چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت گورننس امور پر ہفتہ وار ویڈیو لنک جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں عیدالاضحیٰ کے حوالے سے انتظامات اور صفائی مہم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ عیدالاضحیٰ کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں جبکہ صفائی کے انتظامات کی بنیاد پر اضلاع کی درجہ بندی کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق عیدالاضحیٰ کے دنوں میں اضلاع کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور بہترین کارکردگی دکھانے والے اضلاع کی کارکردگی کی بنیاد پر درجہ بندی کی جائے گی۔ صوبائی حکومت اس حوالے سے ضروری ہدایات پہلے ہی جاری کرچکی ہے۔اجلاس میں ناجائز تجاوزات کے خلاف جاری کارروائیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران صوبہ بھر میں 104 کنال سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی۔ اسی طرح محکمہ ایریگیشن کی جانب سے پانی کے بہاؤ کے راستوں سے تجاوزات اور رکاوٹیں ہٹانے کے ساتھ ساتھ صفائی کا عمل بھی جاری ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں خصوصی مہم کے تحت اقدامات کیے جارہے ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں طبی عملے کی کمی پوری کرنے کے لیے تقریباً 2500 طبی اہلکاروں کی کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتی کا عمل آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔ شکایات کے ازالے کے لیے سات دن کا وقت مقرر کیا گیا ہے، جس کے بعد تقرری کے احکامات جاری کیے جائیں گے۔ بھرتی کیے جانے والے عملے میں میڈیکل آفیسرز، نرسز اور ڈینٹل سرجن شامل ہوں گے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد صوبے کے دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا اور طبی عملے کی کمی کو جلد پورا کرنا ہے۔اجلاس میں محکمہ صحت کے تحت دو مراحل میں 72 ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ کمزور کارکردگی کے حامل ہسپتالوں میں خدمات کی بہتری کے لیے یہ اقدام اٹھایا جارہا ہے۔چیف سیکرٹری کو جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات کی روک تھام کے حوالے سے جاری آگاہی مہم اور حفاظتی اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے ٹمبر مافیا کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کردی ہیں اور ڈیش بورڈ کے ذریعے ان تمام امور کی مؤثر مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔حکام کے مطابق یکم سے 25 مئی تک صوبہ بھر میں 293 چھاپے مارے گئے جن کے دوران 8 ہزار مکعب فٹ غیر قانونی لکڑی اور 76 ہزار 500 کلوگرام ایندھن کی لکڑی ضبط کی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ جنگلات اور ضلعی انتظامیہ مشترکہ طور پر اس حوالے سے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
محکمہ آبپاشی خیبر پختونخوا اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے مابین شہری علاقوں کی اہم آبی گزرگاہوں میں جاری ڈریجنگ اور ڈی سلٹنگ منصوبوں کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن اور سپروژن کے حوالے سے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے گئے
محکمہ آبپاشی خیبر پختونخوا اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے مابین شہری علاقوں کی اہم آبی گزرگاہوں میں جاری ڈریجنگ اور ڈی سلٹنگ منصوبوں کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن اور سپروژن کے حوالے سے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ معاہدے کی تقریب محکمہ آبپاشی کے کمیٹی روم میں منعقد ہوئی جہاں سیکرٹری آبپاشی محمد عابد وزیر اور وائس چانسلر یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور پروفیسر ڈاکٹر محمد صادق خٹک کی موجودگی میں معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔اس موقع پر سیکرٹری آبپاشی محمد عابد وزیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبائی کابینہ کی طرف سے سمری کی منظوری کے بعد پی ڈی ڈبلیو پی فورم نے 9 اپریل 2026 کو ہونے والے اجلاس میں اہم شہری آبی گزرگاہوں کو صاف کرنے کے لیے نان اے ڈی پی(Non ADP) سکیم 4793.6 ملین روپے کی لاگت منظور کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے 18 اضلاع کے 466 پوائنٹس پر تقریباً 322 کلومیٹر اہم شہری آبی گزرگاہیں ہیں جن پر عمل درآمد کے بعد اس کی صلاحیت میں 67 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔ انہوں نے مذید کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد شہری آبی گزرگاہوں، نالوں اور نہروں میں جاری صفائی، ڈریجنگ اور ڈی سلٹنگ کے کاموں کی شفاف نگرانی، تکنیکی جانچ اور معیار کو یقینی بنانا ہے تاکہ عوامی وسائل کا مؤثر اور درست استعمال ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے ذریعے منصوبوں میں شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ شہری علاقوں میں نالوں اور آبی گزرگاہوں کی صفائی سے نکاسی آب کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی جس سے بارشوں کے دوران شہری سیلابی خطرات اور پانی جمع ہونے کے مسائل میں کمی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت شہری سیلابی خطرات کے تدارک اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
سیکرٹری آبپاشی نے کہا کہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور اور محکمہ آبپاشی کی مشترکہ ٹیمیں منصوبوں کی تکنیکی نگرانی، سپروژن اور ویلیڈیشن انجام دیں گی تاکہ تمام ترقیاتی سرگرمیاں مقررہ معیار کے مطابق مکمل ہوں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جدید تکنیکی مہارت اور تعلیمی اداروں کے اشتراک سے ترقیاتی منصوبوں کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔محمد عابد وزیر نے محکمہ آبپاشی کی جانب سے تجاوزات کے خلاف جاری کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نہروں اور آبی گزرگاہوں کے اوپر تجاوزات کے خلاف سب سے زیادہ کارروائیاں محکمہ آبپاشی نے کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بریکوٹ سے کالام تک متعدد بڑے ہوٹلوں سے محکمہ آبپاشی کی قیمتی زمینیں واگزار کرائی گئی ہیں تاکہ آبی گزرگاہوں کی قدرتی روانی بحال رکھی جا سکے اور مستقبل میں سیلابی خطرات سے بچاؤ ممکن ہو۔
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کا سوات ایکسپریس وے پر ٹریفک حادثہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس
خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے سوات ایکسپریس وے پر پیش آنے والے المناک ٹریفک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔یہاں سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس افسوسناک حادثے میں 17 قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی دلخراش اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت دکھ اور مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے، شفیع جان نے مزید کہا کہ ہسپتال میں زیر علاج پانچ زخمی افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔انھوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق افراد کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور زخمیوں کو جلد مکمل صحتیابی عطا فرمائے.
مشیر زراعت خیبرپختونخوا میاں محمد عمر کی زیر صدارت محکمہ زراعت کا اجلاس،
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے محکمہ زراعت میاں محمد عمر کی زیر صدارت محکمہ زراعت کا اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ زراعت کے مختلف ونگز کی کارکردگی، جاری اصلاحات، مستقبل کے منصوبوں اور درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان، اسپیشل سیکرٹریز، محکمہ زراعت کے مختلف ونگز کے ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مشیر زراعت میاں محمد عمر کو زراعت توسیع، زراعت ریسرچ، آن فارم واٹر مینجمنٹ ، سائل کنزرویشن سمیت محکمہ زراعت کے مختلف ونگز کے امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ محکمانہ سرگرمیوں، ترقیاتی منصوبوں اور جاری اصلاحاتی اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر زراعت میاں محمد عمر نے بیورو آف ایگریکلچر انفارمیشن کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ کسانوں کو زرعی امور، جدید کاشتکاری، موسمی تبدیلیوں، فصلوں کی دیکھ بھال اور حکومتی زرعی اقدامات سے متعلق مؤثر آگاہی فراہم کرے تاکہ زمیندار جدید زرعی معلومات سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت میں شفافیت اولین ترجیح ہے۔ تمام امور میں میرٹ، جوابدہی اور مؤثر نظام کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی کہ وہ اضلاع کے ساتھ اپنے روابط مزید بہتر بنائیں اور فیلڈ سطح پر مسائل کے حل کیلئے مربوط حکمت عملی اختیار کریں۔میاں عمر نے کہا کہ محکمہ زراعت کی بہتری اور کسانوں کی فلاح کیلئے دن رات کام کیا جائے گا موجودہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مزید بہتر نتائج حاصل کئے جائیں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زمینداروں کے مسائل، تجاویز اور شکایات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور ان کے حل کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں۔اجلاس میں زرعی شعبے کی ترقی سے متعلق مختلف اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جن میں زعفران کی کاشت کے فروغ، بائیو فرٹیلائزرز کے استعمال، کیڑے مار ادویات کے کم استعمال اور ماحول دوست زرعی طریقوں کے فروغ پر خصوصی گفتگو شامل تھی۔ اس کے علاوہ سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 کے مختلف منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔مشیر زراعت نے زرعی اراضی پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے قیام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زرعی زمینوں کا تحفظ ناگزیر ہے اور اس حوالے سے مؤثر روک تھام کے اقدامات اور پالیسی معاملات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔اجلاس میں محکمہ زراعت میں جاری اصلاحات، تبادلوں میں شفافیت، پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم، سمارٹ حاضری نظام، فارم سروسز سینٹرز، سمارٹ زرعی پالیسی پر نظرثانی اور محکمہ کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ مشیر زراعت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ زراعت کو مزید فعال، شفاف اور کسان دوست ادارہ بنایا جائے گا تاکہ صوبے میں زرعی ترقی اور کسانوں کی خوشحالی کے اہداف حاصل کئے جا سکیں۔
محکمہ ایکسائز کی بڑی کارروائی، 84 کلوگرام چرس برآمد، منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام
خیبرپختونخوا محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کی جانب سے منشیات کے خلاف جاری کریک ڈاون کے سلسلے میں ایک بڑی کارروائی کے دوران 84 کلوگرام چرس برآمد کرلی گئی۔ ایکسائز بیورو آف انٹیلیجنس اور تھانہ ایکسائز چارسدہ کی مشترکہ کارروائی میں گاڑی کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی گئی جبکہ واقعہ کا مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔اس ضمن میں محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق ایکسائز بیورو آف انٹیلیجنس کو خفیہ ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی تھی کہ منشیات اسمگلرز کی جانب سے بھاری مقدار میں چرس ایک گاڑی کے ذریعے سمگل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اطلاع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایکسائز بیورو آف انٹیلیجنس اور تھانہ ایکسائز چارسدہ کی مشترکہ ٹیم نے غنی خان روڈ بہ سمت چارسدہ انٹرچینج پر ناکہ بندی کی۔کارروائی کے دوران مشکوک گاڑی نمبر AUZ-464 اسلام آباد کی تلاشی لی گئی جس کے نتیجے میں گاڑی سے 84,000 گرام (84 کلوگرام) چرس برآمد کر لی گئی۔واقعہ کے بعد مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کیلئے مقدمہ تھانہ ایکسائز مردان ریجن میں درج کر لیا گیا ہے جبکہ ملزمان کے دیگر سہولت کاروں اور نیٹ ورک کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔محکمہ ایکسائز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور وزیر ایکسائز سید فخر جہان کے ہدایات کے تحت صوبے میں منشیات اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور معاشرے کو منشیات جیسی لعنت سے پاک بنانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
محکمہ ہاؤسنگ خیبرپختونخوا کی جانب سے عوامی شکایات اور تجاویز و آراء سے متعلق ای کھلی کچہری کا اہتمام
سیکرٹری محکمہ ہاؤسنگ خیبرپختونخوا محمود اسلم وزیر نے کہا ہے کہ گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت صوبائی حکومت کی خصوصی ہدایات کو یقینی بنا رہے ہیں، ای کھلی کچہریوں کے انعقاد سے عوام براہ راست مستفید ہورہے ہیں، سرکاری ملازمین کے رہائشی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے، محکمہ ہاؤسنگ خیبرپختونخوا اہداف کے حصول کے لئے مؤثر اقدامات اٹھا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز محکمہ ہاؤسنگ خیبرپختونخوا کی جانب سے منعقدہ ای کھلی کچہری کے موقع پر وضاحت کرتے ہوئے کہا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے علاؤہ دیگر متعلقہ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ای کھلی کچہری کے دوران موصول ہونے والے تحریری یغامات اور کالز کے ان لائن جوابات دیے گئے۔ اس موقع پر پشاور، کوہاٹ، صوابی، رسالپور، ڈی آئی خان، سوات اور مانسہرہ سے شہریوں نے شرکت کی اور اپنی شکایات و آراء سے متعلق حکام کو آگاہ کیا۔ اس دوران نیو پشاور ویلی، جلوزئی ہاؤسنگ سکیم نوشہرہ، ہاؤسنگ فاؤنڈیشن، اقلیت اور معذور افراد کے لیے خصوصی کوٹہ جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔ سیکرٹری ہاؤسنگ نے متعلقہ افسران کو عوامی شکایات کے ازالے کے لئے ہدایات جاری کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی آراء اور تجاویز کو ترجیح دی جائے گی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
Flavors of the High Mountains: Shandur’s Vibrant Market Melts Regional Barriers
By Khuram Shahzad
SHANDUR: Amidst the piercing, icy winds of the Shandur Pass, where the towering snow-capped peaks usually impose a deep and solemn silence, a different kind of energy is brewing. Far from the roaring crowds of the famous polo ground, an ordinary yet magical spectacle is unfolding at the temporary tent market setup for the annual festival. Here, life is in full swing, driven by the tantalizing aroma of local cuisine and the warmth of human connection.
The market is a sensory overload in the best way possible. The air is thick not with the dust of the rugged terrain, but with the rich, inviting fragrance of roasted meat, sizzling karahi, and fresh, piping-hot chapli kebabs. Skilled cooks can be seen rhythmically turning the flat minced-meat patties over large, shallow iron pans heated by crackling wood fires. The smoke rising from these traditional stoves seems to carry an invitation that cuts straight to the heart of every passerby.
Further down the muddy pathways of the makeshift bazaar, large copper cauldrons bubble with rich, hearty soups. Right next to them, traditional clay ovens (tandoors) are firing at full blast, with bakers deftly slapping dough against the blazing inner walls to produce fresh, steaming flatbreads.
This culinary haven has become the ultimate equalizer. Local residents and tourists from far-off places—many donning traditional colorful woolen pakol caps—can be seen sitting together around shared dining spots. In this bitter cold, the food serves a purpose far greater than just filling stomachs; it is a catalyst for sharing love, sparking conversations, and melting the initial awkwardness between strangers. Within minutes, individuals who have never met before find themselves laughing and conversing like old friends.
This bustling market represents a side of Shandur that goes beyond the competitive spirit of sports. It is a vibrant celebration of diverse flavors, spontaneous smiles, and unconditional hospitality—proving that even in the harshest climates, the warmth of togetherness always prevails.
With the Shandur Festival officially announced to take place from June 11 to June 13, 2026, by the Government of Khyber Pakhtunkhwa, this mountain festival is once again ready to welcome the world with open arms and sizzling platters.
Mark your calendars for an unforgettable journey to the world’s highest polo ground, as the Shandur Polo Festival returns from June 11–13, 2026.
By Khuram Shahzad
Often called the “Roof of the World,” Shandur Pass in northern Pakistan sits at roughly 3,700 meters (12,200 feet) and is the breathtaking home to this iconic festival. For three days, this remote plateau transforms into a vibrant campground buzzing with excitement. The main event is the traditional freestyle polo match, played without strict rules between the rival teams of Chitral and Gilgit-Baltistan—a fierce contest of pure skill and courage.
Beyond the sport, the festival is a spectacular showcase of the region’s living culture. Visitors can enjoy paragliding displays, folk music nights, and traditional dances. The Shandur Polo Festival is more than a sporting event; it’s a rare chance to experience the authentic traditions and legendary hospitality of the mountain communities up close.
So, pack your warmest clothes, bring your sense of adventure, and head to Shandur for a unique celebration at the top of the world.
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا خیبرپختونخوا میں متوقع بارشوں کے پیشِ نظر پیشگی تیاریوں سے متعلق بیان
خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی کی گئی ہے، شفیع جان
شدید بارشوں اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خدشے کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، شفیع جان
ضلعی انتظامیہ کو حساس گلیشیائی مقامات کی مسلسل نگرانی اور ارلی وارننگ سسٹم فعال رکھنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، شفیع جان
صوبائی حکومت کے تمام متعلقہ محکمے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر الرٹ ہیں، شفیع جان
پی ڈی ایم اے کی جانب سے صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جارہا ہے، شفیع جان
عوام اور سیاحوں سے حفاظتی اقدامات اپنانے کی اپیل ہے، معاون خصوصی
عوام کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کرسکتے ہیں، شفیع جان
Provincial Health Minister and Chief Secretary Jointly Reviewed Health Sector Reforms
Provincial Health Minister Khaleeq ur Rehman and Chief Secretary Shahab Ali Shah while jointly chairing a meeting on Health Department reviewed progress on key health programmes, budget utilization, and measures aimed at further strengthening the province’s healthcare system.
During the meeting, officials highlighted that the Sehat Card Plus programme continues to be one of the most successful initiatives of the provincial health system, significantly improving access to healthcare services for low-income families across the province.
To ensure the long-term sustainability of the programme, participants stressed the need to strengthen the Social Health Protection Initiative (SHPI) unit and establish stronger institutional arrangements for the effective delivery of Sehat Card services. The government is also introducing further reforms to enhance the programme’s effectiveness and outreach.
The meeting also reviewed budget releases for the health sector and decided that priority projects, particularly those included in the government’s good governance roadmap, would receive timely funding to ensure completion within stipulated deadlines.
To improve accountability and staff attendance in remote areas, the meeting was informed that a facial recognition attendance mechanism would be introduced in far-flung health facilities.
Officials further briefed the meeting that healthcare service delivery was being expanded through outsourcing, with 34 health facilities in Phase-III and 38 facilities in Phase-IV to be handed over for improved management and service quality.
To address shortages of medical staff, the government is in the process of recruiting around 2,500 healthcare workers for understaffed facilities. Medical Officers, Dental Surgeons, and Nurses are being hired on a contract basis for immediate deployment.
The Health Minister and Chief Secretary reiterated the government’s commitment to making healthcare services accessible, accountable, and sustainable for all citizens of Khyber Pakhtunkhwa and directed the department to accelerate implementation and maintain strict monitoring of ongoing initiatives.
