین پر نہ ڈالا جائے۔اجلاس میں پختون یار خان کی کمشنر بنوں سے متعلق اور محمد عبدالسلام آفریدی کی پولیس ڈیپارٹمنٹ سے متعلق تحریکِ استحقاق بھی زیرِ بحث آئیں۔ متعلقہ افسران کی عدم موجودگی کے باعث یہ معاملات آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیے گئے جبکہ پولیس سے متعلق معاملے میں کمیٹی نے عوام اور منتخب نمائندوں کے ساتھ باعزت، ذمہ دارانہ اور شائستہ رویہ یقینی بنانے پر زور دیا۔ڈپٹی اسپیکر و چیئرپرسن کمیٹی ثریا بی بی نے ہدایت کی کہ سرکاری محکمے اراکین صوبائی اسمبلی کے ساتھ مکمل تعاون اور مؤثر رابطہ برقرار رکھیں اور اسمبلی فلور پر اٹھائے گئے عوامی مسائل و حکومتی یقین دہانیوں پر عملی پیش رفت یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اپنے منتخب نمائندوں سے بڑی توقعات وابستہ رکھتے ہیں، اس لیے سرکاری اداروں اور عوامی نمائندوں کے درمیان باہمی احترام، تعاون اور مؤثر رابطہ عوامی مسائل کے بروقت حل کے لیے ناگزیر ہے۔

پانچ روزہ نیشنل ینگ لیڈرز سمٹ 2026 کامیابی سے اختتام پذیر

ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز خیبر پختونخوا اور خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی کے خصوصی تعاون سے، ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے زیرِ اہتمام منعقدہ پانچ روزہ نیشنل ینگ لیڈرز سمٹ 2026 کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا۔ سمٹ میں ملک بھر سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے 120 مرد و خواتین نوجوان رہنماؤں نے شرکت کی، سمٹ کے دوران نوجوانوں کے لیے پارلیمانی امور، قانون سازی، قیادت، قومی یکجہتی، بین الصوبائی ہم آہنگی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اسکلز کے حوالے سے خصوصی سیشنز اور تربیتی سرگرمیاں منعقد کی گئیں۔ شرکاء نے صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا، وزیراعلیٰ ہاؤس، پارلیمنٹ ہاؤس، سینیٹ آف پاکستان اور پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز (PIPS) کے مطالعاتی دورے بھی کیے۔پشاور میں نوجوانوں پر مشتمل مشترکہ پارلیمانی اجلاس منعقد ہوا، جبکہ اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، ایم پی اے و چیئرمین ڈیڈک پشاور شیر علی آفریدی، چیف وِپ و ایم پی اے اکبر ایوب خان، ایم پی اے اشبر جدون، سیکریٹری صوبائی اسمبلی سید وقار شاہ اور دیگر معزز شخصیات نے نوجوانوں کے ساتھ خصوصی انٹرایکٹو سیشنز کیے۔اسلام آباد میں PIPS کے تحت قانون سازی اور پارلیمانی نظام پر خصوصی ورکشاپ منعقد ہوئی، جس میں سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔سمٹ کے آخری مرحلے میں شرکاء نے نتھیا گلی کے خوبصورت سیاحتی مقامات کا خصوصی دورہ کیا، اس موقع پر مختلف صوبوں کے ثقافتی رنگوں پر مشتمل کلچرل ایونٹ اور بون فائر کا بھی اہتمام کیا گیا۔ خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے آفیسر پیر عماد علی شاہ نے AI اور لیڈرشپ ڈیولپمنٹ کے حوالے سے نوجوانوں کے ساتھ خصوصی انٹرایکٹو سیشن کیا۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ینگ لیڈرز پارلیمنٹ نوید احمد خان نے ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز خیبر پختونخوا، خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ینگ لیڈرز سمٹ 2026 کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں قیادت، پارلیمانی شعور، قانون سازی سے آگاہی، قومی یکجہتی اور بین الصوبائی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور انہیں قومی تعمیر و ترقی میں مؤثر کردار کے لیے تیار کرنا تھا

زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے ساتویں سینٹ اجلاس میں 445.99ملین روپے سے زائد کا بجٹ منظور

مشیر زراعت و پرو چانسلر زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میاں محمد عمر کی زیر صدارت زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے ساتویں سینٹ اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مالی سال 2026-27 کے لیے یونیورسٹی کا 445.99ملین روپے سے زائد کا بجٹ منظور کرلیا گیا۔ اجلاس میں یونیورسٹی کے مالی، انتظامی، تعلیمی اور تحقیقی امور کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ادارے کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے مختلف امور پر غور کیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری زراعت خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد بختیار خان، وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان ڈاکٹر محمد لطیف گوندل سمیت سینٹ کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مالی سال 2025-26 کے اخراجات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ یونیورسٹی کے مالی امور، آمدن و اخراجات، دستیاب وسائل، بجٹ کے استعمال اور مالی نظم و ضبط سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء نے یونیورسٹی کے وسائل کو تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی ترجیحات کے مطابق بروئے کار لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اس موقع پر مشیر زراعت و پرو چانسلر میاں محمد عمر نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کو علاقے کی مقامی زرعی ضروریات، موسمی حالات اور کاشتکاروں کو درپیش مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیق پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے ایسی جدید اور نتیجہ خیز تحقیق ناگزیر ہے جس کے ثمرات براہ راست کسانوں تک پہنچ سکیں۔میاں محمد عمر نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور جنوبی اضلاع کی مخصوص زرعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فصلوں کی پیداوار میں اضافے، پانی کے مؤثر استعمال، جدید آبپاشی نظام، زرعی ٹیکنالوجی، بہتر بیج اور دیگر متعلقہ شعبوں میں تحقیق کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق کو محض علمی سرگرمی تک محدود رکھنے کے بجائے اس کے نتائج کو فیلڈ اور کاشتکاروں تک منتقل کرنے کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کیا جائے۔مشیر زراعت نے کہا کہ جامعات زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کو خطے کے کسانوں اور زرعی شعبے کی ضروریات کے ساتھ اپنے تحقیقی پروگرامز کو مزید مربوط کرنا ہوگا۔ انہوں نے یونیورسٹی اور محکمہ زراعت کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ تحقیقی نتائج کو عملی زرعی سرگرمیوں میں بروئے کار لایا جاسکے۔میاں محمد عمر نے یونیورسٹی کے مالی وسائل کے شفاف، مؤثر اور دانشمندانہ استعمال پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ کو تعلیمی و تحقیقی معیار بہتر بنانے، طلبہ کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور یونیورسٹی کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے ترجیحی بنیادوں پر استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب وسائل کا بہترین استعمال ادارے کی مجموعی کارکردگی اور ساکھ میں مزید بہتری کا باعث بنے گا۔اجلاس میں یونیورسٹی کے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے علاوہ مالی سال 2025-26 کے مالی معاملات، اخراجات اور وسائل کے استعمال کا جائزہ لیا گیا جبکہ یونیورسٹی کے انتظامی و تعلیمی امور سے متعلق مختلف نکات بھی زیر بحث آئے۔ سینٹ اراکین نے یونیورسٹی کی ترقی، معیاری تعلیم کے فروغ، تحقیق کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور مالی نظم و نسق کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔

محکمہ توانائی میں براہ راست ای کھلی کچہری،عوامی مسائل کے حل کے احکامات

محکمہ توانائی وبرقیات خیبرپختونخوانے صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں سرکاری اداروں کے انتظامی امورمیں شفافیت لانے اورعوامی مسائل کے فوری حل کیGood Governance Road Mapکی جاری پالیسی کے تحت چھٹی آن لائن (براہ راست)ای کھلی کچہری کا انعقادکیاجس میں عوام الناس نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہوئے اپنے مسائل پیش کئے جن کے فوری حل کے لئے موقع پرہدایات جاری کی گئیں۔ سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمدکی زیرصدارت براہ راست ای کھلی کچہری میں محکمے کے جملہ افسران سمیت محکمے کے ذیلی اداروں ُPEDO،KPآئل اینڈ گیس کمپنی،الیکٹرک انسپکٹریٹ اورKPٹرانسمیشن اینڈگرڈسسٹم کمپنی کے سربراہان اورپراجیکٹ ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔E کچہری میں صوبے کے مختلف اضلاع سے مجموعی طورپر 55شکایت کنندگان نے ٹیلی فون کالز اورفیس بک آفیشل پیج کے ذریعے براہ راست محکمہ توانائی وبرقیات اوراسکے تمام ذیلی اداروں سے جڑے توانائی منصوبوں سے متعلق درپیش مسائل پرکھل کرگفتگو کی اور حکام بالاکوآگاہ کیا۔اس موقع پرعوام الناس کی طرف سے صوبائی حکومت کے ای کھلی کچہری کے انعقادکوشفافیت اورمیرٹ کا ایک انقلابی اقدام قراردیاگیا۔سیکرٹری توانائی نے کھلی کچہری کے دوران بعض علاقوں میں جاری منی مائیکروہائیڈل سٹیشنز کی تعمیر میں سست روی اورمعیاری تعمیرنہ ہونے کی عوامی شکایات پرسخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹرکووارننگ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں ہم سب جوابدہ ہیں اوراس سلسلے میں کوتاہی برتنے پرسزاوجزاپرکارروائی ہوگی۔انہوں نے پیڈوکے مختلف جاری پراجیکٹس میں مقامی افراد کوترجیحی بنیادوں پر بھرتی کرنے پر بھی زوردیا۔ 2گھنٹوں کے دورانئے پرمشتمل Eکچہری کے آخرمیں سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد نے عوام الناس کویقین دلایاکہ موجودہ حکومت کی عوام دوست پالیسی کے تحت عوامی مسائل کو کھلی کچہری کے ذریعے موقع پر حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے محکمے کے تمام افسران کو ای کھلی کچہری میں پیش کئے گئے عوامی مسائل کوسنجیدگی سے حل کرنے پر زوردیا اورہدایت کی کہ مسائل کے حل پر عملدرآمد کی رپورٹ جلدازجلدپیس کی جائے کیونکہ عوام الناس حکومتی اقدامات کو میرٹ وشفافیت سے مانیٹرکررہے ہیں۔