Home Blog Page 33

محکمہ ایکسائز کی منشیات کے خلاف بڑی کارروائی، آئس اور چرس کی بھاری کھیپ برآمد

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اورنارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے منشیات کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے آئس اور چرس کی بھاری مقدار سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق تھانہ ایکسائز خیبر کی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر خیبر سے پشاور کی جانب ڈبل روڈ پر ناکہ بندی کے دوران رکشہ نمبر GA-9928 کو روک کر تلاشی لی۔ دورانِ تلاشی رکشے سے 10 ہزار گرام آئس اور 8 ہزار 400 گرام چرس برآمد ہوئی، جسے فوری طور پر قبضے میں لے لیا گیا۔برآمد شدہ منشیات ضبط کرتے ہوئے واقعے سے متعلق مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے تھانہ ایکسائز خیبر میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور وزیر ایکسائز سید فخر جہان کے ہدایات کی روشنی میں صوبے بھر میں منشیات، بالخصوص خطرناک نشہ آئس کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔ محکمہ ایکسائز نے واضح کیا ہے کہ نوجوان نسل کو منشیات کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے اور اس مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کی بیخ کنی کے لیے بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ منشیات کے کاروبار اور سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

کراپ رپورٹنگ سروسز میں جیوگرافک انفارمیشن سسٹم لیب قائم، مشیر زراعت میاں محمد عمر نے افتتاح کردیا

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر نے ڈائریکٹوریٹ جنرل کراپ رپورٹنگ سروسز پشاور میں جیوگرافک انفارمیشن سسٹم لیب کا افتتاح کیا اور لیب کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر متعلقہ حکام نے انہیں لیب کے قیام کے مقاصد، کام کے طریقہ کار اور جغرافیائی معلومات کے جدید نظام کے ذریعے فصلوں کی رپورٹنگ اور زرعی منصوبہ بندی میں معاونت کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع ڈاکٹر نوید اور ڈائریکٹر سائل اینڈ واٹر کنزرویشن سمیع اللہ سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مشیر زراعت میاں محمد عمر نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقوں کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے، محکمہ زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے نہ صرف فصلوں کی پیداوار کے درست تخمینے لگانے میں مدد ملے گی بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید موسمی حالات سے زرعی شعبے کو پہنچنے والے نقصانات کا بروقت اور مؤثر انداز میں جائزہ بھی لیا جاسکے گا۔
میاں محمد عمر نے مزید کہا کہ کسانوں کی سہولت اور زرعی خدمات تک مؤثر رسائی کے لیے کسان ماڈل فارم سروسز سینٹرز میں کسانوں کی رجسٹریشن کو یقینی بنایا جائے۔ زرعی افسران اور کسانوں کے درمیان مؤثر اور مسلسل روابط کو فروغ دیا جائے، جبکہ ماڈل فارم سروسز سینٹرز کی کارکردگی، خدمات کے معیار اور افادیت میں مزید بہتری لانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل کراپ رپورٹنگ سروسز سید الطاف احمد شاہ نے مشیر زراعت کو نئی قائم کی گئی GIS لیب کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لیب کا قیام ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے جاری فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پروجیکٹ خیبرپختونخوا کے تحت انتہائی قلیل مدت میں عمل میں لایا گیا ہے۔ جیوگرافک انفارمیشن سسٹم ٹیکنالوجی کے ذریعے کراپ رپورٹنگ سروسز صوبے میں کاشت ہونے والی تمام بڑی و چھوٹی فصلوں، پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار کے تخمینے میں مزید معاونت حاصل ہوگی۔ لیب میں جدید نوعیت کے آلات اور پیشہ ور عملہ موجود ہے، جو محکمہ زراعت کے متعلقہ امور کو زیادہ مؤثر، تیز رفتار اور سائنسی بنیادوں پر انجام دینے میں معاون ثابت ہوگا۔ میاں محمد عمر نے کہا کہ جیوگرافک انفارمیشن سسٹم لیب سے حاصل ہونے والی معلومات صوبائی سطح پر منصوبہ سازوں، پالیسی سازوں اور متعلقہ حکام کے لیے نہایت اہم ثابت ہوں گی۔ مستند اور بروقت زرعی اعداد و شمار کی بنیاد پر بہتر اور نتیجہ خیز فیصلے سازی ممکن ہوگی۔انہوں نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا محکمہ زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور تحقیق پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ کسانوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جاسکے۔

ضم اضلاع کے نوجوانوں کیلئے چار روزہ ڈیجیٹل میڈیا بوٹ کیمپ کا پشاور میں آغاز

ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز، حکومت خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام اور دی نیٹیوز کے اشتراک سے چار روزہ ڈیجیٹل میڈیا بوٹ کیمپ 2026 کا آغاز 19 اگست 2026 کو راشد شہید میموریل ہال، یونیورسٹی آف پشاور میں ہوا۔ بوٹ کیمپ میں ضم شدہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے 35 نوجوان شریک ہیں۔ پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل میڈیا، مؤثر ابلاغ، مواد کی تیاری اور آن لائن پلیٹ فارمز کے عملی استعمال سے متعلق مہارتیں فراہم کرنا ہے۔افتتاحی تقریب میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر یوتھ افیئرز خیبر پختونخوا محترمہ عاطفہ یوسفزئی اور ل شبیر خان نے شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل مہارتیں نوجوانوں کی تعلیمی، پیشہ ورانہ اور کاروباری ترقی کیلئے ناگزیر ہو چکی ہیں۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ تربیتی پروگرام سے بھرپور استفادہ کریں اور حاصل ہونے والی مہارتوں کو مثبت اور تعمیری مقاصد کیلئے استعمال کریں۔بوٹ کیمپ کے پہلے روز پروفیسر آف جرنلزم ڈاکٹر بخت زمان نے پروگرام کے مجموعی وژن اور مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے نوجوانوں کو ذمہ دار ڈیجیٹل تخلیق کار بننے، مثبت کہانیوں کو اجاگر کرنے اور میڈیا کو ابلاغ، تخلیقی اظہار، کاروباری مواقع اور سماجی آگاہی کیلئے مؤثر طور پر استعمال کرنے کی تلقین کی۔اقرا نیشنل یونیورسٹی کے شعبہ میڈیا اسٹڈیز کے سربراہ اور صحافی محمد فہیم نے ولاگنگ کے موضوع پر خصوصی سیشن دیا۔ انہوں نے مؤثر کہانی بیان کرنے، تخلیقی مواد تیار کرنے، مستند انداز اپنانے اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سامعین سے رابطہ بڑھانے کے عملی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ محترمہ صبغہ نے بھی شرکاء کو عملی سرگرمیوں، مباحثوں اور گروپ ورک کے ذریعے ڈیجیٹل میڈیا کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا۔پہلے روز انٹرایکٹو سیشنز، برین اسٹارمنگ، گروپ ورک اور عملی سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں شرکاء نے بھرپور حصہ لیا۔ شرکاء نے پروگرام کو معلوماتی، عملی اور مستقبل کی پیشہ ورانہ ضروریات سے ہم آہنگ قرار دیتے ہوئے اسے نوجوانوں کیلئے ایک مفید اقدام قرار دیا۔دی نیٹیوز نے ڈائریکٹر یوتھ افیئرز عباس خان آفریدی کی نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے، ان کی صلاحیتوں کے فروغ اور پروگرام کی سرپرستی پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔

قائمہ کمیٹی برائے ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا اجلاس

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا اجلاس صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی عبدالمنعیم کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی، احتشام علی خان، محترمہ مہر سلطانہ، محترمہ عارفہ بی بی، محترمہ اشبر جدون اور محترمہ شازیہ طماس خان نے شرکت کی، جبکہ احمد کریم کنڈی نے بذریعہ زوم اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ، متعلقہ افسران، محکمہ قانون، ایڈووکیٹ جنرل آفس اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے افسران بھی شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی کی جانب سے صوبے میں چیف سیکرٹری کی تعیناتی سے متعلق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اختیار سے متعلق اٹھائے گئے سوال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اراکین نے اس امر کا جائزہ لیا کہ آیا چیف سیکرٹری کی تعیناتی کا اختیار وفاقی حکومت کی بجائے صوبے کے چیف ایگزیکٹو، یعنی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، کو دیا جا سکتا ہے۔ احمد کریم کنڈی نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون میں ضروری ترمیم کے ذریعے یہ اختیار صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو منتقل کیا جا سکتا ہے اور آئین پاکستان صوبائی اسمبلی کو اس ضمن میں قانون سازی کی اجازت دیتا ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی احتشام علی نے کہا کہ چونکہ چیف سیکرٹری صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے ماتحت فرائض انجام دیتے ہیں، اس لیے ان کی تعیناتی کا اختیار بھی وزیراعلیٰ کے پاس ہونا چاہیے، جس کی عبدالسلام آفریدی سمیت دیگر اراکین نے بھی تائید کی۔چیئرمین قائمہ کمیٹی عبدالمنیم نے معاملے پر مزید قانونی و آئینی غور کے لیے ایک سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ سب کمیٹی میں قائمہ کمیٹی کے اراکین کے علاوہ محکمہ قانون، ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندگان شامل ہوں گے۔ سب کمیٹی صوبے میں چیف سیکرٹری کی تعیناتی پر اختیار کے حوالے سے ضروری قانونی ترامیم کا جائزہ لے کر مسودہ تیار کرے گی اور 15 دن کے اندر اپنی سفارشات قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش کرے گی۔ کمیٹی اس امر کا بھی جائزہ لے گی کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کی روشنی میں صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو چیف سیکرٹری کی تعیناتی کے اختیارات دینے کے لیے موجودہ قانونی و آئینی فریم ورک میں کیا گنجائش موجود ہے۔اجلاس میں سول سیکرٹریٹ کے ملازمین کے لیے پی ایم ایس کے امتحان میں مختص 10 فیصد کوٹے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی نے اس کوٹے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم ایس ایک مسابقتی امتحان ہے، اس لیے تمام امیدواروں کو اوپن میرٹ پر یکساں اور شفاف مقابلے کا موقع ملنا چاہیے اور امتیازی تفریق کا خاتمہ ضروری ہے۔ سپیشل سیکرٹری ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ کوٹہ ملازمین کی ترقی اور محکمانہ نمائندگی کے مقصد سے مختص کیا گیا ہے، تاہم کمیٹی کے اراکین نے اس وضاحت سے اتفاق نہیں کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پی ایم ایس کے مذکورہ کوٹے سے متعلق رائج قوانین، قواعد و ضوابط اور دیگر متعلقہ دستاویزات آئندہ اجلاس میں کمیٹی کے سامنے پیش کیے جائیں تاکہ معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔کمیٹی اراکین نے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران (ڈی پی اوز) کی تعیناتی، تبادلوں، مراعات اور ڈیپوٹیشن سے متعلق امور پر بھی سوالات اٹھائے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی نے محکمہ ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کی تعیناتی، تبادلوں، مراعات، ڈیپوٹیشن اور دیگر متعلقہ امور کی مکمل تفصیلات کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کے معاملات میں شفافیت، میرٹ اور قواعد و ضوابط کی پاسداری کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ چیئرمین نے مزید ہدایت کی کہ ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کی مدت اصولی طور پر دو سال ہونی چاہیے اور اس مدت میں بار بار توسیع دینے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے، تاکہ انتظامی امور میں تسلسل، میرٹ اور ادارہ جاتی نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ملازمین کی ترقیوں میں مبینہ ناانصافیوں کا جائزہ، ذیلی کمیٹی نے ریکارڈ طلب کر لیا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ذیلی کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی نے کی۔ اجلاس میں ذیلی کمیٹی کے ممبران اور اراکین صوبائی اسمبلی عدنان خان اور محترمہ ثوبیہ شاہد سمیت متعلقہ محکمہ کے حکام، محکمہ قانون کے نمائندے اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ان ملازمین کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا جن کی 2014 میں این ٹی ایس (NTS) کے ذریعے بھرتی ہوئی تھی اور بعدازاں انہیں 2018 میں ریگولر کیا گیا۔ اجلاس میں شکایت سامنے آئی کہ ان ملازمین کو ترقیوں کے عمل میں نظرانداز کرتے ہوئے ان سے جونیئر ملازمین کو ترقی دی گئی، جس پر ذیلی کمیٹی کے چیئرمین اور ارکان نے سخت تشویش کا اظہار کیا۔
چیئرمین اور ارکان نے متعلقہ حکام پر واضح کیا کہ کسی بھی ملازم کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے اور تمام ترقیاں میرٹ اور سنیارٹی کے اصولوں کے مطابق کی جائیں۔ کمیٹی نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حکام کو ہدایت کی کہ آئینِ پاکستان کے تحت تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ملازمین کے جائز حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔
ذیلی کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ شکایات سے متعلق تمام ملازمین کا مکمل ریکارڈ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے، جس میں ان کی بھرتی کی تاریخ، 2018 میں ریگولرائزیشن کی تفصیلات، سنیارٹی، ترقیوں کا ریکارڈ اور یہ وضاحت بھی شامل ہو کہ متعلقہ ملازمین ترقی کے عمل میں کیوں نظرانداز ہوئے۔ کمیٹی نے کہا کہ ریکارڈ کی مکمل جانچ کے بعد ہی معاملے کے حقائق سامنے آسکیں گے۔
اجلاس کے اختتام پر چیئرمین ذیلی کمیٹی عبدالسلام آفریدی نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حکام کو ہدایت کی کہ مطلوبہ ریکارڈ آئندہ اجلاس میں لازماً پیش کیا جائے تاکہ ذیلی کمیٹی معاملے کی تہہ تک پہنچ کر حقائق کی روشنی میں ایک منصفانہ اور جامع رپورٹ مرتب کرکے صوبائی اسمبلی کو پیش کر سکے۔

مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے ‘گڈ گورننس روڈ میپ’ کی روشنی میں ٹریژری آفس پشاور کا سرپرائز دورہ

مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے ‘گڈ گورننس روڈ میپ’ کی روشنی میں ٹریژری آفس پشاور کا سرپرائز دورہ کیا، جس کے دوران سپیشل سیکرٹری فنانس زبیر احمد، کنسلٹنٹ وقاص پراچہ اور سیکشن آفیسر ذیشان خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ٹریژری آفیسر ڈائریکٹر ڈاکٹر یعقوب احمد نے مشیر خزانہ کو دفتر کی ٹریژری سرگرمیوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ دورے کے دوران انہوں نے تمام شعبوں کا معائنہ کیا اور عوام کو بہترین خدمات کی فراہمی، ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو فروغ دینے اور نظام میں مکمل شفافیت یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس اور عوام کی شکایات کے فوری ازالے (کمپلینٹ ریڈریسل سسٹم) کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

Deputy Speaker Suriya Bibi Reviews Establishment of Pakhtunkhwa Radio in Upper Chitral, Directs Swift Implementation

Deputy Speaker of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly, Suriya Bibi, has said that the establishment of Pakhtunkhwa Radio in Upper Chitral will play a vital role in providing timely information, awareness and entertainment programmes to the local population, while further strengthening the link between the government and the people.

Chairing a review meeting with officials of the Information and Public Relations Department at the Deputy Speaker’s Chamber on Wednesday, she directed the department to swiftly complete all necessary procedures — including the setting up of a transmission tower and studio — and move the project into its implementation phase, so that the people of Upper Chitral could benefit from this important facility at the earliest. Those present included Director General Information and Public Relations Ansar Khilji, Deputy Directors Nizamuddin, and Zar Wali, Senior Planning Officer Hizbullah, and others.

Briefing the meeting on the project’s progress, Director General Ansar Khilji said a technical team from the department had visited Upper Chitral and completed a detailed technical survey of various government sites and buildings, assessing requirements for the radio studio, transmission tower, availability of electricity, accessibility and other technical needs. He said a suitable site for the FM radio station had already been selected in Booni, the headquarters of Upper Chitral, and that relevant sections had been directed to expedite the project’s subsequent phases.

Khilji further informed the meeting that a limited amount of funds is available under the project, while a summary seeking additional funds had been moved to the concerned quarters. He noted that the transmitters for the radio station were to be imported, which would take some time, and that renovation, tendering for hiring, and procurement would also require time — but assured the Deputy Speaker that the department would leave no stone unturned to complete the project in the shortest possible time.

Deputy Speaker Suriya Bibi appreciated the department’s efforts and expressed hope that the process would be expedited. She said that in a remote and geographically difficult area like Upper Chitral, FM radio would prove to be an effective means of public communication. Besides delivering timely information on natural disasters, floods, weather, health, education and other public matters, the platform would help highlight the local language, culture, traditions and talent of the region, give voice to local issues and public concerns, and create new educational, informative and creative opportunities for the youth.

She observed that while nature has blessed Chitral with immense beauty, its people still have a long way to go to be at par with the rest of the country, describing Upper Chitral as among the most backward districts, where residents have very limited access to basic amenities. “This radio station is very crucial for the area and the masses, and I want this project completed as soon as possible,” she said.

Suriya Bibi added that ending the underdevelopment of Upper Chitral and providing modern communication and public facilities remain among her top priorities, and that the establishment of the FM radio station is an important step in that direction. She vowed to bring more and more development schemes for the uplift of Upper Chitral, an area she said has long been neglected.

Korean Delegation Visits GTVC Dargai and GATTC Malakand, Progress Towards Providing Employment Opportunities in South Korea to Youth

A delegation of the Korea Overseas Employment Corporation (OEC) visited the Government Technical Vocational Centre (GTVC) Dargai and the Government Advanced Technical Training Centre (GATTC) Malakand.

The purpose of the visit was to conduct a practical and detailed assessment of the training facilities, workshops, modern equipment, machinery, and particularly the trained individuals and trainees in the field of welding at both institutions.

Under the programme, selected skilled individuals will be provided with modern, internationally standard training in relevant technical fields, including welding, along with Korean language education, so that they can benefit from better employment opportunities in South Korea in the future.

The delegation thoroughly inspected the various workshops, training facilities, machinery, equipment, and other technical infrastructure at both institutions and reviewed the training standards, available facilities, and measures being taken to equip youth with modern technical skills.

After the necessary stages and formal procedures are completed, the programme will be launched at GTVC Dargai and GATTC Malakand.

This initiative is an important and positive step towards providing the youth of Khyber Pakhtunkhwa with internationally standard technical and professional skills, Korean language education, and dignified employment opportunities.

ڈپٹی کمشنر سوات سلیم جان مروت کی زیر صدارت ضلع میں جاری ترقیاتی سکیموں پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس

0

ڈپٹی کمشنر سوات سلیم جان مروت کی زیر صدارت ضلع سوات میں جاری ترقیاتی سکیموں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس اینڈ پلاننگ) سوات سید نعمان علی شاہ، ڈسٹرکٹ پلاننگ آفیسر سوات خورشید علی سمیت محکمہ مواصلات و تعمیرات، محکمہ بلدیات، تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن بابوزئی اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس اینڈ پلاننگ) سوات نے ضلع میں جاری مختلف ترقیاتی سکیموں، ان پر ہونے والی پیش رفت اور موجودہ صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر سوات نے مختلف منصوبوں کی پیش رفت کا سکیم وار جائزہ لیا اور متعلقہ محکموں سے جاری کام، تکمیل کی مدت اور درپیش مسائل کے بارے میں تفصیلات حاصل کیں۔ڈپٹی کمشنر سوات نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی کاموں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور متعلقہ افسران منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کرتے ہوئے موقع پر کام کے معیار اور پیش رفت کا جائزہ لیں۔

یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات مقامی زرعی ضروریات کے مطابق تحقیق پر توجہ دے، مشیر زراعت

مشیر زراعت و پرو چانسلر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات میاں محمد عمر کی زیر صدارت یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات کا پانچواں سینٹ اجلاس منعقد ہوا، جس میں یونیورسٹی کے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان، وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات ڈاکٹر داؤد جان سمیت سینٹ کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ سینٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مشیر زراعت و پرو چانسلر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات میاں محمد عمر نے کہا کہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات پہاڑی زراعت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں زرعی شعبے کی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن سے استفادہ کرنے کے لیے جدید زرعی تحقیق، ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقہ ہائے کاشت کو فروغ دینا ضروری ہے۔سینٹ اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے لیے 501 ملین روپے سے زائد کا بجٹ پیش کیا گیا، جس پر سینٹ اراکین نے تفصیلی غور و خوض کیا۔ بجٹ کے مختلف پہلوؤں اور یونیورسٹی کی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد اسے منظور کرلیا گیا۔سینٹ اجلاس میں مالی سال 2025-26 کے اخراجات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور یونیورسٹی کے مالی امور، اخراجات اور وسائل کے استعمال سے متعلق مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔اجلاس کے دوران یونیورسٹی کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس کا جائزہ لیتے ہوئے مالی شفافیت اور انتظامی امور سے متعلق مختلف نکات پر غور کیا گیا۔ سینٹ اجلاس میں یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2024-25 بھی سینٹ کے سامنے پیش کی گئی، جس میں یونیورسٹی کی تعلیمی، تحقیقی سرگرمیوں اور کارکردگی کی تفصیلات شامل تھیں۔میاں محمد عمر نے اجلاس میں مزید کہا کہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات کو پہاڑی علاقوں کی زرعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیق پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ مقامی کسانوں کو جدید زرعی طریقوں، بہتر بیجوں، موسمی حالات سے مطابقت رکھنے والی فصلوں اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی جامعات اور تحقیقی ادارے صوبے میں زرعی پیداوار بڑھانے، کسانوں کی آمدن میں اضافے اور زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومت خیبر پختونخوا زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے درمیان مؤثر روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔