خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ریلیف بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر استعداد کار بڑھانے کے لیے کوشاں ہے، موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنا مشترکہ ذمہ داری ہے، وفاقی حکومت بھی اس حوالے سے اپنے حصے کی زمہ داریاں پوری کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پشاور میں منعقدہ قومی ماحولیاتی حکمتِ عملی اور نیشنل ایڈاپٹیشن پلان سے متعلق مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں آئندہ مون سون سے نمٹنے کی تیاریوں، سیلابی خطرات کو کم کرانے، پیشگی وارننگ سسٹمز کو بہتر بنانے، دریاؤں اور نالوں کی نگرانی،حساس علاقوں کی نشاندہی، نکاسی? آب کی بہتری اور کمیونٹی آگاہی مہمات سے متعلق غور کیا گیا، تاکہ ایک جامع و مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے انسانی جانوں اور انفراسٹرکچر کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
یومِ مزدور کے موقع پر صوبائی وزیر محنت خیبر پختونخوا فیصل خان ترکئی کا پیغام
یکم مئی یومِ مزدور کے موقع پر صوبائی وزیر برائے محنت خیبر پختونخوا، فیصل خان ترکئی نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ یومِ مزدور محنت کش طبقے کی عظیم قربانیوں، جدوجہد اور حقوق کے حصول کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے۔ یہ دن ہمیں شکاگو کے مزدوروں کی اس لازوال تحریک کی یاد دلاتا ہے جس نے دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کی بنیاد رکھی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا مزدوروں کی فلاح و بہبود، ان کے حقوق کے تحفظ اور بہتر روزگار کے مواقع کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش طبقہ ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور ان کے بغیر ترقی کا عمل ممکن نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے مزدوروں کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کروائی ہیں، جن میں کم از کم اجرت میں اضافہ، سوشل سکیورٹی سہولیات کی بہتری، ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ذریعے تعلیمی وظائف، رہائشی سکیمیں اور صحت کی سہولیات شامل ہیں۔ صنعتی مزدوروں کے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں ملک کی ترقی میں فعال کردار ادا کر سکیں۔فیصل خان ترکئی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی اور لیبر قوانین پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کو مزید فعال اور جوابدہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے صنعتی اداروں کے مالکان سے بھی اپیل کی کہ وہ مزدوروں کے ساتھ منصفانہ سلوک کریں، انہیں محفوظ اور صحت مند کام کا ماحول فراہم کریں اور ان کے بنیادی حقوق کا احترام یقینی بنائیں۔آخر میں صوبائی وزیر نے کہا کہ یومِ مزدور ہمیں یہ عہد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں ہر مزدور کو عزت، انصاف اور مساوی مواقع حاصل ہوں۔
سیکرٹری توانائی کا ضلع اپردیر کادورہ،توانائی کے چھوٹے منصوبوں کے مقامات کا معائنہ جاری منصوبوں کو فاسٹ ٹریک پالیسی کی روشنی میں مقررہ مدت کے اندرمکمل کرناسب سے بڑاچیلنج ہے
صوبے کے عوام کوسستی اوربلاتعطل بجلی کی فراہمی موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے یہی وجہ ہے کہ صوبے کے پسماندہ علاقوں میں جہاں غریب عوام بجلی کی نعمت سے محروم ہیں وہاں پانی کی نعمت سے سستی بجلی کی پیداوارکے سلسلے میں چھوٹے چھوٹے پن بجلی گھر(منی مائیکروہائیڈروپاور پراجیکٹس ) تعمیرکئے گئے ہیں ان منصوبوں سے ہزاروں خاندان مستفید ہورہے ہیں۔ توانائی کے جاری منصوبوں کو فاسٹ ٹریک پالیسی کی روشنی میں مقررہ مدت کے اندرمکمل کرناسب سے بڑاچیلنج ہے۔وزیراعلیٰ اورچیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کے احکامات کی روشنی میں توانائی منصوبوں کے معاملات شفافیت اورمقررہ ٹائم لائنزمیں نمٹانے کیلئے سختی سے مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد نے ضلع اپردیرمیں پیڈوکی زیرنگرانی منی مائیکروہائیڈل سٹیشنزکے جاری منصوبوں میں تعمیراتی کام کی سست روری اوربعض مقامات پر کام کی بندش کی شکایات کے حوالے سے منصوبوں کی جگہوں کے ہنگامی دورے کے موقع پر کیا۔اس موقع پر ان کے ہمراہ پراجیکٹ ڈائریکٹر منی مائیکروہائیڈروپاورپراجیکٹس فیصل داوڑ،اسسٹنٹ ڈائریکٹرمانیٹرنگ عبیداللہ خان اوردیگرحکام بھی موجودتھے۔سیکرٹری توانائی نے ڈوگ پائین میں 75کلوواٹ،سیابدرکانی میں 250کلوواٹ،میانزڈوگ میں 150کلوواٹ،کالکوٹ میں 200کلوواٹ،شرنگل میں 500کلوواٹ،تاپندی میں 250 تھل ملاؤمیں 250کلوواٹ بابوزو میں 150کلوواٹ اورمیانہ ڈوگ میں 100کلوواٹ سمیت زیرتعمیر9منی مائیکروہائیڈروپاورپراجیکٹس کے مقامات کا دورہ کیا۔جہاں انہوں نے پاورہاؤس،پین سٹاک،سوئچ یارڈاوردیگرحصوں کا معائنہ کیا۔اس موقع پروہ ان مقامات پر مقامی کمیونٹی کے افراد سے بھی ملے اورانکے مسائل کوغورسے سنا۔سیکرٹری توانائی نثاراحمد نے متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹر اورانکی ٹیم میں شامل دیگرسٹاف کو سختی سے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ گرمی کے موسم میں عوام کو فوری ریلیف دینے کے لئے ان منصوبوں پر جاری کام کوفوری طورپر مکمل کیا جائے اورمعیاری تعمیر کے سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یالاپرواہی ناقابل برداشت ہوگی۔ انہوں نے مقامی آبادی کویقین دلایاکہ فنڈزکی فراہمی کے ساتھ ہی تمام بقیہ منصوبوں کو جلدسے جلد مکمل کرلیا جائے گا۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا یکم مئی یوم مزدور پر پیغام
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے یکم مئی، یوم مزدور کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ دن محنت کش طبقے کی عظیم قربانیوں، انتھک جدوجہد اور معاشی ترقی میں ان کے کلیدی کردار کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدور کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں اور ان کی محنت کے بغیر ترقی اور خوشحالی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔شفیع جان نے کہا کہ یوم مزدور ہمیں اس امر کا احساس دلاتا ہے کہ محنت کش بھائیوں اور بہنوں کے حقوق کے تحفظ، بہتر اجرت، محفوظ ماحول اور باعزت روزگار کی فراہمی کے لیے مسلسل اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن کے مطابق مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ ان اقدامات میں لیبر قوانین پر مؤثر عملدرآمد، سوشل سیکیورٹی، صحت و تعلیم کی سہولیات کی فراہمی اور دیگر بنیادی سہولیات تک بہتر رسائی شامل ہے۔ صوبائی حکومت نے محنت کشوں کی کم از کم اجرت 40 ہزار روپے مقرر کی ہے۔انہوں نے صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت محنت کشوں کو معاشی تحفظ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے کیونکہ ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی بنیاد ایک خوشحال مزدور پر ہی استوار ہے۔
ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی، ثریا بی بی نے جمعرات کے روز اپر چترال میں ایف ایم ریڈیو سٹیشن کے قیام سے متعلق پشاور میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی
ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی، ثریا بی بی نے جمعرات کے روز اپر چترال میں ایف ایم ریڈیو سٹیشن کے قیام سے متعلق پشاور میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے ایڈیشنل سیکرٹری حضرت علی ڈائریکٹر انفارمیشن ابن امین ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن زر علی خان ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن نظام الدین ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن زرولی زاہد اور سینئر پلاننگ آفیسر انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ سمیت صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی، اجلاس میں منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس کے دوران ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ نے صوبے میں قائم ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کی اہمیت اور افادیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایف ایم ریڈیو اسٹیشنزدور دراز اور پسماندہ علاقوں میں معلومات کی بروقت فراہمی کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپر چترال ایک دور افتادہ اور نو قائم شدہ ضلع ہے، جہاں ہنگامی حالات, موسمیاتی تبدیلیوں اور دیگر اہم امور پر عوامی آگاہی کے ساتھ ثقافت کی عکاسی اور مقامی زبانوں کی ترویج کے لیے ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کا قیام نہایت ضروری ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ یہ ریڈیو اسٹیشن 54.493ملین روپے کی لاگت سے قائم کیا جائے گا جسے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریڈیو اسٹیشن کے قیام کے لیے اپر چترال کے ہیڈ کوارٹر بونی میں موزوں عمارت کی نشاندہی کے لئے ٹیکنیکل ٹیم جلد ضلعے کا دورہ کرے گی۔ ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی نے منصوبے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فنڈز کی فراہمی اور مناسب عمارت کی دستیابی کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ اپر چترال میں ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کے قیام کے لیے موزوں مقام کے تعین کی غرض سے ایک سروے ٹیم فوری طور پر تشکیل دے کر اپر چترال بھیجی جائے اور اس کی رپورٹ کی روشنی میں موزوں جگہ کے حصول کے لئے عملی پیشرفت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ منصوبے پر جلد از جلد عملی کام کا آغاز کیا جائے اور تمام بھرتیوں کا عمل شفافیت اور قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیا جائے، تاکہ علاقے کے عوام کو بروقت، مستند اور مؤثر اطلاعات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے ضلع نوشہرہ کے علاقے نظام پور میں مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک شہری کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے
صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے ضلع نوشہرہ کے علاقے نظام پور میں مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک شہری کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صوبائی وزیر نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات کی روشنی میں واقعہ کے فوری بعد ذمہ داران کے تعین اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں رکن قومی اسمبلی سید شاہ احد اور معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے بھی وزیراعلیٰ سے ملاقات کی اور شفاف انکوائری اور مرحوم کے لواحقین کے لیے مناسب مالی معاوضے کی درخواست کی جس پروزیراعلیٰ نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری کو شفاف انکوائری کے احکامات جاری کیے جن کی روشنی میں صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان اور رکن قومی اسمبلی سید شاہ احد نے علاقے کے معززین اور غیر سیاسی مشران کے ہمراہ چیف سیکرٹری سے تفصیلی ملاقات کی اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے انصاف کی فراہمی کے لیے درکار اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چیف سیکرٹری نے جاں بحق شہری کے اہل خانہ کے لیے مالی معاوضے کی ادائیگی، انکوائری کے شفاف عمل کو یقینی بنانے اور دیگر جائز مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ واضح رہے کہ متعلقہ واقعہ کا مقدمہ بھی درج کیا جا چکا ہے اور صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ ایک بے گناہ جان کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے اور اس واقعے میں ملوث عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مرحوم کے اہل خانہ کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے گا اور انہیں کسی بھی مرحلے پر تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت عوام کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھتی ہے، اور جب تک انصاف مکمل طور پر فراہم نہیں ہو جاتا، متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کی زیرصدارت پشاور میں لیجسلیٹو کمیٹی کا اہم اجلاس
خیبر پختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم کی زیرصدارت پشاور میں لیجسلیٹو کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف قانونی مسودات اور مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا،ایس ایم بی آر، سیکرٹری محکمہ قانون، سپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ، محکمہ سماجی بہبود، محکمہ خزانہ، ایڈوکیٹ جنرل آفس، بورڈ آف ریونیو اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام، قانونی ماہرین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران خیبرپختونخوا سب آرڈینیٹ جوڈیشل سروس ٹریبونل ایکٹ 1991 میں مجوزہ ترمیم، آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن ایکٹ، ضابطہ فوجداری خیبرپختونخوا میں مجوزہ ترامیم پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر قانون آفتاب عالم نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صوبے میں قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے، انصاف تک بروقت رسائی کو یقینی بنانے اور کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متبادل تنازعاتی حل کے نظام کو مزید مؤثر بنانے سے عدالتوں پر بوجھ کم ہوگا اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ضابطہ فوجداری ترمیمی بل کی سیکشن 117 کی سب سیکشن 22-اے میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے کمیٹی شرکاء نے تفصیلی جائزہ لیا جبکہ وزیر قانون نے صوبے میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بروقت فراہمی کے بارے میں حکومتی عزم کا اعادہ کیاجن کا مقصد نظامِ انصاف کو مزید شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنانا ہے۔اجلاس میں خیبرپختونخوا سب آرڈینیٹ جوڈیشل سروس ٹریبونل ایکٹ 1991 میں مجوزہ ترامیم پر بھی غور کیا گیا، جبکہ متعلقہ حکام نے اس حوالے سے ایک تقابلی جائزہ بھی پیش کیا، جن کا مقصد عدالتی امور سے متعلق معاملات میں بہتری، شفافیت اور ادارہ جاتی کارکردگی کو مؤثر بنانا ہے۔ الٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن (اے ڈی آر) ترمیمی بل کی شق 7 جو ثالثین سیلیکشن کمیٹی کے تعین سے متعلق ہے اور جس کی باڈی کمشنر متعلقہ ڈیوژن، ریجنل پولیس آفیسر، متعلقہ ضلع کاسینئر سول جج (ایڈمن)، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے، سپیشل برانچ کے نمائندے اور متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر پر مشتمل ہوگی میں ضروری ترامیم پر مشاورت کی گئی۔علاوہ ازیں اے ڈی آر کو کارگر بنانے کے متعلق ٹرسٹ ڈیفیسٹ (اعتماد کی کمی) بالخصوص ضم اضلاع میں اس کی ضرورت بارے درکار اقدامات کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ایڈووکیٹ جنرل نے اس موقع پر فورم کو آگاہ کیا کہ اے جی آفس اے ڈی آر کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے اقدامات اٹھا رہا ہے اور اس سلسلے میں تحقیقی بنیادوں پر مذکورہ قانون کی جانچ کی جارہی ہے۔وزیر قانون نے ہدایت کی کہ تمام مجوزہ ترامیم کو قانونی تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے حتمی شکل دی جائے اور اس عمل میں متعلقہ فریقین سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے تاکہ قانون سازی عوامی ضروریات اور زمینی حقائق کے مطابق ہو۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت ایک منصفانہ، مؤثر اور قابلِ رسائی قانونی نظام کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔اجلاس کے اختتام پر مختلف امور پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا اور متعلقہ حکام کو آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔
محکمہ ایکسائز کی ناردرن بائی پاس پشاور پر کارروائی، 19 کلوگرام سے زائد چرس برآمد، ملزم گرفتار
محکمہ ایکسائز وٹیکسیش اور نارکوٹکس کنٹرول خیبر پختونخوا نے پشاور میں ایک بڑی کارروائی کے دوران منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 19 کلوگرام سے زائد چرس برآمد کر لی اور ملزم کو موقع پر گرفتار کر لیا۔اس حوالے سے محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق بیورو آف انٹیلیجنس اینڈ انویسٹیگیشن سکواڈ نے خفیہ اطلاع پر ناردرن بائی پاس پشاور میں کارروائی کرتے ہوئے گاڑی نمبر LWH-2020 کو روک کر تلاشی لی، جس کے دوران 19200 گرام چرس برآمد ہوئی۔ کارروائی پراونشل انچارج عاکف نواز خان کی نگرانی میں انسپکٹر محمد ریاض انچارج ایکسائز انٹیلیجنس سکواڈ نے داؤد خان اور دیگر نفری کے ہمراہ انجام دی۔کارروائی کے دوران ملزم نعمت شاہ ولد ظاہر شاہ، سکنہ ناساپہ ٹاپو کورونہ بخشی پل کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کے خلاف تھانہ ایکسائز پشاور ریجن میں مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔خیبرپختونخوا حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی ہدایات کے تحت محکمہ ایکسائز کی کارروائیاں صوبہ بھر میں جاری ہیں اور محکمہ کے حکام کے مطابق منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔
KP Govt Ensures Affordable, Quality Housing Through Strategic Reforms: Shafi Jan
Special Assistant to the Chief Minister on Information and Public Relations, Shafi Jan, on Wednesday said that the Khyber Pakhtunkhwa government is undertaking effective and result-oriented measures to provide affordable, quality, and secure housing facilities to the people across the province.
Addressing a joint press conference alongside Provincial Minister for Housing Dr. Amjad Ali, he said that the provincial government, under the vision of PTI founding chairman Imran Khan, has successfully delivered key housing projects aimed at improving living standards and expanding access to planned residential infrastructure.
He informed that over the past 12 years, the Khyber Pakhtunkhwa Government has completed seven major housing schemes at a cumulative cost of Rs34 billion. These projects, spread over 9,497 kanals of land, have delivered 10,477 housing units, including plots and flats, ensuring provision of affordable and well-planned residential options to citizens.
Shafi Jan further stated that work is currently in progress on seven additional large-scale housing projects with an estimated cost of Rs31 billion. Upon completion, these schemes will provide 38,784 residential units over an area of 30,447 kanals, significantly enhancing housing facilities in the province.
Highlighting pro-poor initiatives, he said the government has launched the “Ehsaas Apna Ghar Scheme,” under which interest-free loans of up to Rs1.5 million are being extended to eligible beneficiaries for construction and expansion of houses. He added that funds have already been disbursed to 114 successful applicants through a transparent balloting process, while work on the second phase of the scheme has also been initiated.
He also announced that the PC-I of the flagship New Peshawar Valley project has been approved. Spanning over 106,000 kanals, the mega housing initiative is expected to become a modern, integrated urban development. Progress is also underway on other key projects including Jarma Township, Bani Gul City Bannu, Hangu Township, Dangram Housing Scheme Swat, and Mega City Nowshera.
The Special Assistant noted that all housing-related services have been digitized and integrated with the Dastak App to ensure transparency, efficiency, and ease of access for the public. He added that the Housing Authority has made significant progress over the past four months in development, administrative, and legal domains.
To promote transparency, the E-PADs system has been implemented, while revised Land Sharing Regulations 2025 have also been approved. Additionally, a Housing Foundation has been established to facilitate provision of residential facilities to government employees. So far, around 96,000 employees have registered, with 75,000 already issued digital cards.
Reaffirming the government’s commitment, Shafi Jan said that under the leadership of Chief Minister Sohail Afridi, the provincial government remains dedicated to ensuring affordable, quality, and secure housing for all segments of society.
During the press conference Provincial Minister for Housing, Dr. Amjad Ali, said that the Khyber Pakhtunkhwa Housing Department has achieved significant milestones in meeting its targets, driven by institutional reforms and digital transformation.
The minister stated that the department has adopted a cashless economy policy, and all its services have been fully digitalized and made accessible through the Dastak App. The Secretary Housing and Director General of the Khyber Pakhtunkhwa Housing Authority were also present on the occasion.
The briefing highlighted that multiple housing projects are currently underway under the supervision of the KP Housing Authority. These include the Hangu Township project, spread over 8,362 kanal with 10,162 plots at a cost of Rs14.99 billion; the Dangram Housing Scheme in Swat, covering 501 kanal with 682 plots costing Rs2.93 billion; and the Warsak One project in Peshawar, comprising 160 flats over 5.5 kanal at a cost of Rs2.15 billion.
Other ongoing projects include the Jarma Housing Scheme in Kohat, spanning 300 kanal with 463 plots costing Rs563.27 million, and the Bannu Housing Scheme, covering 11,029 kanal with 7,817 plots at a cost of Rs969 million.
The briefing further noted that over the past 12 years, several major housing projects have been completed. These include high-rise flats in Hayatabad, Peshawar, comprising 144 units over 28 kanal at a cost of Rs1.72 billion; the Jalozai Housing Scheme in Nowshera, covering 8,905 kanal with 9,477 plots at a cost of Rs14.07 billion; and Civil Quarters Phase-I, consisting of 54 flats, completed at a cost of Rs728.597 million.
Additionally, Civil Quarters Phase-II, with 96 flats over 6.9 kanal costing Rs860 million, and a housing project in Jalozai developed, comprising 116 flats over 150 kanal at a cost of Rs330 million, have also been completed.
Other completed schemes include the Malazai Housing Scheme in Peshawar, spanning 190 kanal with 371 plots at a cost of Rs173 million, and the Havelian Township project in Abbottabad, covering 218 kanal with 219 plots at a cost of Rs145 million.
Highlighting the “Ehsaas Apna Ghar Scheme,” Dr. Amjad Ali said that cheques have so far been issued to 114 successful applicants selected through balloting.
He further stated that the Housing Department conducts construction, procurement, and consultancy services through the e-PADS system. Under the Horticulture Regulations 2025, plot owners are now required to plant trees according to the size of their plots.
The minister added that the department is strictly implementing austerity measures in line with provincial government directives. As part of these measures, the POL quota for officers has been reduced by 25 percent, while 60 percent of official vehicles have been grounded. Moreover, all official meetings are now being conducted online.
7th District Service Delivery Conference Held to Strengthen Public Service Delivery in Khyber Pakhtunkhwa
The 7th District Service Delivery Conference was held online under the chairmanship of Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, with participation from Additional Chief Secretaries, Senior Member Board of Revenue, Administrative Secretaries, Commissioners, and Deputy Commissioners.
The meeting undertook a comprehensive review of progress on improving public service delivery across the province and strengthening performance-based governance at the district level.
Participants were informed that since the inaugural District Service Delivery Conference, there has been a marked improvement in service delivery indicators across multiple sectors, with 86 percent of the targets under District Service Delivery 1.0 successfully achieved. Notable performance improvements were recorded in Batagram, Upper Kohistan, South Waziristan Upper, and Upper Chitral since the last review.
Deputy Commissioners of Batagram and Dera Ismail Khan presented best practices and reform initiatives undertaken in their respective districts, enabling cross-learning and replication of successful service delivery models across other districts.
The forum expressed satisfaction over improvements in municipal and public service infrastructure, including drainage systems, pedestrian pathways, vegetable markets, slaughterhouses, general bus stands, cattle markets, farm service centers, and public parks.
The Chief Secretary directed all districts to adopt best-performing models and accelerate reforms to enhance service delivery outcomes. He highlighted that under District Service Delivery 2.0, additional public service areas—including manhole management and solid waste collection systems—have been incorporated into the monitoring framework.
Taking notice of public complaints regarding waste burning, the Chief Secretary emphasized strict adherence to environmental regulations and directed authorities to ensure safe and lawful waste disposal practices.
The meeting was informed that service delivery centers, tehsil offices, sanitation systems, and manhole infrastructure are being systematically monitored. Abbottabad Service Delivery Center demonstrated exemplary performance, while directions were issued to improve facilities in Shangla and Upper Chitral. Nowshera showed progress in improving tehsil office services.
Furthermore, monitoring of waste collection points at 284 locations has been completed, while data for over 1,500 manholes has been compiled. The provincial government is in the process of developing a digital monitoring mechanism for manhole management.
All Deputy Commissioners confirmed field visits to at least 32 public service delivery sites to ensure on-ground assessment and accountability.
In the education sector, 233 schools across 18 districts have been outsourced to improve service delivery, with performance being regularly monitored. To enhance citizen engagement, Deputy Commissioners are directly contacting citizens to address public grievances.
The meeting also reviewed progress on 79 approved beautification initiatives across 29 districts, scheduled for completion by June 30, while 42 innovative interventions across 22 districts are expected to be completed by June 2026.
Concluding the session, the Chief Secretary directed Deputy Commissioners to regularly convene Review and Implementation Committee (RIC) meetings and instructed administrative secretaries to resolve district-level issues on a priority basis. He further stressed the importance of proactive public communication and citizen feedback mechanisms to continuously improve service delivery standards across the province.
