Home Blog Page 26

ختمِ نبوت ﷺ کانفرنس کی تیاریاں تیز، شفیع جان کی انتظامات بروقت مکمل کرنے کی ہدایت

خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیرِ اطلاعات، سائنس ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے ختمِ نبوت ﷺ کانفرنس کے انتظامات بروقت مکمل کرنے اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایات انہوں نے ڈپٹی کمشنر آفس کوہاٹ میں کانفرنس کی تیاریوں کے جائزے کیلئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ اجلاس میں ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اور انتظامی امور، مجوزہ اقدامات اور باہمی رابطہ کاری پر بریفنگ دی۔
شفیع جان نے حکام کو ہدایت کی کہ کانفرنس کیلئے تمام ضروری انتظامات مقررہ وقت کے اندر مکمل کئے جائیں اور کسی بھی مرحلے پر غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے منظم اور کامیاب انعقاد کیلئے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے افسران کو اپنی ذمہ داریاں بروقت مکمل کرنے اور انتظامات کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔شرکاء اجلاس نے کانفرنس سے متعلق اپنی تجاویز اور اقدامات سے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا جبکہ مختلف انتظامی امور پر مزید مشاورت کرتے ہوئے تیاریوں کو حتمی شکل دینے پر زور دیا گیا۔

وزیراعلی پنجاب کے نمائشی اجلاسوں کے برعکس خیبرپختونخوا ڈیٹا سینٹرز، اے آئی اور ڈیجیٹل گورننس کیلئے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم خیبرپختونخوا میں جدید ڈیٹا سینٹر کے قیام کیلئے ورلڈ بینک سے اہم مذاکرات، سستی بجلی اور ٹرانسمیشن لائن پر بھی غور کر رہے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب جہاز بھر کر چین میں ڈیٹا سنٹرز بنانے کیلئے نمائشی اجلاس کر رہے ہیں۔ نمائشی اجلاسوں کے برعکس خیبرپختونخوا ڈیٹا سنٹرز کے قیام کیلئے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے بیان میں کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں جدید ڈیٹا سینٹر کے قیام پر ورلڈ بینک سے اہم مذاکرات ہوئے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں جدید ڈیٹا سینٹر، اے آئی اور ڈیجیٹل گورننس کے فروغ پر ورلڈ بینک کے تعاون سے کام شروع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا سینٹر کے لیے سستی پن بجلی اور ٹرانسمیشن لائن کی فراہمی پر مذاکرات ہوئے ہیں۔ ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر کے طریقہ کار کا فیصلہ ورلڈ بینک کی ٹیم کے ستمبر کے دورے کے بعد ہوگا۔ ٹرانسمیشن لائن ورلڈ بینک تعاون، پی پی پی موڈ یا صوبائی وسائل سے تعمیر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ دو سال میں خیبرپختونخوا کی 201 سرکاری خدمات ڈیجیٹلائزڈ ہوچکے ہیں، جبکہ 2024 میں خیبرپختونخوا کی صرف 3 سرکاری خدمات ڈیجیٹل تھیں۔ خیبرپختونخوا ڈیجیٹل گورننس کے میدان میں باقی صوبوں سے آگے ہے۔مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ نے عالمی ایوارڈ حاصل کرکے پاکستان کا نام روشن کیا۔ اب خیبرپختونخوا میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ڈیٹا سینٹر کی ضرورت ہے۔ عالمی معیار کا ڈیٹا سینٹر بنانے کیلئے ورلڈ بینک کے تجربے سے استفادہ کریں گے۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی وژن اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایات پر سستی بجلی عالمی کمپنیوں کو پیش کرکے سرمایہ کاری لائی جائے گی۔ خیبرپختونخوا کی سستی بجلی عالمی ڈیجیٹل کمپنیوں کیلئے بڑا سرمایہ کاری کا موقع بن سکتی ہے۔ ڈیجیٹل صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی کیلئے ورلڈ بینک سے تعاون طلب کیا ہے۔
ورلڈ بینک اور آئی ایف سی کی اعلیٰ قیادت اور بین الاقوامی ماہرین نے اجلاس میں شرکت کی۔ اس اہم اجلاس میں چیف سیکریٹری، ایڈیشنل چیف سیکریٹری پی اینڈ ڈی، آئی ٹی بورڈ اور سیکریٹری توانائی نے شرکت کی۔

امید، عزت اور خودداری کا نیا سفر — احساس امید کارڈ

حکومتِ خیبر پختونخوا کا مستحق اور معذور افراد کی باوقار معاونت کی جانب ایک اور انقلابی قدم!

عمران خان کے فلاحی ریاست کے وژن اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں “احساس امید کارڈ” کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ مشیر زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود و وومن امپاورمنٹ لیاقت علی خان نے اس ڈیجیٹل اور شفاف مالی معاونت کے نظام کا افتتاح کیا۔

ضلعی سطح پر مستحقین کو اب ملے گی براہِ راست مالی امداد — بغیر کسی قطار، بغیر کسی سفارش اور بغیر کسی تاخیر کے، پوری عزتِ نفس کے ساتھ!

درست حقدار تک شفاف اور ڈیجیٹل طریقے سے امداد کی فراہمی ہمارا عزم ہے۔

#EhsaasUmeedCard #KPGovt #KhyberPakhtunkhwa #SocialWelfareKP #DigitalKP #Empowerment #KPUpdates

World Bank Delegation Meets Khyber Pakhtunkhwa Government to Discuss IT, Digital Infrastructure and Energy Initiatives

Advisor to Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa for Finance, Muzamil Aslam, and Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah jointly chaired a meeting with World Bank team here on Friday to review ongoing collaboration and explore future avenues of partnership in the energy, information technology (IT), and digital sectors.

Discussions centered on digital transformation and artificial intelligence (AI) interventions across the province, as well as the establishment of the KP Data Centre infrastructure. Both sides deliberated on strategies to strengthen the province’s IT infrastructure and to address existing technical and institutional challenges in the sector.

On the subject of energy infrastructure, the Khyber Pakhtunkhwa Government apprised the World Bank team of ongoing investments in hydropower generation projects and transmission line networks. It was shared that a dedicated
Khyber Pakhtunkhwa Transmission & Grid System Company (KPT&GSC) has been established to facilitate the evacuation and distribution of power. The provincial government reiterated its intention to channel green, renewable energy through these transmission networks to support industrial growth and other developmental needs.

The Khyber Pakhtunkhwa Government reaffirmed its commitment to modernizing the province’s IT infrastructure and to expanding energy resources across the region in support of future digital and economic growth.

The World Bank delegation commended the performance of the Khyber Pakhtunkhwa Government, particularly highlighting the province’s excellence in the IT sector. Both sides acknowledged the longstanding partnership between the World Bank and the Government of Khyber Pakhtunkhwa and reaffirmed their shared commitment to further strengthening cooperation in the digital and energy domains.

The meeting agreed to form a joint working group comprising the World Bank and the KP Government to examine technical and other modalities.

حکومت خیبرپختونخوا کے فلیگ شپ پروگرام احساس اُمید کے تحت مالی معاونت کا آغاز

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات اور بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے فلاحی ریاست، مستحق طبقات کی معاونت اور باعزت خودکفالت کے وژن کے تحت صوبے کے مستحق خصوصی افراد کو مالی و سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت خیبرپختونخوا کے فلیگ شپ پروگرام احساس اُمید کے تحت مستحق خصوصی افراد کو مالی امداد کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے جمعہ کے روزحیات آبادسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس پشاور میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں کیا۔اس موقع پر سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین، پارلیمانی سیکرٹری اعظم خان، ایڈیشنل سیکرٹری زکوٰۃ و عشر حبیب اللہ اور چیئرمین زکوٰۃ و عشر امتیاز خان سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ احساس اُمید پروگرام کے تحت خیبرپختونخوا بھر میں 10 ہزار مستحق خصوصی افراد کو ماہانہ 5 ہزار روپے مالی امداد فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مستحقین کو مالی معاونت کی فراہمی کے لیے احساس اُمید کارڈ بھی فراہم کیے جائیں گے۔اس موقع پر مشیر وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایات کے مطابق مستحق خصوصی افراد کی نشاندہی اور مالی معاونت کے پورے عمل کو شفاف، میرٹ پر مبنی اور جدید ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا گیا ہے۔ محکمہ سماجی بہبود نے ای-ڈس ایبلٹی سسٹم کے ذریعے 52 ہزار خصوصی افراد کا ڈیٹا حاصل کیا، جبکہ جامع سماجی و معاشی اعشاریوں کی بنیاد پر آئی ٹی سسٹم کے ذریعے مستحق افراد کا پاورٹی سکور مرتب کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ صوبہ بھر میں 4400 مقامی زکوٰۃ کمیٹیوں کے ذریعے خصوصی افراد کا سماجی و معاشی جائزہ مکمل کیا گیا، جبکہ فراہم کردہ معلومات کی متعلقہ ڈسٹرکٹ زکوٰۃ کمیٹیوں نے تصدیق کی۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ شفاف طریقہ کار کے تحت مجموعی طور پر 9298 خصوصی افراد کو مالی امداد کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ فنڈز کی تقسیم کے لیے ایزی پیسہ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، جبکہ مستحقین بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے اپنی رقم وصول کر سکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ پشاور، چارسدہ اور خیبر سے تعلق رکھنے والے 20 خصوصی افراد کو جنوری تا جون 2026 کے فی کس 30 ہزار روپے ادا کیے گئے، جبکہ باقی مستحقین کو رقوم آن لائن منتقل کی جائیں گی۔مشیر وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ احساس اُمید پروگرام میںہر طرح کی مداخلت کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے اور مستحقین تک ان کی پوری رقم شفاف طریقے سے پہنچانے کا مؤثر نظام وضع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مالی امداد وصول کرنے کے عمل میں بعض اوقات مستحق افراد کو اپنی رقم کے حصول کے لیے دوسروں پر انحصار کرنا پڑتا تھا ، تاہم اب احساس اُمید کارڈ کے ذریعے مستحقین خود اے ٹی ایم سے اپنی مکمل رقم نکال سکیں گے اور کوئی دوسرا شخص ا س عمل میں مداخلت نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کامقصد ایسا شفاف نظام قائم کرنا ہے کہ کسی بھی مستحق کو یہ احتمال نہ رہے کہ اس کا ایک روپیہ بھی ضائع ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ سماجی بہوبدخصوصی افراد، یتیموں، بیواؤں اور دیگر مستحق طبقات کی خدمت کے لیے ہے، اس لیے محکمہ کے افسران و اہلکاروں سمیت ہر فرد کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مستحق کے حق کا ایک روپیہ بھی کسی غیر متعلقہ شخص تک نہ پہنچے۔مشیرِ وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ حکومت کا مقصد خصوصی افراد کو صرف مالی امداد کا محتاج بنانا نہیں بلکہ انہیں باعزت روزگار اور خود کفالت کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ مالی مدد کے ساتھ ساتھ مستحق لوگوںکو مناسب تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ اپنے اور اپنے خاندان کی کفالت خود کر سکتے ہیں۔ انہیںجدید ڈیجیٹل سکلز، فنی تربیت اور دیگر ہنر بھی سکھائے جائیں گے تاکہ مستحق افراد گھر بیٹھے بھی اپنی صلاحیتوں کو آمدن کا ذریعہ بنا سکیں۔ملک لیاقت علی خان نے مزیدکہا کہ صرف وہیل چیئرز اور سلائی مشینیں تقسیم کرنے تک مستحقین کو محدود رکھنے کی بجائے جدید وژن کے تحت ان کے لئے ہنرمندی، روزگار اور خودکفالت کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ماہرین اور اداروں سے مشاورت کے بعد ایک جامع منصوبہ تشکیل دیا جائے گا، جس کا مقصد آئندہ ایک دو سال میں مستحق افراد کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا اور محکمہ سماجی بہبود کو امداد کے ساتھ ساتھ ہنرمندی، بااختیاری اور خودکفالت کا مؤثر ذریعہ بنانا ہے۔

صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کا جاری ہاؤسنگ سکیموں کی بروقت تکمیل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کی زیر صدارت جمعہ کے روز ہاؤسنگ کمیٹی روم میں صوبہ بھر میں جاری ہاؤسنگ سکیموں کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ ہاؤسنگ کے اعلیٰ حکام نے صوبائی وزیر کو مختلف ہاؤسنگ سکیموں پر جاری ترقیاتی کاموں اور پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں نیو شاور ویلی، ہنگو ٹاؤن شپ، جلوزئی ہاؤسنگ سکیم، نیو میگا سٹی نوشہرہ، ہائی رائز فلیٹس حیات آباد، جرمہ ہاؤسنگ سکیم، ورسک ون پشاور، دنگرام ہاؤسنگ سکیم سوات سمیت دیگر جاری تعمیراتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے ہدایت کی کہ نیو شاور ویلی ہاؤسنگ سکیم کے فیز ون اور ایکسپریس وے پر ترجیحاتی بنیادوں پر مقررہ ٹائم لائن کے اندر تعمیراتی کام شروع کرنے اور مزید تاخیر سے گریز کرنے کی ہدایت کردی۔ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ صوبہ بھر کی تمام ہاؤسنگ سکیموں میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ شہریوں کو معیاری اور بہتر رہائشی سہولیات میسر آسکیں۔ انہوں نے نیو میگا سٹی نوشہرہ کے حوالے سے متعلقہ حکام کو ایک ہفتے کے اندر جامع رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو بہترین اور معیاری ہاؤسنگ سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام ہاؤسنگ سکیموں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔اجلاس میں سیکرٹری ہاوسنگ محمد انور خان،ڈی جی ہاوسنگ زاہد خان،ڈائریکٹر ایڈمن امان الحق،پراجیکٹ ڈائریکٹر نیو پشاور ویلی عبدالودود شاہ،یعقوب خان ڈائریکٹر پلاننگ،عامر زیب ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل،ڈائریکٹر لیگل جوہر اعجاز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔صوبائی وزیر نے مختلف ہاوسنگ سکیموں میں تعینات ڈیلی ویجز ملازمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے کی اقدامات کو سراہا گیا۔صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی نے متعلقہ حکام کو ہنگو ٹاؤن شپ کا دورہ کرنے کی ہدایت کردی۔ڈاکٹر امجد نے مزید کہا ہے کہ تعمیراتی کام میں ناقص میٹریل کا استمعال کا راستہ روکا جائے اور معیاری کام میں کسے قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کی سختی سے ہدایت کردی۔اجلاس میں اگلے ہفتے بورڈ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

منشیات کے خلاف محکمہ ایکسائزکی مسلسل کارروائیاں، بیورو آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی تین ماہ میں بڑی کامیابیاں

محکمہ ایکسائز وٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کے بیورو آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی اور صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان کی انسداد منشیات کے حوالے سے جاری ہدایات اور زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت منشیات فروشوں، اسمگلروں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے گزشتہ تین ماہ کے دوران نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔بیورو آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی جانب سے جاری کردہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، ٹارگٹڈ چھاپوں اور ہائی وے انٹرڈکشن کارروائیوں کے نتیجے میں 534 کلوگرام سے زائد منشیات برآمد کی گئیں۔برآمد شدہ منشیات میں 480 کلوگرام چرس، 16 کلوگرام ہیروئن، 26 کلوگرام آئس (کرسٹل میتھ) اور 12 کلوگرام افیون شامل ہیں۔اعدادوشمار کے مطابق کارروائیوں کے دوران منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث 17 ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے،1310 ممنوعہ گولیاں برامد کی گئیں۔ بیورو نے جدید انٹیلی جنس معلومات، خفیہ نگرانی اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے منظم اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں منشیات کی ترسیل کے مختلف راستوں کو ناکام بنایا گیا۔اسی طرح غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود کے خلاف جاری کارروائیوں میں بھی اہم کامیابیاں حاصل کی گئیں، جن کے دوران 10 پستول، 7 رائفلیں اور 3500 راؤنڈز برآمد کیے گئے۔واضح رہے کہ صوبائی حکومت نے منشیات کے خاتمے اور نوجوان نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان نے محکمہ ایکسائز کو منشیات فروشوں، اسمگلروں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا نے واضح کیا ہے کہ منشیات کے مکروہ کاروبار میں ملوث عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور صوبے بھر میں ان کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ مزید مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے گا۔پراونشل انچارج عاکف نواز خان کی قیادت میں بیورو آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ منشیات فروشوں، اسمگلروں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، ٹارگٹڈ کارروائیوں اور نگرانی کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ خیبرپختونخوا کو منشیات سے پاک بنانے کے حکومتی وژن کو عملی شکل دی جا سکے۔

KOHAT DEVELOPMENT DRIVE: MINISTER SHAFI JAN CALLS FOR SPEEDY COMPLETION OF PUBLIC PROJECTS

Khyber Pakhtunkhwa Minister for Information, Science Technology and Information Technology Shafi Jan on Friday directed the officials to accelerate work on ongoing development projects in Kohat and ensure their completion within the stipulated timelines to provide residents with basic services and public facilities.
He issued these directives while chairing a meeting of the heads of relevant government departments at the Deputy Commissioner’s Office in Kohat. Deputy Commissioner Muhammad Nawaz Wazir and other senior officials attended the meeting.
The meeting reviewed progress on new and ongoing development schemes in the district, along with measures related to public welfare and government activities in various sectors. The Minister was briefed on the status of projects and the provision of public services.
Shafi Jan said timely completion of public-interest projects was among the government’s priorities and directed the departments to fulfil their responsibilities efficiently. He called for avoiding unnecessary delays and completing ongoing schemes on a priority basis.
The Minister also stressed stronger monitoring of development projects to ensure both quality and timely execution. He said public funds were being spent on development initiatives and it was the responsibility of the relevant departments to ensure that their benefits reached the people without unnecessary delay.
The meeting also discussed measures to address public grievances and improve the delivery of government services. Shafi Jan directed officials to strengthen coordination among departments and adopt an effective mechanism for resolving public complaints. He maintained the objective of development activities was not merely to complete projects but to improve living standards and provide better facilities to the people, urging all departments to improve their performance and keep public interest at the centre of their work

Provincial Health Minister Inspects Medical Facilities at Bacha Khan International Airport Peshawar

Provincial Minister for Health Khaleeq ur Rehman today visited Bacha Khan International Airport Peshawar, where he conducted a detailed inspection of the medical facilities and health services being provided to passengers.

Airport authorities and medical staff briefed the Provincial Health Minister on the availability of the health desk, medicines and medical equipment, passenger screening arrangements, and overall preparedness to deal with health-related emergencies. The Minister was also given a detailed presentation on the medical facilities available at Bacha Khan International Airport Peshawar, screening procedures, and diagnostic testing arrangements.

Speaking on the occasion, Provincial Minister for Health Khaleeq ur Rehman said that airports are major points of entry and exit for people travelling from different countries, regions, and diverse social backgrounds. He said effective medical screening and surveillance at airports are therefore essential to prevent the spread of infectious diseases and epidemics. He stressed the need for continuous monitoring, timely screening, early identification of potential health risks, and complete preparedness to ensure effective prevention and response.

The Provincial Health Minister visited different sections of Bacha Khan International Airport Peshawar and personally reviewed the medical facilities and passenger screening arrangements. He appreciated the doctors, medical staff, and other relevant personnel deployed at the airport for providing medical services to passengers and maintaining round-the-clock preparedness.

In recognition of their professional services and excellent performance, the Provincial Minister presented certificates of appreciation to the doctors and medical staff and paid tribute to their dedicated services.

Khaleeq ur Rehman assured that the required number of doctors, paramedics, and other essential medical staff at Bacha Khan International Airport Peshawar would be ensured and that no shortage of staff would be allowed. He further assured that vaccines would also be maintained in sufficient quantities to ensure uninterrupted medical screening and other related health services.

The Provincial Health Minister directed the concerned authorities to keep all medical facilities, medicines, medical equipment, vaccines, and passenger screening arrangements at Bacha Khan International Airport Peshawar fully operational. He emphasized that passengers must be provided timely, quality, and effective medical assistance whenever required.

KP Food Authority seizes 3,000kg substandard, rotten meat from passenger bus in Peshawar

The Khyber Pakhtunkhwa Food Safety and Halal Food Authority has seized and discarded around 3,000 kilograms of substandard and rotten meat recovered from a passenger bus during a crackdown against unsafe food in Peshawar.
According to a spokesperson for the Food Authority, Peshawar food safety team set up a checkpoint near Kala Mandi on GT Road and inspected vehicles transporting food items. During the inspection, a passenger bus was found carrying a large quantity of substandard and rotten meat, which was subsequently destroyed at the WSSP dumping area.
Officials said the meat was being transported in concealed compartments of the bus in violation of food safety and hygiene standards. Following inspection, the meat was declared unfit for human consumption.
Legal proceedings have been initiated against the owners involved in the transportation and supply of the unsafe meat under the Khyber Pakhtunkhwa Food Safety Act, the spokesperson said.
Special Assistant to the Chief Minister for Food Dr Muhammad Israr Khan lauded the team on successful operation and said no leniency would be shown to elements involved in supplying substandard and hazardous food to the public.
Special Assistant directed the relevant Food Authority officials to intensify action against unsafe food and ensure effective monitoring of the transportation and sale of food items across the province.
Dr Israr said the provision of safe, hygienic and quality food to the public was among the government’s top priorities. He added that monitoring and enforcement activities by food safety teams would be further strengthened.
He warned that strict legal action would be taken against those playing with public health, stressing that no compromise would be made on ensuring the availability of safe food to consumers.