Home Blog Page 224

کوہاٹ میں تعلیم کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اولین ترجیح ہے، وزیر قانون خیبر پختونخوا

وزیر قانون خیبر پختونخوا آفتاب عالم ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ کوہاٹ میں ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے متعلقہ محکموں کے مابین قریبی تعاون اور مسلسل رابطہ ضروری ہے۔ یہ بات انہوں نے سول سیکرٹریٹ پشاور میں کوہاٹ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے دوران کہی۔اجلاس میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، محکمہ منصوبہ بندی و ترقی، اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران وزیر قانون کو کوہاٹ میں جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔آفتاب عالم ایڈوکیٹ نے کہا کہ کوہاٹ کے تعلیمی منصوبوں میں حائل رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا تاکہ علاقے کی محرومیوں کا خاتمہ ممکن ہو۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ستر پرائمری سکولوں کو مڈل، ستر مڈل سکولوں کو ہائی، اور ستر ہائی سکولوں کو ہائیر سیکنڈری اپ گریڈ کرنے کے منصوبے جلد از جلد مکمل کیے جائیں۔انہوں نے کوہاٹ کے تین خستہ حال سکولوں کی فوری بحالی اور علاقے کے سکولوں میں واش رومز کی عدم دستیابی کے مسئلے کے حل پر زور دیا۔ مزید برآں، وزیر قانون نے غیر ملکی امداد میں کوہاٹ کے حصے کے نہ ملنے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے اس کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان تمام منصوبوں کی تکمیل کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی اپنانا ضروری ہے تاکہ کوہاٹ کے عوام کو معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں اور علاقے کی ترقی ممکن ہو سکے۔ اجلاس کے دوران بورڈ لیول پر ڈبل شفٹ کے طلباء کی جانب سے نمایاں نتائج دینے کا تذکرہ کرتے ہوئے کوہاٹ کے گنجان سکولوں میں ڈبل شفٹ شروع کرنے کی بھی تجویز پیش کی گئی جو قابل افراد کو روزگار کی فراہمی کا بھی ذریعہ بنے گا. اجلاس میں کوہاٹ کے وہ علاقے جہاں ہائی سکول کا فاصلہ زیادہ ہے کے حل کے لئے رینٹڈ بلڈنگ کی فراہمی کی بھی تجویز پیش کی گئی۔

وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان کی زیر صدارت 220 کے وی ٹرانسمیشن لائن صوابی و نوشہرہ سے متعلق اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان کی زیر صدارت 220 کے وی ٹرانسمیشن لائن صوابی و نوشہرہ سے متعلق اجلاس سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا. ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز صوابی و نوشہرہ کے علاوہ پی ڈی پیسکو اور ایکسن پیسکو کے بشمول دیگر متعلقہ افسران بھی اجلاس شریک تھے. اجلاس میں 220 کے وی ٹرانسمیشن لائن کی موجودہ صورتحال و درکار اقدامات سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی جبکہ صوابی گدون، چھوٹا لاہور، پنج پیر، امبار، باجہ بام خیل، دھوبیا اور مصری بانڈہ کے دیہاتوں میں بجلی مسائل اور حل کے بارے میں غور و خوض کیا گیا. بریفنگ میں بتایا گیا کہ متعلقہ جاری منصوبوں پر تقریباً 80 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے. صوبائی وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے ٹیکنیکل کمیٹی اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے مابین بھرپور ہم آہنگی یقینی بنانے پر زور دیا. انہوں نے خراب ٹرانسفارمرز کی بروقت مرمت کیلئے بھی ہدایات جاری کیں. عاقب اللہ خان نے اے ڈی سی صوابی و نوشہرہ کوہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ بجلی مسائل سے متعلق خصوصی کمیٹی تشکیل کرکے رمضان اور گرمیوں سے پہلے پہلے درپیش مسائل کی نشاندہی جبکہ حل کیلئے موثر اقدامات اٹھائیں اور اس ضمن میں ہفتہ وار اجلاس بھی یقینی بنائیں. انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہیں جس میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، ماہی پروری اور کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی سے پشاورمیں

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، ماہی پروری اور کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی سے پشاورمیں ضلع بٹگرام سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی محمد نواز خان اور رکن صوبائی اسمبلی انجنیئرزبیر خان نے ملاقات کی۔ دونوں اراکین نے صوبائی وزیر کو بٹگرام کی پسماندگی کے حوالے سے تفصیل طور پر آگاہ کیا او ر وہاں کے عوام کو درپیش مسائل کے بارے میں خصوصی گفتگو کی۔ صوبائی وزیر نے دونوں اراکین کو بٹگرام کے مسائل کو حل کرنے اور وہاں کی پسماندگی کو دور کرنے کی یقین دہائی کرائی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں موجودہ صوبائی حکومت صوبے کے تمام پسماندہ علاقوں کو ترقی کی راہ پرگامزن کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ صوبے کے پسماندہ اضلاع میں ترقی کے جال بچھاکر دوسرے ترقی والے ضلعوں کے برابر سہولیات دینگے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عوامی پارٹی ہے اس لئے صوبے کے عوام نے تحریک انصاف کو صوبے میں تیسری مرتبہ بھاری مینڈیٹ سے کامیاب کرایاہم عوام کی امیدوں اور اعتماد پر پورا اتریں گے۔ عوامی مسائل کو حل کرنا ہماری حکومت کے مشن ہے اور اس مشن میں کامیابی کیلئے پی ٹی آئی حکومت تمام وسائل کو عوام کے بہتر مفاد میں بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کی پسماندگی ختم کرنے کیلئے ہر اقدم اٹھائینگے۔ عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کرینگے۔

چڑیا گھر پشاور میں سہولیات میں اضافے کا تسلسل جاری،معاون خصوصی برائے جنگلی حیات پیر مصور خان نے وائلڈ لائف میوزیم اور ایڈمنسٹریشن بلاک کا افتتاح کردیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات، جنگلی حیات، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے پشاور چڑیا گھر کا دورہ کیا جہاں انھوں نے نوتعمیر شدہ ایڈمنسٹریشن بلاک اور وائلڈ لائف میوزیم کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف محسن فاروق، ڈائریکٹر پشاور چڑیا گھر سجاد خان، چیئر مین تحصیل متھرا انعام خان اورمتعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ڈائریکٹر چڑیا گھر نے معاون خصوصی پیر مصور خان کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 16 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے وائلڈ میوزیم میں تقریباً 160 اقسام کے حنوط شدہ جانور اور پرندے رکھے گئے ہیں، جن میں 125 پر ندے جبکہ 35 اقسام کے جانور شامل ہیں، اس مقصد کے لیے تین خصوصی سیکشنز بنائی گئی ہیں جن میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے حوالے سے سیکشن بھی شامل ہے،میوزیم میں لوگوں بالخصوص بچوں کے لئے خصوصی طور پر دو ڈیجیٹل ڈسپلے بھی رکھے گئے ہیں جن پر ایک کلک سے ہر جانور اور پرندے کی آواز کے ساتھ ساتھ اس کی پوری معلومات دستیاب ہوں گی، معاون خصوصی کو بتایا گیا کہ وائلڈ لائف میوزیم کے قیام کا مقصد طلبہ اور لوگوں کو تعلیم، تحقیق اور سیرو تفریح کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر معاون خصوصی پیر مصور خان نے چڑیا گھر میں سہولیات میں مزید اضافے کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ رواں ہفتے, جمعرات تا اتوار تک عوام کے لئے چڑیا گھر میں داخلہ مفت کیا جائے، انھوں نے چڑیا گھر میں صفائی یقینی بنانے، ماحول دوست اقدامات اٹھانے، شکایت و تجاویز بکس نصب کرنے، ڈیجیٹل سکرین پر صفائی کے حوالے سے آگاہی پیغامات چلانے اور عملے اور افسران کو باقاعدہ وردی میں ڈیوٹی سر انجام دینے کی ہدایات جاری کیں۔معاون خصوصی نے چڑیا گھر میں زیر تعمیر نکاسی آب کے منصوبے کا بھی معائنہ اور چڑیا گھر آنے والے لوگوں سے بھی ملے اور ان سے چڑیا گھر میں سہولیات کے حوالے سے تفصیلات حاصل کیں۔ اس موقع پر لوگوں نے سیر وتفریح کی غرض سے چڑیا گھر میں اٹھائے گئے حکومتی اقدامات کو قابل تحسین قرار دیا۔

پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کے سامنے آنے پرجعلی حکومت اب بھاگنے کی تیاری میں ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عا مہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ عوام میں غیر مقبول حکومت پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کے سامنے آنے پر اب بھاگنے کی تیاری میں ہے،جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے انکار حکومت کے غیر منتخب اور ناجائز ہونے کی دلیل ہے۔اپنے ایک بیان میں بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ جعلی وفاقی حکومت عدلیہ، میڈیا اور اپوزیشن کا وجود ختم کرنے کے لیے نئے قانون لا رہی ہے، پارلیمنٹ کو ربڑ سٹیمپ بنا دیا گیا ہے لیکن میڈیا کے لئے کھودی گئی قبر میں غیر منتخب حکومت خود دفن ہو جائے گی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ سپیکر ایاز صادق کو اپنے غیر جمہوری کردار پر شرمندگی ضرور ہو گی۔ حکومت کے مذاکرات سے بھاگنے کامطلب اپوزیشن کو سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور کرنا ہوگا۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نالائق گورنر خیبرپختونخوا کو اسلام آباد میں گھر دے کر خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف سیاسی مورچہ بنا رہے ہیں۔ شہباز شریف پیپلز پارٹی سے سوگنڈے بھی کھا رہے ہیں اور 100 ڈنڈے بھی۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ حاجی رنگیز احمد سے ڈپٹی ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن شہاب خان کی ملاقات

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ حاجی رنگیز احمد سے ڈپٹی ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن شہاب خان نے ملاقات کی اور صوبائی حلقے تحصیل ٹوپی گدون علاقوں میں کمیونٹی سکولوں کی توسیع پر ڈپٹی ڈائریکٹر نے بریفننگ دی ہے۔ معاون خصوصی نے کہا ہے کہ گدون کے زیادہ تر علاقوں میں سرکاری سکولوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے علاقے کو تعلیم کی فراہمی میں اہم مسائل کا سامنا ہے۔ملاقات کا مقصد مقامی کمیونٹی کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حل تلاش کرنا تھا۔ اس موقع پر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ESEF) کے ذریعہ قائم کردہ گرلز کمیونٹی اسکول (GCS) کی طرح کمیونٹی اسکول، دیہی اور دور دراز علاقوں میں سکول سے باہر بچوں، خاص طور پر لڑکیوں کو تعلیم فراہم کرنے میں کامیابی حاصل کرنا ہے۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ گدون علاقے میں کمیونٹی سکولوں کی توسیع سے تعلیم تک رسائی بڑھانے، ڈراپ آؤٹ کی شرح کو کم کرنے اور خواندگی کی شرح کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ مقامی کمیونٹیز کو تعلیمی عمل میں حصہ لینے اور اساتذہ کے طور پر خواتین کے لیے روزی روٹی کے مواقع پیدا کرنے کے مواقع بھی فراہم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے گدون علاقے میں تعلیم کے مد مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔

معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان کا پشاور اور ضلع خیبر میں فارسٹ چیک پوسٹوں کا دورہ، ڈیوٹی سے غیر حاضری، فرائص میں غفلت برتنے پر سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر سمیت پانچ اہلکار معطل

سرکاری فرائض میں غفلت اور بدعنوانی ناقابل برداشت ہے، پیر مصور خان

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر معاون خصوصی برائے جنگلات، ماحولیات، جنگلی حیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے بدھ کے روز پشاور میں فارسٹ چیک پوسٹ کچہ گڑھی کا دورہ کیا جہاں پر انھوں نے عملے کی موجودگی، حاضری رجسٹر، سہولیات اور دیگر امور کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر موجود انچارج کو فرائض میں غفلت برتنے اور دو اہلکاروں کی ڈیوٹی سے غیر حاضری پر معطلی کے احکامات جاری کیئے۔ انھوں نے موقع پر ہی چیف کنزرویٹر آف فارسٹ خورشید خان کو فون کرکے سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر پشاور ستار خان کو بھی ناقص کارکردگی اور فارسٹ چیک پوسٹوں کی باقاعدگی سے مانیٹرنگ نہ کرنے پر معطلی اور انکے خلاف باقاعدہ انکوائری شروع کرنے کے احکامات جاری کئے،بعد ازاں معاون خصوصی نے ضلع خیبر میں واقع فارسٹ چیک پوسٹ تختہ بیگ کا بھی اچانک دورہ کیا، اس موقع پر انھوں نے عملے کی حاضری، اس کی کارکردگی، عائد جرمانوں کے حوالے سے بینک چالان اور دیگر ریکارڈ کا بھی معائنہ کیا۔معاون خصوصی پیر مصور خان اس موقع پر لکڑیاں لے جانے والی گاڑیوں کے ڈرائیوروں سے بھی ملے، محکمہ جنگلات کی جانب سے جاری پرمٹس چیک کئے اور ان سے چیک پوسٹ پر عملے کے رویے اور رشوت کے حوالے سے معلومات حاصل کیں، رشوت کے حوالے سے ڈرائیوروں کی شکایات پر معاون خصوصی نے رینج فارسٹ آفیسر خیبر کے معطلی کے احکامات جاری کئے، معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان نے اپنے دورے کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کی جانب سے فرائض میں غفلت اور بدعنوانی ناقابل برداشت ہے، انھوں نے ملازمین کو سختی سے ہدایات جاری کیں کہ ملازمین اپنا قبلہ درست کریں بصورت دیگر نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہیں، صوبہ بھر میں جنگلات اور جنگلی حیات کی چیک پوسٹوں اور دفاتر کے اچانک دوروں کا سلسلہ جاری رہے گا، انھوں نے افسران کو بھی تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ فارسٹ چیک پوسٹوں سے اہلکاروں کی عدم موجودگی پر متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم کا گورنمنٹ کالج اف ٹیکنالوجی پشاور میں منعقدہ فنی نمائشی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے بدھ کے روز گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی پشاور میں طلباء کی کارکردگی کے حوالے سے منعقدہ نمائشی پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی ہے۔ جہاں پر معاون خصوصی نے مختلف طلباء پوزیشن ہولڈرز میں انعامات اور تعریفی اسناد تقسیم کیں۔ معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے 29 طلباء کو اپنے ہاتھوں سے سٹوڈنٹس سکالرشپ دئیں جو کہ 20ہزار روپے فی سٹوڈنٹس سکالرشپ بنتا ہے۔ 24 طلباء کو مدرسہ سرٹیفکیٹ،پہلی 09 پوزیشن ہولڈرز کو ڈے اے ای سرٹیفکیٹس جبکہ 04 طلباء کو سپورٹس ٹرافیز دی گئیں، اسی طرح مختلف طلباء میں اچھی کارکردگی دکھانے پر تعریفی اسناد تقسیم کیں۔ اس موقع پر معاون خصوصی نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی آمین خان گنڈاپور کے وژن کے مطابق ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ سے فارغ التحصیل طلباء کو پانچ پانچ لاکھ روپے بلاسود قرضے دئیں جائیں گے جس سے وہ اپنے لئے روزگار شروع کر سکیں گے جبکہ 300 سے 500 طلباء کو ائی پیڈ گرانٹ بھی دیا جائے گا۔ اپنے خطاب میں معاون خصوصی نے کہا ہے کہ میرے لئے یہ موقع نہایت باعث فخر ہے کہ اپ لوگوں کے درمیان اس پر وقار تقریب میں شریک ہوں۔ میں ان طلباء کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی محنت اور لگن سے فنی تعلیم میں مہارت حاصل کی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ طلباء آگے جاکر فنی تعلیم میں صوبے کا نام روشن کرینگے۔ یہ دن ہم سب کے لیے فخر کا دن ہے۔ ہم یہاں گورنمنٹ کالج اف ٹیکنالوجی سٹوڈنٹس پراجیکٹ نمائش، NAVTTC مدرسہ اسٹوڈنٹس سکلز سرٹیفکیٹ ڈی اے ای پوزیشن ہولڈرز ایوارڈنگ اور باصلاحیت طلباء کو اسکالرشپ کی تقسیم کی تقریب کے لئے جمع ہوئے ہیں، تاکہ ان طلباء کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ معاون خصوصی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ میں ان تمام طلباء کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس نمائش میں اپنے innovative پراجیکٹس کی نمائش کی ہے۔NAVTTC مدارس کے طلباء کے لئے بھی یہ ایک بہت اہم دن ہے جنہوں نے کامیابی کے ساتھ اپنی تیکنیکی کورسز مکمل کئے ہیں، جبکہ یہ سب سے حوصلہ افزائی کی بات ہے کہ کالج انتظامیہ طلباء کو نہ صرف تعلیمی سرگرمیوں میں بلکہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی شامل کرتی ہے۔ اس موقع پر میں فیکلٹی ممبران کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس تیکنیکی نمائشی پروگرام کو احسن طریقے سے منعقد کیا ہے۔ اپنے خطاب میں طفیل انجم نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی آمین خان گنڈاپور کی خصوصی ہدایت ہے کہ صوبے میں فنی تعلیم کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے انہی احکامات کی روشنی میں اج اس پر وقار نمائش کا انعقاد کیا گیا ہے، ہم نے صوبے میں فنی تعلیم کو فروغ دینا ہے تاکہ ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹس سے فارغ ہونے والے نوجوان اپنے لئے خود روزگار کے مواقع شروع کر سکیں اور اپنے خاندان کے لئے معاش کا ذریعہ بن سکے۔ انہوں نے کہا ہے کہ معیاری فنی تعلیم فراہم کرنا ہماری صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ نمائش میں طلباء نے ایک پراجیکٹ کے تحت ڈرون اور جیٹ طیارے کی بھی نمائش کی ہے جس کو تقریب میں بہت پزیرائی حاصل ہوئی۔ نمائشی تقریب کے بعد معاون خصوصی نے کالج کے مختلف ٹریڈ اور کالج ہاسٹل کا بھی دورہ کیا جہاں پر انہوں نے سہولیات کا بھی جائزہ لیا ہے۔ اس موقع پر معاون خصوصی کو مختلف ٹریڈ پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن نے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ ہماری صوبائی حکومت طلباء کو فنی تعلیم فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے ہمارا وژن ہے کہ صوبہ فنی تعلیم میں جدت کی طرف گامزن ہوسکے۔ تقریب میں چیئرمین آئی ایم سی جی سی ٹی پشاور انجنئیر مقصود انور، پروفیسر انجینئر سید قاسم شاہ پرنسپل جی سی ٹی پشاور و دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر نے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم تورڈھیر نے معاشی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کو اہم قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر با اختیار بنانے کیلئے ضلعی اور صوبائی سطح پر کاروبار کے فروغ اور کاروباری خواتین کو درپیش مسائل کے ازالے کی ضرورت ہے۔ معاون خصوصی نے اضلاعی سطح پر قائم وومن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو اپنی طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ ان سے اجلاسوں کا انعقاد کرکے ان کو درپیش مسائل و مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انھوں بدھ کے روز پشاور کے مقامی ہوٹل میں سنٹر فارگورننس اینڈ پبلک اکاونٹیبلٹی(سی جی پی اے) کے تحت سنٹر فار انٹرنیشنل پرائیویٹ انٹرپرائزز کے تعاون سے منعقدہ پبلک پرائیویٹ ڈائیلاگ سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کے دوران کیا۔سیشن کا مقصد خواتین کو معاشی طور پر با اختیار بنانے کیلئے ضلعی اور صوبائی سطح پر کاروبار کے فروغ اور درپیش مسائل کے حل کیلئے کاروباری خواتین، متعلقہ اداروں اور حکومت کو اپنی آرا کا موقع پیش کرنا تھا۔سیشن سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی نے سی جی پی اے کی جانب سے وومن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی معاونت اور سپورٹ پر ادارے کی کاوشوں کو سراہا۔انھوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے پہیے میں خواتین کا ایک اہم اور فعال کردار ہے کیونکہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے خاتون کا کردار ہوتا ہے۔انھوں نے حکومت کی جانب سے وومن چیمبرز کو ہرطرح کی تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ وومن چیمبرز اس سلسلے میں اپنے درپیش مسائل اور حکومت سے درکار تعاون کے حوالے سے اپنا ایجنڈا انھیں فراہم کرے۔معاون خصوصی نے علاقائی مسائل کا ذکر کرتے ہوئیکہا کہ 1979 سے ہم نامساعد حالات سے گزر رہے ہیں جن نے یہاں کی معاشی سفر پر گہرے منفی اثرات چھوڑے ہیں تاہم ہم اس صوبے سے ہیں اور اسے چھوڑنے والوں میں سے نہیں،ہم ہی یہاں کی ترقی کیلئے سوچ رکھیں گے، عملی کام کریں گے اور انشاللہ یہاں پر کاروبار کیلئے ماحول بہتری کی جانب رواں دواں ہوگا۔معاون خصوصی نے خیبر پختونخوا اکنامک کوریڈور منصوبے میں بھی خواتین کے کاروبار کیلئے ممکنہ سہولیات کی فراہمی کو ضروری قرار دیا۔انھوں نے خواتین کی ترقی اور مالی معاونت کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود کے تحت خواتین،معزور افراد اور ٹرانس جینڈر کیلئے بلاسود قرضہ کی اسکیم شروع کی گئی ہے جسکے تحت اخوت فاؤنڈیشن کے ذریعے ایک لاکھ سے پانچ لاکھ تک قرضے مل سکتے ہیں۔انھوں نے چیمبرز کی عہدیداروں سے کہا کہ وہ کاروباری خواتین کو اس منصوبے کے حوالے سے آگاہی فراہم کریں تاکہ اس سے استفادہ اٹھائیں۔انھوں نے کہا کہ نوجوان طبقے کیلئے احساس نوجوان سکیم شروع کی گئی ہے جس کے تحت مرد و خواتین دونوں استفادہ اٹھا سکتے ہیں اور اس پروگرام کے تحت وہ کلسٹرز کی شکل میں بڑا قرضہ بنک آف خیبر جبکہ پانچ لاکھ تک اخوت فاؤنڈیشن کے ذریعے حاصل کرسکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ احساس ہنر جو بنیادی طور پر فنی مہارت کے اسناد والے افراد کیلئے ہے کے تحت بھی پانچ لاکھ تک قرضہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔اسی طرح گھر بنانے کیلئے بھی ایک تا پندرہ لاکھ تک قرضہ کیلئے 3 ارب روپے کی سکیم شروع کی گئی ہے۔ انھوں نے سمیڈا چیف کو ہدایت کی کہ وہ مالی معاونت فراہم کرنے کی غرض سے متعلقہ اداروں کیساتھ کاروباری خواتین کے لنکجز استوار کرنے میں کردار ادا کرے۔انھوں نے چیمبرز سے منسلک خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی ڈی بی کے اسلام آباد میں واقع آرٹ اینڈ کرافٹ گیلری میں وہ اپنی مصنوعات مارکیٹنگ اور فروخت کیلئے رکھ سکتی ہیں جس سے انکے پیداوار میں اضافی ہوگا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ ہم سردست پانچ اضلاع کے وومن چیمبرز عہدیداروں سے اجلاس منعقد کرائیں گے اور جہاں جہاں پر ہماری تعاون درکار ہے ممکنہ طور پر فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔انھوں نے کہا کہ ہم تب ہی حقیقی معنوں میں ترقی سے ہم کنار ہو سکیں گے جب ہماری خواتین کا بھر پور تعاون ہی ہمارے پاس ہو لہذا ہم انھیں کاروبار کیلئے پُرامن اور پائیدار ماحول فراہم کرنے کیلئے ممکنہ طور پر اقدامات اٹھائیں گے۔سیشن سے پراجیکٹ منیجر سی جی پی اے خلفان احمد خٹک نے ادارے اور پروجیکٹ کے تحت اپنی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی اور دیر لوئیر،ایبٹ اباد،مردان اور چارسدہ میں پبلک پرائیویٹ ڈائیلاگ کے مثبت اثرات کے حوالے سے شرکا کو آگاہ کیا۔سیشن سے پشاور وومن چیمبر آف کامرس کی صدر رابعہ بصری،سمیڈا کے صوبائی چیف راشد امان،اسسٹنٹ کمشنر پشاور مس راشدہ طاہر و دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے اپنے اداروں اور محکموں کی جانب سے فراہم کردہ خدمات و ذمہ داریوں سے شرکاہ کو آگاہ کیا۔

وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی زیر صدارت محکمہ خوراک کے جاری منصوبوں پر پیش رفت بارے جائزہ اجلاس

صوبائی حکومت عوام کو معیاری اور سستی اشیائے خوردونوش کی فراہمی کے لیے بھر پور اقدامات اٹھا رہی ہے، وزیر خوراک

وزیرخوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ طورو نے ہدایت کی ہے کہ محکمہ خوراک اور فوڈ اتھارٹی کے جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کیاجائے اور اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی یہ ہدایات انہوں نے محکمہ خوراک اور فوڈ اتھارٹی کی جاری منصوبوں پر بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی عبدالسلام اور امیر فرزند، سیکرٹری محکمہ خوراک ثاقب رضا اسلم اور ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید سمیت دیگر افسران بھی شریک تھے۔اجلاس کے دوران حکام نے مختلف منصوبوں اور اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر خوراک نے جاری منصوبوں کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر عوام کو معیاری اور سستی اشیائے خوردونوش کی فراہمی کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اجلاس میں متعلقہ حکام نے صوبائی وزیر کو مختلف چیلنجز اور ان کے حل کے حوالے سے تجاویز سے بھی آگاہ کیا۔