Home Blog Page 12

عوامی خدمات کی فراہمی میں تاخیر پر متعلقہ افسران کو شوکاز نوٹس جاری

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں چودہ عوامی شکایات کی شنوائی ہوئی۔ چیف کمشنر محمد علی شہزادہ اور کمشنر ذاکر حسین آفریدی نے شہریوں کی درخواستوں پر سماعت کی۔ مس مہناز نے چارسدہ سے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی۔ مقررہ وقت میں جواب موصول نہ ہونے نوٹس جاری کیا گیا۔ چارسدہ سے ولید خان نے ڈرائیونگ لائسنس کی فراہمی کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی۔ شہری کو ڈرائیونگ لائسنس مل گیا۔مقررہ وقت میں تاخیر کے باعث کمیشن نے لائسنس کے اجراء کے پورے عمل کو تیز کرنے اور ذمہ دار آفیسر کا تعین کرنے کے احکامات جاری کیے۔ ایبٹ آباد سے سردار گلریز نے پینے کے صاف پانی کے کنکشن کے لیے کمیشن سے رجوع کیا تھا۔ تاخیر پر نوٹس جاری کیا گیا۔ وزیر گل خٹک نے نوشہرہ سے زمین کی حد براری کے لیے درخواست دی ہے۔ کمیشن نے تمام ریوینیو ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ سوات سے خالدہ نامی خاتون نے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی۔ ڈی پی او نے ایف آئی آر درج کر کے کاپی کمیشن کو جمع کروادی۔ غلام رسول نامی شہری نے جنوبی وزیرستان سے پولیس ویری فکیشن کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی، ۔ کمیشن نے آر پی او کو یاد دہانی نوٹس جاری کر دیا۔ اسی طرح بٹگرام سے زمین کی حد براری کے لیے کمیشن کو درخواست دی گئی تھی۔ ڈی سی نے رپورٹ جمع کروائی جس سے شہری مطمئن نہیں ہوا، کمیشن نے متعلقہ حکام کو شہری کو بذاتِ خود سن کر مسئلہ حل کرنے کے احکامات دیئے۔ لکی مروت سے ناز علی کی ایف آئی آر کے اندراج کے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کمیشن نے ڈی پی او کو شہری کو بذاتِ خود سننے کے احکامات دئیے۔ بنوں سے افراز خان کی وراثتی انتقالات کے اندراج کی درخواست پر کمیشن نے شہری کو سننے اور تاخیر کی وجوہات بیان کرنے کے احکامات جاری کیے۔ مانسہرہ سے سکینہ بی بی کی شکایت پر پولیس نے کمیشن کو جواب جمع کروایا، کمیشن نے ڈی پی او کو شہری کو بذاتِ خود سننے کے ہدایت دی۔ چارسدہ سے نعیم اللہ اور ہری پور سے محمد شعیب نے اسلحہ لائسنس کے اجراء کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی۔ کمیشن نے لائسنس جاری کرنے کے لیے یاد دہانی کے احکامات جاری کئے۔ ہری پور سے طارق محمود نامی شہری کی درخواست کے جواب میں ڈی سی نے کمیشن کو لکھا کہ شہری ملک سے باہر ہے اور متعلقہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ کمیشن نے شہری کو ہدایت جاری کہ جب ملک واپس آئے تو کیس کو اگے بڑھائے۔ ہری پور سے عابد خان کی ایف آئی آر درج کرنے کی شکایت پر ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر آر ٹی ایس کمیشن نے شہری اور ڈی پی او کی ملاقات کروائی۔ کمیشن نے سرکاری افسران کو عوام کی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے اور خدمات کی فراہمی کے عمل کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ بنیادی خدمات کا حصول عوام کا حق ہے نا کہ ان پر حکومت کا احسان۔

SACM KP SHAFI JAN INAUGURATES NEW CLASSROOMS AT GPGC KOHAT, ATTENDS AWARDS CEREMONY AT AHDAF SCHOOL

Special Assistant to the Chief Minister (SACM) Khyber Pakhtunkhwa on Information and Public Relations, Shafi Jan inaugurated the newly constructed additional classrooms at Government Post Graduate College (GPGC) Kohat on Monday, a development aimed at enhancing educational facilities and meeting growing student needs. The project, completed at a cost of PKR 35.927 million, is expected to provide students with a more conducive learning environment.
Addressing the inaugural ceremony, Shafi Jan said the government is committed to improving education sector and prioritizes the provision of fundamental facilities in academic institutions. “The government has a responsibility to provide quality education to the youth, as they will play a pivotal role in the country’s progress in the future,” he said, emphasizing that the new classrooms will significantly improve the student performance.
The event saw a large turnout of the college principal, faculty and students. The college administration extended gratitude to the guest of honor at the conclusion of the ceremony.
Meanwhile, Shafi Jan also attended the annual prize distribution ceremony of AHDAF School and College Kohat as the chief guest, where he praised students for their outstanding achievements and lauded teachers for their dedication. He underscored the importance of providing modern, quality education to prepare the younger generation for contemporary challenges.
The ceremony concluded with the distribution of awards and certificates to top-performing students, with Shafi Jan offering his best wishes for their future success. School administrators, teachers, students and parents were present in large numbers.

Sports ground project launched Peshawar City, says Meena Khan

A modern sports ground project has been launched in the Peshawar city area to provide improved recreational facilities to residents, Provincial Minister for Higher Education and Local Government Meena Khan Afridi said.

The project, initiated at Government Shaheed Hasnain Sharif Higher Secondary School No 1, is being described as fulfilment of the minister’s election commitments.

According to officials, the scheme includes a dedicated and secure walking and jogging track for women to enable their participation in healthy activities with confidence, along with a futsal ground for youth. Other planned facilities include a synthetic jogging track, basketball and volleyball courts, and a cricket practice area.

The project will also feature installation of LED lights and construction of a boundary wall to ensure a safe and well-equipped environment for the public.

Speaking on the occasion, Mr Afridi said the initiative would provide modern facilities to residents of the inner city, particularly benefiting youth and women by promoting positive and healthy engagement.

He added that the government remained committed to ensuring equal provision of facilities in both urban and rural areas so that the benefits of development could reach all segments of society.

CM’s Aide Shafi Jan Expresses Heartfelt Grief Over Loss of Lives in KP Rains

Special Assistant to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa on Information and Public Relations, Shafi Jan, expressed deep sorrow and grief over the loss of precious human lives in roof collapse incidents in various districts of the province following recent rains.

Extending heartfelt condolences and sympathies to the bereaved families, he said the loss of lives in these tragic incidents is irreparable for the affected families. He added that a total of 17 people, including women and children, have lost their lives as a result of the recent spell of rains.

Shafi Jan said the provincial government stands firmly with the affected families in this difficult time and will not leave them alone. He added that, on the directives of Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa, Sohail Afridi, timely provision of relief goods to the affected families is being ensured, and all possible assistance will be extended.

He further said that the Provincial Disaster Management Authority and district administrations are actively engaged in relief operations. Across the province, district administrations, Rescue 1122, and other relevant departments have been put on high alert and all available resources are being utilized to deal with any emergency situation.

He added that the best possible medical facilities are being provided to the injured in hospitals. He also prayed for the eternal peace of the departed souls, patience for the bereaved families, and the speedy recovery of the injured.

کوہاٹی گیٹ پشاور میں جدید ہسپتال کے قیام پر غور شروع، اہم ہدایات جاری

کوہاٹی گیٹ کے سامنے واقع لوکل گورنمنٹ خیبرپختونخوا کے پلازہ میں شہریوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے جدید ہسپتال کے قیام پر باقاعدہ غور شروع کر دیا گیا ہے۔اس حوالے سے صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی اور وزیر صحت میاں خلیق الرحمان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں مجوزہ ہسپتال کے قیام سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔دونوں وزراء نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ منصوبے پر کاغذی اور عملی پیش رفت کو تیز کیا جائے تاکہ شہریوں کو جلد از جلد جدید اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت کے شعبے میں بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مجوزہ ہسپتال کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے تاکہ شہریوں کو ایک ہی چھت تلے بہترین علاج کی سہولیات میسر آ سکیں۔صوبائی وزراء نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف پشاور بلکہ گردونواح کے علاقوں کے عوام بھی مستفید ہوں گے اور صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری آئے گی

خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں میں حاضری کےنئےٹائم ٹیبل سمیت دیگر امور کے لئے ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں

خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں میں حاضری کےنئےٹائم ٹیبل سمیت دیگر امور کے لئے ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں جن کے تحت پرائمری سکولوں میں حاضری صبح 7:30 بجےجبکہ چھٹی دوپہر 1:35 پر ہوگی اس کے علاوہ اسمبلی میں طلباء کی اخلاقی تربیت، مختلف موضوعات پر تقاریر اور عملی سرگرمیاں لازمی قرار دی گئی ہیں سکولوں میں طلباء کو ہفتے میں تین دن تقاریر اور تین دن خاکوں کے ذریعے اخلاقی تعلیم دینے کی ہدایت جاری کی گئی ہے اسی طرح مزید سکول سربراہان کو ہر ہفتے کے آخری ورکنگ ڈے پر بزمِ ادب کے انعقاد کی بھی ہدایت کی گئی ہیں بزم ادب کے بعد آخری تین پیریڈز میں سٹاف میٹنگ اور رجسٹرز مکمل کئے جائیں گے، اعلامیہ میں بتایا گیا ہےکہ اساتذہ کی کمی یا طویل رخصت کی صورت میں ہیڈز اور سبجیکٹ اسپیشلسٹ کلاسز لیں گے، اعلامیہ میں تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران کو سکولوں میں ٹائم ٹیبل پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کی عجب باغ چیک پوسٹ پر کارروائی، چرس اور آئس کی بڑی کھیپ برآمد، مقدمہ درج

خیبرپختونخوا حکوت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور وزیر ایکسائز سید فخر جہان کے ہدایات کی روشنی میں محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول نے عجب باغ چیک پوسٹ پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں چرس اور آئس برآمد کر لی۔کاروائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افیسر انٹی نارکوٹکس ماجد خان کی نگرانی میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی جس کے دوران ایک مشتبہ گاڑی سے منشیات قبضے میں لے لی گئیں۔محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق نوشہرہ پشاور جی ٹی روڈ پر ایک کاروائی کے دوران گاڑی نمبر AEU-202 سے 12 کلوگرام چرس اور 4 کلوگرام آئس برآمد ہوئی۔ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (کاؤنٹر نارکوٹکس) ماجد خان کی نگرانی میں کی گئی کاروائی میں انسپکٹر اجمل خان لودھی، لعل گل خان انچارج عجب باغ چیک پوسٹ اور دیگر اہلکار شامل تھے۔برآمد شدہ منشیات کو قبضے میں لے کر ملزمان کے خلاف تھانہ ایکسائز مردان ریجن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس کے سلسلے میں مزید تفتیش جاری ہے

حکومت خیبر پختونخوا کے گڈ گورننس روڈ میپ پروگرام کے تحت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے زیر اہتمام کھلی کچہری کا انعقاد

سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا محمد خالد نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے ملازمین کی ریٹارڈ منٹ پر ان کی پنشن کے کیسز فوری طور پر نمٹائے جائیں اور اگر کسی اہلکار پر کوئی انکوائری بھی چل رہی ہو تو اس کی ماہانہ تنخواہ بند نہ کی جائے تاکہ اس سے ان کا گھر چل سکے۔انہوں نے کہا کہ آن لائن اپلائی کے لئے ہر مہینے کے شروع میں ای ٹرانسفر پورٹل کھولی جائے گی۔ یہ ہدایت انھوں نے پیر کے روز پشاور میں حکومت خیبر پختونخوا کے گڈ گورننس روڈ میپ پروگرام کے تحت عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے منعقدہ ای کھلی کچہری کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سپیشل سیکرٹری تعلیم مسعود احمد ایڈشنل سیکرٹری ظہیر خان ایڈشنل سیکرٹری صالح محمد ڈائریکٹر ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نعمانہ سردار ڈائریکٹر آئی ٹی صلاح الدین سمیت دیگر افسران اور متعلقہ ضلعی ایجوکیشن آفیسرز آن لائن اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ عوام نے براہِ راست گفتگو کرکے درپیش مسائل بیان کیے۔ جن میں زیادہ تر پنشن، این او سی (NOCs)، چھٹیوں سے متعلق امور اور ٹرانسفر کے حوالے سے مسائل شامل تھے۔ ای کچہری میں سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم نے آن لائن عوامی مسائل کو سنجیدگی سے سنا اور ان کو فوری طور پر حل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کے کیسز کی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے محکمہ ملازمین کی پنشن کے کیسز کو جلد از جلد نمٹائے اور ریٹائرڈ منٹ کے اگلے مہینے سے ان کی ماہانہ پنشن کی فراہمی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں اور محکمہ تعلیم پنشن کے زیر التواء کیسوں کی بروقت تکمیل کے لیے تندہی سے کام کر ے اور کیسوں کے بلاتاخیر کم وقت میں حل کو یقینی بنا یا جائے۔

قومی مفاد میں: این ایف سی اور ضم شدہ اضلاع پر خیبرپختونخوا کا مؤقف / وزیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

وزیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ جمعرات 26 مارچ 2026 کو خیبرپختونخوا حکومت نے 11ویں این ایف سی کے سب گروپ VII کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا، جو سابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے متعلق 25ویں آئینی ترمیم کے تحت واجب الادا اور مؤخر شدہ مالی ایڈجسٹمنٹس پر غور کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ اگرچہ اس واقعے کی کوریج زیادہ تر درست رہی، تاہم اس اقدام کے بعض پہلوؤں کو غلط سمجھا گیا، جن کی وضاحت حکومت اس بیان کے ذریعے اپنے مؤقف اور نیت کو واضح کرنا چاہتی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ این ایف سی کا طریقہ کار اور اس کے اصول آئین پاکستان کے آرٹیکل 160 میں واضح طور پر درج ہیں۔ آئین کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کی مدت پانچ سال ہوتی ہے، جس کے بعد نئی معاشی صورتحال اور وفاقی تقاضوں کے مطابق نیا ایوارڈ جاری کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔ یہ آئینی حکمت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مالیاتی وفاقیت میں وقتاً فوقتاً ضروری تبدیلیاں کی جائیں تاکہ قومی ضروریات اور معاشی حالات کے مطابق نظام کو ڈھالا جا سکے، اور یہ واضح کرتی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ جامد یا مستقل نوعیت کے نہیں ہوتے۔ ساتواں این ایف سی ایوارڈ 2015 میں اپنی مدت مکمل ہونے کے بعد ختم ہو گیا تھا۔ اس کے بعد آرٹیکل 160(6) کے تحت 2015 میں ایک ترمیمی حکم جاری کر کے اسے برقرار رکھا گیا، بجائے اس کے کہ نیا ایوارڈ جاری کیا جاتا جیسا کہ آئینی تقاضا تھا۔ 2018 میں فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام ایک قومی ترجیح قرار پایا اور اسے 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے قانونی حیثیت دی گئی۔
مزمل اسلم نے کہا کہ اس ترمیم کے نفاذ کے ساتھ ہی خیبرپختونخوا کی آبادی اور رقبہ فوری طور پر تبدیل ہو گیا اور اس میں فاٹا کی آبادی اور رقبہ شامل ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں این ایف سی فارمولے میں خیبرپختونخوا کے لیے استعمال ہونے والی متغیرات کی قدریں خود بخود تبدیل ہو گئیں، لہٰذا فارمولے کو بھی ان نئی قدروں کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے تھا۔ آئین اس تبدیلی کو قانونی اور مالی اثر دینے کا طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 160(6) کے تحت نئے این ایف سی ایوارڈ سے قبل صدر مملکت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ وفاق اور صوبوں کے درمیان محصولات کی تقسیم کے قانون میں ضروری ترامیم یا تبدیلیاں کر سکیں۔ اس شق کے تحت 2015 میں بلوچستان کے حصے میں بھی ترمیم کی گئی تھی۔ تاہم بعد ازاں فنانس ایکٹ کے ذریعے ایوارڈ کو توسیع دی جاتی رہی، مگر 25ویں ترمیم کے مطابق فارمولے میں ضروری تبدیلیاں نہیں کی گئیں، جس کے باعث وسائل کی تقسیم پرانے اور غیر آئینی حصص کی بنیاد پر جاری رہی۔
مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل اس آئینی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتی آ رہی ہے، مگر این ایف سی فارمولے میں مطلوبہ ترمیم اور قانونی اقدام کو مختلف وجوہات کی بنا پر مؤخر کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ وسائل جو ضم شدہ اضلاع اور مغربی سرحدی علاقوں کے استحکام پر خرچ ہونے چاہیے تھے، وہ ملک کے زیادہ ترقی یافتہ حصوں کی طرف منتقل ہوتے رہے۔ مزید برآں، کئی برسوں تک این ایف سی کے اجلاس بھی منعقد نہیں کیے گئے، جس کے باعث اس اہم مسئلے کو اٹھانے اور حل کرنے کے لیے کوئی مؤثر فورم موجود نہیں رہا۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ 11ویں این ایف سی کے پہلے اجلاس میں خیبرپختونخوا نے اس اہم آئینی مسئلے کو باضابطہ طور پر اٹھایا، جس پر ایک خصوصی گروپ تشکیل دینے پر اتفاق ہوا تاکہ اپ ڈیٹ شدہ فارمولہ تیار کر کے پیش کیا جا سکے۔ تاہم اس کے باوجود پیش رفت کے بجائے عمل دوبارہ تعطل کا شکار ہو گیا۔
مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت این ایف سی عمل، باہمی مشاورت اور وفاقی ہم آہنگی کے لیے پُرعزم ہے تاکہ وفاق اور تمام صوبوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں اور ایک مضبوط وفاق قائم ہو۔ مزید یہ کہ شروع سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس عمل میں شرکت کسی سیاسی مطالبے سے مشروط نہیں بلکہ اسے قومی تعمیر کے عمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ واک آؤٹ بطور آخری راستہ اختیار کیا، جب کئی ماہ کی یقین دہانیوں اور جنوری میں کیے گئے وعدے (جو ریکارڈ کا حصہ بھی ہیں) کے باوجود این ایف سی فارمولے میں ترمیم نہیں کی گئی، حالانکہ یہ آئینی طور پر تقریباً آٹھ سال پہلے ہو جانی چاہیے تھی۔ فاٹا کے انضمام کے بعد سے ہر سال خیبرپختونخوا حکومت اس مطالبے کو باضابطہ طور پر اٹھاتی رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ آٹھ سالوں سے این ایف سی عمل کو طریقہ کار کی تاخیر کے ذریعے مسلسل مؤخر کیا جاتا رہا، حتیٰ کہ مارچ کے اس اجلاس میں دیگر صوبوں نے آرٹیکل 160(6) کے آئینی اصول کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، جو درحقیقت ضم شدہ علاقوں کے مالی وجود سے انکار کے مترادف ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ ان آٹھ سالہ تاخیروں کے نتیجے میں 964 ارب روپے، جو ضم شدہ اضلاع کا حصہ تھا، دیگر صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے۔ یہ وسائل ضم شدہ علاقوں کی ترقی اور مغربی سرحد کے استحکام پر خرچ ہونے کے بجائے دیگر اخراجات پر صرف ہوئے، جو انصاف اور آئینی اصولوں کے منافی ہے۔ ضم شدہ اضلاع کے عوام کوئی محض حسابی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے شہری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر صوبے یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ فارمولہ اپ ڈیٹ کرنے سے ان کے حصے کم ہوں گے، حالانکہ یہ درست نہیں۔ 25ویں آئینی ترمیم کے بعد حصص خود بخود تبدیل ہو چکے تھے، مگر اس کے باوجود پرانے فارمولے کو برقرار رکھا گیا، جو آئینی حقیقت کے برعکس ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے تکنیکی تجزیہ، ڈیٹا اور مالی ماڈلنگ فراہم کی، مگر اس پر کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔ صوبے تکنیکی نکات پر بحث کر سکتے ہیں، مگر ضم شدہ علاقوں کے مالی وجود سے انکار نہیں کر سکتے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ واک آؤٹ دراصل ایک غیر آئینی فارمولے کے خلاف احتجاج تھا، جس کے ذریعے ضم شدہ علاقوں کے وجود کو نظرانداز کیا جا رہا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2015 میں بلوچستان کے حصے میں ترمیم کی مثال موجود ہے، لہٰذا 2018 میں بھی یہی عمل ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ موجودہ این ایف سی اب متفقہ فارمولہ نہیں رہا، اس لیے وفاقی حکومت فوری طور پر فارمولے پر نظرثانی کرے، اور عبوری طور پر صوبوں کے لیے گرانٹس کا نظام متعارف کروائے تاکہ ریاستی امور متاثر نہ ہوں۔
مزمل اسلم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت این ایف سی عمل، مکالمے اور مضبوط وفاق کے لیے پرعزم ہے، اور امید ظاہر کی کہ دیگر صوبے بھی قومی مفاد میں مثبت کردار ادا کریں گے۔

گرین انرولمنٹ مہم – ای ایس ای ایف خیبر پختونخوا

ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ESEF) کے منیجنگ ڈائریکٹر قیصر عالم نے فاؤنڈیشن کمیونٹی اسکولز میں نئے طلبہ کے داخلے کے لیے گرین انرولمنٹ مہم کا آغاز کردیا ہے۔ منیجنگ ڈائریکٹر ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے مہم کا باقاعدہ طور پرآغاز ،ضلع پشاور میں نئے طلبہ کے کامیابی سے اندراج سے کیا، اس موقع پراظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ یہ مہم صوبہ خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں بھرپور طریقے سے شروع کی گئی ہے اوراس اقدام کا مقصد خاص طور پر پسماندہ علاقوں میں تعلیم تک رسائی کو بڑھانا ہے، اور سکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں شامل ہونے کی ترغیب دینا ہے۔ اس مقصد کیلئے مضبوط کمیونٹی شمولیت اور آگاہی مہمات کے ذریعے فاؤنڈیشن کمیونٹی اسکولز کے نیٹ ورک کو مزیدمستحکم بنایا جا رہا ہے۔
گرین انرولمنٹ مہم ،ای ایس ای ایف کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ صوبے کے ہر بچے کو مساوی، معیاری اور جامع تعلیم فراہم کی جائے گی۔