Home Blog Page 53

کالاش میرج ایکٹ کی منظوری تاریخی پیش رفت ہے، کالاش برادری کی ثقافت اور حقوق کے تحفظ کو مزید تقویت ملے گی۔ اسپیکر بابر سلیم سواتی

خیبر پختونخوا اسمبلی سے کالاش میرج ایکٹ کی منظوری پاکستان کی واحد مقامی کالاش برادری کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ اس قانون سازی کے ذریعے پہلی مرتبہ کالاش برادری کے نکاح و شادی سے متعلق باقاعدہ قانونی فریم ورک فراہم کیا گیا ہے، جو ان کی منفرد ثقافت، شناخت، خاندانی نظام اور قانونی حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔اس سلسلے میں اسپیکر چیمبر خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایک تقریب منعقد ہوئی، صدر انصاف منارٹی ونگ خیبر پختونخوا اور سابق رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ کالاش کی قیادت میں کالاش برادری کے وفد نے اسپیکر بابر سلیم سواتی سے ملاقات کی۔ وفد میں سٹیفن کینٹ کنٹری ڈائریکٹر نارویگن ایڈ، سرمد اقبال، رضوان علی اور قمر نسیم (سی ای او بلیو وینز) شامل تھے۔ چیف وہپ خیبر پختونخوا اسمبلی اکبر ایوب خان، سیکرٹری خیبر پختونخوا اسمبلی سید وقار شاہ، پرنسپل سیکرٹری ٹو اسپیکر میاں سریر اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔تقریب کے دوران وفد نے کالاش میرج ایکٹ کی منظوری پر اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اور ایوان کے تمام معزز اراکین کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر کالاش برادری کی جانب سے اسپیکر بابر سلیم سواتی کے اعزاز میں کیک بھی کاٹا گیا، جبکہ وفد نے اس تاریخی قانون سازی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسپیکر اور اسمبلی کے کردار کو سراہا۔اس موقع پر اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کہا کہ کالاش برادری پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہے۔ ان کی ثقافت، روایات، شناخت اور حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی ہمیشہ تمام برادریوں بالخصوص اقلیتی طبقات کے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
اسپیکر نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی عوامی امنگوں کے مطابق قانون سازی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور کالاش میرج ایکٹ صوبے میں ثقافتی تنوع کے احترام اور حقوق کے تحفظ کی ایک روشن مثال ہے۔وزیر زادہ نے اسپیکر بابر سلیم سواتی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی حکومت اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کالاش میرج ایکٹ کی منظوری کالاش برادری کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے ان کے خاندانی نظام، مذہبی روایات اور ثقافتی تشخص کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔وفد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کالاش میرج ایکٹ کے مؤثر نفاذ کے لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا تاکہ کالاش برادری کے حقوق اور مفادات کا عملی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

محکمہ بہبود آبادی کی خدمات کو مزید مؤثر اور عوام دوست بنایا جائے گا، طفیل انجم

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے بہبود آبادی طفیل انجم نے کہا ہے کہ حکومت صوبے بھر میں محکمہ بہبود آبادی کی خدمات کو مزید مؤثر، جدید اور عوام دوست بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ ہر شہری کو معیاری خاندانی بہبود اور تولیدی صحت کی سہولیات بروقت میسر آ سکیں۔انہوں نے یہ بات ضلع صوابی کے ضلعی دفترِ بہبود آبادی کے دورے کے موقع پر کہی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل محکمہ بہبود آبادی عبداللہ خان، ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر خالد محمود اور محکمہ کے دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
دورے کے دوران معاونِ خصوصی نے ضلعی دفتر کی مجموعی کارکردگی، جاری سرگرمیوں، سروس ڈیلیوری، اہداف اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ لی۔ انہوں نے محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے، عوام تک خدمات کی رسائی بڑھانے اور انتظامی امور میں بہتری لانے کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔طفیل انجم نے فیلڈ سٹاف سے بھی ملاقات کی اور ان کے پیشہ ورانہ مسائل سنے۔ اس موقع پر موبائل سروس یونٹ (MSU) کی گاڑیوں کی خستہ حالی کا مسئلہ اٹھایا گیا، جس پر معاونِ خصوصی نے یقین دہانی کرائی کہ فیلڈ سٹاف کو بہتر سفری سہولیات اور ضروری وسائل کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے تاکہ دور دراز علاقوں میں خدمات کی فراہمی بلا تعطل جاری رہ سکے۔اجلاس میں صوابی میں ری پروڈکٹیو ہیلتھ سروسز سینٹر (RHSC) کی بحالی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ معاونِ خصوصی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس منصوبے پر پیش رفت تیز کی جائے تاکہ عوام کو جدید اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔بعد ازاں طفیل انجم نے فیملی ویلفیئر سنٹر شاہ منصور کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا، عملے سے ملاقات کی اور مریضوں کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔معاونِ خصوصی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت محکمہ بہبود آبادی کے ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط، جدید اور فعال بنانے، فیلڈ سٹاف کے مسائل حل کرنے اور عوام کو معیاری خاندانی بہبود و تولیدی صحت کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان سے پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام آباد راولپنڈی کے وفد کی ملاقات

وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا شفیع جان پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام آباد اور راولپنڈی کے ایک وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت تنظیم کے صدر قمر یوسفزئی نے کی، جبکہ وفد میں سردار یوسفزئی، زاہد خان، رحمت محسود سمیت دیگر صحافی بھی شامل تھے۔ملاقات کے دوران وفد نے صوبائی وزیر کو اسلام آباد اور راولپنڈی میں مقیم پختون صحافیوں کی پیشہ ورانہ خدمات، فلاحی سہولیات اور انہیں درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ وفد نے صحافی برادری کی بہتری اور پیشہ ورانہ امور سے متعلق مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔اس موقع پر وزیر اطلاعات شفیع جان نے پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام آباد راولپنڈی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں اور عوام تک بروقت، درست اور مصدقہ معلومات کی فراہمی میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی فلاح و بہبود اور پیشہ ورانہ مسائل کے حل کے لیے خیبرپختونخوا حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔وزیر اطلاعات نے وفد کو اپنی تعاون کی یقین دلاتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اور میڈیا کے درمیان مثبت اور مؤثر روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا،آخر میں صحافیوں کے وفد نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو بھی سراہا

ایکسائز انٹیلیجنس بیورو کی پشاور میں بڑی کارروائی، 102 کلو گرام چرس برآمد، دو ملزمان گرفتار

محکمہ ایکسائز وٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کی جانب سے انسداد منشیات کے حوالے سے جاری کریک ڈاؤن کے سلسلے میں ایکسائز انٹیلیجنس بیورو نے پشاور میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے 102 کلو گرام چرس برآمد کرلی، جبکہ دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔صوبائی حکومت کی انسداد منشات کے حوالے سے زیروٹالرنس پالیسی اور وزیر ایکسائز سید فخرجہان کی جاری کردہ ہدایات کے سلسلے میں محکمہ ایکسائز کے تحت منشیات کے خلاف کارروائیاں تسلسل کیساتھ جاری ہیں۔محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق مذکورہ کارروائی ایکسائز انٹیلیجنس بیورو خیبرپختونخوا کے سربراہ عاکف نواز خان کی نگرانی میں خفیہ اطلاع پر کی گئی۔ کارروائی کے دوران مشتبہ گاڑی کی تلاشی کے نتیجے میں گاڑی سے 102 کلو گرام چرس برآمد ہوئی۔موقع پر موجود دو ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ برآمد شدہ منشیات قبضے میں لے کر گرفتار ملزمان کے خلاف پشاور ایکسائز پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔ محکمہ ایکسائز کے مطابق صوبے بھر میں منشیات کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور معاشرے کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

Special Assistant Iftikhar Ullah Jan, IG Prisons Rehan Gul Khattak Visit Under-Construction Jails in Swabi

Special Assistant to the Chief Minister on Prisons Khyber Pakhtunkhwa, Iftikhar Ullah Jan, along with Inspector General Prisons Rehan Gul Khattak, paid a detailed visit to the under-construction District Jail and Sub Jail in Swabi on Monday.

Senior officials of the Prisons Department, concerned officers, engineers, and representatives of the construction firms were also present during the visit.

The Special Assistant reviewed the progress of ongoing projects, construction quality, security arrangements, basic facilities, residential barracks for inmates, medical facilities, security systems, water, electricity and other essential infrastructure. He directed the authorities concerned to ensure timely completion of the projects while maintaining high construction standards and transparency.

Speaking on the occasion, Iftikhar Ullah Jan said the Khyber Pakhtunkhwa government is pursuing its vision of transforming jails into modern correctional centers where inmates will be provided a secure environment along with quality facilities for education, vocational training, health and rehabilitation.

He added that the construction of the new jail will not only reduce the burden on existing jails but also provide inmates with better facilities and more opportunities for reform and training.

IG Prisons Rehan Gul Khattak briefed the Special Assistant on the progress of the projects, stating that construction work is proceeding as per prescribed standards and government directives. He said all available resources are being utilized to ensure timely completion.

The Special Assistant reiterated that under the leadership of Chief Minister Sohail Afridi, the process of reforms in the Prisons Department will be further accelerated to make the province’s jail system modern, secure, transparent and aligned with correctional requirements.

مشیر زراعت میاں محمد عمر کی زیر صدارت کوارڈینیشن کونسل کا پہلا اجلاس، بین المحکماتی تعاون مزید مؤثر بنانے پر اتفاق

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر کی زیر صدارت محکمہ زراعت اور محکمہ آبپاشی کے درمیان باہمی تعاون، رابطہ کاری اور درپیش مسائل کے حل کے لیے قائم کوارڈینیشن کونسل کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر آبپاشی ریاض خان، سیکرٹری آبپاشی عابد وزیر، اسپیشل سیکرٹری زراعت پرویز ثبت خیل اور دونوں محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ زراعت اور محکمہ آبپاشی کے درمیان روابط کو مزید مؤثر بنانے، آبپاشی منصوبوں سے زیادہ سے زیادہ زرعی فوائد حاصل کرنے، ترقیاتی منصوبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور مختلف انتظامی و تکنیکی رکاوٹوں کے خاتمے سے متعلق اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر زراعت میاں محمد عمر نے کہا کہ رابطہ کونسل دونوں محکموں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے نہایت اہم فورم ہے، جسے مزید فعال اور مضبوط بنایا جانا چاہیے تاکہ باہمی روابط کے ذریعے مسائل کا بروقت حل ممکن بنایا جا سکے۔ زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے پانی کے وسائل کا مؤثر، منظم اور جدید استعمال ناگزیر ہے۔ مضبوط بین المحکماتی رابطہ ہی کسانوں کو بہتر سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات بروقت پہنچانے کی ضمانت بن سکتا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں محکموں کے نمائندوں پر مشتمل سب کمیٹی قائم کی جائے گی جو باہمی رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنانے، درپیش مسائل کی نشاندہی، ان کے فوری حل اور کونسل کے فیصلوں پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے باقاعدہ سفارشات مرتب کرے گی۔

خیبرپختونخوا حکومت کارکردگی کے میدان میں دیگر صوبوں سے آگے ہے،وزیر اطلاعات شفیع جان

وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا شفیع جان نے صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے 2013 سے اب تک آبپاشی کے نظام کو مضبوط بنانے، نئے ڈیموں کی تعمیر، سیلاب سے تحفظ اور آبی وسائل کے مؤثر انتظام کے لیے تاریخی اقدامات کیے ہیں۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر صوبائی حکومت ہر محکمے کی کارکردگی عوام کے سامنے پیش کر رہی ہے،وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ یہی فارم 45 کی حکومت کی خوبصورتی ہے کہ ہم خود کو عوام کے سامنے جوابدہ اور قابل احتساب سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں خیبرپختونخوا کارکردگی کے میدان میں دیگر صوبوں سے آگے ہے اور حکومت اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ہر فورم پر دیگر صوبوں کے ساتھ مناظرے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت نے ہمیشہ خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا ہے۔ گیس اور بجلی پیدا کرنے والے صوبے میں بدترین گیس اور بجلی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گیس اور دیگر مسائل پر گورنر سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں بھی گیس ، لوڈشیڈنگ اور دیگر مسائل پر بھرپور انداز میں آواز اٹھائی،صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے آٹے کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالنے کے لیے قائم ناکے اب بھی ختم نہیں کیے گئے، انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت مسلسل آئین کے آرٹیکل 151 کی خلاف ورزی کر رہی ہے جس پر وفاقی حکومت بھی مکمل طور پر خاموش ہے،اس موقع پر وزیر آبپاشی ریاض خان نے محکمہ آبپاشی کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2013 میں محکمہ آبپاشی کا سالانہ ترقیاتی بجٹ 4.08 ارب روپے تھا جو 2025 تک بڑھ کر 23.6 ارب روپے ہو گیا۔ 2013 سے 2025 کے دوران 352,216 ایکڑ نئی کمانڈ ایریا زمین آبپاشی نظام میں شامل کی گئی جبکہ 2013 سے 2026 تک 26 ڈیم مکمل کیے گئے جن کی مجموعی ذخیرہ گنجائش 176,200 ایکڑ فٹ ہے۔ مزید 16 ڈیم تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں جن کی مجموعی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 573,300 ایکڑ فٹ ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ ورسک کینال ریموڈلنگ منصوبہ تکمیل کے پہلے مرحلے میں ہے جس پر مجموعی طور پر 23 ارب روپے لاگت آئے گی۔ منصوبے میں ورسک کینال سسٹم کی تشکیل اور 5.20 کلومیٹر طویل ٹنل کی تعمیر شامل ہے، جس کے ذریعے 300 کیوسک پینے کا پانی اور 400 کیوسک آبپاشی کے لیے فراہم کیا جائے گا جبکہ اس منصوبے سے سالانہ زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ریاض خان نے کہا کہ 2013 سے 2025 کے دوران 105 کلومیٹر طویل سیلاب سے بچاؤ کے منصوبے مکمل کیے گئے جن میں دریائے کابل کے دونوں کناروں پر پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ میں 85 کلومیٹر حفاظتی پشتے تعمیر کیے گئے، جن پر 14 ارب روپے لاگت آئی۔ انہوں نے کہا کہ یہی حفاظتی منصوبے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران ان اضلاع کو بڑے نقصان سے بچانے میں مؤثر ثابت ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب میں سی آر بی سی مین کینال اور منڈا ہیڈورکس کو شدید نقصان پہنچا تھا تاہم سی آر بی سی کینال مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے اور 360,000 ایکڑ اراضی کو مسلسل آبپاشی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ منڈا ہیڈورکس میں عارضی انتظامات کے ذریعے 170,000 ایکڑ اراضی کی آبپاشی برقرار رکھی گئی ہے۔وزیر آبپاشی نے کہا کہ نیشنل واٹر پالیسی 2018 کے مطابق خیبرپختونخوا واٹر ایکٹ 2020 نافذ کیا گیا، جس کے تحت زمینی اور سطحی پانی کے تحفظ، مؤثر استعمال اور ریگولیشن کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا واٹر ریسورس ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے لیے قواعد تیار ہو چکے ہیں جبکہ محکمہ خزانہ اور کابینہ کی منظوری کے بعد اتھارٹی کو فعال کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 22 ٹیلی میٹری گیجز نصب کیے جا چکے ہیں اور ورلڈ بینک کے تعاون سے مزید 60 ٹیلی میٹری گیجز نصب کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں زیم ڈیم کی فزیبلٹی اور تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن جاری ہے، جس کی تکمیل کے بعد 145,000 ایکڑ اراضی آبپاشی نظام میں شامل ہوگی۔ لفٹ کم گریویٹی سی آر بی سی منصوبے کا 189 ارب روپے کا پی سی ون منظور ہو چکا ہے، منصوبہ 297,000 ایکڑ اراضی کو سیراب کرے گا اور آئندہ تین ماہ میں اس پر عملی کام شروع ہوگا۔ریاض خان نے کہا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک مزید 543,044 ایکڑ قابلِ کاشت اراضی کو آبپاشی نظام میں شامل کیا جائے۔ ضم شدہ اضلاع میں عالمی بینک کے تعاون سے مربوط آبی وسائل کا ماسٹر پلان تیار ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ باڑہ ڈیم کی فزیبلٹی اور تفصیلی ڈیزائن جلد مکمل کیا جائے گا، جس سے 48,000 ایکڑ اراضی سیراب ہوگی، 6 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی جبکہ پشاور کنٹونمنٹ، تحصیل باڑہ اور ملحقہ صنعتی علاقوں کو 16 کیوسک پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا۔ اسی طرح جبہ ڈیم کا تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن مکمل ہو چکا ہے، 9 ارب روپے کا پی سی ون منظور ہو چکا ہے اور منصوبے پر عملی کام جاری ہے، جس سے حیات آباد اور جمرود کو 50 کیوسک پینے کا پانی فراہم ہوگا جبکہ 450 ایکڑ اراضی بھی سیراب ہوگی۔

صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیرِ صدارت محکمہ کے جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اہم جائزہ اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے کہا ہے کہ صوبے میں نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے تمام اضلاع کو میرٹ اور ضرورت کے مطابق منصفانہ فنڈز فراہم کیے جائیں گے، جبکہ پسماندہ اور کم ترقی یافتہ علاقوں کی دیرینہ محرومیوں کے خاتمے کے لیے خصوصی ترجیح دی جائے گی تاکہ عوام کو پینے کے صاف پانی اور نکاسیٔ آب کی بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے جاری، نئے اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ٹیکنیکل سمیت محکمہ کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی وزیر کو سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP)، ایکسلریٹڈ امپلیمنٹیشن پروگرام (AIP)، تکمیل کے قریب منصوبوں، امبریلا سکیموں اور دیگر جاری و مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈائریکٹر ٹیکنیکل نے منصوبوں کی موجودہ پیش رفت، فنڈز کے اجراء، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل سے بھی آگاہ کیا۔صوبائی وزیر نے اس موقع پر ہدایت جاری کی کہ تمام جاری ترقیاتی سکیموں کے لیے ترجیحی بنیادوں پر فنڈز کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل ہوں اور عوام جلد از جلد ان سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام افسران منصوبوں کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنائیں۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ نئی سکیموں کی منصوبہ بندی میں شفافیت، میرٹ اور عوامی ضرورت کو اولین ترجیح دی جائے، جبکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے صوبے کے تمام اضلاع کو یکساں ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پسماندہ علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی اور بنیادی سہولیات کی بہتری موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایت پر صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد کا ضلع خیبر کا دورہ

خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایت پر منگل کے روز ضلع خیبر کے علاقوں باڑہ اور جمرود کا تفصیلی دورہ کیا اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے جاری و مکمل ہونے والے متعدد عوامی ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی عبدالعنی آفریدی، چیف انجینئر(سنٹر) جمشید علی خان، سپرنٹنڈنگ انجینئر سمیع اللہ کنڈی، ایکسین ریاض بنگش اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے دیگر متعلقہ افسران بھی صوبائی وزیر کے ہمراہ موجود تھے۔دورے کے دوران صوبائی وزیر نے بابِ باڑہ کی تعمیر کا افتتاح کیا جبکہ باڑہ بازار روڈ، مینار مسجد تا شیخان روڈ، مکناہ روڈ، بائی پاس روڈ، ملک سراج الدین روڈ،شلوبرقمبرخیلمین روڈ سمیت متعدد اہم شاہراہوں کے منصوبوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے جان باز کلے میٹرنٹی سنٹر کا بھی افتتاح کیا اور گورنمنٹ کالج آف نرسنگ جمرود کا تفصیلی دورہ کرکے تعمیراتی معیار اور پیش رفت کا جائزہ لیا۔شکیل احمد نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد جدید سفری، طبی اور تعلیمی سہولیات میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا قبائلی اضلاع کی ترقی، بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری اور عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔صوبائی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ تعمیراتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور رفتار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ منصوبوں کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی وسائل کا مؤثر استعمال ممکن بنایا جا سکے۔دورے کے اختتام پر متعلقہ افسران نے صوبائی وزیر کو مختلف ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، جس پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔

صحافیوں کی فلاح و بہبود، امن و امان کا قیام اور عوامی مسائل کا حل صوبائی حکومت کی ترجیحات ہیں، طارق سعید مروت

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صحافیوں کی فلاح و بہبود، امن و امان کے قیام اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہیں اور مثبت صحافت کے ذریعے عوام کو درست معلومات کی فراہمی اور ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں ڈسٹرکٹ پریس کلب لکی مروت کے نو منتخب عہدیداران اور ممبران گورننگ باڈی کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے نو منتخب کابینہ اور گورننگ باڈی کے اراکین سے ان کے عہدوں کا حلف بھی لیا۔طارق سعید مروت نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت پورے صوبے، بالخصوص ضلع لکی مروت میں پائیدار امن کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی برادری ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دیتے ہوئے مثبت حکومتی اقدامات کو عوام تک پہنچانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے، جبکہ حکومت تعمیری تنقید کو اصلاح کا ذریعہ سمجھتے ہوئے اس کا خیرمقدم کرتی ہے۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ پریس کلب لکی مروت کے نائب صدر غلام اکبر مروت نے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے پریس کلب کی مستقل عمارت کی تعمیر، صحافیوں کے لیے گرانٹ اِن ایڈ اور میڈیا کالونی کے قیام سمیت دیگر مطالبات پیش کیے۔معاونِ خصوصی طارق سعید مروت نے صحافی برادری کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے انہیں مثبت یقین دہانی کرائی کہ ان شاء اللہ جلد صوبائی وزیر اطلاعات کے ہمراہ ڈسٹرکٹ پریس کلب لکی مروت کا دورہ کیا جائے گا، جہاں صحافیوں سے تفصیلی ملاقات کے ساتھ ان کے مسائل کے حل اور فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کیا جائے گا۔انہوں نے ضلع بھر کے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں اور امن، ترقی، سماجی ہم آہنگی اور عوامی فلاح کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت صحافیوں کی پیشہ ورانہ خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کے جائز مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔