Home Blog Page 83

صوبائی وزیر برائے ریونیو اینڈ اسٹیٹ طارق محمود آریانی کی محکمہ مال کی جانب سے پہلی بریفنگ

صوبائی وزیر ریونیو طارق محمود آریانی کو محکمہ مال کی جانب سے پہلی بریفنگ دی گئی، جس میں محکمہ کی کارکردگی اور جاری امور پر تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔اس موقع پر طارق محمود آریانی نے کہا کہ ہم عوام کی خدمت اور انہیں سہولیات فراہم کرنے کے لئے یہاں موجود ہیں، نہ کہ ان کے لئے مشکلات پیدا کرنے کے لیے۔ انہوں نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دی جائے اور سائلین کے ساتھ خوش اخلاقی اور احترام سے پیش آیا جائے۔صوبائی وزیر نے کرپشن کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کرپٹ افسران اور اہلکاروں کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے شفافیت، میرٹ اور عوامی خدمت کو یقینی بنانے پر زور دیا. انہوں نے کہا کہ محکمہ مال میں تمام فیصلے میرٹ پر ہوں گے اور خقداران کو ان کے حقوق ان کی دہلیز پر فراہم کئے جائیں گے۔ محکمے میں ڈیجیٹائزیش کے عمل کو یقینی بنایا جائے گا۔ اور ڈیجیٹائزیشن کو صوبے کے تمام اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔ طارق محمود آریانی نے مزید کہا کہ محکمے میں دور جدید کے مطابق اصلاحات متعارف کئے جائیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان انتخابات میں کلین سوئپ کرے گی، شفیع جان

خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں 7 جون کو ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی یقینی ہے،عملی طور پر پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان الیکشن جیت چکی ہے،انھوں نے کہا کہ دیگر جماعتوں کے برعکس پاکستان تحریک انصاف کی انتخابی مہم میں رکاوٹیں ڈالنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ گلگت بلتستان میں عوام نے الیکشن سے پہلے عمران خان کے حق میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں عمران خان کا خوف دیگر جماعتوں پر واضح طور پر طاری ہے۔ انہوں نے عام انتخابات کی مہم کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کےصدر جنید اکبر خان کو گرفتار کر کے صوبہ بدر کیا گیا، جبکہ اسد قیصر کو روکنے کے لیے پورے ایئرپورٹ کی ٹریفک بند کر دی گئی۔ اس کے علاوہ، پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور انتظار پنجوتھہ کو بھی انتخابی مہم سے روکا گیا۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جس جماعت کے ساتھ پی ٹی آئی نے انتخابی اتحاد کیا، بدقسمتی سے اس سے انتخابی نشان تک واپس لے لیا گیا، جبکہ پی ٹی آئی کے امیدواروں کو مختلف انتخابی نشانات الاٹ کئے گئے،انہوں نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان قید میں ہونے کے باوجود دیگر جماعتوں کے اعصاب پر چھائے ہوئے ہیں۔ شفیع جان کا کہنا تھا کہ پارٹی اپنے ووٹ اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کر رہی ہے اور تمام امیدواروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہ اس بار فارم 45 کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور 8 فروری کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کیساتھ ہونے والی انتخابی دھاندلی کو دوبارہ دہرانے نہیں دیا جائے گا۔شفیع جان نے کہا کہ 8 فروری کو پاکستان تحریک انصاف سے عوامی مینڈیٹ چھینا گیا اور اسے وفاق و پنجاب میں واضح اکثریت ہونے کے باوجود فارم 47 کے زریعے حکومت بنانے کے جائز حق سے محروم کیا گیا۔ گلگت بلتستان میں بھی پاکستان تحریک انصاف کو ‘لیول پلیئنگ فیلڈ’ فراہم نہیں کی جا رہی۔شفیع جان نے کہا کہ ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان میں کلین سوئپ کرے گی اور اپنی حکومت قائم کرے گی۔ انہوں نے ملک کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فارم 47 کے جعلی حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کے باعث ملک کا ہر شعبہ تنزلی کا شکار ہے

سستی بجلی کی پیداوارصوبے کے صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے ناگزیرہے،نذیراحمدعباسی

صوبائی وزیر توانائی وبرقیات نذیراحمد عباسی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخواتوانائی کے وسائل سے مالامال صوبہ ہے ۔قدرتی وسائل کو زیادہ سے زیادہ بروئے کا رلاکرسستی بجلی کی پیداوارسے صوبے میں صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے انقلابی اقدامات اٹھاناموجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔محکمہ توانائی وبرقیات کے صوبے میں جاری پن بجلی سمیت سولرانرجی کے منصوبے آنے والے دنوں میں صوبے کی ترقی کے لئے گیم چینجرثابت ہونگے۔ صوبے میں توانائی منصوبوں کی بروقت اورمعیاری تکمیل ہمارے لئے سب سے بڑاچیلنج ہے ۔محکمے میں تمام امورمیرٹ پر نمٹائے جائیں گے جبکہ میرٹ اورشفافیت سے امورنمٹاناہم سب کے لئے ضروری ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ توانائی وبرقیات میں اپنے عہدے کا چارج لینے کے بعد محکمے کے ذیلی ادارے پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کی جانب سے دی گئی بریفنگ کے دوران کیا۔اس موقع پر سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمدسمیت پیڈوکے چیف ایگزیکٹوانجینئرانوارالحق نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیڈوکے زیرنگرانی صوبے میں سستی پن بجلی کی پیداوارکیلئے توانائی کے مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے ،پیڈو کے تحت مکمل ہونے والے پن بجلی کے منصوبوں سے اس وقت مجموعی طورپر 224میگاواٹ بجلی پیداکی جارہی ہے جن سے سالانہ اربوں روپے آمدن ہورہی ہے ۔اسی طرح 7منصوبوں جن میں300میگاواٹ بالاکوٹ مانسہرہ،157میگاواٹ مدین سوات،88میگاواٹ گبرال کالام،84میگاواٹ مٹلتان سوات،69میگاواٹ لاوی چترال،10.5میگاواٹ چپری چارخیل کرم اور6.9میگاواٹ مجاہدین پاورپراجیکٹ تورغر منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جبکہ مٹلتان سے مدین تک 40 کلو میٹر طویل 132/220 کے وی ٹرانسمشن صوبے کی اپنی لائن بچھانے کے منصوبے پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔محکمہ پیڈوکے تحت ہزاروں کی تعداد میں سکولوں،مساجد،بنیادی مراکزصحت کوشمسی توانائی پرمنتقلی کے کئی منصوبے مکمل کئے گئے ہیں جبکہ 1لاکھ 30ہزارمستحق گھرانوں کو مفت سولرسسٹم کی فراہمی کے منصوبے پر بھی عملی کام کا آغازکیا جارہاہے۔صوبائی وزیر نذیراحمد عباسی نے محکمے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے زوردیا ہے کہ عوامی مفادکے منصوبوں میں کسی بھی قسم کی تاخیرہرگزبرداشت نہیں کی جائے گی ۔انہوں نے امید کا اظہارکیاکہ توانائی کے جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کرکے محکمے کی آمدن میں مزید اضافہ کیا جائیگا۔

صوبائی وزیر برائے مواصلات و تعمیرات شکیل خان کی زیر صدارت محکمہ کا اعلی سطح اجلاس

خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر برائے مواصلات و تعمیرات شکیل خان کی زیر صدارت محکمہ مواصلات و تعمیرات کا ایک اعلیٰ سطحی تاجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نور الامین،رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب سمیت تمام چیف انجینئرز اور محکمہ کے دیگر اعلیٰ تکنیکی افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نور الامین نے صوبائی وزیر کو محکمہ کے جاری ترقیاتی منصوبوں، ترقیاتی پورٹ فولیو اور دیگر اہم انتظامی امور سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر صوبائی وزیر شکیل خان نے محکمانہ کارکردگی اور عوامی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں تمام سڑکوں کی تعمیر اور بحالی کے منصوبوں میں تعمیراتی میٹریل کی ٹیسٹنگ لازمی قرار دی جائے تاکہ معیار، پائیداری اور مقررہ تکنیکی معیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے تمام فیلڈ افسران بالخصوص سپرنٹنڈنگ انجینئرز، ایگزیکٹو انجینئرز اور سب ڈویژنل افسران کو منصوبوں کی سائٹس کا باقاعدگی سے دورہ کرنے کی ہدایت کی، جبکہ چیف انجینئرز کو ماتحت عملے کی فیلڈ وزٹس کی مؤثر نگرانی اور تصدیق یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی،صوبائی وزیر نے مزید ہدایت کی کہ روڈ ایسیٹ مینجمنٹ سسٹم (RAMS) کو ترجیحی بنیادوں پر نافذ کیا جائے اور اس حوالے سے جامع پالیسی تیار کرکے جلد از جلد صوبائی حکومت کی منظوری کے لیے پیش کی جائے۔انہوں نے محکمہ کے مختلف کیڈرز میں زیر التواء ترقیوں کے تمام کیسز فوری طور پر نمٹانے اور ملازمین کی بروقت پیشہ ورانہ ترقی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔شکیل خان نے اس موقع پر شفافیت، جوابدہی، معیاری تعمیرات اور مؤثر منصوبہ بندی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ ٹیم ورک کے جذبے کے تحت صوبے میں انفراسٹرکچر کی ترقی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں

Why Can’t the Budget Be Finalized?’ Becomes the New Political Catchphrase: KP Finance Adviser Muzzammil Aslam

Advisor to the KP Chief Minister on Finance Muzzammil Aslam, while addressing a press conference at Pakhtunkhwa House in Islamabad, said that after the phrase “Why Was I Removed?”, another expression has become widely popular: “Why Can’t the Budget Be Finalized?” He said the federal budget has been delayed because, on one hand, the federal government has failed to achieve the revenue commitments it made to the International Monetary Fund (IMF), and on the other hand, its coalition partners are unwilling to support the government on expenditure-related matters.

Muzzammil Aslam said that during a recent meeting, the federal government asked all provinces to generate an additional Rs430 billion in tax revenues. However, provinces have limited taxation authority beyond taxes on services. In response, the discussion turned to agriculture and property taxes. The federal government presented data from the country’s four major cities, showing that the highest property tax collection was in Peshawar, followed by Karachi and Lahore. He noted that several major industrial cities were not included in the data.

He said that initially Khyber Pakhtunkhwa was asked to collect Rs35 billion in additional taxes, but after the meeting the target was increased to between Rs60 billion and Rs65 billion.

Muzzammil Aslam stated that the federal government has failed badly to meet its tax collection targets and is now talking about collecting Rs13 trillion in revenues. He added that the government is already under pressure to meet next year’s targets, and as a result, the tax burden on ordinary citizens will increase further. He pointed out that salaried individuals already pay income tax on their salaries in addition to taxes on petrol, electricity, and numerous other goods and services.

The KP Finance Adviser further said that, following IMF recommendations, the government is ending the electricity subsidy for consumers using less than 200 units per month, a move that will further increase difficulties for the general public.

Muzzammil Aslam also said that due to the Iran conflict and rising global fertilizer prices, the federal government has asked provinces to provide fertilizer subsidies in the next budget. He warned that higher fertilizer costs would eventually lead to an increase in food prices.

He added that the federal government had directed provinces to procure wheat at a rate of Rs3,500 per maund. However, none of the provinces has procured even a single grain of wheat because the market price is significantly higher. He further claimed that wheat prices are highest in Peshawar due to disruptions in supplies from Punjab and the collection of large sums of money from trucks at checkpoints.

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کا صوبے کے مختلف اضلاع میں تیز آندھی اور بارشوں سےہونے والے جانی نقصان پر اظہار افسوس

خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے صوبے کے مختلف اضلاع میں تیز آندھی، بارشوں اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث پیش آنے والے افسوسناک واقعات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنےایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تیز آندھی، بارشوں کے باعث پیش آنے والے مختلف واقعات میں دو افراد جاں بحق جبکہ 31 افراد زخمی ہوئے ہیں، زخمی افراد کو ہسپتالوں میں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 سمیت تمام متعلقہ ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مکمل طور پر الرٹ ہیں،صوبائی وزیر اطلاعات نے جاں بحق افراد کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبر و جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت متاثرہ اور غمزدہ خاندانوں کے دکھ درد میں برابر کی شریک ہے اور انہیں ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔

معاونِ خصوصی برائے فنی تعلیم محمد عثمان بیٹنی کا کے پی ٹیوٹا ہیڈ آفس کا دورہ، فنی تعلیم کے فروغ پر زور

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے فنی تعلیم محمد عثمان بیٹنی نے آج کے پی ٹیوٹا ہیڈ آفس کا دورہ کیا، جہاں منیجنگ ڈائریکٹر کے پی ٹیوٹا میاں عبدالقادر شاہ نے ان کا استقبال کیا۔دورے کے دوران منیجنگ ڈائریکٹر نے معاونِ خصوصی کو ادارے کی مجموعی کارکردگی، فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ کے لیے جاری اقدامات، مختلف تربیتی پروگراموں اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر کے پی ٹیوٹا کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔معاونِ خصوصی محمد عثمان بیٹنی نے فنی تعلیم اور ہنر مندی کے فروغ کے لیے کے پی ٹیوٹا کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارتیں فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبے کو مزید مستحکم بنانے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹر میاں عبدالقادر شاہ نے معاونِ خصوصی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ کے پی ٹیوٹا صوبے میں معیاری فنی تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مزید مؤثر انداز میں جاری رکھے گا۔

آل پاکستان نیشنل جونیئر سکواش چیمپئن شپ 2026 پشاور میں شروع۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند نے باضابطہ افتتاح کر دیا

آل پاکستان نیشنل جونیئر سکواش چیمپئن شپ 2026 پشاور میں شروع۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند نے باضابطہ افتتاح کر دیا۔ڈائریکٹوریٹ آف سپورٹس خیبرپختونخوا کے زیرِ اہتمام آل پاکستان نیشنل جونیئر سکواش چیمپئن شپ 2026 کا آغاز قمر زمان سکواش کمپلیکس پشاور میں ہو گیا۔ چیمپئن شپ میں چاروں صوبوں، اسلام آباد، پاک آرمی اور پاک فضائیہ کے مجموعی طور پر 100 سے زائد میل و فیمیل کھلاڑی انڈر 15 کیٹیگری میں حصہ لے رہے ہیں۔افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند تھے۔ اس موقع پر سیکرٹری سپورٹس محمد آصف خان، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سپورٹس مس رشیدہ غزنوی، ڈپٹی ڈائریکٹر نعمت اللہ، ڈائریکٹر سپورٹس آپریشنز جمشید بلوچ، آرگنائزنگ سیکرٹری منور زمان، سیکرٹری منصور زمان، چیف کوچ شفقت اللہ سمیت صوبائی سکواش ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور کھیلوں سے وابستہ شخصیات بھی موجود تھیں۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تاج محمد خان ترند نے کہا کہ صوبائی حکومت مختلف کھیلوں کی جونیئر چیمپئن شپوں کے انعقاد کے ذریعے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور انہیں مزید نکھارنے کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیمپئن شپ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جبکہ مختلف کھیلوں کی سرگرمیوں کا باقاعدہ افتتاح وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کریں گے۔انہوں نے کہا کہ قومی سطح کی ان چیمپئن شپوں کے انعقاد کا مقصد نوجوان کھلاڑیوں کو نہ صرف مقابلوں میں شرکت کے مواقع فراہم کرنا ہے بلکہ انہیں سیکھنے اور اپنی فنی صلاحیتوں میں مزید بہتری لانے کے مواقع بھی دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کھیلوں کے فروغ اور جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ صوبے کے تمام اضلاع میں یکساں کھیلوں کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکیں۔

اس موقع پر سیکرٹری سپورٹس محمد آصف خان اور ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر نے کہا کہ آل پاکستان نیشنل جونیئر سکواش چیمپئن شپ میں چاروں صوبوں کے علاوہ اسلام آباد، پاک آرمی اور پاک فضائیہ کے کھلاڑی بھی شرکت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے کھیلوں کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے، جس کے نتیجے میں کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے ساتھ ساتھ مختلف کھیلوں کی سرگرمیوں کا تسلسل بھی برقرار رکھا گیا ہے، تاکہ صوبے کے کھلاڑی قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔

وزیر قانون خیبر پختونخوا کی زیر صدارت اہم قانونی ، پالیسی اور انتظامی امور پر غور خوض

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون ، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی حکومت قانون کی حکمرانی، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد سے متعلق تمام معاملات کو قانون اور آئین کے مطابق حل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کابینہ کی تشکیل کردہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان ، مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان غازی ، مشیر خزانہ مزمل اسلم نے زوم کے ذریعے شرکت کی جبکہ سیکرٹری محکمہ بلدیات،سیکرٹری محکمہ جنگلات و ماحولیات، ایڈووکیٹ جنرل آفس، محکمہ خزانہ، محکمہ داخلہ، محکمہ جنگلات، محکمہ ریلیف و سول ڈیفنس، محکمہ ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 2017 اور اربن ایریاز ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 2020 میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پلاٹ الاٹمنٹ پالیسی سے متعلق معاملات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ سابقہ پشاور اربن ڈویلپمنٹ بورڈ (PUDB) کی 1989 کی پالیسی کے تحت ہر ہاؤسنگ اسکیم میں ملازمین کے لیے دو فیصد کوٹہ مختص کیا گیا تھا، جس کے لیے کم از کم دو سالہ تسلی بخش سروس کی شرط رکھی گئی تھی۔ بعد ازاں 2016 میں اس شرط میں ترمیم کرتے ہوئے مدت کو ایک سال تک محدود کیا گیا، تاہم پشاور ہائی کورٹ نے مذکورہ ترمیم کو کالعدم قرار دے دیا۔ اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے معاملے کی تحقیقات اور جائزے کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالتی احکامات کی روشنی میں کمیٹی قائم کی گئی۔ کابینہ کمیٹی نے اس حوالے سے قانونی، انتظامی اور پالیسی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو قواعد و ضوابط اور عدالتی فیصلوں کے مطابق آئندہ لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ ایڈووکیٹ جنرل آفس اور متعلقہ اداروں نے عدالت عالیہ میں زیر سماعت مقدمے کے تناظر میں قانونی نکات سے آگاہ کیا۔ کمیٹی نے شہری منصوبہ بندی، گورننس اور ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے متوازن اور قابل عمل قانونی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں مختلف اہم قانونی، انتظامی اور پالیسی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے خیبر پختونخوا اور چین کلچرل سینٹر کے قیام کے لیے اراضی کی فراہمی سے متعلق تجویز پر غور کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس منصوبے سے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کو مزید فروغ ملے گا اور صوبے میں ثقافتی و تعلیمی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ کمیٹی نے متعلقہ محکموں کو قانونی و انتظامی تقاضے مکمل کرکے سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے چترال کے ارندو گول جنگلات سے غیر قانونی طور پر لکڑی کی نکاسی کی روک تھام اور اس حوالے سے مؤثر نفاذی نظام کے قیام پر بھی غور کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جنگلاتی وسائل کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں تاہم بین المحکمہ جاتی رابطے اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو جامع حکمت عملی مرتب کرنے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔سول ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کے انتظامی ڈھانچے اور اسے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے تحت مؤثر انداز میں فعال بنانے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ادارے کی استعداد کار میں اضافے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے اس کے انتظامی و مالیاتی امور کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ضروری ہے۔ کمیٹی نے اس ضمن میں جامع سفارشات تیار کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں پشاور کینٹونمنٹ بورڈ کے ساتھ بی آر ٹی منصوبے سے متعلق مالی معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے کمیٹی کو پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ باہمی مشاورت کے ذریعے زیر التوا امور کے حل کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام واجبات اور مالی معاملات کو قانونی تقاضوں اور عوامی مفاد کے مطابق جلد از جلد نمٹانے کے لیے قابل عمل لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔وزیر قانون نے اس موقع پر متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں اور سفارشات پر مقررہ مدت میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر طرز حکمرانی اور مؤثر خدمات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

پشاور میں محکمہ ایکسائز کی غیر رجسٹرڈ گاڑیوں، خودساختہ نمبر پلیٹس اور ٹوکن ٹیکس نادہندگان کے خلاف خصوصی مہم جاری

خیبرپختونخوا محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول کی جانب سے پشاور میں غیر رجسٹرڈ گاڑیوں، خودساختہ اور غیر قانونی نمبر پلیٹس اور ٹوکن ٹیکس نادہندہ گاڑیوں کے خلاف خصوصی مہم جاری ہے۔اس سلسلے میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (I) پرائیویٹ وہیکل پشاور مسعود الحق کی سربراہی میں ایکسائز ٹیم نے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد گاڑیوں کو چیک کیا۔دورانِ چیکنگ گاڑیوں کی رجسٹریشن، نمبر پلیٹس اور ٹوکن ٹیکس ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کارروائی کے دوران غیر رجسٹرڈ گاڑیوں، خودساختہ نمبر پلیٹس کے استعمال اور ٹوکن ٹیکس کی عدم ادائیگی میں ملوث گاڑیوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی جبکہ متعدد گاڑی مالکان کو موقع پر قوانین کی پاسداری اور واجبات کی بروقت ادائیگی سے متعلق آگاہی بھی فراہم کی گئی۔ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر مسعود الحق نے کہا کہ غیر رجسٹرڈ اور بغیر قانونی دستاویزات کے گاڑیوں کا استعمال نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ جرائم کی روک تھام اور گاڑیوں کی درست شناخت میں بھی مشکلات پیدا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹوکن ٹیکس قومی خزانے کا اہم ذریعہ ہے جس کی بروقت ادائیگی ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی گاڑیوں کی بروقت رجسٹریشن کروائیں، سرکاری قواعد کے مطابق منظور شدہ نمبر پلیٹس استعمال کریں اور ٹوکن ٹیکس بروقت جمع کرائیں تاکہ قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی سہولت، قانون کی عملداری اور محصولات کی وصولی کو یقینی بنانے کیلئے یہ خصوصی مہم آئندہ بھی جاری رکھی جائے گی۔