Home Blog Page 35

An Act will be introduced to prevent marriages of children under 18; effective implementation will be ensured through legislation: Tufail Anjum

Special Assistant to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa for Population Welfare Tufail Anjum has said that the provincial government is going to introduce an Act to prevent marriages of children under the age of 18, while the necessary legislation will also be enacted to ensure its effective implementation. Child marriage is an important social issue, and the government is taking effective measures to address it with the cooperation of all relevant institutions. He expressed these views while chairing a meeting organized by UNFPA in Peshawar on Tuesday.
Secretary Population Welfare Department Aneela Mahfooz Durrani, Director General Population Welfare Abdullah, Director Planning Imran Shah, Director Administration Salman, UNFPA National Programme Specialist Dr. Jameel Ahmad Chaudhry, and Provincial Programme Coordinator Maha Jabeen Qazi attended the meeting.
UNFPA officials briefed the meeting on ongoing activities in the health and population welfare sectors in the province and the organization’s support in these areas. The meeting was informed that UNFPA is currently spending Rs. 65 million on health and population welfare initiatives, while it is also providing technical assistance to the Population Welfare Department as well as support to address important social issues such as child marriages.
Tufail Anjum said that the government is taking comprehensive measures to ensure balanced population growth, protect the health of mothers and children, and raise public awareness. He said that, alongside legislation to prevent child marriages, creating awareness in society is also extremely important.
Appreciating UNFPA’s cooperation, he said that joint efforts by the government and international organizations would further strengthen ongoing initiatives in the fields of population welfare, health, and social protection. He directed the relevant authorities to accelerate the process of proposed legislation for preventing child marriages and take all necessary measures in this regard.

خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم نے کہا ہے کہ موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ مؤثر قانون سازی صوبائی حکومت کی اہم ترجیح ہے

خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم نے کہا ہے کہ موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ مؤثر قانون سازی صوبائی حکومت کی اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوانین میں ترامیم کرتے وقت عوامی مفاد، عدالتی تقاضوں اور عملی مشکلات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز پشاور کابینہ کی قانون ساز کمیٹی (CCL) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون انسانی حقوق و پارلیمانی امور، محکمہ داخلہ، محکمہ بورڈ آف ریونیو، محکمہ قانون و دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے ایجنڈے میں ضابطہ فوجداری (Code of Criminal Procedure—CrPC) میں مجوزہ ترامیم اور خیبر پختونخوا انفورسمنٹ آف ویمنز پراپرٹی رائٹس ایکٹ، 2019 سے متعلق امور شامل تھے۔اجلاس میں CrPC میں مجوزہ ترامیم کا تقابلی بیان (Comparative Statement) کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔ کمیٹی نے مجوزہ ترامیم اور موجودہ قانونی دفعات کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے مختلف شقوں کے قانونی و عملی پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا۔کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ ضابطہ فوجداری میں مجوزہ ترامیم موجودہ عدالتی اور انتظامی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونی چاہئیں تاکہ فوجداری نظامِ انصاف کو مزید مؤثر، شفاف اور تیز رفتار بنایا جا سکے۔اجلاس میں خیبر پختونخوا انفورسمنٹ آف ویمنز پراپرٹی رائٹس ایکٹ، 2019 کے مؤثر نفاذ سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ خواتین کے ملکیتی اور وراثتی حقوق کے تحفظ اور انہیں ان کے جائز حقوق کی فراہمی کے حوالے سے قانونی و انتظامی پہلوؤں پر غور کیا گیا۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مجوزہ ترامیم کا جامع قانونی جائزہ یقینی بنایا جائے اور ایسے اقدامات تجویز کیے جائیں جو نظامِ انصاف کو مزید مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہوں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر توانائی و برقیات نزیر احمد عباسی کی زیر صدارت گورنمنٹ انسٹیٹیوٹ آف پٹرولیم ٹیکنالوجی (IPT) کرک کے منصوبے کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر توانائی و برقیات نزیر احمد عباسی کی زیر صدارت گورنمنٹ انسٹیٹیوٹ آف پٹرولیم ٹیکنالوجی (IPT) کرک کے منصوبے کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری محکمہ توانائی و برقیات،ایڈیشنل سیکرٹری توانائی اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ مذکورہ منصوبے کی عمارت کی تعمیر میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ یہ کم وقت اور لاگت کے ساتھ مکمل ہو اور اس میں جلد از جلد کلاسوں کا اجراء ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے ملک میں بہت زیادہ ماسٹر ڈگری کے حامل طلباء و طالبات بے روز گار ہیں جو سر کاری اداروں میں نوکریاں تلاش کر رہے ہیں۔ ان کے لئے ہنر مندی اور روزگار کے موقع پیدا کرنے کی فوری ضرورت ہے اور صوبائی حکومت اس حوالے سے بھر پور اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ ہنر مندی کی جانب بھی بھر پور توجہ دیں کیونکہ موجودہ زمانے میں جدید مہارتوں کا حصول ضروری ہو گیا ہے۔ اجلاس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر آئی پی ٹی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ادارہ 2022ء میں جی پی آئی کرک کی عمارت میں محکمہ صنعت کے تحت قائم کیا گیا۔جس کے لئے ڈی اے ای ٹیکنالوجیز کے نصاب University of Engineering and Technology, Peshawar کے ذریعے تیار کیے گئے۔ادارے کو 3 سالہ ڈی اے ای ڈرلنگ اور ڈرلنگ فلوئڈز کے لیے بورڈ آف ٹیکنیکل اینڈ کمپری ہینسو ایجوکیشن (BT&CE) پشاور سے منسلک کیا گیا۔اس میں HSE، سروے اور ڈرلنگ کے مختصر دورانیے کے کورسز ٹریڈ ٹیسٹنگ بورڈ (TTB) اور NAVTTC سے منسلک ہیں۔3 سالہ ڈی اے ای کی کلاسز 2022ء سے جاری ہیں۔ہر سال 40 طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ہے، جن میں 20 نشستیں دیگر صوبوں کے طلبہ کے لیے مختص ہیں۔ طلبہ کوریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کے تعاون سے BLS (Basic Life Support) تربیت بھی کروائی گئی ہے۔43 طلبہ نے وزیرِاعظم کے یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت تربیت حاصل کی ہے۔بعد ازاں صوبائی وزیر نے پوزیشن ہولڈر طلباء میں سکالرز شپ کے چیک بھی تقسیم کئے۔

صوبائی وزیر فضل شکورخان کی زیرصدارت سوات اور بر سوات میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے امور کی تقسیم سے متعلق اہم اجلاس کا انعقاد

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی سوات اور بر سوات کے درمیان محکمہ جاتی امور، سب ڈویژنز، دفاتر اور عملے کی تقسیم سے متعلق ایک اہم اجلاس منگل کے روز محکمہ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ مسعود یونس، چیف انجینئرز، ڈائریکٹر ٹیکنیکل اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع سوات کی انتظامی تقسیم کے تناظر میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے امور کی ازسرِنو تقسیم اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ایس ایم بی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کی روشنی میں سوات اور بر سوات میں شامل تحصیلوں اور یونین کونسلوں کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے دفاتر، سب ڈویژنز، ایس ڈی اوز اور دیگر عملے کی تعیناتی و تقسیم سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں سوات اور بر سوات میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے انتظامی و تکنیکی امور کو مؤثر انداز میں چلانے، عوام کو پینے کے صاف پانی اور دیگر پی ایچ ای سہولیات کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لیے مختلف تجاویز بھی زیرِ غور آئیں۔صوبائی وزیر فضل شکور خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سوات اور بر سوات میں محکمہ جاتی امور کی مؤثر انجام دہی کے لیے انتظامی معاملات کو جلد حتمی شکل دی جائے اور اس سلسلے میں ضروری اعلامیہ جلد از جلد جاری کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ انتظامی تقسیم کے نتیجے میں عوام کو محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ متعلقہ افسران سوات اور بر سوات کے عوام کو صاف پینے کے پانی سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائیں۔صوبائی وزیر نے مزید ہدایت کی کہ نئے انتظامی سیٹ اپ میں دفاتر، افسران اور عملے کی مناسب تقسیم اس انداز میں کی جائے کہ دونوں اضلاع میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی کارکردگی اور عوامی خدمات کا تسلسل برقرار رہے۔

خاتون محتسب خیبر پختونخوا آفس کی پہلی سالانہ رپورٹ جاری، ایک سال میں خواتین کو 4.1 ارب روپے مالیت کی جائیداد دلوا دی گئی

رُباب مہدی، خاتون محتسب خیبر پختونخوا نے اپنے ادارے کی پہلی سالانہ کارکردگی رپورٹ کا اجراء کر دیا ہے، جس کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران صوبہ بھر میں خواتین کو 4 ارب 10 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد دلوائی گئی، جبکہ 20 ہزار سے زائد سماعتیں بھی کی جا چکی ہیں۔اس حوالے سے خاتون محتسب نے منگل کے روز پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ان کا ادارہ آئین کے تحت قائم کیا گیا تاکہ سماج کے پسے ہوئے طبقات، خصوصاً خواتین، جو روایتی عدالتی نظام کے طویل مراحل اور اخراجات برداشت نہیں کر سکتیں، انہیں فوری اور سستا انصاف میسر آ سکے۔ خاتون محتسب کے مطابق ادارے کے دائرہ اختیار میں دو اہم قوانین ‘پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف وومن ایٹ ورک پلیس ایکٹ 2010” اور ”خیبر پختونخوا انفورسمنٹ آف وومنز پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2019” شامل ہیں۔ ہراسمنٹ کے مقدمات میں محتسب کو ہائی کورٹ جبکہ جائیداد کے حقوق کے مقدمات میں ڈسٹرکٹ کورٹ کے اختیارات حاصل ہیں۔خاتون محتسب نے بتایا کہ جب انہوں نے عہدے کا حلف اٹھایا تو ادارے میں 2,397 مقدمات التوا کا شکار تھے اور نئے درخواست گزاروں کو نومبر، دسمبر کی تاریخیں دی جا رہی تھیں۔ روایتی طریقہ کار کے تحت روزانہ 20 سے 25 مقدمات کی سماعت ہوتی تھی، جسے انہوں نے ناکافی قرار دیتے ہوئے روزانہ کاز لسٹ کو 80 سے 120 مقدمات تک بڑھایا۔ ان کے بقول اگرچہ اس اقدام کو ابتدا میں ناممکن قرار دیا گیا، تاہم چار ماہ کے اندر تمام زیرالتوا مقدمات نمٹا دیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اب روزانہ 15 سے 20 نئی شکایات موصول ہو رہی ہیں اور مجموعی طور پر اب تک 4 ہزار نئے مقدمات رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، جبکہ کسی بھی درخواست گزار کو 15 سے 20 دن کے اندر پیشی مل جاتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ادارے میں وکیل کی موجودگی لازمی نہیں اور کوئی بھی شہری بغیر وکیل کے اپنا مقدمہ خود پیش کر سکتا ہے۔ان کے مطابق فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ادارے نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے، جبکہ شفافیت کے لیے آفیشل ویب سائٹ کا اجراء کیا گیا اور پاکستان پوسٹل سروس کے ساتھ معاہدے کے تحت خط و کتابت کو لازمی جزو بنایاگیا تاکہ کوئی فریق مراسلہ موصول نہ ہونے کا عذر پیش نہ کر سکے۔جائیداد سے متعلق مقدمات میں، جہاں محصولاتی ریکارڈ میں سقم پایا جاتا ہے یا فیصلوں پر عملدرآمد میں رکاوٹ ہو، وہاں محتسب کی جانب سے کمیشن بھیجے جاتے ہیں۔ اب تک 226 کمیشن ترتیب دیے جا چکے ہیں جن میں سے 144 مکمل ہو چکے ہیں اور ان کے ذریعے خواتین کو ان کے گھروں کی چابیاں حوالے کی گئیں۔ادارے نے پشاور تک محدود رہنے کے بجائے صوبے کے تمام ڈویژنز — بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ہزارہ اور مالاکنڈ سمیت — میں کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا، جن میں پہلی بار خاتون محتسب، ڈویژنل کمشنر اور آر پی او بیک وقت موجود رہے تاکہ خواتین کو موقع پر ہی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق کھلی کچہریوں میں 97 فیصد شکایات کا موقع پر ہی ازالہ کیا گیا۔خاتون محتسب نے بتایا کہ ادارے نے حال ہی میں 48 جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ ویبینار منعقد کیا تاکہ ہراسمنٹ ایکٹ کے تحت انکوائری کمیٹیوں کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ ادارے کے پاس تقریباً 900 ٹیسٹیمونیئلز موجود ہیں، جو ان خواتین کی رضامندی سے ریکارڈ کیے گئے جنہیں ان کا حق مل چکا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے ایک 17 سالہ پرانے مقدمے کا حوالہ دیا جو 2009 میں دائر ہوا تھا اور جسے محتسب کے ادارے نے محض دو ماہ میں نمٹا کر متعلقہ خاتون کو ان کے گھر کی چابیاں حوالے کیں۔خاتون محتسب نے میڈیا نمائندگان سے اپیل کی کہ وہ ادارے کی کارکردگی اور مثبت پیش رفت کو بھی اجاگر کریں، کیونکہ عموماً منفی خبریں زیادہ نمایاں ہوتی ہیں جبکہ عوامی فلاح کے لیے کام کرنے والے اداروں سے متعلق آگاہی کم رہتی ہے۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت ہفتہ وار جائزہ اجلاس

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے بھر میں جاری ترقیاتی و انتظامی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے بھر میں اضلاع کی سطح پر 69 بیوٹیفکیشن اقدامات مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ روزمرہ کے اقدامات کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر موصول ہونے والی عوامی شکایات پر بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ اجلاس میں یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ پورے صوبے سے جدت پر مبنی سات اقدامات کو شارٹ لسٹ کر لیا گیا ہے جنہیں تمام ڈپٹی کمشنرز اپنے اپنے اضلاع میں نافذ کریں گے۔ ان اقدامات میں یوتھ ڈیجیٹل سکلز اور ای کامرس ٹریننگ، شفافیت کے فروغ کے لیے ڈسٹرکٹ ریکارڈ رومز کی ڈیجیٹائزیشن، “امید صحت” ٹیلی میڈیسن پروگرام، اضلاع کی سطح پر ای کامرس کے فروغ کے لیے ڈیجیٹل مارکیٹ پلیس، مسجد ہیلتھ ڈیسک، کمیونٹی فلیگ پول وارننگ سسٹم، اور متعدی بیماریوں کی روک تھام کے اقدامات شامل ہیں۔ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے بتایا گیا کہ مختلف اضلاع میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ 28 جون سے اب تک درختوں کی غیرقانونی کٹائی کے خلاف 274 آپریشنز کیے جا چکے ہیں جن کے دوران 5,743 سی ایف ٹی ٹمبر اور 35,962 کلوگرام جلانے کی لکڑی ضبط کی گئی۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ اگست کے مہینے میں کارکردگی کی بنیاد پر تمام ڈپٹی کمشنرز کی رینکنگ جاری کی جائے گی، جس کا معیار ضلعی انتظامیہ کو تفویض کردہ ٹاسکس پر عملدرآمد ہوگا۔پشاور میں جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس کو بتایا گیا کہ جنرل بس سٹینڈ کا کام مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ ناردرن سیکشن رنگ روڈ پر تعمیراتی کام تیزی سے تکمیل کے مراحل کی جانب گامزن ہے۔ کبوتر چوک انڈر پاس کا منصوبہ بھی ریکارڈ مدت میں مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں انڈر پاسز کے اطراف شجرکاری اور بیوٹیفکیشن کے کام پر بھی توجہ دی جائے گی۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام اور ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی۔

معاونِ خصوصی طارق سعید مروت کی زیرِ صدارت حساس علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت کی زیرِ صدارت محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے کانفرنس روم میں صوبے کے حساس علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔یہ اجلاس اگست وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت حساس علاقوں میں مجموعی امن و امان کی صورتحال سے متعلق ہونے والےاجلاس کی تیاری کے سلسلے میں منعقد کیا گیا، اجلاس میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سینئر پولیس افسران، متعلقہ ایڈیشنل انسپکٹرز جنرل پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) اور اسپیشل برانچ کے نمائندگان نے شرکت کی، جبکہ آر پی او مالاکنڈ، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو صوبے بھر میں موجودہ امن و امان کی صورتحال، بالخصوص مالاکنڈ ڈویژن، نئے ضم اضلاع اور جنوبی اضلاع میں سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس دوران مجموعی سیکیورٹی پلان، درپیش چیلنجز، پولیس کی تیاری، آپریشنل ضروریات اور سیکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔بریفنگ کے دوران آر پی او مالاکنڈ نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ علاقے میں دہشت گرد عناصر کے خلاف مشترکہ آپریشنز جاری ہیں، جن کا مقصد دہشت گرد عناصر کا خاتمہ اور علاقے میں امن و سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے طارق سعید مروت نے کہا کہ موجودہ سیکیورٹی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے پولیس، متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی اور مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ انٹیلی جنس بیسڈ اقدامات، بین الادارہ جاتی رابطہ کاری اور پیشگی سیکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔معاونِ خصوصی نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ، امن و امان کا قیام اور شہریوں کو محفوظ ماحول کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو مکمل چوکس رہنے اور سیکیورٹی خطرات کے خلاف بروقت اور مربوط اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔طارق سعید مروت نے حساس اور کمزور علاقوں کے لیے جامع سیکیورٹی پلانز کی تیاری اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال پر بھی زور دیا تاکہ عوامی تحفظ کو مزید یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف اقدامات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعدادِ کار میں اضافے اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی، تاکہ خیبرپختونخوا میں پائیدار امن، استحکام اور عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

ضم شدہ اضلاع کے محکمہ سماجی بہبود کے افسران کی ملک لیاقت علی خان سے ملاقات

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، زکوٰۃ و عشر، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان سے ضم شدہ اضلاع کے ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں ضم شدہ اضلاع میں سماجی بہبود، فلاحی سرگرمیوں، عوامی سہولیات کی فراہمی اور ڈیٹا کلیکشن کمپین 2026ء کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ملاقات کے دوران ضم شدہ اضلاع میں جاری فلاحی پروگرامز، مستحق افراد کی معاونت اور محکمہ سماجی بہبود کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا، جبکہ عوامی فلاح کے منصوبوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ڈیٹا کلیکشن کمپین 2026ء کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں جامع اور منظم ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ملک لیاقت علی خان نے ہدایت کی کہ تمام اضلاع میں مقامی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات کرکے ان کے تعاون سے خصوصی کمیٹیاں اور فیلڈ ٹیمیں تشکیل دی جائیں اور گھر گھر جا کر ڈیٹا اکٹھا کیا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ ڈیٹا کلیکشن کا عمل محکمہ کے منظور شدہ پروفارما کے مطابق مکمل کیا جائے، تاکہ خصوصی افراد، خواجہ سرا افراد، یتیم بچوں، مستحق خاندانوں، خواتین اور دیگر محروم طبقات کا درست اور جامع ڈیٹا مرتب کیا جا سکے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ جمع کیے جانے والے کوائف کی درستگی اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور تمام اضلاع میں فیلڈ سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کا مضبوط نظام قائم کیا جائے۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ مستند اور جامع ڈیٹا کی بنیاد پر مستقبل کے فلاحی پروگرامز اور معاونتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور حکومتی سہولیات حقیقی مستحقین تک شفاف انداز میں پہنچائی جائیں گی۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع کے عوام کو سماجی تحفظ اور فلاحی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے متعلقہ افسران فیلڈ میں اپنی موجودگی مزید مؤثر بنائیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں۔ملاقات میں ضم شدہ اضلاع میں محکمہ سماجی بہبود کی کارکردگی، آئندہ کے لائحہ عمل، فلاحی اقدامات کی مؤثر نگرانی اور ڈیٹا کلیکشن کمپین 2026ء کی کامیاب تکمیل کے حوالے سے بھی اہم امور زیرِ بحث آئے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زراعت کا اجلاس، تمباکو کاشتکاروں کے مسائل کے حل کے لیے قانونی کمیٹی جلد تشکیل دینے کی ہدایت

خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زراعت کا اجلاس پیر کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں کمیٹی کے چیئرمین و رکن صوبائی اسمبلی عبدالکریم تور ڈھیر کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر محنت فیصل خان ترکئی،ممبران خصوصی کمیٹی اور اراکین صوبائی اسمبلی احتشام علی، منیر حسین لغمانی، عبدالمنیم جبکہ ارباب محمد عثمان خان بذریعے زوم اجلاس میں شریک ہوئے ان کے علاوہ
محکمہ خزانہ، محکمہ قانون، محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن، پاکستان ٹوبیکو بورڈ، سابق ارکان پاکستان ٹوبیکو بورڈ اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں سابقہ اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں تمباکو کاشتکاروں کو درپیش مسائل کے قانونی جائزے اور قابلِ عمل سفارشات مرتب کرنے کے لیے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن کے زیرِ نگرانی لیگل کمیٹی کی تشکیل کا معاملہ زیرِ غور آیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری ایکسائز نے کمیٹی کو بتایا کہ لیگل کمیٹی کی تشکیل کے لیے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو سمری ارسال کر دی ہے اور منظوری کے بعد کمیٹی کو باقاعدہ نوٹیفائی کر دیا جائے گا۔ جس کے بعد یہ کمیٹی اپنے سفارشات مرتب کرے گی چیئرمین کمیٹی عبدالکریم تور ڈھیر نے تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ قانونی کمیٹی کی تشکیل کا عمل فوری طور پر مکمل کیا جائے، کیونکہ بروقت فیصلے نہ ہونے سے تمباکو کاشتکاروں کی سال بھر کی محنت، پیداواری لاگت اور آمدن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی ارباب محمد عثمان خان نے بذریعہ زوم اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ تمباکو کاشتکاروں کا بنیادی مسئلہ قیمت اور خریداری کا ہے۔ بعض کمپنیاں مقررہ مقدار سے زائد پیداوار کو ’’سرپلس‘‘ قرار دے کر کاشتکاروں سے کم نرخوں پر تمباکو خریدتی ہیں، جس کے باعث کاشتکاروں کو منافع کے بجائے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی احتشام علی نے بھی اس مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بڑی تمباکو کمپنیاں مقررہ مقدار میں خریداری کے بعد باقی پیداوار کو سرپلس قرار دیتی ہیں، جس سے کاشتکار شدید مالی مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے پاکستان ٹوبیکو بورڈ کو ہدایت کی کہ تمام تمباکو خریدنے والی کمپنیوں کو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں پر کاشتکاروں سے تمباکو کی خریداری یقینی بنانے کا پابند کیا جائے اور کاشتکاروں کی مکمل پیداوار کی منصفانہ قیمت پر خریداری کے لیے مؤثر طریقۂ کار وضع کیا جائے۔
وزیر محنت فیصل خان ترکئی نے کہا کہ ضلع صوابی کی ایک بڑی آبادی براہِ راست یا بالواسطہ تمباکو کی کاشت سے وابستہ ہے، اس لیے کاشتکاروں کے معاشی مستقبل کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی اور جامع پالیسی ناگزیر ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی منیر حسین لغمانی نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹیز سے متعلق بعض اختیارات صوبائی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں، لہٰذا صوبے کے تمباکو کاشتکاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط اور مؤثر اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ سیکرٹری پاکستان ٹوبیکو بورڈ نے گزشتہ سال مختلف کمپنیوں کی جانب سے خریدے گئے تمباکو کا ڈیٹا بھی کمیٹی کے سامنے پیش کیا اور بتایا کہ کمپنیوں کو کاشتکاروں سے حکومت کی مقرر کردہ قیمتوں کے مطابق تمباکو خریدنے کا پابند کیا گیا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر چیئرمین خصوصی کمیٹی عبدالکریم تور ڈھیر نے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن کے حکام کو ہدایت کی کہ لیگل کمیٹی کی تشکیل کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے اور آئندہ اجلاس میں کمیٹی اپنی حتمی سفارشات خصوصی کمیٹی کے سامنے پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ حتمی سفارشات کی روشنی میں خصوصی کمیٹی اپنی رپورٹ مرتب کرکے صوبائی اسمبلی میں پیش کرے گی، تاکہ تمباکو کاشتکاروں کے مسائل کے مستقل اور مؤثر حل کے لیے ضروری قانونی و انتظامی اقدامات کیے جا سکیں۔ اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ کاشتکاروں کو منصفانہ نرخ، پیداوار کی مکمل خریداری اور پائیدار معاشی تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور مؤثر نگرانی کے ذریعے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ واضح رہے کہ خیبر پختونخوا ملک کی مجموعی تمباکو پیداوار کا تقریباً 90 فیصد فراہم کرتا ہے، جبکہ صوابی، مردان، چارسدہ، سوات، بونیر اور مانسہرہ تمباکو کی پیداوار کے اہم مراکز ہیں۔

اپر چترال میں ڈیری ڈویلپمنٹ، لائیو سٹاک اور فشریز کے شعبوں میں موجود وسیع امکانات کو بروئے کار لا کر نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے بلکہ غریب اور محنت کش عوام کے لیے روزگار اور خوشحالی کے نئے دروازے بھی کھولے جا سکتے ہیں

ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی محترمہ ثریا بی بی کی زیرِ صدارت صوبائی اسمبلی کے کانفرنس روم میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مالی سال 2026-27 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے تحت ضلع اپر چترال کے لیے ترقیاتی منصوبوں میں حصہ مختص کرنے اور مختلف شعبوں سے متعلق جاری و مجوزہ منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ اور فشریز ڈیپارٹمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری لائیوسٹاک، ڈائریکٹر جنرل لائیوسٹاک، ڈپٹی کمشنر اپر چترال، ڈائریکٹر فشریز، ریجنل ڈائریکٹر لائیوسٹاک اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز چترال سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کسان دوست کارڈ کے اجراء کے لیے کسانوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل جاری ہے، جس کی تکمیل کے بعد منصوبے پر عملی کام شروع کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد کسانوں کو سہولیات اور حکومتی معاونت کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
اجلاس میں احساس بے زبان، صحت گاڑی سکیم کے تحت اپر چترال کے لیے فوری طور پر گاڑیاں فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ ڈپٹی سپیکر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اپر چترال میں لائیوسٹاک کے شعبے میں سٹاف کی کمی کو جلد از جلد پورا کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اسی طرح اپر چترال میں سیمی انوائرمنٹلی کنٹرولڈ پولٹری فارمنگ کو ویٹرنری طلبہ تک توسیع دینے کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا، جس کا مقصد طلبہ کو جدید پولٹری فارمنگ کے عملی تجربات اور تربیت کے مواقع فراہم کرنا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ لائیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بائیو گیس منصوبے پر بھی کام جاری ہے، جس کے تحت اپر چترال میں مجموعی طور پر 9 بائیو گیس پلانٹس نصب کیے جائیں گے۔مزید برآں، اپر چترال میں سانین بکری کی جینیاتی بہتری کے لیے جدید تولیدی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کا مقصد مقامی سطح پر بکریوں کی افزائش اور دودھ کی پیداوار میں بہتری لانا ہے۔
فشریز کے شعبے میں اپر چترال میں ٹراؤٹ فش فارمنگ کے فروغ کے لیے کنزرویٹیو ہٹس کی تعمیر اور ضروری عملے کی بھرتی پر کام شروع کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ اپر چترال میں ٹراؤٹ فارمنگ کے وسیع امکانات موجود ہیں، جنہیں بروئے کار لا کر مقامی لوگوں کے لیے روزگار اور آمدن کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی نے متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ اپر چترال کے لیے منظور شدہ اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر بلا تاخیر عملی پیش رفت یقینی بنائی جائے اور عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔